آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کابل دھماکوں میں متعدد امریکی فوجی بھی ہلاک

    پینٹاگون کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں افغان شہریوں کے علاوہ متعدد امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جان کربی کی جانب سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد تو نہیں بتائی گئی تاہم امریکی میڈیا کے مطابق چار امریکی میرینز اس دھماکے میں مارے گئے ہیں۔

  2. بے چین افغان شہری حملوں کی وارننگ پر کان نہیں دھر رہے تھے, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز، کابل

    بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی کے مطابق اس کے باوجود کے حکام نے حملے کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر دیا تھا مگر کابل کے ایئرپورٹ کے باہر جہاں دھماکہ ہوا ہے وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

    کابل میں لوگ اس قدر بے چین تھے کہ انھوں نے اس طرح کے حملوں کی خبر پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اگرچہ وہ ہر طرح کی افواہوں کے بارے میں سن رہے ہیں اور ان کی توجہ صرف ملک سے باہر نکلنے پر ہی مرکوز ہے۔

    اس صورتحال تک پہنچنے کے لیے وہ پہلے ہی بہت کچھ بھگت چکے ہیں۔ پریشان کن صورتحال میں بہت سے افغان شہریوں نے ایئرپورٹ کے باہرے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ جس خطرے کے بارے میں وہ تذبذب میں تھے وہ انھیں ایئرپورٹ کا رخ کرنے سے نہ روک سکا۔

  3. شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کا دعویٰ

    افغان اسلامک پریس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نےے کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    یہ کابل کے طالبان کے قبضے میں جانے کے بعد وہاں ہونے والا پہلا حملہ ہے۔ اب تک اس حملے میں کم از کم 13 افراد کی ہلاکت اور 50 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

  4. ’لاشیں نالے میں پھینک دی گئیں‘

    جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد دلخراش واقعات سامنے آئے ہیں۔

    میلاد، جو دھماکے کے وقت اس جگہ پر موجود تھا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ لاشوں، گوشت اور لوگوں کو قریبی ہی ایک نالے میں پھینک دیا گیا۔

    جب لوگوں نے دھماکے کے بارے میں سنا تو ہر طرف افرا تفری پھیل گئی۔ ایک دوسرے عینی شاہد کے مطابق اس صورتحال میں لوگوں کو گیٹ سے ہٹانے کے لیے طالبان نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔

    عینی شاہد کے مطابق میں نے ایک شخص کو ہاتھ میں ایک زخمی بچے کو اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا۔

    عینی شاہد، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے، کے مطابق اس نے وہ کاغذات پھینک دیے جو اسے اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت بیرون ملک سفر کرنے میں مدد فراہم کر سکتے تھے۔

    عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ شخص یہ کہہ رہا تھا اب میں ایئرپورٹ کی طرف دوبارہ کبھی رخ نہیں کرونگا۔ وہ امریکہ اور اس امریکہ کا انخلا کے لیے ویزہ پروگرام کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔

  5. دھماکے کے مقام کی سکیورٹی کی ذمہ دار امریکی افواج تھیں: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر جہاں دھماکہ ہوا وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری امریکی افواج کی ہے۔ انھوں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی امارت عوام کی سکیورٹی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔

  6. یہ ابتدا ہے، ابھی ہمیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر کا کابل دھماکوں پر رد عمل

    امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والا حملہ ابتدا ہے۔

    جنرل میک ماسٹر، جو افغانستان میں ایک سینیئر افسر کے طور پر کام کر چکے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکہ نے سنگین تنائج کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کو جہنم بنانے کو ترجیح دی ہے اور ایک دہشتگرد تنظیم کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔

    سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے امریکی انخلا کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے آپ کو دھوکے میں رکھ کر افغانستان میں ایک دہشتگرد اور جہادی تنظیم کے لیے حکومت بنانے کا رستہ ہموار کر دیا ہے، جس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔

  7. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بعد کے مناظر

    پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دو دھماکوں میں متعدد امریکی اور افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

  8. فرانسیسی صدر: بہت پریشان ہوں مگر ہم اپنا کام جاری رکھیں گے

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے اردگرد صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔

    ان کے مطابق اب ہم ایسی صورتحال میں جو ہمارے بھی قابو میں نہیں ہے ہر شخص کو یہی مشورہ دیں گے وہ اس صورتحال میں محتاط رہیں۔

