آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’طالبان سے مذاکرات پر راضی ہیں مگر آخری آدمی تک دفاع کریں گے‘ احمد شاہ مسعود

    شمالی افعانستان میں طالبان کے خلاف برسرِ پیکار گروپ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات پر راضی ہیں تاہم لمبے عرصے تک مزاحمت کے لیے بھی تیار ہیں۔

    قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور سیاستدان احمد مسعود نے کابل کے شمال مشرق میں واقع پنجشیر وادی میں تقریباً 9000 جنگجوؤں کو جمع کر لیا ہے۔

    ایک علیحدہ انٹرویو میں احمد مسعود نے لندن کے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاسی مذاکرات کے ذریعے طالبان کے ساتھ ایک جامع حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن جو چیز ہمیں ناقابل قبول ہے وہ انتہا پسندی کی خصوصیات والی افغان حکومت کی تشکیل ہے، جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بنے گی۔‘

    اس سے قبل بی بی سی فارسی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا کہنا تھا کہ ’ہم پنجشیر کا مسئلہ طاقت یا مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔‘

  2. روس، چین اور ایران افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے: ٹونی بلیئر

    سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر شدید تنقید کی ہے۔

    انھوں نے اسے غیر ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحادی افواج کے انخلا سے جہادی گروپوں کی ہمت بڑھے گی۔

    ان[وں نے یہ بھی کہا کہ روس، چین اور ایران صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    ٹونی بلیئر نے اتحادی افواج کے انخلا کو افسوسناک، خطرناک اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔

    بیس سال پہلے ٹونی بلیئر کی وزارت عظمیٰ کے دوران برطانیہ نے اپنی فوج افغانستان بھیجی تھی۔

    دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بائیڈن انتظامیہ کے کابل سے فوج واپس بلانے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

    الاباما میں ایک ریلی میں سابق صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’اب تک کی سب سے بڑی فوجی شکست‘ قرار دیا۔

    لیکن ٹرمپ نے صدارت کے دوران طالبان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کا نتیجہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ ہے۔

  3. کیا پنجشیر وادی طالبان کی پیش رفت کا مقابلہ کر سکے گی؟

    افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو مقابلہ کریں گے۔

    کابل کے شمال میں ہندوکش کی بلند چوٹیوں میں گھری ہوئی پنجشیر وادی ایک طویل عرصے سے مزاحمت کے مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔

    سنہ 2001 میں اپنی موت تک افغان رہنما احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ اور طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔ یہ ملک کا واحد حصہ ہے جس کی طالبان کے کنٹرول سے باہر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ملک کے باقی حصوں پر طالبان تیزی سے قبضہ کر چکے ہیں۔

    کابل سے قریب تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں بھی یہ صوبہ اُن کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ وہاں شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا۔

    ملک کے نائب صدر امراللہ صالح، جن کا پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغربی حمایت یافتہ حکومتوں کی جوڑ توڑ میں اہم کردار تھا اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود دونوں نے اس علاقے میں پناہ لی ہے اور طالبان کے خلاف بغاوت کی اپیل کی ہے۔

    تو کیا پنجشیر طالبان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے؟مزید پڑھیے >>

  4. کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم میں اضافے سے ہلاک ہونے والے افراد کا آنکھوں دیکھا حال

    دی انڈیپینڈینٹ اخبار کے دفاعی اور سکیورٹی کم سینگپوتا نے کہا ہے کہ انھوں نے سنیچر کو ایئرپورٹ کے باہر ہجوم میں لوگوں کو کچلے جانے کے بعد مرتے دیکھا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام براڈکاسٹنگ ہاؤس سے بات کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’گذشتہ روز آغاز میں ہجوم پرامن تھا لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس میں شدت آنے لگی۔ اس اچانک شدت کی وجہ دراصل لندن اور واشنگٹن میں موجود سیاست دانوں کے بیانات ہیں جو لوگ سن رہے ہیں اور وہ اس سے یہ اخذ کر رہے ہیں کہ غیرملکی حکومتیں اگلے چند روز میں طیاروں کے ذریعے انخلا بند کر دیں گی۔‘

    کم سینگپوتا نے بتایا ’لوگ اچانک مرنے لگے، تمام ہی خواتین۔ ایک خاتون کی ہلاکت پر اس کا شوہر بہت صدمے میں تھا اور ان کی ایک بیٹی بھی لاپتہ ہے۔ اس کے بعد تین مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ وہ چار ہلاکتیں ہیں جو ہمیں نظر آئیں۔ ان کے علاوہ بھی مختلف جگہوں پر کئی اموات ہوئی ہیں جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس دوران فائرنگ نہیں ہوئی۔ صرف اچانک ہجوم میں اضافہ ہونے اور شدید گرمی میں، اضطراب کی کیفیت میں اضافہ ہوا۔ جو سب سے زیادہ کمزور تھے وہ ہلاک ہو گئے۔ یہ ایک انتہائی دل توڑنے والی صورتحال ہے۔‘

  5. کابل ایئرپورٹ سے خوفزدہ افغانوں کا انخلا جاری

    طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے چھٹے روز بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔۔۔

  6. افغان رہنما انس حقانی کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات، حمایت کی یقین دہانی

    طالبان رہنما انس حقانی نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان حشمت اللہ شاہدی، نور علی زدرانت کچھ دیگر کھلاڑیوں اور سابق کرکٹ بورڈ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین سے کابل میں ملاقات کی ہے۔

    ملاقات کے دوران کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انس حقانی کا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ نے افغانستان میں کرکٹ کی بنیاد رکھی اور وہ اب بھی اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

  7. بریکنگ, ’پنجشیر کا مسئلہ طاقت یا مذاکرات کے ذریعے حل کر لیں گے‘ طالبان ترجمان

    طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے بی بی سی فارسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم پنجشیر کا مسئلہ طاقت یا مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔‘

    یاد رہے افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔

    کابل کے شمال میں ہندوکش کی بلند چوٹیوں میں گھری ہوئی پنجشیر وادی ایک طویل عرصے سے مزاحمت کے مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان پنجشیر پر حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو ان کا مقابلہ کریں گے۔

  8. افغانستان سے دو پروازیں انڈیا پہنچ گئیں، ائیربیس پر جذباتی مناظر

    اتوار کو کابل میں پھنسے ہوئے انڈین شہریوں کو لے کر دو پروازیں دہلی پہنچیں، جبکہ مزید پروازیں آنا باقی ہیں۔

  9. ’دنیا نے افغانوں کو تنہا چھوڑ دیا‘

    ایک افغان امدادی کارکن جو اس ہفتے کابل سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں، نے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

    افغان مہاجرین کے لیے بنائے گئے مشورے اور معاونت کے ادارے کے ڈائریکٹر عبدالغفور نے جرمنی سے بی بی سی کو بتایا ’ایک طرف ایک وحشیانہ گروہ ہے جسے طالبان کہا جاتا ہے اور دوسری طرف ہزاروں افغانی ہیں جنھیں ایک امید تھی۔۔۔ جنھوں نے اپنی زندگی، اپنا پیسہ افغانستان میں لگایا اور وہ مستقبل کے بارے میں پرامید تھے۔‘

    ’یہ دو مخالف گروہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں اور اس کا نتیجہ نہایت خطرناک ہوگا - نہ صرف افغانستان کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ان افغانوں کی قسمت پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو ملک چھوڑنے سے قاصر تھے۔

    وہ پوچھتے ہیں کہ ’کتنے لوگ افغانستان چھوڑ سکیں گے: ہزاروں؟ چند ہزار؟ باقی لاکھوں کے بارے میں جو پیچھے رہ جائیں گے؟ یہ امریکہ اور یورپی ممالک کی ذمہ داری ہے کیونکہ انھوں نے افعانوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔‘

    ’امریکہ اور یورپ کو اب پیچھے رہ جانے والوں کی خبر رکھنی ہو گی۔۔ اب انہیں فالو اپ اور مانیٹر کرنا ہوگا تاکہ انھیں تھوڑی آزادی مل سکے۔۔۔ اور کم از کم وہ زندہ رہ سکیں۔‘

  10. افغانستان سے انخلا کے لیے بھیجے گئے امریکی طیارے پر بچے کی پیدائش

    ایک افغان خاتون کے ہاں افغانستان سے جرمنی جانے والے امریکی طیارے میں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    اتوار کے روز امریکہ کی ایئر موبلٹی کمانڈ کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک تھریڈ پوسٹ کیا گیا جس میں میں بتایا گیا ہے کہ یہ خاتون اپنے خاندان کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ سے جرمنی کا سفر کر رہی تھیں جب ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔

    جب خاتون کی حالت ابتر ہونا شروع ہوئی تو طیارے کے کمانڈر نے ’نیچی پرواز کی تاکہ طیارے میں ہوا کا دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اس سے ماں کی زندگی بچانے اور ان کی طبیعت بہتر کرنے میں مدد ملی۔‘

    جب طیارہ لینڈ ہوا تو امریکی فوج کے ڈاکٹروں نے طیارے میں آ کر بچے کی پیدائش میں مدد کی۔

    ماں اور بچہ دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انھیں ایک قریبی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

