آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. یہ تباہ کن زلزلہ کہاں آیا؟

    ترکی اور شام میں پیر کی صبح آنے والے زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    اس کا مرکز جنوب مشرقی ترکی کا شہر غازی عنتیپ تھا۔

    7.8 شدت کے اس زلزلے کے جھٹکے کئی ترک شہروں کے علاوہ شام، لبنان، قبرص اور اسرائیل میں محسوس کیے گئے۔

  2. ترکی اور شام میں زلزلہ: ملبے تلے دبے متاثرین کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں

    ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے کی تباہی سے اب تک 284 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ شام کی وزارت صحت کے مطابق 237 افراد ہلاک اور 600 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

    دونوں ملکوں میں زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ عالمی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

    پروڈکشن اینڈ ایڈیٹنگ: محمد ابراہیم

  3. ترکی کے متاثرہ علاقوں میں سکول ایک ہفتے تک بند

    ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک بھر کے 10 شہروں و صوبوں میں ایسے سکول ایک ہفتے تک بند رہیں گے جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ان شہروں اور صوبوں میں غازی عنتیپ، کہرمان مرعش، ہاتائی، عثمانیہ، آدیامان، مالطیہ، شانلی اورفہ، ادنہ، دیار بکر اور کلس شامل ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہاتائی صوبے سے آنے اور جانے والی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ کہرمان مرعش اور غازی عنتیپ کے ہوائی اڈے بھی عام پروازوں کے لیے بند ہیں۔

  4. ہمیں سب کی مدد درکار ہے: وائٹ ہیلمٹس

    شام کی فلاحی تنظیم وائٹ ہیلمٹس کے کارکن اسماعیل العبداللہ نے ترک سرحد کے قریب سرمدا سے بی بی سی سے بات کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’شمال مغربی شام کے مختلف شہروں اور گاؤں میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئی ہیں اور زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ ہماری ٹیمیں حادثات کے مقامات تک پہنچ رہی ہیں مگر اب بھی کئی خاندان ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہم انھیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے لیے یہ بہت مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔

    ’ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری ہماری مدد کرے، ہماری حمایت کرے۔ شمال مغربی شام اس وقت آفات سے متاثرہ علاقہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب مل کر ہمارے لوگوں کو بچائیں۔‘

  5. ترک شہر غازی عنتیپ میں سب سے زیادہ اموات

    زلزلے سے متعدد ترک شہروں میں تباہی ہوئی ہے مگر سب سے زیادہ متاثرہ شہر غازی عنتیپ ہے جہاں اب تک 80 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    یہ شہر شام کی سرحد سے قریب 90 کلو میٹر دور ہے، اسے تاریخی اعتبار سے صرف ’عنتیپ‘ کے طور جانا جاتا ہے۔

    پیر کو اسی مقام پر 7.8 کی شدت کا زلزلہ آیا اور اس کے بعد بھی کئی جھٹکے محسوس کیے گئے۔ بعد میں آنے والے جھٹکوں میں بھی 6.4 اور 6.5 شدت کے زلزلے شامل تھے۔

    کہرمان مرعش میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ 70 اموات ہوئی ہیں۔

    ترک نائب صدر نے بتایا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر 10 صوبوں میں 284 ہلاکتیں اور 2323 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  6. ترک ہلال احمر کی خون کے عطیے کی اپیل

    ترک ہلال احمر کے سربراہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوراً خون کا عطیہ کریں تاکہ زلزلے کے متاثرین کی جانیں بچائی جاسکیں۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ تنظیم متاثرہ علاقوں تک خون کی اضافی سپلائی بھجوا رہی ہے۔

    دریں اثنا لوگوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوراً تباہ شدہ عمارتوں سے نکل جائیں اور امدادی کارکنان کے لیے سڑکوں خالی چھوڑ دیں۔

  7. تصاویر: ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں

  8. ترکی اور شام کی مدد کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز

    ترکی اور شام میں زلزلے کی تباہی کے بعد عالمی مدد کی اپیل کی جا رہی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے ترک حکام سے رابطہ قائم کیا ہے اور ہر طرح کی مدد کی پیشکش کی ہے۔

    فوجی اتحاد نیٹو نے کہا ہے کہ وہ اپنے رکن ملک ترکی میں متاثرین کی مدد کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔

    یورپی یونین نے ترکی اور شام کی مدد کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    شام کے فلاحی ادارے وائٹ ہیلمٹس نے کہا ہے کہ ملک میں امدادی سرگرمیوں کے لیے عالمی مدد کی فوری طور پر ضرورت ہے۔

  9. ترکی میں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟

    ترکی متعدد فالٹ لائنز پر یا ان کے آس پاس واقع ہے۔ اس کا شمار دنیا کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں زیادہ زلزلے آتے ہیں۔

    فالٹ لائن کا مطلب زیرِ زمین پلیٹوں کا ٹوٹ کر مختلف حصوں میں تقسیم ہو جانا ہے جو زمین کے نیچے حرکت کرتے رہتے ہیں اور یہ حصے دباؤ جمع کرتے رہے ہیں۔ زیر زمین فالٹ لائن جب حرکت کرتی ہے تو وہ زلزلے کا سبب بنتی ہے۔

