شامی قصبے سرمدا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی
شام کے شمال مغرب میں واقع دیہی علاقے سرمدا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کو ڈرون کیمرے سے محفوظ کیا گیا ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔
بلال کریم مغل
شام کے شمال مغرب میں واقع دیہی علاقے سرمدا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کو ڈرون کیمرے سے محفوظ کیا گیا ہے۔
ترکی اور شام میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔
ایک طبی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جیسے سرد موسم، سڑکوں کی خراب حالت اور تباہی کی شدت۔
ڈیوک یونیورسٹی کے ڈاکٹر رچرڈ ایڈورڈ مون کا کہنا ہے کہ پانی اور آکسیجن کی قلت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو زندہ رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
ہر بالغ فرد کو روزانہ 1.2 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مون نے بتایا کہ ’پیشاب، سانس باہر نکالنے، پانی کے بخارات بننے اور پسینے سے انسانی جسم میں سے پانی نکلتا رہتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ناسازگار حالات میں ایک شخص کے جسم سے آٹھ لیٹر پانی خارج ہوجائے۔‘
اس وقت ترکی اور شام کا موسم سرد ہے۔ اوسط شخص آسانی سے 21 ڈگری سیلیئس درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے۔ زیادہ سردی کی صورت میں جسم خود گرم رہنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
ڈاکٹر مون کے مطابق ’ایک موقع پر جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کی پیروی کرنے لگتا ہے۔۔۔ اگر گرم رہنے کے لیے مناسب انتظام نہ ہو تو اس کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اگر مسلسل ایسی صورتحال رہے تو بدقسمتی سے لوگ ہائپو تھرمیا سے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔‘
’میں زلزلے کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے ہمدردی ظاہر کرتا ہوں، اور ان لوگوں کے لیے بھی جو انھیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
صبح کے وقت ہم مرعش پہنچنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو کہ زلزلے کے مرکز کے نزدیک ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔
تاہم مرکزی شاہراہ پر ٹریفک بالکل رُکی ہوئی ہے۔ گاڑیاں آہستہ آہستہ چل پا رہی ہیں۔ گیلی سڑکیں گاڑیوں کی بریک لائٹس کی روشنی سے سُرخ ہوچکی ہیں۔
جنوبی ترکی کے اس مقام تک بہت کم لوگ پہنچ پائے ہیں۔ سب کی کوشش ہے کہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں تک پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں اور ضروری مدد فراہم کر سکیں۔
شہر جاتے ہوئے میری ملاقات ایک امدادی ٹیم سے ہوئی جن کی گاڑی سامان سے بھری ہوئی تھی۔
وہ وہاں پہنچنے کی جلدی میں ہیں تاکہ زندہ بچنے والوں کی سانسیں بحال رکھ سکیں۔ تاہم انھیں اس کا اندازہ نہیں کہ کس قدر زیادہ نقصان ہوا ہے۔
کچھ دیر قبل مرکزی ترکی میں ایک اور زلزلے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق اس زلزلے کی شدت 5.5 تھی جبکہ 10 کلومیٹر گہرائی کا یہ زلزلہ مقامی وقت تین بج کر 13 منٹ پر انقرہ کے قریب ایک گاؤں گولباشی میں آیا۔
ادھر فرانس میں قائم ای ایم ایس سی کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 کلومیٹر اور گہرائی دو کلومیٹر تھی۔
پاکستان کی سرکاری ایئرلائن پی آئی اے کے مطابق حکومت پاکستان کی ہدایات پر ان کا طیارہ 51 رکنی ریسکیو ٹیم کو لے کر آج دوپہر استنبول پہنچے گا۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی کے 707 پاکستانی ریسکیو ٹیم اور ان کے سات ٹن وزنی خصوصی آلات کو لے کر لاہور سے استنبول روانہ ہوگی۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ ’پرواز پر امدادی سامان کی ترسیل کے لیے بھی اقدامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ پی آئی اے کی استنبول (ترکیہ) کے لیے روزانہ کی بنیاد پر پروازیں ہیں جو کہ حکومتی امدادی اقدامات کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہوں گی۔
’پی آئی اے انتظامیہ نے انسانی ہمدردی بنیادوں پر ریلیف سامان کی ترسیل بھی بلامعاوضہ کر دی ہے۔ پی آئی اے کی استنبول (ترکیہ) اور دمشق (شام) جانے والی تمام پروازوں پر ریلیف سامان کی ترسیل مفت کر دی گئی ہے۔‘
پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سامان این ڈی ایم اے کے ذریعے پی آئی اے کے کارگو ٹرمینل پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ ’کسی بھی امدادی کام یا زخمی ہم وطنوں کو وطن واپس لانے کے لیے پی آئی اے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔‘
ترکی میں سرچ اینڈ ریسکیو کی کوششوں کے لیے جاپان نے اپنی امدادی ٹیمیں متاثرہ ملک روانہ کر دی ہیں۔
یہ ٹیم پیر کی شب روانہ ہوئی ہیں۔
جاپانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترک حکومت کی درخواست، انسانی ہمدردی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے پیش نظر جاپان نے ترکی کو ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔
گذشتہ روز شام اور ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ عینی شاہدین اس بارے میں بات بھی کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ اس دوران کیا ہوا تھا تاہم بی بی سی نیوز نے ان معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی ہے۔
زلزلے کے جھٹکے صبح چار بج کر 17 منٹ پر محسوس ہوئے اور یہ مرکز سے کئی سو میل تک محسوس کیے جاتے رہے۔
شہری بتاتے ہیں کہ کیسے وہ نیند سے جاگے اور بھاگ کر اپنی گاڑی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
ایردیم نام ایک شہری نے کہا کہ ’اپنی 40 سالہ زندگی میں میں نے کبھی ایسے محسوس نہیں کیا۔ ہم تین مرتبہ بہت بری طرح جھنجھوڑے گئے، جیسے کسی بچے کو جھولے میں ہلایا جاتا ہے۔
بی بی سی نیوز کی جانب سے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث ہونے والی تباہی کے حوالے سے معلومات کو جوڑا گیا ہے۔ اس میں عینی شاہدین کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کا سہارا بھی لیا گیا ہے۔
