آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. ’چار سو طرح کے کھیلوں کی اجازت ہوگی، خواتین کے بارے میں مزید سوال نہ پوچھیں‘

    افغانستان کے محکمہ کھیل و جسمانی تربیت کے سربراہ بشیر احمد رستم زئی نے کہا ہے کہ طالبان تیراکی سے لے کر فٹ بال اور دوڑ سے لے کر گھڑ سواری تک 400 کھیلوں کی اجازت دیں گے تاہم اُنھوں نے اس بات پر تبصرہ نہیں کیا کہ خواتین کو کھیلنے کی اجازت ہو گی یا نہیں۔

    اُنھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہا:’برائے مہربانی خواتین کے بارے میں مزید سوالات مت پوچھیں۔‘ رستم زئی نے کہا کہ ’ہم کسی کھیل پر پابندی نہیں لگائیں گے جب تک کہ وہ شرعی قوانین کے خلاف نہ ہوں۔ چار سو طرح کے کھیلوں کی اجازت ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اسلامی قوانین کی پاسداری کرنے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ کچھ نہیں بدلے گا۔

    ’اس سے زیادہ کچھ تبدیل نہیں ہوتا‘ اور کہا کہ مثال کے طور پر فٹ بال یا موئے تھائی باکسرز کو ’تھوڑے لمبے شارٹس پہننے ہوں گے جو گھٹنوں سے نیچے آتے ہوں۔‘

    جب اُن سے کھیلوں میں خواتین کی شرکت کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ وہ اب بھی طالبان کی اعلیٰ قیادت سے احکامات ملنے کے منتظر ہیں۔

    ’ہمارے بڑوں (سینیئر طالبان) کی آراء اہم ہیں۔ اگر وہ ہمیں خواتین کو اجازت دینے کا کہیں گے تو ہم دیں گے، ورنہ نہیں دیں گے۔ ہم اُن کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

  2. ’نہیں جانتے کہ ڈرون حملے میں جنگجو کی ہلاکت ہوئی یا امدادی کارکن کی‘

    امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ افغانستان میں امریکی فضائی حملے میں امدادی کارکن کی ہلاکت ہوئی تھی یا شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جنگجو کی۔

    واضح رہے کہ امریکہ کے افغانستان میں آخری دنوں کے دوران کابل ایئرپورٹ کے باہر بم دھماکے میں درجنوں افغان شہری اور امریکی سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

    دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس کے چند دن بعد ہی ایک ڈرون نے کابل میں ایک کار کو نشانہ بنایا تھا جس کے بارے میں پینٹاگون کا کہنا تھا کہ اس سے کابل ایئرپورٹ پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ایک اور حملے کی منصوبہ بندی ناکام ہوئی ہے۔

    تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ہلاک ہونے والے امریکی امدادی کارکن عزمرائی احمدی کے بھائی نے بتایا کہ اُن کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    بعد میں اخبار نیویارک ٹائمز کی ویڈیو انویسٹیگیشن میں پایا گیا کہ احمدی پانی کے کین منتقل کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ شک کی زد میں آئے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بلنکن سے جب سینیٹ کی اُمورِ خارجہ کمیٹی کے روبرو پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کیونکہ ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

  3. ازبکستان سے تقریباً 500 ’فوجی اور سویلین‘ افغانوں کو نکالنے کا امریکی دعویٰ

    امریکہ نے کہا ہے کہ اُس نے ازبکستان سے تقریباً 500 ’فوجی و سویلین‘ افغانوں کو نکال لیا ہے اور اب ازبکستان کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین پر کوئی افغان پناہ گزین موجود نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے جب ملک کے مختلف حصوں پر قبضے کی مہم جاری تھی تو کئی افغان فوجی ازبکستان اور تاجکستان فرار ہو گئے تھے۔

    ازبکستان نے اب تک افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد اور صورتحال پر تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم منگل کو امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ازبکستان کے جنوبی ایئرپورٹ ترمیز سے 494 ’فوجی اور سویلین‘ افغانوں کو نکال لیا ہے۔

