افغانستان میں دو دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد
برطانوی فوجی دستے اور سفارتی عملہ ہفتے کی شب وطن کے لیے واپس روانہ ہو گیا ہے۔
شہریوں اور اتحادیوں کے انخلا کے لیے تقریباً دو ہفتے سے
جاری ’آپریشن پٹنگ‘ دوسری جنگِ عظیم کے بعد لوگوں کو متاثرہ علاقے سے نکالنے کے
لیے برطانیہ کا سب سے بڑا آپریشن تھا۔
آپریشن پٹنگ کی تکمیل کے لیے برطانیہ نے ہزار سے زیادہ فوجی
اور سفارتی عملہ افغانستان بھیجا تاکہ وہاں موجود برطانوی اور افغان شہری اور دیگر
اتحادی ممالک کے شہریوں کو نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کر لیا تھا
جس کے بعد شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔
اس آپریشن میں 15 ہزار سے زیادہ افراد کو بحفاظت نکالا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے رات گئے ٹوئٹر پر اپنے
پیغام میں کہا کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا مشن نہیں دیکھا اور میں اس میں مدد
کرنے والے تمام افراد کا مشکور ہوں۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے افغانستان
میں فوجی موجودگی نے دو دہائیوں سے القاعدہ کو برطانیہ سے دور رکھا اور آج وہ اسی وجہ
سے محفوظ ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ آپریشن پٹنگ میں افغانستان سے نکالے
جانے والے افراد میں 2200 کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔
برطانیہ نے اس آپریشن میں پانچ ہزار برطانوی شہری اور ان کے
خاندان والوں کو نکالا جبکہ اس کے علاوہ برطانیہ کے لیے کام کرنے والے آٹھ ہزار سے
زیادہ افغان شہری اور ان کے خاندان والوں کو بھی برطانیہ لے جایا گیا جن کے بارے
میں خدشہ تھا کہ طالبان انھیں نشانہ بنائیں گے۔