’اشرف غنی کے ملک سے بھاگ جانے سے طالبان سے معاہدہ ٹوٹا‘: زلمے خلیل زاد
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ سابق صدر اشرف غنی کے ملک سے اچانک نکل جانے کے باعث طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹا جس کے تحت طالبان کے کابل میں داخلے کو روکنا اور سیاسی حکومت کی منتقلی پر مذاکرات ہونا تھے۔
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد فنانشل ٹائمز کو دیئے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان اس بات پر آمادہ ہو گئے تھے کہ وہ دو ہفتوں تک کابل کے باہر رہیں گے اور نئی حکومت کا قیام کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حتی کہ آخری وقت میں بھی ہمارا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد افغان مفاہمتی عمل میں امریکہ کے خصوصی نمائندے رہے اور سنہ 2020 میں طالبان اور امریکہ میں فوجیوں کے انخلا کا معاہدہ کروانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
انھوں نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’لیکن اشرف غنی 15 اگست کو ملک سے بھاگ گئے اور طالبان نے اس دن سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میک کینزی سے پہلے سے طے شدہ ملاقات میں پوچھا کہ کیا امریکی فوجی کابل کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے کیونکہ حکومتی گر گئی ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت کیا کہا گیا؟ ہم اس کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن نے اصرار کیا کہ امریکی فوجی صرف امریکی شہیریوں اتحادیوں کے انخلا پر کام کریں گے اور امریکہ کی اس طویل ترین جنگ کو مزید طول نہیں دیں گے۔‘
زلمے خلیل زاد کے بیان پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کابل میں ’ایک لمحہ بھی زیادہ رہنا ممکن نہیں تھا۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’اس وقت امریکہ کا افغانستان میں مزید رہنا کبھی بھی حقیقت پسندانہ، قابل عمل اور عملی آپشن نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک واضح تاثر دیا گیا تھا کہ اگر افغانستان میں امریکہ اپنی موجودگی کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے تو ہمارے فوجی دوبارہ طالبان اور داعش جیسے گروہوں کے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنیں گے۔‘