    گذشتہ ماہ افغان سفارت خانے میں ایک اہلکار نے اے ایف پی بتایا تھا کہ طالبان کی جانب سے مزارِ شریف پر قبضے کے بعد ازبکستان آنے والے لوگوں کی تعداد 1500 تک ہو سکتی ہے۔

  4. امریکہ: جب تک طالبان بین الاقوامی مطالبات تسلیم نہیں کرتے، پاکستان طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے

    امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ تب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے جب تک کہ طالبان بین الاقوامی مطالبات پورے نہیں کر دیتے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کانگریس کی اُمورِ خارجہ کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ’پاکستان سمیت تمام ممالک کو عالمی برادری کی اُن توقعات پر اصرار کرنا چاہیے جو اس نے طالبان سے تسلیم کیے جانے کے بدلے میں وابستہ کر رکھی ہیں۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ ترجیحات یہ ہیں کہ طالبان افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند لوگوں کو ملک سے باہر جانے دیں، خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں، اور ملک کو دوبارہ ’دوسرے ملکوں کے لیے دہشتگردی کے خطرے‘ کا محفوظ ٹھکانہ نہ بننے دیں۔

    ’اس لیے پاکستان کو بین الاقوامی برادری کی وسیع اکثریت کے ساتھ مل کر ان مقاصد کے حصول اور ان توقعات کے پورا کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔‘

    بلنکن نے کہا کہ ’کئی مواقع پر‘ پاکستان کی پالیسیاں ’ہمارے مفادات کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں اور کچھ مواقع پر ان مفادات کی حمایت میں رہی ہیں۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ ملک ہے جو طالبان کے ارکان بشمول حقانیوں کو پناہ دینے میں شامل رہا ہے۔‘

    واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دہشتگرد قرار دیے گئے حقانی نیٹ ورک کے ارکان طالبان کی نئی کابینہ میں شامل ہیں۔

    وزیرِ خارجہ بلنکن کے علاوہ بھی کئی کانگریس ارکان نے اس موقع پر پاکستان کے حوالے سے سخت مطالبات کیے۔ ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس خوکین کاسترو نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد کا ’نان نیٹو اتحادی‘ کا درجہ ختم کرنے پر غور کرے جس کے تحت پاکستان کو امریکی ہتھیاروں تک ترجیحی رسائی ملتی ہے۔

  5. طالبان وزیر خارجہ: امداد کے وعدوں پر عالمی برادری کا شکریہ، ’امریکہ بڑا ملک ہے، دل بھی بڑا ہونا چاہیے‘

    طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ملک کی امداد بحال کی جائے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اپنی امداد سیاست کی نذر نہیں کرنی چاہیے۔

    امیر خان متقی نے مزید کہا کہ تمام سفارت خانوں کو پیغام بھیج دیا گیا ہے کہ سفارت کار اپنا کام معمول کے مطابق جاری رکھیں۔

    اس کے علاوہ اے ایف پی کے مطابق اُنھوں نے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد امداد کے وعدے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا اور امریکہ سے ’ظرف‘ کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا۔

    اُنھوں نے کہا: ’امارتِ اسلامی اس امداد کو ضرورت مند لوگوں تک شفاف انداز میں پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔‘ ’امریکہ بڑا ملک ہے، اس کا دل بھی بڑا ہونا چاہیے۔‘

    امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان کو حال ہی میں پاکستان، قطر اور ازبکستان سے امداد ملی ہے تاہم اُنھوں نے مزید تفصیلات واضح نہیں کیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُن کی چین کے سفیر سے کورونا وائرس ویکسین اور دیگر انسانی مسائل کے متعلق بات چیت ہوئی ہے اور بیجنگ نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا اعلان کیا ہے جو ’جلد‘ ہی افغانستان کے لیے دستیاب ہو جائیں گے۔

  6. پاکستانی سفیر کی طالبان وزیرِ خارجہ سے ملاقات، دو طرفہ معاملات پر گفتگو

    کابل میں پاکستان کے سفیر منصور علی خان نے طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے آج ملاقات کی ہے۔

