آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6000 سے بڑھ گئی ہے

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6000 سے بڑھ گئی ہے۔

    صرف ترکی میں مرنے والوں کی تعداد 4500 ہو چکی ہے جبکہ شام میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1800 سے بڑھ چکی ہے۔

  2. زلزلے سے کم از کم دو کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

    عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں سے علم ہوتا ہے ہے ترکی اور شام میں آنے والے دو زلزلوں سے 23 ملین یا اس سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کئی ہسپتالوں کی بجلی تک منقطع ہوئی ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سارا ملبہ صاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس زلزے سے کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کے مدد ریلیف اور ریسکیو کی ضرورت ہے اور ان لوگوں کو بھی امداد کی ضرورت ہے جن کے اس زلزلے میں پیارے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے افراد کو ذہنی تھراپی کی ضرورت بھی ہے ورنہ یہ طویل عرصے تک مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر ہیرس کہتی ہیں کہ شام میں ان علاقوں تک رسائی جہاں مختلف مخالف گروہوں کا کنٹرول ہے عالمی ادارہ صحت کی ترجیح اول ہے۔

  3. ’گھر تباہ ہو گیا ہے، بچے اب کھلے آسمان تلے ہی رہنے پر مجبور ہیں‘

    ہم جنوبی ترکی میں ادنہ شہر واپس آ چکے ہیں، جہاں بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔

    ارکان قطر میں ملازمت کرتے ہیں اور اب وہاں سے وہ واپس ترکی میں زلزلے سے متاثرہ علاقے ہاتائی میں اپنے گھر پہنچے ہیں۔ یہ علاقہ شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی اہلیہ اور دو بچے اس زلزلے میں محفوط رہے۔ تاہم ان کے گھر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

    ان کے مطابق میرا گھر ٹوٹ گیا ہے۔ اب ہمارے پاس سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ میرا خاندان اب کھلے آسمان تلے ہیں رہے گا۔

    ان کا اپنے خاندان یا دوستوں سے فون پر رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا مگر وہ سوشل میڈیا پر تمام تفصیلات دیکھ رہے تھے۔

    ان کے مطابق اس طرح ہمیں پتا چلتا تھا کہ کون مر گیا ہے اور کون ابھی زندہ ہے۔

    اب وہ اپنی کمیونٹی سے لاپتہ افراد کی تلاش میں ہیں۔

  4. برطانوی عوام ترکی کے زلزلہ متاثرین کے لیے امداد جمع کرتے ہوئے

    برطانیہ کے عوام ترکی اور شام کے زلزلہ متاثرین کے لیے امداد جمع کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے مختلف گروپس زلزلہ متاثرین کے لیے مدد بھیج رہے ہیں۔

    بومموتھ کے میورک پارک کیفے میں یہ امداد جمع کی جا رہی ہے۔ عوام سے کمبل، فوڈ، سنیٹری پروڈکٹس اور ہرعمر کے افراد کے لیے کپڑوں کی اپیل کی گئی ہے۔

    یہ امداد جمع کر کے ترکی کو کارگو طیارے میں بھیجی جائے گی۔

  5. برطانیہ کا ترکی میں سرچ اور ریسکیو ماہرین بھیجنے کا اعلان

    برطانیہ نے ترکی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سرچ اور ریسکیو ماہرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو برطانیہ کے وزیر برائے ترقی اینڈریو مچل نے سکائی نیوز کو بتایا کہ برطانوی ایڈ بجٹ اس وقت بہت دباؤ شکا ہے مگر پھر بھی انسانی بحران میں مدد کے لیے پھر بھی کچھ رقوم مختص کی جائیں گی۔

    ان کے مطابق برطانوی عوام ہم سے اس بات کی ہی توقع رکھتی ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ ہمیشہ اس طرح کے آفتوں کے سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کی ہے۔ اور اس بار بھی ہم انسانی مدد میں پیش پیش رہیں گے۔

