برطانوی سیکرٹری دفاع: کابل سے کوئی طیارہ خالی نہیں آ رہا
برطانیہ کے سکریٹری دفاع کا کہنا ہے کہ کابل سے برطانوی اور افغانیوں کو لے جانے والا کوئی بھی طیارہ خالی پرواز نہیں کر رہا۔
بین والیس نے ان رپورٹوں کو مسترد کیا کہ کابل سے آنے والی کچھ پروازوں میں صرف چند لوگ شامل تھے۔
انہوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ ’ہر گھنٹہ اہم ہے‘ اور تصدیق کی کہ ’طالبان ہمارے لوگوں کو گزرنے دے رہے ہیں۔‘
لیکن ایئر پورٹ کی حدود میں طالبان کی قائم کردہ چوکیوں سے افراتفری کے مناظر سامنے آ رہے ہیں۔
تقریباً 4500 امریکی فوجی کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عارضی کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، تقریباً 900 برطانوی فوجی بھی انخلا کی پروازوں کو محفوظ بنانے کی کوششوں کے حصے کے طور پر گشت پر ہیں۔
طالبان سفری دستاویزات کے بغیر افغانیوں کو داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ایک طالبان عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ اتوار سے اب تک کابل ہوائی اڈے کے ارد گرد بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
لیکن درست کاغذات رکھنے والوں کو بھی ہوائی اڈے تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اطلاعات کے مطابق کچھ لوگوں کو طالبان کے محافظوں نے مارا پیٹا بھی ہے۔