  11. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر سات افغان باشندوں کی ہلاکت ہوئی: برطانوی وزارتِ دفاع

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم میں سات افغان باشندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے وہاں موجود متعدد افراد افغانستان چھوڑنے کے لیے بیتاب دکھائی دیتے ہیں۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’اس وقت وہاں کی صورتحال خاصی چیلنجنگ ہے لیکن ہم اس پر قابو پانے کے لیے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔

    طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے بعد سے ایئرپورٹ کے باہر افراتفری کے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں اور اکثر افغان باشندے اور غیرملکی شہری افغانستان سے انخلا کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 4500 امریکی فوجی تعینات ہیں اور 900 برطانوںی فوجی ایئرپورٹ کی حفاظت اور گشت کے لیے موجود ہیں۔

    طالبان کی جانب سے ایسے افغان شہریوں کو ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے جن کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

    • کابل ایئرپورٹ سے خوفزدہ افغانوں کا انخلا جاری

      طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے چھٹے روز بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔۔۔ ویڈیو: فرقان الہی

    • رابطوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہم طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں: یورپی یونین

      یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیداروں نے سنیچر کو طالبان کو بتایا کہ زیادہ سے زیادہ افغان شہریوں کو نکالنے کے لیے جاری مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ یورپی یونین گروپ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

      تاہم یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان نے طالبان سے رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

      کونسل آف یورپ کے صدر چارلس مشیل کے ساتھ مل کر انھوں نے سپین کے شہر میڈرڈ کے قریب قائم ایک مرکز کا دورہ کیا جو افغانستان چھوڑنے والوں کو وصول کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

      انھوں نے کہا ’اس نازک وقت میں ہمارے طالبان کے ساتھ آپریشنل رابطے ہیں، کیونکہ ہمیں اس مشکل وقت میں کابل ایئرپورٹ پر لوگوں کی منتقلی کو آسان بنانے کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

      انھوں نے مزید کہا ’لیکن یہ سیاسی مذاکرات سے بالکل مختلف ہے۔ طالبان کے ساتھ کوئی سیاسی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور طالبان کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔‘

      اگرچہ افغانستان کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ طالبان قیادت میں سے کون حکومت کا انچارج ہوگا۔

    • اشرف غنی فرار ہو کر متحدہ عرب امارات ہی کیوں پہنچے؟

    • ’سمجھ نہیں آ رہی طالبان کی کیا پالیسی ہے ہم بھی کنفیوز ہیں کہ برقعہ بیچیں یا عبایہ بیچیں‘, کابل سے بی بی سی کے ملک مدثر

      یہ تصاویر کابل کے علاقے خیر خانہ میں موجود بازار لیسہ مریم کی ہیں۔

      شہر میں عاشورہ کے بعد بھی مکمل طور پر معمول کی خریدو فروخت شروع نہیں ہو سکی۔

      یہ تصاویر لیسہ مریم بازار کی ہیں یہاں دکانیں تو کچھ حد تک کھل چکی ہیں لیکن خواتین کے لیے مخصوص اس بازار میں آج کل گاہکوں کی تعداد معمول سے انتہائی کم ہے۔

      خواتین نے آن کیمرہ بات کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

      چند دکانداروں سے بات کا موقع ملا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی کاروبار نہیں چل رہا گاہک بہت کم ہیں ہم نے دکانیں تو کھولی ہیں لیکن خریدار کوئی نہیں آ رہے۔

      عبایہ کا کاروبار کرنے والے ایک دکاندار نے کہا کہ ابھی سمجھ نہیں آ رہی کہ طالبان کی کیا پالیسی ہے ہم بھی کنفیوز ہیں کہ برقعہ بیچیں، عبایہ بیچیں۔

    • افغانستان سے امریکہ کا انخلا احمقانہ اقدام ہے: ٹونی بلیئر

      سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ 2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملہ ’افغانستان کو تنہا چھوڑ کر‘ خطرناک اور غیر ضروری عمل تھا۔

      افغان حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے پہلے بیان میں مسٹر بلیئر نے امریکی انخلا کو ’احمقانہ‘ اور ’ایک بڑی حکمت عملی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک سیاسی اقدام پر‘ قرار دیا۔

      انھوں نے اپنے انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں لکھا کہ افغانستان اور اس کے لوگوں کو تنہا چھوڑنا ایک تباہ کن ، خطرناک اور غیر ضروری عمل تھا جو نہ تو ان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ہمارے مفاد میں ہے۔

      ’یہ ضروری نہیں تھا۔ ہم نے صرف یہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