    ترکی کی اکثر علاقہ اناطولیہ کی ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے جو کہ دو بڑی پلیٹس -- یورایشیا اور افریقی -- اور ایک چھوٹی پلیٹ -- عرب -- کے بیچ و بیچ ہے۔

    اس کا مطلب ہے کہ وہاں زلزلے کے جھٹکے معمول کا حصہ ہیں۔ ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے 2022 میں 22 ہزار سے زیادہ زلزلے ریکارڈ کیے تھے۔

    ان میں سے کئی زلزلے مالی و جانی نقصان کا باعث بھی بنتے ہیں۔ جیسے ازمیت میں 1999 کے دوران 7.6 کی شدت کے زلزلے میں 17 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  10. عمران خان کا ترکی اور شام میں زلزلے سے تباہی پر اظہارِ افسوس

  11. شام میں 320 ہلاکتیں، صدر بشار الاسد نے ہنگامی اجلاس بلا لیا

    شام کے صدر بشار الاسد نے زلزلے کے بعد صبح ہنگامی اجلاس بلایا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں کی سمت کا تعین کیا جائے۔

    شام کے فلاحی ادارے وائٹ ہیلمٹس کا کہنا ہے کہ شمال مغربی شام میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہونے بعد ان کی ٹیمیں (جو ترک سرحد کے قریب باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھی کام کرتی ہیں) متاثرین کو مدد فراہم کر رہی ہیں۔

    شام میں کئی سال تک جاری جنگ، سست رفتار تعمیر نو اور دمشق میں قائم مرکزی حکومت پر سخت عالمی پابندیوں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔

    برطانیہ میں قائم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 320 تک جا پہنچی ہے۔

  12. یورپی رہنماؤں کا ترکی اور شام کو امداد پہنچانے کا وعدہ

    نیدر لینڈز کے وزیر اعظم مارک روتہ نے اعلان کیا ہے کہ ڈچ امدادی ٹیمیں ترکی اور شام میں متاثرین کی مدد کے لیے جلد پہنچ جائیں گی۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں ترک صدر سے ہمدردی ظاہر کی اور کہا کہ ’ہم اس سنگین قدرتی آفت کے تمام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    ادھر یونان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ بھی متاثرین کے لیے فوراً وسائل روانہ کر رہے ہیں۔

    سربیا اور سویڈن کے رہنماؤں نے بھی زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں تک مدد اور امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کہتے ہیں کہ ’برطانیہ ہر طرح سے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔‘

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا کہ ان کا ملک ’ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچائے گا۔‘

  13. زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش

    ترکی میں صبح کے اندھیرے میں زلزلہ اس وقت آیا جب اکثریت اپنے گھروں میں سو رہی تھی۔ مختلف شہروں میں کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور امدادی کارکنان ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دیار بکر میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے۔۔۔

  14. ترکی اور شام میں زلزلہ: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    • دونوں ملکوں میں مجموعی طور پر 500 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں
    • یہ ممکنہ طور پر ترکی کا سب سے بڑا زلزلہ ہے جس کے بعد 40 سے زیادہ جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں
    • زلزلے کے مقام کے قریب شامی پناہ گزین کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ ترکی نے عالمی سطح پر سب سے زیادہ شامی پناہ گزین کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد 37 لاکھ ہے
    • کئی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ خراب موسم کی وجہ سے بھی امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں
  15. ترک علاقے ملاطیہ میں زلزلے سے تباہی

  16. ’مجھے ایسا لگا جیسے میں بچے کے جھولے میں ہوں‘

    ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب اس کی شدت کے بارے میں عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

  17. زلزلے کی شدت سی سی ٹی وی فوٹیج میں ریکارڈ

    ترکی میں ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج سے پیر کی صبح آنے والے زلزلے کی شدت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

  18. بریکنگ, ترکی میں زلزلے سے 284 ہلاکتوں کی تصدیق

    ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے کی تباہی سے اب تک 284 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 2323 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یوں جنوبی ترکی اور شمالی شام میں اموات کی مجموعی تعداد 500 سے بڑھ گئی ہے۔

  19. جنوبی اٹلی میں سونامی کی وارننگ ختم

    اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں زلزلے کے بعد ملک کے جنوبی علاقوں میں سونامی کی تنبیہ جاری کی گئی تھی جسے اب واپس لے لیا گیا ہے۔

    گذشتہ رات لوگوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ساحلی علاقوں سے دور رہیں اور انھیں متنبہ کیا گیا تھا کہ سونامی کی لہروں کا خطرہ موجود ہے۔

    پیر کی صبح اٹلی کے جنوبی و ساحلی علاقوں میں ٹرینوں کی سروس ایک گھنٹے کے لیے معطل کی گئی تھی جو اب بحال ہوچکی ہے۔

  20. ترکی میں ایمرجنسی نافذ، شہریوں سے موبائل فونز استعمال نہ کرنے کا مطالبہ

    ترکی نے زلزلے کی تباہی کے پیش نظر ریاستی سطح پر ایمرجنسی (یعنی ہنگامی صورتحال) نافذ کر دی ہے۔

    شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز استعمال نہ کریں تاکہ امدادی رضاکار آپس میں رابطہ قائم کر سکیں۔