    ان کے مطابق اس حملے باوجود فرانس افغانستان سے انخلا کے اپنے آپریشن کو جاری رکھے گا۔

    اس وقت فرانس نے اپنے 115 شہریوں کو افغانستان سے نکالا ہے جبکہ دو ہزار افغان شہریوں کو بھی فرانس بیرون ملک لے جانے میں کامیاب ہوا ہے۔

    فرانس کا آخری جہاں کل شام کو کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہو گا۔

  9. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بعد کے مناظر

  10. افغان صحافی ہوائی اڈے پر موجود اپنی دوست کے لیے پریشان, میں یہاں مر جاؤنگی مگر میں یہاں سے نہیں جاؤنگی! سوری

    افغانستان سے تعلق رکھنے والی صحافی عائشہ احمد نے ٹویٹ کیا ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کا اپنی ایک دوست سے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جسے انھوں نے وہ علاقہ چھوڑنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

    عائشہ احمد نے اپنی دوست کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ عائشہ احمد کے مطابق انھوں نے اپنی دوست کو متعدد بار فون کیا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق ان کے واٹس ایپ پر ان کی دوست کی ابھی بھی آواز محفوظ ہے جس میں وہ میں یہاں مر جاؤں گی مگر یہاں سے نہیں جاؤں گی! سوری

  11. دھماکہ بہت زوردار تھا، یہ ایک قیامت خیز لمحہ تھا

    کابل میں ایک عینی شاہد نے ایئرپورٹ پر موجود ایک صحافی کو بتایا کہ ایئرپورٹ کے ابے گیٹ کے قریب ہونے والا دھماکہ بہت زوردار تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ جس جگہ پر ہم موجود تھے وہاں اچانک دھماکہ ہوا۔

    اس شخص کے مطابق اس نے دھماکے والی جگہ کے قریب کم از کم 400 سے 500 کے قریب لوگ دیکھے ہیں اور اس شخص کے مطابق اس دھماکے کے کچھ متاثرین غیر ملکی افواج سے تعلق رکھتے تھے۔

    اس عینی شاہد کے مطابق ہم نے سٹریچرز پر زخمیوں کو ہسپتال کی طرف لے کر گئے۔۔۔ اس دوران میرے کپڑے مکمل خون میں لت پت ہو گئے تھے۔

    سابقہ مترجم: یہ ایک قیامت خیز لمحہ تھا

    دیبورا ہینز، سکائی نیوز کے فارن افئیرز کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے برطانوی افواج کے ساتھ کام کرنے والے ایک سابق افغان مترجم سے بات کی ہے جو اپنی اہلیہ اور چھوٹے بچے کے ساتھ ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے کے لیے اپنی پرواز کا انتظار کر رہے تھے جب یہ دھماکہ ہوا۔

    سابق مترجم کے مطابق یہ قیامت خیز منظر تھا، ہر طرف زخمی افراد تھے۔ انھوں نے سکائی نیوز کی ایڈیٹر کو مزید بتایا کہ اس نے دیکھا کہ لوگوں کے چہروں اور جسم پر خون ہی خون تھا اور وہ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔

  12. کوئی برطانوی فوجی زخمی نہیں ہوا

    برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے دھماکوں میں کسی برطانوی فوجی یا حکومتی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ ہوائی اڈے کا وہ دروازہ جس کے باہر دھماکہ ہوا وہاں چند دن سے برطانوی فوج کے جوان ہی تعینات تھے

  13. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بارے میں اب تک کیا تفصیلات سامنے آ چکی ہیں

    کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ کے قریب کم از کم دو دھماکے ہوئے ہیں۔ یہ ایئرپورٹ کا وہ گیٹ ہے جسے شہریوں کے انخلا کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایک دھماکہ بیرون ہوٹل کے قریب ہوا جسے مغربی ممالک اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

    پینٹاگون کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے میں متعدد امریکی اور عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے ہلاک ہونے والوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ایئرپورٹ پر گن فائر کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    یہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب امریکی اور برطانوی حکام نے اپنے شہریوں کو دہشتگردی کے دھماکوں کے خطرات کے پیش نظر ایئرپورٹ کا رخ نہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن کو اس صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور وہ دھماکوں کی بعد کی صورتحال کو مانٹیر کر رہے ہیں۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن دھماکوں کے بعد ایمرجنسی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔

  14. ترجیح زیادہ سے زیادہ افراد کا جلد از جلد افغانستان سے انخلا ہے: نیٹو سیکریٹری جنرل

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل ہانس سٹولٹنبرگ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کابل ایئرپورٹ کے باہر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کی ترجیح بدستور کم سے کم وقت میں جتنے افراد کو بھی ممکن ہو سکے محفوظ مقام تک پہچانا ہے۔

  15. ہوٹل کے قریب دھماکے میں بھی ’متعدد زخمی‘

    برطانیہ کی امورِ خارجہ اور قومی سلامتی کی حکمتِ عملی پر کمیٹیوں کی رکن ایلیشیا کیئرنز نے کا ہے کہ بیرن ہوٹل کے قریب ہونے والے دھماکے میں بھی کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    بیرن ہوٹل وہ مقام ہے جہاں برطانوی حکام افغانستان سے انخلا کے قابل برطانوی اور افغان شہریوں کی جانچ پڑتال کا عمل ہو رہا ہے۔

  16. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد کی تصاویر: زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

    کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں زخمیوں کو ہاتھ والی ریڑھیوں کی مدد سے ہسپتال تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ان تصاویر میں ان زخمیوں کے کپڑوں کو خون میں لت پت دیکھا جا سکتا ہے۔

    افغانستان کے نجی میڈیا طلوع نیوز نے ٹوئٹر پر کچھ ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں مرد، خواتین اور بچے ۔۔ جن میں سے کچھ نے اپنے سر پر ایک عارضی پٹی باندھ رکھی ہے۔۔ دھماکے کی جگہ سے محفوظ جگہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

    وارننگ: کچھ تصاویر قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں

    افغانستان سے تعلق رکھنے والے صحافی بلال سروری جو چند دن قبل کابل سے بیرون ملک جانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ انھیں اس دھماکے کی خبر ان کے ایک دوست نے دی جو ایئرپورٹ پر قطار میں کھڑا تھا اور دھماکے سے 15 منٹ قبل اس کی دستاویزات کی تصدیق ہوئی تھی۔

    ان کے مطابق اس کے دوست نے دیکھا کہ دھماکے کے بعد متاثرین کو لے جایا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق فوری طور پر وہاں ایمبولینس نہیں پہنچ سکی تھیں۔

  17. دھماکے کی جگہ پر ’لاشوں کے ڈھیر‘

    کابل میں موجود بی بی سی کے سکندر کرمانی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر دھماکے کے مقام کی جو ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں ان میں لاشوں کے ڈھیر دیکھے جا سکتے ہیں اس لیے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ درست ہے۔

  18. فرانسیسی صدر: افغانستان کی صورتحال ہمارے قابو سے باہر ہو سکتی ہے

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے مطابق افغانستان کی صورتحال بہت بگڑ رہی ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اس طرف جا رہی ہے کہ جہاں سے پھر ہم بھی اسے کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔ فرانس کے صدر نے مزید کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے اردگرد صورتحال بہت خطرناک ہے۔

  19. کابل دھماکے میں متعدد امریکیوں اور افغانوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق

    امریکی وزارتِ دفاع کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کہ کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے دروازے کے علاوہ قریب واقع بیرن ہوٹل کے قریب بھی دھماکہ ہوا ہے۔

  20. ایئرپورٹ کے گیٹوں سے فوری طور پر دور چلے جائیں: فرانسیسی سفیر

    کابل میں فرانسیسی سفیر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ مزید دھماکوں کے پیش نظر وہ ایئرپورٹ کے تمام گیٹوں سے دور ہو جائیں۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر کہا ’تمام افغان دوستوں کے لیے، اگر آپ ایئرپورٹ کے کسی گیٹ کے قریب ہیں تو فوری طور پر وہاں سے ہٹ کر محفوظ مقام کی طرف چلے جائیں۔ کیوں کہ دوسرا دھماکہ ہو سکتا ہے۔‘

    اب سے کچھ دیر پہلے انھوں نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کسی فرانسیسی کی اس واقعے میں زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

    ’آج ایبی گیٹ کے قریب کوئی فرانسیسی فوجی، پولیس اہلکار یا سفارتکار تعینات نہیں تھا‘