آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 19 ہزار 300 سے زیادہ

    پیر کو آنے والے زلزلے کے باعث اب تک 19 ہزار 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    جمعرات کی سہ پہر تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ صرف ان کے ملک میں ہی اب تک 16 ہزار 710 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3000 سے زیادہ ہے۔

  2. ریسکیو 1122 نے 82 گھنٹے بعد بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا

    ترکی میں پاکستانی ریسکیو 1122 ٹیم نے 82 گھنٹے بعد 16 سالہ بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ یہ ریسکیو آپریشن آدیامن میں کیا جا رہا ہے اور اس وقت پاکستانی ٹیم چھ مختلف منہدم عمارتوں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ترجمان کے مطابق اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کی پہلی ترجیح عمارتوں میں پھنسے زندہ لوگوں کا ریسکیو ہے۔

  3. ترکی سے امدادی قافلہ سرحد پار کر کے شام میں داخل ہو گیا

    شمال مغربی شام میں اپوزیشن کے قبضے میں موجود علاقوں کے لیے امداد کا پہلا قافلہ اب اطلاعات کے مطابق ترکی سے شام میں داخل ہو گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ چھ ٹرک ادلب کے باب الحوا سرحدی ناکے سے اس جنگ زدہ ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل چار دن تک تباہ سڑکوں اور نقل و حمل کی دیگر مشکلات کے باعث جان بچانے والی امداد کی فراہمی متاثر رہی تھی۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 1900 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں خاندان اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    زلزلہ آنے سے پہلے بھی یہاں کے 41 لاکھ افراد زندگی گزارنے کے لیے امداد پر ہی منحصر تھے۔

  4. ’زلزلے سے نقصانات چار ارب ڈالر سے زیادہ کے ہو سکتے ہیں‘

    پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی ہزار مزید افراد بے بھر ہو گئے ہیں۔

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس زلزلے کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی نقصان ہوا ہے۔ مالیاتی ریٹنگز کے ادارے فِچ کا کہنا ہے کہ یہ نقصانات چار ارب ڈالر سے زیادہ کے ہو سکتے ہیں۔

    فچ ریٹنگز نے کہا کہ ’معاشی نقصانات کا اس وقت اندازہ بدلتی صورتحال کی وجہ سے لگانا مشکل ہے مگر بظاہر یہ دو ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے اور چار ارب ڈالر یا ’اس سے بھی زیادہ‘ ہو سکتے ہیں۔‘

    اس کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں انشورنس کوریج کی کمی کی وجہ سے انشورڈ نقصانات کہیں کم یعنی ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ریٹنگز ایجنسیوں کا کام ملکی معیشت کی مضبوطی کا جائزہ لے کر اسے ریٹنگ دینا ہوتا ہے۔

  5. زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک کا مشکل اور طویل سفر, لیز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، بی بی سی نیوز

    ترکی کے شہر استنبول سے جنوبی ترکی کی 15 گھنٹے کی ڈرائیو میں جگہ جگہ ہمیں تباہی کے مناظر دکھائی دیے۔

    زمینی منظرنامہ بھی تبدیل ہوتا رہا۔ شروعات میں تو پہاڑوں پر پاؤڈر جیسی ہلکی برف پڑی نظر آ رہی تھی مگر آگے جا کر ہمیں برف سے ڈھکے میدان نظر آئے۔

    درجہ حرارت کئی جگہوں پر تو صفر سے بھی کم تھا جو کہ سال کے اس وقت کے لیے غیر معمولی ہے۔ اس کی وجہ سے زلزلہ متاثرین اور اُنھیں بچانے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    رات کے اندھیرے میں ہم ڈھائی گھنٹے تک پیٹرول کی لائن میں لگے رہے۔ ہمارے ساتھ لائن میں امدادی گاڑیاں، ایمبولینسز اور ہر طرح کی گاڑیاں موجود تھیں۔

    چمکتی ہوئی جیکٹس پہنے ہوئے ہنگامی کارکنان ایک جگہ پر ریسکیو سرگرمیوں میں ذرا سا وقفہ لے کر خود کو گرم رکھنے کے لیے گرم مشروبات پی رہے تھے۔

    زلزلے کے چوتھے دن سورج کی نکھری ہوئی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ہم ایک مشہور ٹرک سٹاپ پر رکے تو وہاں پر صرف دالوں کا سوپ مل رہا تھا۔

