جنگ سے فرار ہونے والی شامی شہری ترکی میں زلزلے کے باعث خوفزدہ
لاکھوں شامی شہری اپنے ملک میں جاری خانہ جنگی سے بھاگ کر ترکی پہنچے مگر اب وہاں بھی ان کے لیے مسائل کھڑے ہیں۔
زلزلے کے مرکز سے مشرق میں واقع دیاربکر میں ایک مردہ خانے کے باہر بہت سے لوگ جمع ہیں۔
ایک 17 سالہ خاتون مرکان نے بتایا کہ وہ حلب میں اپنے خاندان سے بات نہیں کر پا رہیں۔ اُنھوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم شام میں موت سے بھاگے اور اب ترکی میں زلزلہ آ گیا ہے۔ ہم سو نہیں سکتے۔ ہم ڈرے ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک اور سخت آفٹرشاک کا ڈر ہے۔‘
اے ایف پی نے بتایا کہ رضوان نامی 42 سالہ شخص نے دو راتیں ایک مقامی مسجد میں سو کر گزاری ہیں۔
اُنھوں نے کہا: ’جب ہم جنگ میں تھے تو ہمیں سر پر پرواز کرتے طیاروں کی آوازیں سن کر پناہ لینے کا وقت مل جاتا تھا، جب زلزلہ اس قدر غیر متوقع وقت میں آیا تو ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہو گا۔‘