آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. امریکی صدر بائیڈن کو سکیورٹی بریفنگ کے دوران دھماکے کی اطلاع دی گئی

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کو اس واقعے کے بارے میں اس وقت اطلاع دی گئی جب وہ سکیورٹی کی صورتحال پر حکام کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔

  2. کابل ایئرپورٹ: ہوائی اڈے کے دروازے پر دھماکے کے بعد ایک اور دھماکہ بھی ہوا

    بی بی سی نیوز کے نمائندے جوناتھن بیئل کا کہنا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے باہر ہونے والے پہلے دھماکے کے بعد ایک دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔

    دونوں دھماکے ابے گیٹ کی طرف ہی ہوئے۔ ان کے مطابق یہ کابل ائیرپورٹ کا وہ گیٹ ہے جہاں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کئی دنوں سے جمع تھی۔

  3. ہسپتال میں زخمیوں کی آمد

    افغانستان میں طلوع نیوز کے مطابق ایئرپورٹ کے گیٹ پر زخمی ہونے والے متعدد افراد کو مقامی ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

  4. پیٹاگون کی جانب سے ہلاکتوں کی تصدیق

    پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کابل میں ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

  5. ابے گیٹ پر برطانوی فوجی تعینات تھے مگر کسی برطانوی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی

    برطانیہ کے ایک دفاعی ذریعے نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ ابھی تک اس دھماکے میں کسی برطانوی فوجی کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے ابے گیٹ پر حالیہ دنوں میں ہی برطانوی فوجی تعینات کیے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ ابے گیٹ کابل ایئرپورٹ کے ان تین گیٹس میں سے ایک ہے، جسے دہشتگردی کے حملے کے خطرے کے پیش نظر بند کر دیا گیا تھا۔

    ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ ایک خود کش حملہ آور نے کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر جو بائیڈن کو بھی اس حملے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ابھی تک اس دھماکے میں نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ ایئرپورٹ پر گن فائر کی بھی اطلاعات ہیں۔

  6. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ دھماکہ: طالبان کے مطابق کم از کم 11 افراد ہلاک

    طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کابل ائیر پورٹ پر حملے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    طالبان کے مطابق اس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور بعض طالبان گاڑڈ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    ابھی ان اطلاعات کی دوسرے ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  7. ایک نہیں دو دھماکے ہوئے ہیں: ترک وزارت دفاع

    ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  8. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکہ

    کابل کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

    پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کیربی نے اپنے ٹویٹ میں کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی اس دھماکے میں جانی نقصان کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔ ان کے مطابق جب ان کے پاس مزید معلومات جمع ہوں گے تو وہ اضافی تفصیلات بھی شیئر کر دیں گے۔

  9. مغرب نے غلطیاں دہرائیں تو پاکستان مزید ایک پناہ گزین لینے کو بھی تیار نہیں: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کئی ماہ سے طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان ممالک کا اثر و رسوخ آج پاکستان سے زیادہ ہے کیوں کہ طالبان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کو قبول کیا جائے، انھیں مستقبل کے لیے مالی مدد کی ضرورت ہے ’ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، آپ کے پاس ہیں‘۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ اگر طالبان مخلوط حکومت قائم نہیں کرتے تو کیا پاکستان اس کو تسلیم کر لے گا۔

    معید یوسف نے کہا کہ پاکستان جو کچھ کر سکتا ہے کر رہا ہے لیکن یہ ایک مشترکہ کوشش ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایک عام افغان کو یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ مغرب کو صرف ان کی پرواہ ہے جو ان کے اداروں اور سفارتی مشنز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ’ہم افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی کو دہرا رہے ہیں، اس سے بحران پیدا ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس سے پاکستان متاثر ہوگا اور پاکستان میں پہلے سے 30 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں ’اور ہم مزید ایک فرد بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

  10. دنیا بھول جاتی ہے کہ پاکستان افغان جنگ کے متاثرین میں سے ہے: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں مخلوط حکومت کا قیام عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کی کہ کیا پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک مخلوط حکومت بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا بھول جاتی ہے کہ ’پاکستان افغانستان جنگ کے متاثرین میں سے ہے‘۔

    انھوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے 80 ہزار جانیں گنوائی ہیں، 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے اور آج بھی پاکستان میں 30 لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔

  11. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ پر ٹیک آف کے دوران اطالوی طیارے پر فائرنگ کی اطلاعات

    کابل کے ایئرپورٹ پر ایک اطالوی طیارے کی طرف اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ٹیک آف کر رہا تھا۔

    تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ فائرنگ کس نے کی ہے اور کیوں کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ملٹری ذرائع سے متعلق خبر دی ہے کہ اس واقعے کے بعد کسی بھی قسم کے نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  12. ہمیں ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانی چاہییں: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو جس بڑے پیمانے پر انخلا کا خدشہ تھا وہ صورتحال ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے لیکن بین الاقوامی برادری کو پناہ گزینوں کے بحران کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کی کہ اطلاعات کے مطابق پناہ گزینوں کے لیے، اس میں وہ لوگ شامل نہیں جن کے پاس آنے جانے کی اجازت ہے، صرف پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں چمن کی سرحد کھلی ہے۔

    معید یوسف نے اس وال کے جواب میں کہا کہ یہ باتیں ان افرد کے تناظر میں ہو رہی ہیں جو ’20 سے 25 ہزار افراد روزانہ پاکستان آتے اور واپس چلے جاتے ہیں۔‘

    انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انخلا ایک اہم عمل ہے لیکن ’ہم بطور بین الاقوامی برداری وہ غلطی دہرا رہے ہیں، نوے کی دہائی میں افغانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا اور وہاں سکیورٹی کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے اور نائن الیون جیسے واقعات رونما ہوئے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر مرتبہ غلطی کرتے ہیں جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہو جائے گا، ہم پناہ گزینوں کا بحران ہیدا ہی کیوں ہونے دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مغرب نے ماضی میں بڑی غلطیاں کی ہیں اور پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف 1980 کی دہائی میں اس کی مدد کی لیکن ’ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا، افغانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا‘۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں افغانوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایسا بحران پیدا ہی نہ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ ’مدد موجود ہو، حکومت سازی کا منصوبہ ہو۔۔۔تاکہ پناہ گزینوں کی صورتحال نہ پیدا ہو۔‘

  13. 'پاکستان نے اب تک 18 ممالک سے تعلق رکھنے والے سات ہزار سے زیادہ افراد کے انخلا میں مدد کی ہے'

    پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان ہمیشہ سے انسانی بحران کی صورت میں مدد کے لیے فرنٹ لائن پر رہا ہے۔ اس معاملے میں ہم نے اب 18 ممالک کے سات ہزار افراد کے انخلا میں مدد کی ہے‘۔

    وہ بی بی سی کے ’ٹو ڈے پروگرام‘ میں مشعل حسین کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا پاکستان زمینی راستوں سے آنے والے افغان پناہ گزینوں کے لیے تیار ہے؟

    ان کا کہنا تھا کہ یا تو ان افراد نے پاکستان سے ٹرانزٹ کیا ہے یا یہ پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان میں سے پانچ سو سے زیادہ افراد پاکستان نے بڑی مشکل صورتحال میں اپنی فضائی ضروریات پر ترجیح دیتے ہوئے، خود اپنی ایئرلائن کے ذریعے نکالے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے 24 گھنٹوں میں 25 خواتین صحافیوں کی افغانستان سے نکلنے میں معاونت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقومی برادری کے ساتھ دن رات کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی یا سرحدی راستوں کے ذریعے ، جو ہو سکتا ہے پاکستان کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے جتنا کیا ہے وہ اب تک کسی ملک نے نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ سرحدوں پر کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں ہے۔ پاکستان نے ویزا کے حصول میں آسانیاں پیدا کی ہیں ’ہم لوگوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ اگر وہ شرائط پر پورا اترتے ہیں تو وہ سرحد پر آکر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پوری بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کر رہا ہے اور وہ اس کے معترف ہیں‘۔

  14. افغانستان سے اکثریت کا انخلا ہو چکا ہے: بورس جانسن

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ایسے افراد کی اکثریت کا انخلا مکمل ہو چکا ہے جو بیرون ملک سفر کرنے کے اہل تھے۔