    جب ہم عثمانیہ پہنچے تو ہم نے نیلے خیموں کی قطاریں دیکھیں جبکہ ایک قبرستان کے قریب لکڑی کے خالی تابوتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔

  6. ترک ڈاکٹروں کی زندگی اور کریئرز کے مشکل ترین دن, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز اسکندریون

    ترکی کے صوبہ ہاتائے میں مقامی ڈاکٹروں محمت اور سیلدا نے ہمیں بتایا کہ یہ ان کے کریئرز اور زندگیوں کے مشکل ترین دنوں میں سے ہیں۔ یہ دونوں اسکندریون شہر میں ہیں جہاں زیادہ تر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔

    سیلدا جس ہسپتال میں کام کرتی ہیں وہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔ منگل کو معمول کے مطابق اپنے کام پر جانے کے بجائے سیلدا نے ’ڈیتھ سرٹیفیکیٹس بھرتے ہوئے‘ اپنا دن گزارا۔ اب وہ ایک اور ہسپتال میں لوگوں کا علاج کر رہی ہیں۔

    محمت نے کہا کہ ان کے پاس مسلسل زلزلے کے باعث زخمی ہونے والے افراد اور میتیں آ رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: ’ہم نے اب تک بہت سی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں، ٹوٹی گردنیں، سر پر چوٹیں، اور بہت سی اموات دیکھی ہیں۔‘

    ’ہم نے سوچا کہ کووڈ برا دور تھا جب ہم پورا دن کام کرتے تھے اور بہت سی اموات ہوئی تھیں۔ مگر میں نے اس جیسی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘

  7. ترکی اور شام میں زلزلہ: ملبے تلے دبے بچے کو بوتل کے ڈھکن سے پانی پلانے کی ویڈیو وائرل

  8. شمال مغربی شام میں پہلا امدادی قافلہ پہنچنے والا ہے, ایلس ڈیویز، بی بی سی نیوز لائیو رپورٹر

    ہماری نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ اینا فوسٹر ہمیں بتا رہی ہیں کہ شمالی شام میں باغیوں کے قبضے میں موجود علاقوں میں امداد پہنچانا کس قدر مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

    یہ علاقے زلزلے سے بھی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پر اب ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ اس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کرنے والا پہلا امدادی قافلہ ترکی کی جنوبی سرحد کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے امدادی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھ امدادی ٹرکس آج دن میں کسی وقت باب الحوا سرحدی ناکے سے شام میں داخل ہوں گے۔

    اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ یہ قافلہ امداد کے منتظر لاکھوں لوگوں کے لیے ’لائف لائن‘ کی طرح ہو گا۔

    واضح رہے کہ یہاں پر زلزلے سے قبل بھی حالات نہایت خراب تھے پر اب صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ سینکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور کم از کم 1700 افراد مارے جا چکے ہیں۔

  9. لوگوں کو بچانے کے لیے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے: ریسکو اہلکار

    ترکی میں زلزلے متاثرین کو امداد پہنچانے اور ریسکیو کے کاموں میں مدد فراہم کرنے والے اسلامک ریلیف کے ایک ریسکیو اہلکار صالح ابوگلسیم کا کہنا ہے کہ ’امدادی کارکن اب بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور انھیں اب بھی کسی معجزے کی توقع ہے۔ کیونکہ اب بھی ملبے تلے زندہ افراد کے نکلنے کے معجزے ہو رہے ہیں۔ لیکن امدادی کاموں کے دوران ملبے تلے بے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے ہم وقت کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں ہے۔ ایسے میں وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔‘

    جنوبی ترکی کے شہر گازینتم سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف اہلکار کا کہنا تھا کہ اب 72 گھنٹے گزر چکے ہیں اور سرد موسم اور خراب صورتحال میں لوگوں کے زندہ بچنے کی امید بہت کم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بطور امداد اہلکار اب ہمیں نکاسی آبکی ضرورت ہے، لوگوں کو بیماری سے بچانے کی ضرورت ہے۔ صاف پانی کی کمی سے لوگوں میں وبا پھیلنے کا خدشہ ہے اور ہم لوگوں سے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ شام میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ان کے ساتھیوں کے مطابق وہاں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔

  10. متاثرہ افراد کو زندہ رکھنا اگلا چیلنج ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ترکی میں زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کرنے والے اداروں کو یہ مشکل کا سامنا ہے کہ متاثرین جو زلزلہ میں زندہ بچ گئے ہیں ان کی زندگی کو یقینی بنایا جائے۔

    جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے رسپانس منیجر کا کہنا ہے کہ ’اب ہزاروں متاثرین کھلے آسمان تلے مشکل اور نامصائب حالات میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں انھیں خوراک، پانی، بجلی کی بحالی اور رابطوں کا فقدان ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’زلزلے کے بعد ہمیں ایک اور ممکنہ تباہی کے سامنے کا خطرہ ہے اور اگر ہم نے اسی رفتار سے کام نہ کیا جس رفتار سے ہم نے سرچ اور رسکیو کے کام کیے ہیں تو ہزاروں متاثرہ افراد کو ابتدائی تباہی سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

    یہ آسان کام نہیں ہے کیونکہ اس آپریشن کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔

  11. متاثرین کو بنیادی امداد پہنچانے میں اب بھی مشکل ہے، سیو دی چلڈرن

    بچوں کے تحفط و حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ زلزلے کو آئے آج چوتھا روز ہے لیکن متاثرین کو خوراک، خیمے، ادویات اور بنیادی اشیا پہنچانے کے لیے اب بھی مسائل کا سامنا ہے۔

    جنوبی ترکی اور شام میں سوموار کی صبح آنے والے زلزلے سے ایک اندازے کے مطابق 23 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں جو اس وقت کھلے آسمان تلے سرد موسم میں حالت سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو کمبلوں اور صاف پانی کی اشد ضرورت ہے اور عارضی خیموں میں نکاسی آب کا مسئلہ بھی اہم ہو رہا ہے۔

    ترکی کے علاقے حاطے میں سیو دی چلڈرن کے ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے کورڈینیٹر برنے کوروگلو کا کہنا ہے کہ ’وہاں صفائی اور حفظان صحت کی بنیادی سہولیات محدود پیمانے پر میسر ہیں۔‘

  12. ترکی اور شام میں زلزلہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    سوموار کو جنوبی ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے میں اب تک تقریباً 16 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور چوتھے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    تاہم حکام کی جانب سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    سرد موسم کے باعث چوتھے روز عمارتوں کے ملبے تلے افراد میں کسی کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ترکی میں عوام کی جانب سے ایمرجنسی سروسز پر امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوام کا دعویٰ ہے کہ زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں سست روی کا مظاہرہ کیا گیا اور لوگ کئی روز تک مدد کے منتظر رہے۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ روز اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ حکومت کو ابتدا میں کچھ مسائل کا سامنا تھا مگر اب صورتحال ’قابو میں ہے۔‘

    ادھر شام میں بھی امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ برسوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے باعث ملک کا انفرادسٹریکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    زلزلے سے متعلق مزید خبروں کے لیے بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

  13. ’قیامت کا منظر تھا، میں سوچنے لگا اپنے بیٹے کو ملبے سے کیسے نکالوں گا؟‘

  14. زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کتنے وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں؟

  15. وہ تصویر جو ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد تباہی اور درد کی داستان سناتی ہے

  16. ترکی: زلزلے کے بعد ملبے تلے زندگی کے آثار, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز، سکندرون، ترکی

    بدھ کے دن ترکی کےجنوبی شہر سکندرون میں ریسکیو حکام نے اس وقت خاموشی اختیار کرنے کی درخواست کی جب ان کو ملبے تلے زندگی کے آثار سنائی دیے۔

    یہ ایک عمارت کا ملبہ تھا جو سوموار کو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے سے متاثر ہو کر گر گئی تھی اور متاثرہ عمارت کے مکینوں کے دوست احباب اور ہمسائے اس امید پر آس پاس ہی موجود تھے کہ شاید کوئی زندہ بچ گیا ہو۔

    ریسکیو حکام کی اس درخواست پر یہ سب لوگ خاموش ہو گئے اور تمام مشینری کو بھی بند کر دیا گیا۔

    چند منٹ کی خاموشی کے بعد ریسکیو حکام نے ایک ایمبولنس بلوائی اور تصدیق کی کہ ایک خاتون کو زندہ پایا گیا ہے۔

    یہ خبر سنتے ہی ہجوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ اس چھ منزلہ عمارت کے ملبے سے پہلی بار کسی کو زندہ نکالا گیا ہے۔

    مقامی افراد نے بتایا کہ یہ ایک 50 سالہ خاتون تھیں جو عمارت میں اکیلی رہتی تھیں۔ تاہم دیکھنے والوں کے مطابق اس پیش رفت نے ان کو ایک نئی امید دی کہ شاید ان کے رشتہ دار بھی ملبے تلے اب تک زندہ ہوں۔

