آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. ’افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان پر امریکی ڈرون حملے کے باوجود خطرہ برقرار ہے‘

    پینٹاگون کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے ایک پریس بریفننگ میں مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملے سے متعلق مزید تفصیلات دی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے دو ہائی پروفائل اہداف ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی سویلین اس حملے میں زخمی نہیں ہوا ہے۔

    اس سے قبل پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ ان اہداف کا تعلق دولت اسلامیہ خراسان سے تھا۔ ’ان اہداف کو نشانہ بنانا سنگل مشن تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں دولت اسلامیہ خراسان کے ’منصوبہ ساز اور سہولت کار تھے۔۔۔ یہی وجہ کافی تھی۔‘

    جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں 13 امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

    کربی کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔ ’ہم ایک منٹ کے لیے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ کل جو ہوا اس سے ہمارا راستہ صاف ہوگیا ہے۔‘

    کربی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دولت اسلامیہ کے ان اراکین پر ڈرون حملوں کے بعد اس کی جانب سے مزید حملوں کی صلاحیت مثاثر ہوچکی ہے۔

  2. بورس جانسن اور انگیلا میرکل کے درمیان افغانستان کی صورتحال پر بات چیت, انسانی حقوق اور محفوظ راستہ زیر بحث

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس بارے میں بات چیت کی ہے کہ طالبان کے افغانستان میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان سے کیسے نمٹا جائے۔

    سنیچر کو ایک فون کال میں دونوں رہنماؤں نے تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’نئی افغان حکومت سے نمٹنے کے لیے جی سیون ممالک کی حکمت عملی پر اتفاق کیآ۔‘

    ’برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان کو منظور کرنا یا ان سے رابطہ ان شرائط پر مبنی ہونے چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کو محفوظ راستے دیں گے جو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں گے۔‘

    دریں اثنا ایک طالبان اہلکار، جو امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں شریک تھا، نے کہا ہے کہ طالبان کے زیر اثر ملک کی سرحدیں کھلی رہیں گے اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد جو افغان شہری جانا چاہتے ہیں وہ جاسکیں گے۔

    شیر محمد ستانکزئی نے کہا کہ ’اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔‘

    ’مستند اور قانونی دستاویزات کے ساتھ یہ لوگ کسی بھی وقت ملک سے باہر جا سکیں گے یا واپس آسکیں گے۔‘

  3. افغانستان میں زیر زمین سونا بھرا پڑا ہے، یہ خزانہ اب کس کے ہاتھ آئے گا؟

  4. قریب پانچ ہزار افغان شہری اٹلی پہنچ گئے

    اٹلی میں حکام کا کہنا ہے کہ قریب پانچ ہزار افغان شہریوں کو افغانستان سے اٹلی لایا گیا ہے جو طالبان کے قبضے کے بعد ’یورپی یونین کے کسی بھی ملک کے مقابلے سب سے بڑی تعداد ہے۔‘

    اٹلی کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ’ہم افغان شہریوں، خواتین اور نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم کسی ایسے افغان شہری کو تنہا نہیں چھوڑیں گے جنھوں نے ان تمام برسوں کے دوران انقلاب کی خواہش ظاہر کی ہے اور جو تبدیلی چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد بھی مزید افغان شہریوں کو لانے کی اجازت دی جائے گی اور ایسے میں اقوام متحدہ، فلاحی تنظیمیں اور دیگر ممالک مدد کریں گے۔

    امریکہ، برطانیہ اور جرمنی بھی ہزاروں افراد کو افغانستان سے لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جرمنی قریب چار ہزار افغان شہریوں کو اپنے ملک لایا ہے۔

  5. بریکنگ, برطانیہ کی عام شہریوں کو افغانستان سے واپس لانے والی آخری پرواز کابل سے روانہ

    برطانیہ میں وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے عام شہریوں کو واپس لانے والی آخری پرواز کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوچکی ہے۔ اس طرح سویلینز کے انخلا کا آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔

    تاہم آنے والے دنوں میں برطانوی فوجیوں، سفارتکاروں اور کچھ افغان پناہ گزین کے انخلا کے لیے مزید پروازیں اڑائی جائیں گی۔

    برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر نِک کارٹر کا کہنا ہے کہ وہ تمام مستحق افراد کو ریسکیو نہیں کرسکے جس پر انھیں افسوس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے سینکڑوں افغان شہری جو برطانیہ آنے کے مستحق ہیں وہ اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

  6. ایمانویل میکخواں: ہمیں اپنا تحفظ جاری رکھنا ہوگا, فرانس کے صدر کی عراقی وزیر اعظم سے بغداد میں ملاقات

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے ایک بار پر دولت اسلامیہ کے حوالے سے اپنی تنبیہ دہرائی ہے۔ انھوں نے ایسا عراق پر ایک اجلاس کے دوران کیا۔

    بغداد میں انھوں نے عراقی وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں اپنا تحفظ جاری رکھنا ہوگا کیونکہ (دولت اسلامیہ) اب بھی ایک خطرہ ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف لڑائی آپ کی حکومت کی ترجیح ہے۔‘

    مسلح جنگجوؤں کی جانب سے حملوں نے عراق کو ماضی میں کافی نقصان پہنچایا ہے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

  7. بینکوں کی بندش کے خلاف کابل میں احتجاجی مظاہرہ

    اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں درجنوں افراد بینک اور منی ایکسچینج کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی جاری کردہ ویڈیو میں یہ مظاہرا دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ مظاہرین بینک کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    رواں ماہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے ملک کی معیشت پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ افغانی کرنسی کی قدر تیزی سے گِر رہی ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ملک میں لاکھوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔

  8. افغانستان میں شدید خشک سالی، اقوام متحدہ کی کسانوں کی فوری مدد کی اپیل

    اقوام متحدہ نے افغانستان کے ستر لاکھ کسانوں کی فوری مدد کی اپیل کی ہے جو ملک میں سخت خشک سالی کا شکار ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری شدید خشک سالی کے باعث کم تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جنھیں شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔

    کورونا وائرس کی وبا سے افغانستان میں ذراعت سے منسلک افراد پہلے ہی بہت متاثر تھے۔

    گذشتہ تین سالوں میں افغانستان دوسری بار شدید خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر تک ملک میں آٹا ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایف اے او نے کہا ہے کہ وہ خود اس وقت فنڈنگ کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں جس کے لیے انھیں ڈیڑھ کروڑ یوروز کی ضرورت ہے تاکہ وہ افغانستان میں اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر سکیں۔

    ادارے کو امید ہے کہ وہ ملک میں کم از کم 15 لاکھ لوگوں تک امداد پہنچا سکے اور سردیوں کے موسم میں ان کی مدد ہو سکے۔ لیکن فنڈنگ میں کمی کا مطلب ہے کہ وہ مطلوبہ ہدف تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

    اقوام متحدہ نے اس ہفتے کے شروع میں بھی تنبیہ کی تھی کہ ملک میں غذائی قلت بڑھتی جا رہی ہے اور ملک بہت بڑے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

  9. طالبان سے تعلقات کا انحصار ان کے رویے پر ہوگا: ایران

    ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مستقبل میں ایران اور افغانستان کے تعلقات کا انحصار طالبان کے رویے پر ہوگا کہ وہ ایران سے کیسے تعلقات چاہتے ہیں۔

    ’ایران کے دیگر ممالک سے تعلقات اُن ممالک کے اپنے رویے پر منحصر ہے کہ وہ ایران سے کیسا رشتہ رکھنا چاہتے ہیں۔‘

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے ایران کے رہبر اعلی کی جانب سے یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بیان ملک کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں دیا۔

    ان سے منسوب بیان میں کہا گیا: ’ہم افغان عوام کے حامی ہیں۔ انتظامیہ، ماضی کی طرح، آتی جاتی رہتی ہیں لیکن افغان قوم یہیں ہے۔‘

    ایرانی رہبر اعلی نے 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے پر اپنے گہرے دکھ کا بھی اظہار کیا۔

    ایران کے رہبر اعلی نے افغانستان کے حالات کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام بحران امریکہ کی وجہ سے ہوا ہے جنھوں نے 20 سال سے ملک پر قبضہ کیا ہوا تھا اور لوگوں پر جبر مسلط کیا ہوا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بیس سالوں میں افغانستان نے ذرا سی بھی ترقی نہیں کی اور امریکہ نے شادیوں اور جنازوں پر بمباری کی، نوجوانوں کو قتل کیا اور ہزاروں افراد کو بلا قصور حراست میں لیا گیا۔