ترک ہلال احمر نے رضاکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ امدادی سامان لے جانے کے لیے گاڑیوں پر متاثرہ علاقوں کا رُخ نہ کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’گاڑیاں سڑکوں پر 50 میٹر گہری کھائی میں گِری ہیں۔ سڑکوں پر برف بھی ہے۔‘
انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہلال احمر کو کھانا اور گرم رہنے کے لیے دیگر سامان جیسے کمبل، کوٹ اور بوٹ عطیہ کریں تاکہ ایسی چیزوں کو آگے پہنچا کر تقسیم کیا جاسکے۔
ہلال احمر نے اس سے قبل خون کے عطیہ کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ زخمیوں کو بچایا جائے۔
زلزلوں کی پیمائش جس پیمانے پر کی جاتی ہے اسے مومنٹ میگنیٹیوڈ سکیل کہتے ہیں۔
انسان 2.5 شدت کا زلزلہ محسوس نہیں کر پاتے مگر آلات کی مدد سے ان کی تصدیق ہوسکتی ہے۔ پانچ کی شدت کے زلزلے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔
ترکی اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے کو کافی زیادہ نقصان دہ خیال کیا جا رہا ہے۔
آٹھ کی شدت کے زلزلے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور اپنے اردگرد کی تعمیرات کو منہدم کرسکتے ہیں۔
آسٹریلوی وزیر اعظم نے منگل کو اعلان کیا کہ ان کا ملک ابتدائی طور پر فلاحی تنظیموں کو ایک کروڑ ڈالر امداد دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا کی مدد ان لوگوں کے لیے ہوگی جنھیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘ انھوں نے متاثرین کے لیے اپنی ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔
ادھر نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم، جو آسٹریلیا کے دورے پر موجود ہیں، نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت متاثرین کی امداد کے لیے 15 لاکھ ڈالر مختص کرے گی۔
ترکی اور شام میں جہاں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب تک 4300 سے زیادہ اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ملک میں زلزلے سے اب تک 2921 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 15834 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔
مجموعی طور پر اب تک زلزلے سے 4365 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
ترکی کے نائب صدر نے بتایا ہے کہ ترکی میں اب ہلاک ہونے والے کی تعداد 2379 ہو گئی ہے جبکہ 14 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔
ان کے مطابق اب تک ملبے سے 7840 افراد کو نکالا گیا ہے جبکہ 4748 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔
دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔ یوں اس ہلاکت خیز زلزلے کے باعث 3500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ترکی اور شام میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس دوران موسم ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور جگہ جگہ بارش اور شدید ٹھنڈ کے باعث امدادی کارکنان کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اب تک ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس بات کی اندیشہ ہے کہ یہ ہلاکتوں کی اصل تعداد موجودہ تعداد کا آٹھ گنا ہو سکتی ہے۔
ملک میں آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے کے مطابق اب تک ترکی میں 2316 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہمسایہ ملک شام میں حکومت اور ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1293 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ترکی میں آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے مطابق ملک میں اب تک زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1762 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم ایک ہزار ہے۔ یوں مجموعی طور پر گذشتہ روز آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2700 ہو چکی ہے۔
ادھر عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے اندیشہ ہے۔
تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟
اگر آپ اس وقت ہمارے لائیو پیج کا رخ کر رہے ہیں تو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد ہونے والے نقصان کی تازہ ترین تفصیلات کچھ یوں ہیں:
ترکی کے نائب صدر کے مطابق ملک میں پیر کو آنے والے زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1541 ہو گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ملک کے جنوب اور جنوب مشرق میں آنے والے زلزلے میں 9700 لوگ زلزلے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرے زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں کتنی تھی یا اس کے باعث ہلاکتیں ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔
دونوں زلزلوں کے بعد 145 آفٹر شاکس آ چکے ہیں جن میں سے تین کی شدت چھ سے زیادہ کی تھی۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ تقریباً 3500 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور ملبے تلے سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
ترکی میں آج دو بڑے زلزلے رپورٹ ہوئے اور اس کے بعد سے پورے خطے میں درجنوں آفٹر شاکس بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
اوپر دیے گئے نقشے میں ان زلزلوں کی شدت دکھائی گئی ہے اور ان کا زلزلے کے مرکز کے اعتبار سے ان کا محلِ وقوع بھی دکھایا گیا ہے۔
جیسے کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے اکثر جھٹکے چھ سے زیادہ شدت کے ہیں جو کہ ایک شدید زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ نے رواں برس اپنی ترجیحات کے تعین کے لیے منعقدہ اجلاس میں ترکی اور شام میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ خاموشی اختیار کی۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجنے جانے والی ٹیمیں اس وقت اس متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔
ان کے مطابق یہ ٹیمیں وہاں متاثرین کی ضروریات کا خیال رکھ رہیں ہیں اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے ترکی اور شام میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن میں ہر ممکن کریں گے۔
صدر بائیڈن نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ترکی کے صدر مل کر اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیں اور جہاں اور جس طرح کی امداد کی ضرورت ہے اسے یقینی بنائیں۔