  17. ’ملبے تلے دبے گھر والوں سے بات کی ہے، مگر نکالا نہیں جا سکا‘

    شام کے شہر حلب میں زلزلے کے باعث ملبے کا ڈھیر بن جانے والی ایک عمارت سے تھوڑا دور 25 سالہ یوسف دو دن سے اپنے والد، والدہ، بھائی، بہن اور بھانجے کے متعلق کسی خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ ان کی آوازیں سن سکتے ہیں اور ان سے بات بھی کی ہے تاہم امدادی کارکنان ان تک پہنچ نہیں سکے ہیں۔

    یوسف نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’میں نے ان سے بات کی اور ان کی آواز سنی، مگر بدقسمتی سے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ لوگ بہت سست روی سے کام کر رہے ہیں اور ان کے پاس کافی تعداد میں آلات نہیں ہیں۔‘

    قریبی شہر جندیرس میں ایک منہدم ہو چکی عمارت میں رہنے والوں کے رشتے داروں نے بتایا کہ اُنھوں نے اب تک کسی بھی شخص کو زندہ نکالے جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔

    ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مشینری کی کمی کی وجہ سے کنکریٹ کی بھاری سلیں نہیں ہٹائی جا پا رہیں جن کے نیچے ان کے پیارے دبے ہوئے ہیں۔

    امدادی کارکنوں کی کوشش ہے کہ وہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں تک پہنچیں مگر وہ خراب موسم اور تباہ سڑکوں کی وجہ سے مشکلات کے شکار ہیں۔

    اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں ایندھن اور بجلی بھی ختم ہو چکی ہے۔

  18. پاکستانی اور ترک فالٹ لائنز کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق نہیں: محکمہ موسمیات

    پاکستان کے محکمہ موسمیات نے کہا کہ پاکستان اور ترکی میں موجود فالٹ لائنز کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے جو پاکستان، ایران اور افغانستان میں بھی زلزلوں کی وجہ بن سکے۔

    اپنے ایک اعلامیے میں محکمے نے کہا ہے کہ ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ اگلے چند دنوں میں پاکستان میں اتنی ہی شدت کا زلزلہ آ سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے کہا کہ پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک میں کسی بڑے زلزلے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے مگر یہ کب اور کہاں آئیں گے، یہ بتانا موجودہ ٹیکنالوجی کے بس سے باہر ہے۔

  19. اردوغان: اتنے وسیع پیمانے پر آنے والی تباہی کی پیشگی تیاری ممکن نہیں

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے زلزلے پر ریاست کے ردِ عمل پر بڑھتی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اتنے وسیع پیمانے پر آنے والی تباہی کی پیشگی تیاری ممکن نہیں ہے۔‘

    رجب طیب اردوغان نے حطائے کے دورے کے دوران بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نو ہزار 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حطائے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اُنھوں نے سکیورٹی فورسز کو بالکل بھی نہیں دیکھا وہ ’اشتعال‘ پھیلا رہے ہیں۔

    صدر نے کہا: ’یہ اتحاد اور یکجہتی کا وقت ہے۔ اس طرح کے وقت میں میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ سیاسی مفاد کے لیے منفی مہم چلائی جائیں۔‘ واضح رہے کہ آج تباہی کے شکار علاقوں کے دورے میں اُنھوں نے کچھ ابتدائی مسائل کا اعتراف کیا تھا تاہم کہا تھا کہ صورتحال اب ’کنٹرول میں ہے۔‘

    دوسری جانب عوام اور اپوزیشن کی جانب سے تنقید بڑھ رہی ہے۔

    کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہنگامی کوششیں بہت سست رہی ہیں اور ان کے آٹھ سالہ دورِ حکومت میں زلزلوں کے خطرے کی زد میں موجود اس علاقے کے لیے کچھ نہیں کہا گیا۔

  20. یورپی یونین شام کو 35 لاکھ یورو کی امداد دے گی

    یورپی یونین نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ شام کو 35 لاکھ یورو کی امداد فراہم کریں گے۔

    واضح رہے کہ بدھ کو ہی شام نے یورپی یونین سے امداد کی درخواست کی تھی۔

    یورپی یونین نے اسی امدادی پروگرام کے تحت ترکی کو بھی 30 لاکھ یورو دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