آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. ’خطے کی دیگر افواج سے کوئی براہ راست رابطے نہیں‘

    چین اور ازبکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک سے عسکری تعاون کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی افواج میں کوئی براہ راست رابطے نہیں ہیں اور یہ حکومتی سطح پر ہی محدود ہیں۔

  2. ’افغانستان میں ابھی خانہ جنگی کا کوئی امکان نہیں‘

    پنجشیر میں جنم لینے والی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا ہمیشہ سے خطرہ رہا ہے تاہم اس وقت صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی اور اس وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

    تاہم ان کے مطابق افغانستان میں ابھی خانہ جنگی کا کوئی امکان نہیں۔

  3. ’طالبان کی حکومت بنی تو حکومتی سطح پر رابطہ ہوگا‘

    ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کی حکومت قائم ہوتی ہے تو پاکستان کی حکومت کا ان کے ساتھ یقیناً رابطہ ہوگا۔

  4. ’کوئی پناہ گزین پاکستان نہیں آ رہے‘

    ایک صحافی نے جب ان سے چمن پر آنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے سوال کیا تو میجر جنرل بابر افتخار نے کہا: ’ہمارے ہاں کوئی پناہ گزین نہیں آئے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر چمن کے مقام پر بڑی تعداد میں افغان پاکستان کی جانب آ رہے ہیں۔

    ان کے مطابق سرحد پر افراتفری کی صورتحال نہیں ہے اور ہر آنے جانے والا متعلقہ دستاویزات کے ساتھ آ رہا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان یا کسی اور گروہ کے رکن پناہ گزین بن کر پاکستان میں داخل نہیں ہو جائیں گے تو میجر جنرل بابر افتخار نے اس امکان کو رد نہیں کیا۔

  5. میجر جنرل بابر افتخار: امید ہے کابل سے انڈیا کا اثر ختم ہو جائے گا

    جب میجر جنرل بابر افتخار سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا اور افغان انٹیلیجنس کا گٹھ جوڑ برقرار ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں حکومت سازی کا انتظار کرنا پڑے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ انڈیا کا اثر وہاں سے ختم ہو جائے گا۔

    ’انڈیا کا وہاں کیا کردار رہا ہے؟ جو بھی انھوں نے وہاں سرمایہ کاری کی وہ صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کیا گیا۔ انھیں افغان عوام سے کوئی لگاؤ نہیں۔

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق ہم نے افغان رہنماؤں سے رابطے رکھنے کی کوشش کی لیکن جب بھی ہم مل کر واپس آنے تو کوئی منفی بیان سامنے آ جاتا

    ان کے مطابق این ڈی ایس را کے لیے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرتی رہی۔ اگر وہ اپنا کام کرتی تو ایسا نہ ہوتا جو ان کے ساتھ ہوا۔

  6. ’ٹی ٹی پی سے کوئی خطرہ ہوا تو ہم تیار ہوں گے‘

    ایک صحافی نے پوچھا کہ پاکستان نے طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے لیکن اگر افغان طالبان ایسا نہیں کرتے تو کیا پاکستان کوئی فوجی آپریشن کرے گی۔

    اس سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ طالبان نے یقین دلایا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے پاکستان یا کسی بھی اور ملک کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس لیے وہ وہاں آزادی سے نہیں رہ سکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی طرف کوئی مسئلہ ہوا تو وہ اس کے لیے تیار ہوں گے۔

  7. ’سی پیک منصوبوں پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی‘

    سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ایس پی آ ر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان تمام حملوں کو منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور سب کو خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی حمایت حاصل تھی۔

  8. ’سرحد پر باڑ لگانے کا کام بہت بڑی اور اہم کاوش تھی‘

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جب مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن چل رہے تھے اور مشرقی سرحد پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں، یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نے جامع بارڈر مینیجمنٹ سسٹم کا انعقاد کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بڑے بارڈر ٹرمینل کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔

    افغان سرحد پر باڑ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی اور اہم کاوش تھی۔

    اس کام کے دوران کئی پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام ہو رہا ہے اور 50 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔

  9. میجر جنرل بابر افتخار: ہم نے افغان فوج کو تربیت کی پیشکش کی تھی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے سرحد پر سکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون کے علاوہ فوجیوں کی تربیت کی کئی بار پیشکش کی تاہم صرف کچھ ہی افغان افسر یہاں آئے جبکہ سینکڑوں تربیت کے غرض سے انڈیا گئے۔

    اس تعاون کا پس منظر بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن و امان کے قیام سے جڑا ہے۔