  10. کابل کی شاہراؤں سے اٹھتا تعفن اور سناٹے میں غیر یقینی کی کیفیت

  11. طالبان کا صحت کے شعبے سے منسلک خواتین کو کام پر واپس لوٹنے پر زور

    طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ خواتین جو وزارت صحت کے لیے کام کرتی ہیں وہ اپنی نوکریوں پر دوبارہ جانا شروع کریں۔

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین عملہ کابک اور ملک کے دیگر صوبوں میں ’اپنی معمول کی ذمہ داریاں‘ نبھائے۔

    انھوں نے کسی اور شعبے سے منسلک خواتین کے لیے ایسا پیغام نہیں دیا۔ دو ہفتے قبل کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان خواتین نے اپنے ڈر و خوف کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان طالبان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک اور پیغام میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل شہر کے افراد ’اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سرکاری چیزیں‘ ایک ہفتے کے اندر واپس کر دیں۔

  12. ’ہم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘

    برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود شہریوں کو 31 اگست سے پہلے باہر نکالنے کے لیے ہم ’آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘۔

    بارس جانسن نے کہا کہ انھیں ب’ہت پشیمانی‘ ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود وہ افغانستان سے ہر کسی کو باہر نہیں نکال سکیں گے۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے کابل میں باہر جانے والے افراد کی دستاویزات جانچنے والے مراکز بند کردیے ہیں اور اب وہ کسی کو ایئرپورٹ نہیں بلا رہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات تمام غیر ملکی فوجی اس مہینے کے اختتام پر واپس چلے جائیں گے۔

  13. ’افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اسی وقت ہوگا جب وہاں مختلف گروہ کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں‘

    اقوام متحدہ میں تعینات پاکستانی سفیر منیر اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں شراکت پر مبنی حکومت کا خواہشمند ہے لیکن انھیں تسلیم کرنے کا سوال اسی وقت پیدا ہوگا جب وہاں موجود مختلف گروپس کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں۔

    قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں منر اکرم نے کہا کہ پاکستان علاقائی پڑسیوں سے رابطے میں ہے تاکہ نہ صرف افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کے بارے میں بات چیت کی جائی بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل بھی طے ہو جس کی مدد سے افغانستان کو مستحکم بنایا جا سکے۔

    ’ہماری ترجیح ہے کہ افغانستان کو مستحکم کیا جائے اور اس کے لیے ہمیں امداد کی اشد ضرورت ہے، وہاں کی معیشت کو بحال کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات لینے ہیں اور ایک شراکت پر مبنی حکومت قائم کرنی ہے۔‘

  14. بریکنگ, ’برطانیہ سنیچر کو افغانستان سے انخلا کا آپریشن ختم کر دے گا‘

    برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان سے شہریوں کے انخلا کا آپریشن آج یعنی سنیچر کو ختم کر دے گا۔

    بی بی سی کے ریڈیو فور پروگرام سے بات کرتے ہوئے جنرل نک کارٹر نے کہا کہ برطانیہ اب اس آپریشن کی تکمیل کی جانب پہنچ رہا ہے آج شہریوں کے انخلا کا کام مکمل ہوگا اور پھر اس کے بعد وہاں رہ جانے والے فوجیوں کو واپس لے جانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    جنرل نک کارٹر نے کہا کہ کابل سے شہریوں کو لے کر چند پروازیں ابھی بھی برطانیہ آ رہی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کی کم ہے۔

    ’ہم ہر کسی کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ اور وہاں ہمیں بہت مشکل فیصلے لینے پڑے ہیں۔‘

    برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے جمعے کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں 800 سے 1100 افغان جنھوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا، وہ برطانیہ نہ جا سکیں گے۔

    واضح رہے کہ وزارت دفاع کے مطابق انھوں نے گذشتہ دو ہفتوں میں اب تک 14500 سے زیادہ افغان اور برطانوی شہریوں کو کابل سے نکال لیا ہے۔