    طالبان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران سپن بولدک اور چمن کے راستے سے شہریوں کی نقل و حمل کے معاملے پر بات کی گئی۔

    طالبان کے مطابق پاکستانی سفیر نے یقین دلایا کہ اس حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین، امداد، اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔

  7. اقوامِ متحدہ میں افغان سفیر: ’عالمی برادری انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے‘

    سابقہ افغان حکومت کے اقوامِ متحدہ میں سفیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ناصر احمد اندیشہ نے طالبان کی جانب سے 15 اگست کو کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات پر زور دیا۔

    ’آج کروڑوں لوگ اپنی زندگیوں اور انسانی حقوق کے متعلق خوف زدہ ہیں اور عالمی برادری نہ ایسے وقت میں چپ رہ سکتی ہے نہ اسے چپ رہنا چاہیے جب ملک میں ایک انسانی بحران جنم لے رہا ہو۔‘

    ناصر احمد اندیشہ کو سابق صدر اشرف غنی نے جنیوا میں تعینات کیا تھا اور افغانستان کے نئے حکمرانوں نے اب تک اُن کی تبدیلی کی گزارش نہیں کی ہے اس لیے وہ اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کے سربراہ مشیل بشیلیٹ اور یورپی یونین نے بھی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے اور ان کو دستاویزی شکل میں لانے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کریں۔

    طالبان کے افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف مقامات پر خواتین مظاہرین پر تشدد کی ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں جبکہ متعدد صحافیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے اُنھیں ایسے مظاہروں کی کوریج کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

    طالبان کی جانب سے ان دعووں کی تردید کی گئی ہے۔

  8. مزار شریف میں ’حضرت علی کے روضے‘ سے ہیراتان کی بندر گاہ تک

  9. ’قطر واضح معاہدے کے بغیر کابل ایئرپورٹ کی ذمہ داری نہیں لے گا‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قطر نے متنبہ کیا ہے کہ وہ تمام فریقین کے ساتھ ’واضح‘ معاہدے کے بغیر کابل ایئرپورٹ کی ذمہ داری نہیں سنبھالے گا۔

    قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے منگل کو کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ واضح طور پر ہر چیز کا اظہار کیا جائے ورنہ۔۔۔

    ’ہم ایئرپورٹ کی ذمہ داری نہیں لے سکیں گے (اگر) تمام چیزوں پر بات نہیں کی جاتی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’موجودہ حالت میں مذاکرات جاری ہیں۔‘

    خیال رہے کہ موجودہ صورتحال میں قطری حکام نے کابل ایئرپورٹ پر غیر ملکیوں کے انخلا کا آپریشن سنبھالا ہوا ہے۔ امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد قطر کی مدد سے کابل ایئرپورٹ کو اس قابل بنایا گیا کہ وہاں سے پروازیں اڑائی جا سکیں۔

  10. ’جنگی جرائم کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں‘, طالبان کے ترجمان کا بیان

    طالبان نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے افغانستان میں جنگی جرائم کے الزامات کو ’سختی سے مسترد‘ کیا ہے۔

    ان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان تنظیموں سے زمینی حقائق جان کر کسی نتیجے پر پہنچنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ہیومن رائٹ واچ کی حالیہ رپورٹس میں طالبان پر سابقہ حکومت، فوج، صحافیوں اور سماجی کارکنان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔

    انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے دوران مبینہ جرائم سے ممکنہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

  11. انڈیا کی طرف سے افغانوں کی مدد کی پیشکش

    انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغان شہریوں کی مدد کا اعلان کیا ہے مگر اس سلسلے میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے کسی مالی مدد کا وعدہ نہیں کیا گیا۔

    انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق افغانستان کے موضوع پر اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں تقریر کے دوران جے شنکر نے ایک بار بھی طالبان کا ذکر نہیں کیا۔

    جبکہ اخبار دی ہندو کے مطابق انڈیا نے افغانستان کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے کلیدی کردار کی حمایت کی ہے۔

    ایس جے شنکر نے عالمی برادری سے کہا کہ ’افغانستان میں کافی سنجیدہ صورتحال پیدا کی گئی ہے۔‘

