آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں: امریکہ

    وائٹ ہاؤس میں بریفینگ کے دوران پریس سیکرٹری جین ساکی نے مستقبل قریب میں افغانستان میں طالبان کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے منصوبوں کو مسترد کردیا۔

    ان کا کہنا تھا ’میں واضح کرنا چاہتی ہوں امریکہ یا اس کا کوئی بھی بین الاقوامی حلیف جس سے ہم نے بات کی ہے کو انہیں تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ۔‘

    حالیہ ہفتوں میں طالبان اور امریکی فوج کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں پوچھے جانے پر پریس سیکرٹری کا کہنا تھا ’یہ دنیا کی واحد جگہ نہیں ہے جہاں ہم مخالفین کے ساتھ کام کررہے ہیں۔‘

  2. لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

  3. بریکنگ, افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد ’170‘ ہے: افغان اہلکار

    افغانستان میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کو کابل کے ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 90 سے بڑھ کر 170 ہو گئی ہے۔ اہلکاراپنا نام نہیں بتانا چاہتے تھے۔

    ہلاکتوں کی تعداد میں یہ اضافہ ابھی غیر تصدیق شدہ ہے لیکن مختلف ذرائع ابلاغ بھی یہی خبر دے رہے ہیں۔ بی بی سی اس کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہداری قبول کی تھی۔

  4. افغانستان میں طالبان: ’طالبان کا رویہ برا نہیں ہے لیکن ہم خطرہ مول لینا نہیں چاہتے‘

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

  5. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ’دو برطانوی شہری بھی شامل تھے‘

    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کابل میں کل ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو برطانوی شہری بھی شامل ہیں جن میں سے ایک برطانوی شہری کا بچہ ہے۔

    مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  6. افغانستان میں مزید حملوں کی ’توقع‘ ہے: پینٹاگون

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی اس وقت بریفنگ میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انخلا کی کوششوں میں ’دیر ہوئی‘ لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج مزید حملوں کے لیے تیار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اب بھی یہی خیال ہے کہ مزید حملوں کا خطرہ ہے۔ بلکہ مخصوص اور مصدقہ ذرائع سے یہ خطرات موجود ہیں۔‘

    بریفنگ کے آغاز میں کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے 31 اگست کی ڈیڈ لائن کا احترام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکہ ملک سے مزید پروازوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نئے طریقے سوچے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مرحلے میں ضروری نہیں ہے کہ امریکی فوج بھی شامل ہو۔‘

  7. کابل ہوائی اڈے پر دہشت گردی، طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش؟

  8. ہم آخری لمحے تک افغانستان سے لوگوں کے انخلا کو یقینی بنائیں گے: امریکہ

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ کابل ایئرپورٹ سے لوگوں کے انخلا کا مرحلہ 31 اگست تک جاری رہے گا۔

    خیال رہے کہ 31 اگست امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی ڈیڈلائن ہے۔ جان کربی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ آخری لمحے تک کابل سے لوگوں کے انخلا کے مشن کو جاری رکھے گا۔‘

  9. بریکنگ, اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا افغانستان سے انخلا ممکن ہو سکا ہے: پینٹاگون

    میجر جنرل ولیم ٹیلر کا کہنا تھا کہ اب تک پانچ ہزار سے زیادہ امریکیوں کی افغانستان سے محفوظ حالت میں واپس منتقلی ممکن ہو سکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے مشن کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا پروازوں کے ذریعے انخلا ممکن ہو سکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب بھی 5400 افراد کابل ایئرپورٹ پر انخلا کے منتظر ہیں۔

    ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت افغانستان میں پانچ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو لوگوں کی امداد میں مصروف ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ مشن کتنا خطرناک ہے لیکن دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکے گا۔‘

  10. زخمیوں کو علاج کے لیے جرمنی بھیجا گیا: میجر جنرل ولیم ٹیلر

    میجر جنرل ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز متعدد زخمیوں کو جرمنی لے جایا گیا جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’دو پروازیں جرمنی اتریں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔‘

  11. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا: پینٹاگون

    امریکی محمکہ دفاع نے واضح کیا ہے کہ جمعرات کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا تھا، جس میں 90 افراد مارے گئے جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے۔

    مرنے والوں میں 13 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی فوج کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج کے مطابق جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا تھا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ہوٹل کے قریب دوسرا دھماکہ نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ جمعرات کو میڈیا میں یہ خبریں بھی نشر ہوئیں کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد دوسرا دھماکہ ایک قریبی ہوٹل کے باہر ہوا ہے۔

    میجر جنرل ولیم ٹیلر نے کہا کہ وہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک ہی دھماکہ ہوا تھا۔

  12. ’بطور صدر ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے پیاروں کے دکھ بانٹنے سے مشکل کوئی کام نہیں تھا‘

    امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں پر دلی دکھ پہنچا ہے۔

    اوباما نے سابق صدر جارج ڈبلیو بش سے ورثے میں لی گئی اس جنگ کے دوران افغانستان میں ہزاروں امریکی فوجی تعینات کیے تھے۔ انھوں نے امریکی فوجیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ ہیروز ہیں جو خطرناک مشنز پر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دوسرے کی زندگیاں بچاتے ہیں۔

    اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ ’بطور صدر، ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے دکھ بانٹنے سے مشکل کوئی کام نہیں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ ’ان امریکی اور افغان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔‘

    ’میں ان افغان خاندانوں کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں جن میں سے اکثر امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور وہ بہتر زندگی گزارنے کے لیے سب کچھ ِخطرے میں ڈالنے کے لیے تیار تھے۔‘

    سنہ 2001 سے اب تک امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق افغانستان میں 2400 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. ’داڑھی کا پوچھے تو سرٹیفیکیٹ دکھا دینا‘

    موجودہ حالات کے پیش نظر بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار آڈیو سٹوریز کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    آج کی قسط میں صحافی اقبال خٹک نے مارچ 2001 کے چند واقعات کا ذکر کیا ہے جب انھیں ایک مغربی میڈیا کی ٹیم کے ساتھ کابل جانے موقع ملا۔ ویڈیو: سعد سہیل اور محمد ابراہیم

  14. کابل حملے عام شہریوں پر وحشت انگیز حملہ تھا: اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ کابل میں ہونے والے وحشت انگیز حملوں میں ملوث ہیں انھیں ’انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر روپرٹ کولوائل کا کہنا ہے کہ ’افغان دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ پر ہلاکت خیز حملوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عام شہریوں، بچوں، خواتین کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ حملے خاص طور پر دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے، اور ان کے باعث دہشت پھیلی۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان شدت پسند عناصر کو پکڑیں گے جنھوں نے 90 افغان اور 13 امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔

  15. کابل: برطانوی سفارتخانے کی خالی عمارت سے بعض افغانوں کی دستاویزات ملنے کا انکشاف

  16. افغان خواتین غیر یقینی کا شکار

    طالبان کا دعویٰ ہے کہ خواتین کے حقوق کا اسلامی قوانین کے مطابق احترام کیا جائے گا۔ تاہم بہت لوگوں کو خدشہ ہے کہ خواتین کے کام کرنے اور بچیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

    تفصیل دیکھیے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی اس رپورٹ میں

  17. مزارِ شریف میں پاکستانی حکومت کی مدد سے ایئر برج بنانے کی کوشش کریں گے: عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طبی سامان کی ضرورت بہت زیادہ اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے خطے کے ایمرجنسی ڈائریکٹر رک برینن افغانستان میں سامان کی قلت سے متعلق بات کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اگلے دو سے تین روز میں مزارِ شریف میں پاکستانی حکومت کی مدد سے ایئر برج بنانے کی کوشش کریں گے۔

    برینن نے جنیوا میں ایک بریفنگ میں بتایا کہ ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتالوں میں درکار سازوسامان اور بچوں میں غذائی قلت سے متعلق ادویات اس وقت ترجیحات میں سب سے اوپر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت سکیورٹی صورتحال اور اور دیگر آپریشنل مسائل کے باعث کابل ایئرپورٹ کے ذریعے ایسا کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل ایئرپورٹ پر جمعرات کے روز دو خودکش حملوں میں کم سے کم 90 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 150 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

  18. ہرات سے ایک ڈائری: ’میں ایک قیدی کی طرح ہوں، میری زندگی رک گئی‘

  19. کابل ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے سے متعلق ترکی اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری

    ترکی کے صدر طیب اردوگان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا مشترکہ انتظام سنبھالنے میں مدد سے متعلق حتمی فیصلے کیے جا سکیں۔

    صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے طالبان سے تین سے چار گھنٹوں پر محیط بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کہ ترکی ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنےکے لیے تیار ہے لیکن اس کی سکیورٹی کے انچارج طالبان ہوں گے۔

    ایئرپورٹ کا انتظام کیسے سنبھالا جاتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ بنایا جاتا ہے یہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اس کا متحرک ہونا افغانستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہو گا۔

    ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے اور یہ اس اتحادی افواج کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔ ترکی نے گذشتہ چھ سالوں سے ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔

    تاہم طالبان ترکی سمیت تمام بین الاقوامی افواج کا ملک سے انخلا چاہتے ہیں۔ صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے باوجود تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان کی افواج ایئرپورٹ پر موجود رہیں گی یا نہیں۔

  20. ’خطے کی دیگر افواج سے کوئی براہ راست رابطے نہیں‘

    چین اور ازبکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک سے عسکری تعاون کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی افواج میں کوئی براہ راست رابطے نہیں ہیں اور یہ حکومتی سطح پر ہی محدود ہیں۔