  15. افغان اویغور: ’ہمیں خوف ہے کہ طالبان ہمیں پکڑ کر چین کے حوالے کر دیں گے‘

  16. ’افغانستان مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے‘

    رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے گذشتہ شب ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ انھوں نے امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے افغانستان کے موضوع پر بات چیت کی۔

    لنڈسے گراہم نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانی حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی شہریوں، اتحادیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو نکالنے میں بہت مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے۔

    ’ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور ایک طالبان کا پاکستانی گروہ ہے جو پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ یہ بہت پیچیدہ خطہ ہے اور یہ پرخطر وقت ہے۔‘

  17. یکم ستمبر سے کابل ایئرپورٹ کا کیا ہوگا؟

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کا مستقبل اس وقت واضح نہیں ہے اور اس بارے میں نہ صرف قیاس آرائیاں جاری ہیں بلکہ اس کے بارے میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔

    امریکی افواج کے انخلا کے بعد یکم ستمبر سے طالبان ایئرپورٹ کے امور سنبھال لیں گے اور انھوں نے جمعے کو دعوی کیا کہ ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا انتظام اب ان کے پاس ہے۔

    دوسری جانب جمعے کو ہی امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ 31 اگست تک ملک چھوڑ دے گا اور ایئرپورٹ افغان افراد کے زیر انتظام ہوگا۔

    ’ائیرپورٹ چلانا کوئی بہت پیچیدہ کام نہیں ہے۔ لیکن یہ سمجھنا شاید مناسب نہیں ہوگا کہ بدھ کے بعد سے ایئرپورٹ پر معمول کی کارروائی ہوگی۔‘

    لیکن ائیرپورٹ کے عارضی طور پر بند ہونے کا اشارہ سب سے پہلے امریکی سیکریٹری سٹیٹ انٹونی بلنکن نے ہی دیا تھا جب انھوں نے بدھ کو کہا کہ متعدد علاقائی ممالک اس بارے میں اپنے تئیں پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایئرپورٹ کو یا تو کھلا رکھیں یا اگر یہ کچھ عرصے کے لیے بند ہو جاتا ہے تو اسے بعد میں دوبارہ فعال بنا لیں۔

    انٹونی بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ ائیرپورٹ طالبان کے لیے بہت ضروری ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنے گذشتہ دورِ حکومت کی طرح ایک بار پھر دنیا سے کٹ جائیں۔

  18. افغانستان سے انخلا: امریکہ کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے حملوں کے خدشات کے باوجود امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے افغان افراد کے انخلا کا سلسلہ ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا۔

    جمعرات کو شہر کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے اور اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی۔

    امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا کہ ابھی بھی ایئرپورٹ کے خلاف حملہ ہونے کے خدشات ہیں۔

    امریکہ اس وقت افغان افراد کو ملک سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ ناٹو ممالک کی اکثریت اپنے ایمرجنسی آپریشن ختم کر چکی ہے۔

    فرانس نے جمعے کے روز لوگوں کے انخلا کے لیے اپنی آخری پرواز چلائی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اب وہ مزید پرواز نہیں چلا سکتے۔ فرانس کے مطابق انھوں نے افغانستان سے تین ہزار لوگوں کو باہر نکالا ہے۔

    سپین بھی اپنا آپریشن مکمل کر چکا ہے۔

    امریکہ اپنے فوج کو 31 اگست کو مکمل طور پر واپس بلا لے گا۔

    طالبان کے ایک ترجمان نے جمعے کی شب کہا کہ طالبان نے ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم پینٹاگون نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق اس وقت پانچ ہزار افراد کابل ایئرپورٹ کے اندر موجود ہیں اور جانے کی پروازوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد کو ملک سے باہر نکال لیا ہے۔

  19. ’طالبان پہلے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئے پھر رات کو ہمارا دروازہ بھی کھکھٹایا‘

  20. کابل ائیر پورٹ حملے کے منصوبے ساز کے خلاف امریکی ڈرون حملہ

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں دولت اسلامیہ گروپ کے ایک رکن کے خلاف فضائی حملہ کیا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ حملے کا ہدف وہ شخص تھا جس نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے کی منصوبے بندی کی تھی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ننگرہار میں کی گئی اس کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا گیا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہدف کو ہلاک کر دیا ہے۔