    ’انڈیا افغان شہریوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی ایسا کیا ہے۔‘

  12. ’ہم ترکی کو مسلمان بھائی سمجھتے ہیں، تعاون کے خواہاں ہیں‘, طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا بیان

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان اور ترکی کے درمیان تعلقات تاریخی اہمیت کے ہیں اور ملا حسن اخوند کی نئی حکومت ترکی کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتی ہیں۔

    ترک خبر رساں ادارے ہیبرلر کو اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت ترکی کے ساتھ کئی جگہوں پر باہمی تعاون بڑھا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ترک اور دیگر انجینیئر افغانستان میں کام کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی اہمیت رکھتی ہے۔

    سہیل شاہین نے بتایا کہ ’ہم ترکی کے ساتھ تعلیم، تعمیرات اور معیشت میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

    ترک صدر طیب اردوغان کی خارجہ پالیسی سے متعلق ایک سوال پر طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر بناتا ہے اور ’ہم اس کی عزت کرتے ہیں۔‘

    ’اگر ترکی ایک مسلمان بھائی بن کر سامنے آتا ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ ہم ترکی کو ایک ’مسلمان بھائی‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

    طالبان کے ترجمان نے یہ بھی لکھا کہ کابل ایئرپورٹ کا آپریشن سنبھالنے کے سلسلے میں ترکی اور قطر سے بات چیت جاری ہے۔

    خیال رہے کہ ترک صدر اردوغان نے افغانستان کی عبوری حکومت بننے پر کہا تھا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ عبوری حکومت کتنی دیر تک قائم رہ سکے گی۔ انھوں نے کہا تھا کہ اسے مستقل حکومت کہنا مشکل ہے اور یہ کہ ترکی افغانستان کی عبوری حکومت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ترکی کسی جلدی میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے افغانستان خانہ جنگی کی طرف نہیں جائے گا۔۔۔ ہم کابل ایئرپورٹ کے حوالے سے قطر اور امریکہ سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘

  13. ازبکستان میں پھنسے کچھ افغان پائلٹ ’متحدہ عرب امارات چلے گئے‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ازبکستان میں ایک ماہ سے پھنسے کچھ افغان پائلٹ پہلے مرحلے میں اپنے خاندانوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات روانہ ہو رہے ہیں۔

    افغان ایئر فورس کے یہ پائلٹ اس وقت اپنے خاندانوں کے ساتھ ازبکستان چلے گئے تھے جب طالبان نے افغانستان پر کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا تھا۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی حکام ان پائلٹس کے مستقبل کے حوالے سے طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ طالبان چاہتے تھے کہ یہ پائلٹ فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سمیت واپس افغانستان آئیں۔ مگر متعدد ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا کہ انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    ایک پائلٹ نے نام ظاہر کیے بغیر روئٹرز کو بتایا کہ ’پہلے مرحلے میں کچھ پائلٹ متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں اور امید ہے انھیں وہاں سے امریکہ لے جایا جائے گا۔‘

    امریکہ، ازبکستان یا اقوام متحدہ نے اس موضوع پر اب تک بات نہیں کی ہے۔ افغان ایئر فورس کے وہ طیارے جن کی مدد سے یہ پائلٹ ملک سے فرار ہوئے تھے ان کا مسقبل بھی تاحال غیر واضح ہے۔

    ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ممکنہ طور پر کچھ ہیلی کاپٹر امریکی حکومت کو واپس کر دیے جائیں گے۔

  14. طالبان پنجشیر میں: وادی پر قبضے کے بعد کی صورتحال

    افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع وادیِ پنجشیر کو طالبان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ کہا جاتا رہا ہے۔

    لیکن گذشتہ چند دنوں میں طالبان جنگجو اور کمانڈر اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    مزاحمت کا آخری گڑھ سمجھے جانے والی یہ وادی آخر طالبان کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟

  15. ’میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگاؤ‘, افغان خواتین کی سوشل میڈیا پر مہم