  10. میجر جنرل بابر افتخار: ’افغان عوام کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا‘

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق افغان عوام کے بعد اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’80 ہزار سے زیادہ اموات، 102 بلین ڈالر کے نقصانات، اور ابھی بھی گنتی جاری ہے۔‘

  11. میجر جنرل بابر افتخار: پاکستان اب افغانستان سے انخلا کا سب سے اہم حصہ ہے

    آئی ایس پی آر کے سربراہ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان 78 راہداریاں ہیں جن میں سے 18 سرکاری نوعیت کی ہیں۔

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحدی راہداریاں کھلی رکھی گئی ہیں اور تجارت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    ان کا کہنا تھا پاکستان ہی اب افغانستان سے انخلا کے عمل کا سب سے اہم حصہ ہے اور 5500 غیر ملکیوں کو پاکستان کے ذریعے افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔

  12. پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کی پریس کانفرنس شروع: پاکستان کی طرف سرحد پر معاملات قابو میں ہیں

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کی افغانستان کے مسئلے پر پریس کانفرنس شروع ہو چکی ہے۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس معاملے کے عسکری پہلوؤں تک محدود رکھیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عسکری صورتحال بہت جلدی تبدیل ہوئی اور کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اتنی تیزی سے حالات بدلیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر پاکستان کی طرف حالات قابو میں ہیں۔

  13. کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد شہر میں خوف کا عالم

  14. ’ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لیے طالبان پر بھروسہ نہ کریں‘

    امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک انسداد دہشت گردی کے ماہر کا کہنا ہے کہ کابل میں جمعرات کو ہونے والے دھماکوں کے بعد امریکی فوج کو فوری طور پر ایئرپورٹ کی سکیورٹی سنبھال لینی چاہیے تاکہ لوگوں کے انخلا کے دوران ایسے واقعات دوبارہ نہ پیش آئیں۔

    سابق سفیر ناتھن سیلز ماضی میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے والے ایک عالمی اتحاد کے نمائندہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن اپنا وعدہ پورا کریں اور اس دھماکے کے ذمہ داران کو نہ صرف گرفتار کریں بلکہ 31 اگست کو انخلا کی ڈیڈ لائن پر بھی نظر ثانی کریں۔

    ’یہ قطعی ناقابل قبول ہے کہ امریکہ یا کوئی اور مہذب ملک طالبان پر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے بھروسہ کرے۔‘

    ’ہمیں اس وقت تک وہاں اپنی فوجیں موجود رکھنی ہوں گی جب تک ہم تمام امریکیوں کو باہر نہ نکال لیں ورنہ وہ پھر ہمیں اغوا ہونے والی ویڈیوز میں نظر آئیں گے، اور وہ افغان اتحادی جنھوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہماری مدد کی۔‘

  15. کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد شہر میں خوف کا عالم، زخمیوں کا علاج جاری

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جمعرات کو ایئرپورٹ پر ہونے والے دو دھماکوں کے بعد شہر میں خوف کا عالم ہے۔

    ان دھماکوں میں مجموعی طور پر 90 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جس میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی تھی جو ملک سے باہر جانے والی پروازوں پر چڑھنے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

    ان دھماکوں میں امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے 13 افراد بھی شامل تھے۔

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس میں کم از کم 150 افراد زخمی ہوئے ہیں جو اس وقت شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    طالبان جنگجو اس وقت وقوعہ پر موجود ہیں جہاں ہلاک ہونے والوں کا سامان اور سفری دستاویزات ابھی بھی موجود ہے۔

  16. دہرے بم دھماکوں کے باعث کابل کے ہسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ

    کابل میں گذشتہ روز ہونے والے دہرے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے کوئی 150 کے قریب افراد کا علاج کرنے کے لیے ڈاکٹر اور نرسیں پوری رات مصروف رہے۔

    واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہسپتال پہلے ہی سٹاف کی کمی کے شکار ہیں اور کل پیدا ہونے والی اس ایمرجنسی صورتحال کے باعث ہسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔

    بین الاقوامی طبی فلاحی ادارے ’ایمرجنسی‘ کے زیرِ انتظام چلنے والے کابل سرجیکل سینٹر نے کہا کہ اُن کے پاس دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں کوئی 60 کے قریب زخمی لوگ آئے اور کم از کم 16 لوگوں کو ہسپتال لائے جانے پر مردہ قرار دیا گیا۔

    فلاحی ادارے کی صدر روزیلا میچیو جو افغانستان میں موجود نہیں ہیں، نے کہا کہ سٹاف اپنی شفٹس ختم کر چکا تھا جب اُنھیں دھماکوں کے باعث ہسپتال لوٹنا پڑا۔