    برطانوی حکومت نے 76 افراد پر مشتمل سرچ اور ریسکیو ماہرین برطانیہ بھیجے ہوئے ہیں جو اس زلزلے میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کریں گے اور متاثرین کی مدد کریں گے۔

  6. بریکنگ, ترکی کے متاثرہ خطے میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے زلزلے سے متاثرہ جنوب مشرقی حصے میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ترکی کے اس حصے میں ہلاکتوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 3549 تک پہنچ چکی ہے۔

    ان کے مطابق ارتھ کوئیک ڈیزاسٹر زون میں دس شہر واقع ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ ترکی کو 70 سے زائد ملکوں سے امداد کی پیشکش کی گئی ہے۔

    ترکی کے صدر نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انتالیہ کے ہوٹلوں کو ایمرجنسی پناہ گاہوں میں بدلا جائے گا تا کہ متاثرہ حصے کے لوگوں کو عارضی رہائش دی جا سکے۔

    یہ ترکی کا وہ حصہ ہے جہاں یورپ سمیت مختلف ممالک سے سیاح آتے ہیں۔

  7. ’جیسے جوہری بم گر گیا ہو:‘ سیاحوں کا ترکی میں زلزلے پر تبصرے

    برطانیہ میں یارک شائر کے رہائشی 29 برس کے ٹموتھی وائٹنگ ترکی میں اپنی چھٹیاں گزارنے گئے ہوئے تھے جب ترکی میں زلزلہ آیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو وہ گیسٹ ہاؤس میں تھیں اور جھٹکے سے جاگ گئے اور بہت خوفزدہ ہو گئے۔ تاہم وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔

    ٹموتھی کے مطابق وہ دو منزلہ عمارت کی دوسری منزل پر تھے۔ ان کے مطابق شاید یہی خوش قسمتی کا پہلو تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے اوپر گرنے کے لیے مزید کوئی مزلیں نہیں تھیں۔‘

    انھوں نے وہاں عمارتوں کے منہدم ہونے اور تباہی کے مناظر کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے جوہری بم سے حملہ کیا گیا ہو۔

    ان کے مطابق شہر کا شہر زمین بوس ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق وہاں پانچ اور چھ منزلہ عمارتیں ان کی طرف تھیں۔

    ٹموتھی انتاکیہ شہر میں ہاتائی کے مقام پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ وہ وہاں سے پیدل ہی چل نکلیں اور پھر ایک کار نے انھیں ادنہ تک لف دی، جہاں پر وہ اب تھیں۔

    ان کے مطابق وہاں ہر طرف سے لوگ آ رہے تھے اور آدھے لوگوں تو ننگے پاؤں ہی وہاں پر آ گئے تھے۔ یہ افراتفری والا سماں تھا۔

    ملبے تلے دبے لوگوں کا آوازیں آوازیں آ رہی تھیں۔ ان کے مطابق ہم کسی کو بھی وہاں سے نکالنے کے قابل نہیں تھے۔

  8. بریکنگ, ’ملبے تلے دبے لوگ ویڈیوز، وائس نوٹ اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں‘

    استنبول میں مقیم ترکی کے ایک صحافی نے ملک میں زلزلے کے بعد کی صورتحال پر بی بی سی کو تفصیلات بتائی ہیں۔ ابراہیم ہاشکوگلو نے کہا کہ لوگ ابھی بھی منہدم عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

    بنیادی طور پر زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ملطیہ سے تعلق رکھنے والے ان صحافی کے مطابق وہ بہت جلد اپنے گھر واپس جا رہے ہیں تا کہ وہاں لوگوں کی مدد کر سکیں۔

    انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ وہاں سے لوگ انھیں اور دوسرے صحافیوں کو ویڈیو، وائس نوٹس اور ملبے کے نیچے سے اپنی لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ان پیغامات میں لوگ انھیں اپنی جگہوں کے بارے میں بتا رہے ہیں اور ’ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق ترکی کو اس وقت عالمی برادری سے ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔

  9. پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کی طرف سے بھی ترکی کو امداد بھیج دی گئی

    پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے عوام کی جانب سے ترکی بھیج دی ہے۔ ائیرفورس کے طیارے پی اے ایف سی-30 پر بڑی تعداد میں کمبل اور ٹینٹ بھیج دیے گئے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ترکی اور شام کے لیے طبعی امداد بھی جلد بھیج دی جائے گی۔

  10. چین اور پاکستان کی ترکی کے لیے امداد

    چین نے ترکی میں امداد کے لیے قریب پانچ کروڑ 89 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں۔ اس میں امدادی اور طبی کارکنوں کے علاوہ ضروری سامان شامل ہوگا۔

    جبکہ چین میں عالمی ترقی کا ادارہ امدادی سامان شام تک پہنچانے کے لیے بھی رابطے قائم کرے گا۔

    چین میں ہلال احمر کا کہنا ہے کہ وہ ایمرجنسی امداد کی مد میں ترک اور شامی اداروں کو 20 لاکھ یوان دے گا۔

    ادھر پاکستان کی طرف سے امدادی سامان اور ٹیمیں ترکی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

    پاکستانی فضائیہ کا سی-130 ہرکولیس طیارہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے ارکان اور کمبل لے کر پی اے ایف بیس نور خان سے ترکی پہنچ گیا ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق طیارہ پاکستانی عوام کی طرف سے زلزلہ سے متاثرہ ترک بھائیوں کے لیے امدادی سامان لے کر پہنچا ہے۔ ’پاک فضائیہ کا ٹرانسپورٹ بیڑا اندرون اور بیرون ملک قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔‘

  11. ترکی کے ہوائی اڈوں پر پروازوں میں تاخیر، مسافروں میں شدید غم و غصہ

    استنبول کے ہوائی اڈے پر پروازوں میں تاخیر نے ان لوگوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے جو اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے منتظر ہیں۔

    سمیت نامی مسافر ہاتائی جا کر اپنے 26 سال کے بھائی اسماعیل کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں جو زلزلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

    وہ فون پر اپنے بھائی کی تصویر دیکھا کر کہتے ہیں کہ ان کا بھائی وہاں موجود ہے۔

    سمیت قریب پانچ گھنٹوں تک ایئر پورٹ پر موجود ہیں اور اپنی پرواز کا انتظار کر رہے ہیں۔

    عملے کا کہا ہے کہ آدانا ایئرپورٹ پر ہجوم ہے جس کی وجہ سے یہ تاخیر ہوئی ہے۔

    ایک دوسرے مسافر نے روتے ہوئے مجھے بتایا کہ ’لوگ غصے میں ہیں کیونکہ انھوں نے اپنا خاندان کھو دیا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔‘

  12. رات بھر جاری ریسکیو آپریشن میں ’اللہ اکبر‘ کی صدائیں

    جنوبی ترکی میں بھاری بھرکم مشینری کے ذریعے رات بھر کام جاری رہا جہاں عمارت کے منہدم ڈھانچے میں شامل کنکریٹ کی بڑی سلیبز ہٹائی جا رہی تھیں۔

    امدادی کام میں اس وقت وقفہ آتا جب کسی جگہ سے ’اللہ اکبر‘ کی آواز لگائی جاتی۔ یہ اس وقت کہا جاتا تھا جب ملبے میں سے کسی شخص کو زندہ یا مردہ نکالا جاتا۔

    ترک حکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر امدادی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    میرے طیارے نے لبنان سے اُڑان بھری۔ یہ فائر فائٹرز اور طبی عملے سے بھرا ہوا تھا۔ آدانا ایئرپورٹ پر سوئٹزر لینڈ اور رومانیہ کے ریسکیو ورکرز سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔

    یہ شہر بے گھر افراد سے بھرا پڑا ہے۔ جن کے گھر چھِن گئے وہ آفٹر شاکس کے ڈر سے کسی جگہ پناہ لینے کو تیار نہیں۔

    پہلا زلزلہ صبح سویرے آیا جب بہت سے لوگ سو رہے تھے اور عمارتیں 90 سیکنڈوں تک ہلتی رہیں، عینی شاہدین کے لیے یہ ایک نہ تھمنے والا مرحلہ تھا۔

    کچھ لوگ فوری طور پر اپنی قیمتی اشیا اور قریبی لوگوں کے ساتھ محفوظ رہنے میں کامیاب رہے۔ کچھ لوگ بغیر جوتوں، کوٹ اور فون چارجرز کے گھروں سے نکلے تھے۔

    رواں ہفتے کچھ مقامات پر درجہ حرارت کم ہوسکتا ہے۔

    ترکی کے لیے ایک آفت ہے مگر شمالی شام میں صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ سرحد پر کڑی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ شام کو عالمی مدد حاصل نہیں اور اس کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے جدید مشینری بھی نہیں۔

    سرحد کے پاس 17 لاکھ شامی پناہ گزینوں نے قیام کر رکھا ہے جن کی زندگیاں زلزلے سے قبل بھی مشکلات کا شکار تھیں۔ وہ کئی برسوں سے عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور تھے اور اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بن کر زندگی گزار رہے تھے۔

    حلب، ادلب، بانیاس اور جندیرس میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کی مدد کی پکار پر کوئی ردعمل نہیں دے رہا۔

    شمالی شام گذشتہ ایک دہائی سے جنگ سے متاثرہ ہے اور اس تباہ کن زلزلے نے شہریوں کی زندگی اور بھی مشکل بنا دی ہے۔

  13. بریکنگ, ترکی اور شام میں مجموعی ہلاکتیں پانچ ہزار سے بڑھ گئیں

    • دونوں ملکوں میں زلزلے سے پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں
    • ترک نائب صدر کا کہنا ہے کہ کم از کم 3419 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہاں 20 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ قریب چھ ہزار عمارتیں منہدم ہوئی ہیں
    • ادھر شام میں اموات 1602 تک پہنچ گئی ہیں
    • ترک حکام نے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں 24 ہزار سے زیادہ کارکنان حصہ لے رہے ہیں
    • سرد موسم سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں
    • اقوام متحدہ، یورپی یونین اور نیٹو کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، چین، روس، انڈیا، پاکستان، جاپان، ایران، عراق، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یونان اور دیگر ملکوں نے امدادی سامان اور ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔
  14. زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کا متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل

    عالمی ادارۂ صحت کے حکام کو خدشہ ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلے سے قریب 20 ہزار اموات ہوسکتی ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں ترک اہلکاروں اور رضاکاروں کے علاوہ 65 ملکوں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    مگر سرد موسم، سڑکوں کی خراب حالت اور نقصان کی شدت کی وجہ سے امدادی کارکنان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    پروڈکشن اینڈ ایڈیٹنگ: محمد ابراہیم

  15. سرد موسم سے امدادی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں, سائمن کنگ، ماہر موسمیات

    جنوبی ترکی اور شمالی شام میں بارش اور برفباری کے بعد رواں ہفتے موسم خشک اور گرم رہے گا۔

    تاہم منگل کو کچھ مقامات پر برفباری ہوسکتی ہے اور اس کے بعد سرد ہوا سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

    غازی عنتیپ، جو کہ 7.8 شدت کے زلزلے کا مقام تھا، میں درجہ حرارت منفی چھ سے چار تک رہ سکتا ہے مگر رات کے اوقات میں یہ گِر کر منفی سات تک پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ پہاڑی علاقوں کی طرف یہ منفی 15 تک بھی گِر سکتا ہے۔

    ادھر شام میں موسم اس قدر سرد نہیں۔ دن کے اوقات میں درجہ حرارت 10 سے 11 ڈگری سیلیئس ہے تو رات میں منفی تین۔