      انھوں نے کہا کہ ’یہ محض 'مستقل جنگوں' کو ختم کرنے کے احمقانہ سیاسی نعرے کی پیروی میں کیا گیا ، جیسے کہ 2021 میں ہماری موجودگی کا 20 یا 10 سال پہلے کے ہمارے عزم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    • طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے اردگرد مزید سختی کر دی

      روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان نے اتوار کو کابل ایئرپورٹ کے ارد گرد افراتفری کے ماحول پر مزید سخت احکامات نافذ کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے ایئرپورٹ کے مرکزی دروازوں کے باہر باقاعدہ قطاریں لگ گئی ہیں۔

      عینی شاہدین نے بتایا کہ موسم صاف ہوتے ہی کسی الجھن یا تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کے مطابق صبح سویرے لمبی قطاریں لگ گئیں۔

      روئٹرز کے مطابق، نیٹو اور طالبان حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے بعد سے کم از کم 12 افراد ہوائی اڈے کے رن وے پر یا اس کے ارد گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

      عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ کچھ فائرنگ سے اور کچھ بھیڑ کے دباؤ سے ہلاک ہوئے۔

    • سوشل میڈیا پر طالبان کی حمایت کرنے پر انڈیا میں 14 افراد گرفتار

      انڈیا کے صوبے آسام کے حکام نے کہا ہے کہ گیارہ اضلاع میں پولیس نے 14 افراد کو سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر گرفتار کر لیا ہے جس میں ان افراد نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے طالبان کی حمایت کی تھی۔

      ایک سینئیر پولیس افسر کے حوالے سے این ڈی ٹی وی نے خبر دی ہے کہ اب تک پولیس نے کل 14 افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں ہیلا کنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے طالب علم کو بھی گرفتار کیا ہے جو ایم بی بی ایس کر رہا ہے اور تیز پور میڈیکل کالج میں پڑھتا ہے۔

      گرفتار ہونے والوں میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے لیڈر فضل کریم قاسمی بھی شامل ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد انھیں پارٹی کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

      گرفتار ہونے والوں میں آسام پولیس کا ایک کانسٹیبل بھی شامل ہے۔

      حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے کچھ نے براہ راست طالبان کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کچھ نے انڈیا اور اپنے ملکی میڈیا پر طالبان کی حمایت نہ کرنے پر ان تنقید کی ہے۔

      گرفتار افراد کو انسداد دہشت گردی کے قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

    • کابل ایئرپورٹ پر دولتِ اسلامیہ کے حملے کا خطرہ ہے: امریکہ

      امریکہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ پر جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں ممکنہ طور پر افغانستان میں موجود دولتِ اسلامیہ کا گروہ حملہ کر سکتا ہے۔

      سنیچر کو امریکہ نے ایک سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے اور کابل میں رہنے والے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ایئر پورٹ سے دور رہیں کیونکہ اس کے دروازوں پر سکیورٹی کے حوالے سے خطرات ہیں۔

      اس انتباہ میں کہا گیا ہے کہ صرف امریکی حکومت کے ان نمائندوں کو سفر کرنا چاہیے جنھیں امریکہ نے انفرادی طور پر وہاں جانے کو کہا ہے۔

      امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کابل میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں اور متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں۔

      امریکہ کی جانب سے کابل ایئر پورٹ پر دولت اسلامیہ کے ممکنہ حملے کے خطرے کے بارے میں مزید کچھ تفصیلات نہیں دی گئیں اور اس گروپ نے کابل میں حملوں کی عوامی سطح پر کوئی دھمکی بھی نہیں دی۔

      خیال رہے کہ امریکہ کا اپنے شہریوں کو یہ پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کابل ائیر پورٹ کے ٹرمنل کے باہر لوگوں کا شدید رش ہے اور ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں بہت سے لوگ اس دھکم پیل میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہزاروں افغان شہری طالبان کے ملک می قبضے کے بعد وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    • ’امریکی شہری کابل ایئر پورٹ کا رخ نہ کریں‘

      امریکی حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کابل میں ایئر پورٹ ٹرمینل کے باہر ہنگامے اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایئر پورٹ نہ جائیں۔

      سنیچر کے روز ایک سیکیورٹی الرٹ میں امریکی شہریوں سے کہا گیا کہ وہ گیٹس کے باہر ممکنہ سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ہوائی اڈے سے دور رہیں۔

      الرٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صرف وہ شہری ہوائی اّے پر جائیں جن کو امریکی حکومت کا کوئی نمائندہ ایسا کرنے کے لیے کہے۔

      یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کے قابض ہو جانے کے بعد ہزاروں لوگ ملک سے باہر جانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