شام کے شہر حلب میں زلزلے کے باعث ملبے کا ڈھیر بن جانے والی ایک عمارت سے تھوڑا دور 25 سالہ یوسف دو دن سے اپنے والد، والدہ، بھائی، بہن اور بھانجے کے متعلق کسی خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ ان کی آوازیں سن سکتے ہیں اور ان سے بات بھی کی ہے تاہم امدادی کارکنان ان تک پہنچ نہیں سکے ہیں۔
یوسف نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’میں نے ان سے بات کی اور ان کی آواز سنی، مگر بدقسمتی سے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ لوگ بہت سست روی سے کام کر رہے ہیں اور ان کے پاس کافی تعداد میں آلات نہیں ہیں۔‘
قریبی شہر جندیرس میں ایک منہدم ہو چکی عمارت میں رہنے والوں کے رشتے داروں نے بتایا کہ اُنھوں نے اب تک کسی بھی شخص کو زندہ نکالے جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مشینری کی کمی کی وجہ سے کنکریٹ کی بھاری سلیں نہیں ہٹائی جا پا رہیں جن کے نیچے ان کے پیارے دبے ہوئے ہیں۔
امدادی کارکنوں کی کوشش ہے کہ وہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں تک پہنچیں مگر وہ خراب موسم اور تباہ سڑکوں کی وجہ سے مشکلات کے شکار ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں ایندھن اور بجلی بھی ختم ہو چکی ہے۔