نئی دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں طالبان کے ’نام نہاد کابینہ‘ کو ’ناجائز اور بلا جواز‘ قرار دیا گیا ہے۔
اس بیان میں جو کہ گذشتہ حکومت کی نمائندگی کرتا ہے کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ افغانستان، جو لوگوں کی آزاد مرضی کا تنیجہ ہے اور لاکھوں شہریوں کے بصارت اور خواہشات کی علامت ہے جنہوں نے اپنے ملک کی آزادی، خودمختاری اور جمہوریت کے مقصد کے لیے حتمی قربانی دی ہے۔‘
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ افغانستان کے عوام کی اکثریت، بین الاقوامی معاہدوں، متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ طالبان نے ایک بار پھر واضح طور پر بنیادی حقوق اور افغان خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات کے اہم کردار کی خلاف ورزی کی تصدیق کی ہے۔
یہ بیان طالبان حکومت کی جواز اور سابقہ حکومت کی طرف سے بھیجے گئے افغانستان کے مشن پر سوالانیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔
انڈیا کی طرف سے، جو کہ یو این ایس سی کا غیر مستقل رکن ہے اور یو این ایس سی کی پابندیوں کی کمیٹی کی قیادت کر رہا ہے، ابھی تک نہ ہی طالبان حکومت کے اعلان پر اور نہ ہی انڈیا میں افغان سفارتخانے کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔
انڈیا نے طالبان پر ’ویٹ اینڈ واچ‘ کی پالیسی اختیار کی ہے اور عوامی طور پر طالبان کے ساتھ صرف ایک ملاقات ہونے کی خبر کی تصدیق کی ہے۔
اگست کو قطر میں انڈیا کے سفیر دیپیک متل نے 31
شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات کی جو کہ نئی حکومت میں نائب وزیر خارجہ مقرر کئے گئے ہیں اور انڈین ملٹری اکیڈمی کے سابق طالب علم رہ چکے ہیں۔