’چار سو طرح کے کھیلوں کی اجازت ہوگی، خواتین کے بارے میں مزید سوال نہ پوچھیں‘
افغانستان کے محکمہ کھیل و جسمانی تربیت کے سربراہ بشیر احمد رستم زئی نے کہا ہے کہ طالبان تیراکی سے لے کر فٹ بال اور دوڑ سے لے کر گھڑ سواری تک 400 کھیلوں کی اجازت دیں گے تاہم اُنھوں نے اس بات پر تبصرہ نہیں کیا کہ خواتین کو کھیلنے کی اجازت ہو گی یا نہیں۔
اُنھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہا:’برائے مہربانی خواتین کے بارے میں مزید سوالات مت پوچھیں۔‘ رستم زئی نے کہا کہ ’ہم کسی کھیل پر پابندی نہیں لگائیں گے جب تک کہ وہ شرعی قوانین کے خلاف نہ ہوں۔ چار سو طرح کے کھیلوں کی اجازت ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اسلامی قوانین کی پاسداری کرنے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ کچھ نہیں بدلے گا۔
’اس سے زیادہ کچھ تبدیل نہیں ہوتا‘ اور کہا کہ مثال کے طور پر فٹ بال یا موئے تھائی باکسرز کو ’تھوڑے لمبے شارٹس پہننے ہوں گے جو گھٹنوں سے نیچے آتے ہوں۔‘
جب اُن سے کھیلوں میں خواتین کی شرکت کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ وہ اب بھی طالبان کی اعلیٰ قیادت سے احکامات ملنے کے منتظر ہیں۔
’ہمارے بڑوں (سینیئر طالبان) کی آراء اہم ہیں۔ اگر وہ ہمیں خواتین کو اجازت دینے کا کہیں گے تو ہم دیں گے، ورنہ نہیں دیں گے۔ ہم اُن کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔‘