آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. بامیان میں ہزارہ رہنما کا مجسمہ مسمار

    افغانستان کے شہر بامیان میں ایک نامور طالبان مخالف جنگجو کا مجسمہ توڑ دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ ہزارہ رہنما عبدالعلی مزاری کا مجسمہ کس نے تباہ کیا ہے۔

    ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے میں طالبان کے کئی گروہ موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ بامیان وہی صوبہ ہے جہاں سنہ 2001 میں طالبان نے گوتم بدھا کے قد آور مجسموں کو مسمار کر دیا تھا۔

    اقلیتی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری بھی ماضی میں طالبان کے نشانے پر رہی ہے۔

  2. برطانوی رکن پارلیمان کی جو بائیڈن پر جذباتی تنقید, ایس این پی کے رکن پارلیمان کہتے ہیں افغان پناہ گزینوں کے لیے سکاٹ لینڈ کے دروازے کھلے ہیں

    برطانوی ایوانِ زیریں میں رکن پارلیمان ٹام ٹوگنڈیٹ نے امریکی صدر جو بائیڈن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے حالیہ بیان سے ان افغان فوجیوں کی بہادری پر سوال اٹھایا ہے جن کے ساتھ وہ خود لڑے ہیں۔

    ٹام ٹوگنڈیٹ سابق فوجی ہیں اور افغانستان کی لڑائی میں حصہ بھی لے چکے ہیں۔

    انھوں نے اپنی جذباتی تقریر میں کہا کہ حالیہ دنوں کے واقعات نے پرانے زخم تازہ کر دیے ہیں اور امریکی صدر کا بیان ’شرمناک‘ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سرد جنگ بھی صبر سے جیتی گئی تھی‘ اور اس حوالے سے لامتناہی جنگوں کی بات نہیں کرنی چاہیے۔

    انھوں نے قبرص اور جنوبی کوریا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہم نے صبر کے بجائے مزید جنگ کو دعوت دی ہے۔

    اس کے علاوہ سکاٹش نیشنل پارٹی کے ایئن بلیک فورڈ نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت برطانوی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے اور سکاٹ لینڈ کے کونے کونے میں افغان پناہ گزینوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

    انھوں نے افغانستان کی صورتحال کو ’دور حاضر کی سب سے بڑی پالیسی ناکامی‘ قرار دیا۔

  3. برطانوی پارلیمان کا افغانستان پر ہنگامی اجلاس، بورس جانسن ہر حزبِ اختلاف کی کڑی تنقید

    وزیراعظم بورس جانسن نے برطانوی ایوانِ زیریں کے افغانستان کے مسئلے پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ ’اپنے مشن میں کامیاب رہا۔‘

    واضح رہے کہ برطانوی ہاؤس آف کامنز میں گرمی کی چھٹیاں ہیں یاہم افغانستان کی بدلتی صورتحال پر ہنگامی بحث کے لیے اراکین کو بدھ کو لندن طلب کیا گیا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ 20 برس کی جنگ کے بعد آج افغانستان کو اسی تنظیم کے حوالے کر رہا ہے جس سے اسے نجات دلوانی تھی، تو وزیراعظم نہ کہا کہ برطانیہ کی مداخلت سے کئی جانیں بچی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان میں مزید برطانوی فوجی بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر کوئی سوچتا ہے کہ دیگر ممالک میں سے کوئی ایسا کرنے کو تیار ہے تو ’یہ ایک فریب ہے۔‘

    دوسری جانب قائد حزبِ اختلاف کیئر سٹارمر نے وزیراعظم سے کہا کہ افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قیادت کی باگ ڈور سنبھالیں۔

    انھیں نے سیکریٹری دفاع کے بیان کی یاد دہانی کروائی جس میں بین والس نے کہا تھا کہ ’ہمارے ساتھ کام کرنے والے ہر شخص کو واپس لانا ممکن نہ ہوگا‘ اور کہا کہ اس کا کوئی جواز نہیں۔