    اُنھوں نے بی بی سی کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہسپتال کے تینوں آپریشن تھیٹر پوری رات کام کرتے رہے۔ آخری مریض کا آپریشن چار بجے کیا گیا۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ کچھ مریض اب بھی انتہائی نگہداشت یونٹ میں موجود ہیں ’اس لیے صورتحال اب بھی سنگین ہے۔‘

    ہسپتال کے میڈیکل کوآرڈینیٹر نے گروپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی کہ مریض ’خوف کے شکار تھے، اُن کی آنکھیں کھوئی کھوئی لگ رہی تھیں، اُن کی نظریں تاریک تھیں۔ ہم نے شاید ہی کبھی ایسی صورتحال دیکھی ہے۔‘

  17. پاکستان آنے والے افغان پناہ گزین: ’طالبان خوفناک لوگ ہیں۔۔۔ ان کے سینوں میں دل نہیں‘

  18. دولتِ اسلامیہ خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی

  19. برطانوی وزیرِ دفاع: ’مغرب کو لگتا ہے کہ کچھ چیزیں کرنے سے سب ٹھیک ہوجائے گا‘

    برطانیہ کے وزیرِ دفاع بین والیس نے کہا ہے کہ ’مغرب کو یہ لگتا ہے کہ وہ یہاں آئیں گے، کچھ چیزیں کریں گے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘

    سکائی نیوز سے گفتگو کے دوران جب اُن سے پوچھا گیا کہ تاریخ افغانستان میں مغرب کی کارروائیوں کو کیسے دیکھے گی، تو بین والس نے کہا کہ ’افغانستان جیسے مسائل کو ٹھیک نہیں کیا جاتا۔‘

    ’افغانستان جیسے مسائل ٹھیک نہیں کیے جاتے۔ یہاں ایک ہزار سالہ قبائل لڑائیاں اور جنگ ہے۔ آپ انھیں صرف 'سنبھالتے‘ ہیں۔ اگر آپ یہاں قوم سازی کرنا چاہتے ہیں یا اس قوم کو پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا چاہتے ہیں، تو یہ کرنے کا بہتر طریقہ کسی بین الاقوامی ادارے کے طور پر ہی ہے، اور آپ کو پھر یہاں طویل عرصے تک موجودگی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے لوگوں کو افغانستان سے نکالنے کا مشن اب سے ’کچھ گھنٹوں‘ میں ختم ہو جائے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سب لوگ نہیں نکل سکیں گے۔‘

    بین والیس نے کہا کہ مزید لوگوں سے ایئرپورٹ آنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ برطانیہ نے بیرن ہوٹل بند کر دیا ہے جہاں برطانیہ جانے والے لوگوں کو ٹھہرایا جا رہا تھا۔

    وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے مغربی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے کے قریب پہنچے گا، ویسے ویسے کابل ایئرپورٹ کے گرد مزید حملوں کا خطرہ بھی بڑھے گا۔

    ’جب ہم جانے لگیں گے تو داعش جیسے گروہوں کا بیانیہ یہی ہوگا کہ اُنھوں نے برطانیہ اور امریکہ کو ملک سے نکال دیا ہے۔‘

  20. چمن بارڈر سے آنے والوں کو صرف چمن اور قلعہ عبداللہ جانے کی اجازت: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن کے حکام نے کہا ہے کہ افغان دستاویز ’تذکرہ‘ پر آنے والے افغان شہری صرف چمن اور قلعہ عبد اللہ تک آ سکتے ہیں اور اگر کوئی ان دو اضلاع سے باہر جانے کی کوشش کرے گا تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    افغانستان کے صوبہ قندھار سے متصل چمن کے ڈپٹی کمشنر جمعداد مندوخیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افغان شہری جو افغانستان سے باب دوستی کے راستے افغان دستاویز تذکرہ کے ذریعے پاکستان آتے ہیں اُنھیں صرف چمن اور قلعہ عبداللہ کے حدود تک آنے کی اجازت ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سابقہ افغان سرحدی حکام کے ساتھ ماضی میں طے ہواتھا، جس میں صرف سپین بولدک کا تذکرہ رکھنے والے چمن یا ضلع قلعہ عبداللہ کے حدود تک آ سکتے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دیگر شہروں کے لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔

    اُنھوں نے کہا کہ اب بھی اسی معاہدے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور وہ افغان شہری جو اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئٹہ جانے کی کوشش کرتے ہیں، اُنھیں کوئٹہ اور چمن کے درمیان مختلف چیک پوسٹوں سے گرفتار کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ کر کے ان کو واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