    انھوں نے یہ بات شمالی لندن پرمننٹ جائنٹ ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران براڈ کاسٹرز سے ملاقات میں کی۔ ان کے اس دورے کے دوران ان کی وہاں پر موجود ایسے فوجی اہلکاروں سے بھی ملاقات ہوئی جو انخلا کے اس مرحلے میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر بورس جانسن کا کہنا تھا کہ تقریباً 15 ہزار لوگوں کو برطانوی دستوں نے انخلا میں مدد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق جتنے کم وقت میں ہم نے انخلا کو یقینی بنایا ہے اس کی ہر کوئی تعریف ہی کر سکتا ہے اور ہم دیگر لوگوں کے انخلا کے لیے بھی جو کر سکے ضرور کریں گے۔

    تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تقریباً دو ہزار ایسے لوگ جو برطانوی حکومت کے آبادی کاری کے پروگرام کے اہل ہیں مگر وہ ابھی افغانستان میں ہی ہیں۔

  15. امراللہ صالح: کابل پر طالبان کے قبضے کے ذمہ دار زلمے خلیل زاد اور پاکستان ہیں

    افغانستان کے قائم مقام صدر ہونے کے دعویدار امراللہ صالح نے کہا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور پاکستان کابل پر طالبان کے قبضے کے ذمہ دار ہیں۔

    بی بی سی نیوز سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کے ذریعے امریکہ کو بلیک میل کیا اور امریکہ نے انخلا سے قبل افغان حکومت کو تیاری کرنے کا وقت نہیں دیا۔

    امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ امریکہ نے راتوں رات افغان فوج کی فضائی حملوں کے ذریعے مدد کرنی بند کر دی۔

    ’ہم اپنے سپاہیوں تک رسد نہیں پہنچا پائے جس کے باعث اُنھوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔‘

    ’واشنگٹن کبھی بھی اس سب سے بری الذمہ نہیں ہو سکے گا۔‘

    امراللہ صالح افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت میں نائب صدر اول تھے۔

    اشرف غنی کے ملک سے چلے جانے کے بعد اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آئینی طور پر وہ افغانستان کے صدر ہیں۔

  16. قندھار میں پاکستانی صحافی طالبان کی حراست میں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    افغانستان کے شہر قندھار میں دو پاکستانی صحافیوں عبدالمتین اور محمد علی کو حراست میں لیا گیا ہے جن کا تعلق نجی ٹی وی خیبر سے ہے۔

    دونوں کا تعلق قندھار سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ہے جن میں عبدالمتین چمن میں ٹی وی کے رپورٹر جبکہ محمد علی کیمرہ مین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    عبدالمتین کے بھتیجے محمد نعیم نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں تین روز قبل چمن سے افغانستان میں تبدیل شدہ صورتحال کی کوریج کے لیے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ایک بچہ بھی ہے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ ان کو قندھار شہر سے حراست میں لیا گیا اور گذشتہ شب ان کی اہلخانہ سے بات بھی کروائی گئی تھی۔

    ’عبدالمتین نے بتایا تھا کہ اُنھیں آج چھوڑ دیا جائے گا لیکن ابھی ان سےرابطہ نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہم سخت پریشان ہیں۔‘

    چمن کے سینیئر صحافی نعمت سرحدی نے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین اور رپورٹر کو حراست میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ ان کو قندھار کے پوش علاقے عینو مینہ سے حراست میں لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان سے صحافیوں کی بہت بڑی تعداد کابل اور افغانستان کے دوسرے علاقوں میں ہے لیکن چمن سے تعلق رکھنے والے ان دو صحافیوں کو حراست میں لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    اس متعلق تاحال طالبان کا مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

  17. ’ہم اپنے گھر چھوڑتے وقت خوف اور صدمے کی حالت میں تھے‘, شمائلہ جعفری، بی بی سی نیوز

    میں افغانستان کی پاکستان کے ساتھ سرحد پر سپن بولدک کے مقام پر موجود ہوں۔ عام طور پر یہ سرحد پر مصروف ترین چوکی ہوتی ہے۔

