’افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان پر امریکی ڈرون حملے کے باوجود خطرہ برقرار ہے‘
پینٹاگون کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے ایک پریس بریفننگ میں مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملے سے متعلق مزید تفصیلات دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے دو ہائی پروفائل اہداف ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی سویلین اس حملے میں زخمی نہیں ہوا ہے۔
اس سے قبل پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ ان اہداف کا تعلق دولت اسلامیہ خراسان سے تھا۔ ’ان اہداف کو نشانہ بنانا سنگل مشن تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں دولت اسلامیہ خراسان کے ’منصوبہ ساز اور سہولت کار تھے۔۔۔ یہی وجہ کافی تھی۔‘
جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں 13 امریکی فوجی بھی شامل تھے۔
کربی کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔ ’ہم ایک منٹ کے لیے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ کل جو ہوا اس سے ہمارا راستہ صاف ہوگیا ہے۔‘
کربی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دولت اسلامیہ کے ان اراکین پر ڈرون حملوں کے بعد اس کی جانب سے مزید حملوں کی صلاحیت مثاثر ہوچکی ہے۔