    افغانستان کی بعض خواتین نے طالبان کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے جس کا نام ’ڈو ناٹ ٹچ مائی کلوتھس‘ یعنی میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگاؤ‘ ہے۔

    اس مہم میں خواتین آن لائن اپنے روایتی کپڑوں میں اپنی تصاویر پوسٹ کر رہی ہیں۔

    افغانستان کا سوشل میڈیا ہو یا پاکستان اور انڈیا کا، کچھ تصاویر جو ہر جگہ گذشتہ چند دن سے وائرل نظر آ رہی ہیں ان میں متعدد خواتین کو سر تا پا سیاہ لباس اور برقع پہنے کابل یونیورسٹی کے لیکچر تھیٹر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان نقاب پوش خواتین کی تصاویر نے ملک میں افغان طالبان کی حکومت میں خواتین کی حیثیت اور اہمیت کے علاوہ اس بات پر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس قسم کا لباس جس میں عورت کی آنکھیں تک دکھائی نہ دیں کیا افغانستان کی ثقافت کا حصہ ہے؟

    سوشل میڈیا پر چند افغان اور پاکستانی صارفین اس برقعے کو ’سعودیہ سے امپورڈ شدہ سلفی نظریات کا تحفہ‘ یا ’عربنائزیشن‘ قرار دے رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ ’سیاہ برقع ہمارے معاشروں کو سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے سخت گیر نظریات کا تحفہ ہے۔‘

    چند خواتین صارفین کا کہنا ہے کہ یہ سیدھا سیدھا ’سعودی فیشن‘ ہے کیونکہ افغان خواتین یا تو نیلے ٹوپی والے برقعے پہنتی ہیں یا سفید برقع یا چادر یا سکارف لیتی ہیں۔

    مزید پڑھیے

  16. ’افغانستان کے مستقبل پر امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا‘, انٹونی بلنکن

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنی تعلقات کی طرف توجہ مرکوز کرے گا۔ اس دوران یہ جائزہ لیا جائے گا کہ افغانستان کے مستقبل میں واشنگٹن کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور پاکستان سے کیا توقعات رکھتا ہے۔

    کانگریس میں خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ’متعدد مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے مفادات سے اختلاف رکھتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان (مفادات) میں سے ایک افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مستقل طور پر کوششیں کرنا ہے۔ طالبان کے ممبران کی پشت پناہی۔۔۔ (ان مفادات میں) ہمارے ساتھ انسداد دہشتگردی کے لیے تعاون شامل ہے۔‘

    جب ان کے پوچھا گیا کہ آیا وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنا چاہیے، بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ جلد یہ کرنے جا رہی ہے۔

    ’یہ ان چیزوں میں سے ہے جن میں ہم آئندہ دنوں اور ہفتوں میں نظر رکھیں گے۔ گذشتہ 20 برسوں کے دوران پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے (اور) وہ کردار جو ہم آئندہ برسوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے کیا درکار ہوگا۔‘

    انٹونی بلنکن نے امریکی پارلیمان میں خارجہ امور کی کمیٹی سے مزید کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں بدترین صورتحال کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

    ’ہمیں ڈیڈ لائن ملی تھی۔ (گذشتہ انتظامیہ کی طرف سے) ہمیں کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی ترجیح امریکیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا تھی۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ امریکی افواج کی موجودگی میں حکومتی فورسز کابل میں اتنی جلد پسپا ہوجائیں گی اس کی پیشگوئی نہیں کی گئی تھی۔

    بلنکن کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل کی طرف تیز مارچ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

  17. طالبان حکومت کے ڈپٹی وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر منظر نامے سے غائب کیوں ہیں؟

  18. پنجشیر میں طالبان کے ہاتھوں 20 شہریوں کا قتل

    بی بی سی کو علم ہوا ہے کہ طالبان اور قومی مزاحمتی محاذ کے درمیان ہونے والی لڑائی کا مرکز رہنے والی افغانستان کی وادی پنجشیر میں کم از کم 20 شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    پنجشیرسے اطلاعات کا حصول مشکل ہے لیکن بی بی سی کے پاس ثبوت ہیں کہ طالبان کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کے اعلانات کے باوجود انھوں نے شہریوں کو ہلاک کیا۔

    پنجشیر سے ملنے والی ایک فوٹیج میں فوجی وردی پہنے ایک شخص کو طالبان کے نرغے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر فائرنگ کی آواز آتی ہے اور وہ شخص زمین پر گر جاتا ہے۔

    یہ واضح نہیں کہ مرنے والا شخص افغان فوج کا رکن تھا کہ نہیں۔ ویڈیو میں ایک راہ گیر ضرور یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک عام شہری تھا۔

    بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ پنجشیر میں ایسی 20 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ مرنے والوں میں عبدالسمیع نامی دکاندار بھی تھا جو دو بچوں کا باپ تھا۔

    مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کے پنجشیر میں آنے کے بعد اس نے انھیں بتایا کہ ’میں ایک غریب دکاندار ہوں جس کا جنگ سے کوئی واسطہ نہیں۔‘ تاہم اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس پر مزاحمتی محاذ کے ارکان کو سم کارڈ بیچنے کا الزام لگایا گیا اور پھر چند دن بعد اس کی لاش اس کے گھر کے پاس پھینک دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق عبدالسمیع کی لاش پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔

  19. اقوامِ متحدہ کی اپیل پر افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کریں اور افغان عوام کو انتہائی ضروری امداد کی ’لائف لائن‘ فراہم کریں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیکریٹری جنرل گتیریس پیر کو جنیوا میں تھے جہاں اُنھوں نے افغانستان کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔

    کانفرنس کا مقصد 60 کروڑ ڈالر کے عطیات جمع کرنا تھا مگر کانفرنس کے نصف تک پہنچنے تک ہی مختلف ممالک کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے زائد کے عطیات کا وعدہ کیا جا چکا تھا۔

    اس موقع پر انتونیو گتیریس نے کہا: ’ملک کے ڈی فیکٹو حکام (طالبان) سے بات چیت کیے بغیر افغانستان کے اندر انسانی امداد پہنچانا ناممکن ہے۔

    اس وقت طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا نہایت اہم ہے۔‘ اُنھوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ’افغان معیشت کو رقم کا سہارا دینے کے لیے طریقے ڈھونڈیں‘ تاکہ معیشت کا انہدام روکا جا سکے جس کے ’افغانستان اور وسیع تر خطے کے لیے تباہ کُن نتائج ہوں گے۔‘

  20. ’طالبان حکومت تسلیم کرنا ترجیح نہیں ہے، طالبان مثبت بیانات پر عمل کریں‘

    قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان کی افغانستان پر حکومت کو تسلیم کرنا ’ترجیح نہیں ہے‘ بلکہ اس گروپ کے لیے اہم یہ ہے کہ یہ دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ یاں ویز لیدریان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’ہم نے طالبان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ بطور ثالث قطر کا کردار حقیقت پسندانہ ہے اور دنیا سے تنہائی اختیار کرنا حل نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ روز قطری وزیرِ خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا تھا جہاں اُنھوں نے طالبان کے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن اخوند سمیت افغانستان سے سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ ’اس وقت تسلیم کرنے پر زور دینے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا‘۔

    ساتھ ہی شیخ محمد نے مزید کہا کہ طالبان کے لیے یہ مددگار ثابت ہو گا کہ وہ اپنے دیے گئے ’مثبت بیانات‘ پر قائم رہتے ہوئے اُن پر عمل پیرا ہوں۔

    شیخ محمد بن عبدالرحمان نے مزید کہا کہ طالبان نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ عالمی برادری سے تعلقات قائم کرتے ہوئے سفارت خانے کھولنا چاہتے ہیں۔

    قطری وزیرِ خارجہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ اس کے لیے ’اُن کی جانب سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    اس کے علاوہ دیگر افغان رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ قطر نے افغانستان میں قومی مفاہمت پر زور دیا ہے۔

    ’افغانستان میں مستقبل کے استحکام کے لیے قومی مفاہمت واحد راستہ ہے۔‘