طالبان: کام کرنے والی خواتین ’وقتی طور پر گھروں میں رکیں‘
طالبان نے کہا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کو اس وقت تک گھروں میں بیٹھنا چاہیے جب تک ان کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ’یہ ایک عارضی اقدام ہے‘ اور افغان خواتین پر پابندیاں بہت تھوڑے عرصے کے لیے ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری سیکیورٹی فورسز کو پتا نہیں ہے کہ خواتین کے ساتھ معاملات کیسے کرنے ہیں، خواتین سے بات کیسے کرنی ہے۔ جب تک ہمارے پاس مکمل سیکیورٹی نہیں ہے، ہم خواتین سے کہیں گے کہ وہ گھروں میں رکیں۔‘
کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے طالبان نے اپنا قدرے اعتدال پسند تاثر دینے کی کوشش کی ہے اور خواتین اور لڑکیوں کی آزادی اور کسی حد تک آزادیِ اظہار رائے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
تاہم اقوام متحدہ نے طالبان جنگجوؤں کی جانب سے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی ’صدقہ اطلاعات‘ کی نشاندہی کی ہے۔