    آج یہاں ہزاروں لوگ سرحد پار کرنے کی کوشش میں موجود ہیں۔

    کچھ پناہ گزینوں نے ہمیں بتایا کہ وہ کاروبار میں مندی کے باعث وہاں سے جانا چاہ رہے ہیں جبکہ کچھ نے کہا کہ وہ طالبِ علم ہیں اور طالبان دور میں تعلیم کے حوالے سے خدشات کے پیشِ نظر پاکستان جانا چاہتے ہیں۔

    مگر کئی لوگوں، بالخصوص شمالی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا کہ وہ اپنی جان کے خوف سے بھاگ رہے ہیں۔

    یہاں موجود کئی لوگوں کے رشتہ دار، دوست اور خاندان کے افراد پاکستان میں ہیں۔ کچھ لوگوں کے تو پاکستان میں اپنے گھر بھی ہیں۔ اگر یہ لوگ سرحد پار کر سکے تو دوسرے شہروں تک پھیل جائیں گے۔

    ہم نے ایک سابق افغان سپاہی کے بیٹے سے بھی ملاقات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے باوجود وہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔

    اس کے علاوہ اقلیتی ہزارہ برادری کے کچھ پناہ گزینوں نے کہا کہ اُنھیں انسانی بنیادوں پر سفری دستاویزات کے بغیر ہی آنے دیا گیا ہے۔

    ایک ہزارہ خاتون نے کہا: ’طالبان ہمارے لیے بہت سخت ہیں۔ زندگی اب اچھی نہیں ہے۔ اس لیے ہم اپنے گھر چھوڑ کر یہاں آ گئے ہیں۔ ہم اپنے گھر چھوڑتے وقت خوف اور صدمے کی حالت میں تھے۔‘

    ’یہاں سرحد پر رہنے اور بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اُنھیں چاہیے کہ ہمارے لیے کوئی کیمپس بنا دیں۔ پچھلی حکومت میں صورتحال بہتر تھی مگر اب ہمارے پاس اپنا علاقہ چھوڑ دینے کے علاوہ چارہ نہیں رہا۔‘

  18. افغانستان میں اب کوئی موسیقی یا ساز نہیں بجے گا

    طالبان نے افغانستان میں ایک بار پھر موسیقی پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

    طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’اسلام میں موسیقی حرام ہے۔۔۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم لوگوں کو مجبور کرنے کے بجائے انھیں ایسی چیزیں ترک کرنے پر امادہ کر لیں گے۔‘

    1990 کی دہائی میں طالبان نے بیشتر موسیقی، ٹیلی وژن اور سنیما کا ملک سے خاتما کر دیا تھا۔

    ذبیع اللہ مجاہد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ خواتین کے حوالے سے لوگوں کے خدشات بےبنیاد ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو گھروں میں رہنے یا برقے پہننے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق سفر کے دوران مرد کے ساتھ ہونے کی شرط صرفتین روز یا اس سے زیادہ کے سفر کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین جلد اپنے معمول کے کاموں پر واپس آ سکیں گی۔

  19. بریکنگ, برطانوی وزیر: کابل میں ’تباہ کن اور ہلاکت خیز‘ حملے کا قوی امکان

    برطانوی مسلح افواج کے وزیر نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر جلد ہی ’ایک تباہ کن اور ہلاکت خیز‘ حملہ ہونے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے رات گئے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ ہوائے اڈے کی طرف نہ آئیں اور جو لوگ وہاں موجود ہیں انھیں وہاں سے نکل جانا چاہیے۔

    وزیر جیمز ہیپی نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ حملے کےخطرے کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات ہیں۔

    اس کے کچھ دیر بعد انھوں نے بتاتا کہ: وہ مصدقہ اطلاعات اس نہج پر پہنچ گئی ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ کابل میں ایک تباہ کن اور ہلاکت خیز حملہ ہو سکتا ہے۔

    خطرے کے نویت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ایک بہت پیچیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کابل میں اور لندن میں کئی اہم فیصلے کرنے پڑیں گے۔

  20. ’اُمید تھی طالبان خواتین کو حجاب میں گھروں سے نکلنے دیں گے لیکن یہ صرف دعویٰ تھا‘