  4. انس حقانی کی حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقات

    طالبان رہنما اور سراج الدین حقانی کے بھائی انس حقانی نے بدھ کو کابل میں سابق افغان صدر حامد کرزئی اور مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے۔

    طالبان ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران افغان اسمبلی کے سپیکر عبدالہادی مسلم یار بھی موجود تھے۔

    اس سے قبل حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے طالبان رہنما عامر خان متقی سے منگل کو ملاقات کی تھی۔

    کرزئی کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق بات چیت میں ’شراکتداری پر مبنی ایک ایسی حکومت قائم کرنے کے بارے میں بات ہوئی جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور معاشرے کو امن اور ترقی کا راہ پر لے کر چلے۔‘

  5. ملا برادر آج کابل پہنچیں گے، طالبان اور مصالحتی کونسل کے درمیان حکومت سازی پر بات چیت

    طالبان کے شریک بانی اور دوحا میں ان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر افغانستان پہنچ چکے ہیں اور بدھ کو ان کی کابل آمد کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ملا برادر طالبان کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ منگل کو ملک کے جنوبی شہر قندھار پہنچے تھے۔

    ملا برادر کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ افغانستان میں انتہائی بااثر سمجھا جاتا ہے اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کے افراد سرحد کے دونوں جانب یعنی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پشاور میں بھی آباد ہیں۔

    بعد ازاں فروری سنہ 2010 میں انھیں پاکستان کے شہر کراچی سے امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔

    اس وقت افغان حکومت سے امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے طالبان کی جانب سے جن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا تھا اس فہرست میں ملا عبدالغنی برادر کا نام سرفہرست ہوتا تھا۔

    انھیں ستمبر 2013 میں پاکستانی حکومت نے رہا کر دیا تھا۔ لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ پاکستان میں ہی رہے یا کہیں اور چلے گئے۔ ملا برادر طالبان رہنما ملا محمد عمر کے سب سے قابل اعتماد سپاہی اور نائب رہے۔

  6. ’2200 افراد کو کابل سے نکالا جا چکا ہے‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابل سے اب تک 2200 سے زیادہ سفارت کار اور دیگر عام شہریوں کو نکالا جا چکا ہے۔

    اس میں انڈیا کا سفارتی عملہ بھی شامل تھا جو بدھ کی صبح سی 17 طیارے کے ذریعے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچا۔

    ایک اہلکار کے مطابق لوگوں کو نکالنے کا کام بپت تیزی سے چل رہا ہے تاہم اس وقت واضح نہیں کہ ان 2200 افراد میں کتنے شہری شامل ہیں اور آیا ان میں وہ 600 سے زائد افغان بھی شامل ہیں جنھیں اتوار کو ایک اور سی 17 طیارے کے ذریعے قطر پہنچایا گیا تھا۔

  7. کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

  8. امریکی جہاز کے پہیوں میں پھنسے انسانی باقیات کی تحقیقات شروع

    امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ ان انسانی باقیات سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں جو اس کے فوجی طیارے کے پہیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔

    دو روز قبل طالبان کی کابل آمد پر شہر کے ایئر پورٹ پر افراتفری کے ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جن میں ملک چھوڑنے کے خواہشمند افراد امریکی طیارے سی 17 کے ساتھ بھاگ رہے تھے اور بعض نے تو اس کے ساتھ لٹکنے کی بھی کوشش کی۔

    کابل ایئر پورٹ پر اس حادثے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔

    امریکی فضائیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا یہ طیارہ کابل ایئر پورٹ پر پیر کو اُترا اور اس کے گرد سینکڑوں افغان شہری جمع ہوگئے تھے۔ ’سکیورٹی صورتحال میں خرابی کے باعث، سی 17 کے عملے نے جلد از جلد ایئر پورٹ سے اڑان بھرنے کا فیصلہ کیا۔‘

    یہ جہاز قطر کے ایک ہوائی اڈے پر اترا تھا۔

    امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’اس طیارے کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے تاکہ انسانی باقیات کو جمع کیا جاسکے اور اس پرواز کی بحالی کے لیے جہاز کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