    امدادی سرگرمیوں میں سرد موسم ایک بڑی مشکل ہے۔ اکثر مقامات پر رات کے اوقات میں لوگ باہر کسی جگہ آگ جلا کر جمع ہوتے ہیں۔ وہ اب بھی اپنے گھروں کو لوٹنے سے خوفزدہ ہیں کہ ایک اور زلزلہ نہ آجائے۔

  16. بریکنگ, ترکی اور شام میں 4800 سے زیادہ مجموعی ہلاکتیں

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کے مطابق ملک میں اب تک زلزلے سے 3381 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس کا مزید کہنا ہے کہ 20426 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 5775 عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔

    زلزلے کے بعد 285 آفٹر شاکس بھی آئے ہیں۔

    دوسری طرف شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ زلزلے سے 1500 سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

    یوں اموات کی مجموعی تعداد 4800 سے بڑھ گئی ہے۔

  17. انڈیا کی ریسکیو ٹیموں کی تربیت یافتہ کتوں اور ڈرلنگ آلات کے ساتھ ترکی آمد

    امدادی کارروائیوں کے لیے انڈیا کی ٹیمیں اور ضروری سامان ترکی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان اندرم باغچی کا کہنا ہے کہ دلی نے ابتدائی طور پر اپنی ٹیمیں، تربیت یافتہ کتے، ڈرلنگ مشینیں اور دیگر ضروری سامان ترکی بھجوا دیا ہے۔

    وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ انڈیا ترکی میں متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    ترکی میں انڈیا کے سفیر نے کہا کہ ’اصل دوست وہی ہے جو ضرورت میں کام آئے۔‘

  18. ترکی اور شام میں کتنا نقصان ہوا ہے؟

    • ترکی اور شام میں زلزلے سے 4300 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں
    • عالمی ادارۂ صحت کو 20 ہزار کے قریب اموات کا خدشہ ہے
    • ترکی میں 14 ہزار جبکہ شام میں کم از کم 3411 افراد زخمی ہوئے ہیں
    • امدادی ٹیموں نے دونوں ملکوں میں 5600 سے زیادہ عمارتیں گِرنے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں کئی شہروں میں قائم کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں شامل ہیں جہاں لوگ سو رہے تھے جب زلزلہ آیا
    • یونیسکو کو خدشہ ہے کہ دیاربکر (ترکی) اور حلب (شام) میں متعدد تاریخی تعمیرات کو زلزلے سے نقصان پہنچا ہے
    • شمال مغربی شام کے ایک قید خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور خدشہ ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے قیدی اس کے ملبے تلے دب گئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق کم از کم 20 قیدی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
  19. زلزلے کے بعد ریسکیو آپریشن: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    • ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں
    • مصدقہ ہلاکتوں کی تعداد 4300 سے زیادہ ہے تاہم جیسے جیسے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں ویسے ویسے اس میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے
    • ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کے مطابق ریسکیو آپریشن میں 65 ملکوں سے 2600 سے زیادہ امدادی کارکن حصہ لے رہے ہیں
    • اب تک تین لاکھ کمبل اور 4100 ٹینٹ متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے جاچکے ہیں
    • پیر کے زلزلے میں ہزاروں عمارتیں گِر کر تباہ ہوگئی ہے جبکہ ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں
  20. استنبول نے 13 ہزار کارکنان پر مشتمل ریسکیو ٹیم متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی

    استنبول کے گورنر نے بتایا ہے کہ منگل کی صبح 13 ہزار امدادی کارکنوں پر مشتمل ٹیم زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی گئی ہے۔

    اس میں امدادی عملہ اور رضاکار شامل ہیں جنھیں خاص طور پر ہاتائی صوبے کے متاثرین کی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے۔

    پیر کے زلزلے کے ہاتائی پر تباہ کن اثرات ہوئے ہیں۔ اس کے ایئرپورٹ کا رن وے دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