پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل بول نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ عبوری کابینہ کی حلف برداری کے لیے تقریب ’اب پلان کا حصہ نہیں ہے۔‘
اس سے قبل نائن الیون حملوں کے 20 سال مکمل ہونے کے دن طالبان نے نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب کا اعلان کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’پہلے پروگرام میں تھا کہ ہم حلف برداری کی تقریب رکھیں گے۔ لیکن اس کے لیے ضرورت تھی کہ دوسرے ممالک سے وفد مدعو کیے جائیں۔ ادھر پروٹوکول کے انتظامات کی بھی ضرورت تھی۔ جس کے لیے وقت درکار تھا۔‘
’دوسری طرف عوام کے لیے سروسز کی بہت ضرورت تھی۔ اس لیے لیڈرشپ نے فیصلہ کیا کہ فوری طور پر وزرا کا اعلان کریں، وہ اعلان ہوچکا ہے۔ ابھی وہ تقریب کینسل ہوچکی ہے۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو طالبان کی طرف سے حلف برداری کی تقریب کے لیے سرکاری اطلاع نہیں دی گئی ’دعوت کی اطلاع ہے نہ تاریخ کی۔‘
ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس افغانستان میں طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شامل نہیں ہوگا۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے کوئی تقریب حلف برداری منعقد نہیں کی جا رہی۔
انھوں نے اسے افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نئی افغان حکومت کی تقریب حلف برداری کچھ روز قبل منسوخ کر دی گئی تھی۔۔۔ کابینہ نے پہلے سے ہی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔‘