طالبان ترجمان سہیل شاہین: افغانستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی خبریں بالکل غلط ہیں
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی خبریں بالکل غلط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان میں کوئی فنڈریزنگ سینٹر، ٹریننگ سینٹر اور ریکروٹنگ سینٹر نہیں چھوڑیں گے۔
گذشتہ رات پاکستان کے نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے سوال کہ ’اگر القاعدہ ایک بار پھر 9/11 جیسی کوئی دہشت گردی کی واردات کرتی ہے تو طالبان حکومت القاعدہ سے متعلق کیا رویہ اپنائے گی‘ کا جواب دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پالیسی بنائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہم قانون بھی بنائیں گے اور نگرانی بھی کریں گے، ہماری سکیورٹی فروسرز اور انٹیلیجنس ایجنسیاں زیادہ فعال نظر آئیں گی۔‘
سہیل شاہین نے یو این سکیورٹی کونسل کی رپورٹ جس میں افغانستان میں القاعدہ کے سینکڑوں کارکنان کی موجودگی کا ذکر ہے، کے متعلق کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایسی رپورٹوں میں کن ممالک سے را ڈیٹا اور معلومات آتی ہیں۔‘
’یہ سارے ہمارے مخالف ممالک کا سرکل ہے جو بے بنیاد دعوے اور رپورٹس فراہم کرتے ہیں۔‘
طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسی لیے کئی بار ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کیونکہ یہ حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کا کوئی فنڈریزنگ سینٹر، ٹریننگ سینٹر اور ریکروٹنگ سینٹر نہیں چھوڑیں گے۔ ابھی تک کسی نے ایسے سینٹر کی نشاندہی نہیں کی، اگر یو این کہتی ہے کہ ایسے سینٹر موجود ہیں تو ہمیں بتائیں کہ کہاں ہیں۔