  9. برطانوی جنرل: ’سب طالبان ایک جیسے نہیں۔۔۔ انھیں حکومت سازی کا موقع دینا پڑے گا‘

    برطانیہ کے چیف آف ڈیفینس سٹاف نے کہا ہے کہ برطانوی افواج اس وقت افغانستان میں طالبان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

    جنرل نک کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانوی فوجی کابل ایئر پورٹ کو سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں اور شہر کے وسطی حصے کو پرسکون رکھے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ طالبان ایسے لوگوں کو کچھ نہیں کہہ رہے جو ملک سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ’وہ اس وقت معقول انداز میں پیش آ رہے ہیں۔‘

    پروگرام ’بی بی سی بریک فاسٹ‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ بدھ کو تقریباً ایک ہزار افراد کو افغانستان سے نکالے گا اور اس کام کے لیے سات طیارے کابل بھیجے گئے ہیں۔

    ’ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا اور (طالبان کو) حکومت سازی کا موقع دینا پڑے گا۔‘

    جنرل کارٹر 2002 سے 2013 تک افغانستان میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

    جنرل کارٹر نے بتایا کہ وہ سابق افغان صدر حامد کرزئی سے مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ بدھ کو طالبان کی سیاسی اور عسکری کمیشن سے ملاقاتیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے اس ملاقات کے بعد معلوم ہو کہ یہ طالبان پہلے کی نسبت زیادہ معقول ہیں۔

    ان کے مطابق سب طالبان ایک جیسے نہیں ہیں اور یہ تنظیم مختلف قبائلی جنگجوؤں پر مبنی ہے جو افغانستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

  10. بریکنگ, وزیر داخلہ شیخ رشید احمد: افغانستان سے کوئی پناہ گزین پاکستان نہیں آئے

    پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد مکمل طور پر پرسکون ہے اور تاحال کوئی بھی افغان پناہ گزین پاکستان نہیں آئے ہیں۔

    بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے انڈین میڈیا کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی افغان مہاجر پاکستان نہیں آ رہا۔‘

    ’طورخم اور چمن بارڈر بالکل پر سکون ہیں اور تجارت معمول کے مطابق جاری ہے۔ جتنے ٹرک آئے گئے ہیں وہ سب آرام سے گئے ہیں۔‘

    ان کے مطابق سرحد پر کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ’14 اگست سے اب تک 613 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے اور دو دن کے اندر اندر تمام پاکستانیوں کو ملک واپس لے آئیں گے۔ جو وہاں رہنا چاہیں وہ رہ سکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تمام ایئر پورٹس اور سرحدوں پر افغانستان سے آنے والے غیر ملکی سفارتکاروں اور میڈیا کے نمائندوں کو آمد پر ویزے دیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس عمل میں عموماً چھ ہفتے لگتے ہیں لیکن عمران خان کے حکم کے مطابق ایک دن میں ویزے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    ان کے مطابق تاحال 900 غیر ملکی سفارتکاروں کو اب تک پاکستان لایا جا چکا ہے۔

    پاکستان کو خطے کی ’چرچل پوسٹ‘ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھی کوئی سپر پاور پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔

    اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے طالبان کے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو ذبیع اللہ مجاہد نے پریس کانفرس میں کہا ’وہی ہماری نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ایجنڈا ہے۔‘

    ’ہم کسی کی زمین پر پاکستان سے مداخلت نہیں ہونے دیں گے اور کسی کو اپنی طرف مداخلت بھی کرنے نہیں دیں گے۔ ہم امن چاہتے ہیں۔۔۔ افغان اپنے مسئلوں کو مل بیٹھ کر حل کریں۔ ایک مستحکم افغانستان ایک پرسکون پاکستان کے لیے ضروری ہے۔‘

    ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا وزیراعظم عمران خان یا دفتر خارجہ کا کام ہے۔

  11. کابل میں معمول کی زندگی کے آثار

    طالبان کے قبضے میں آنے کے بعد کابل میں بدھ کی صبح پہلی بار معمول کی زندگی کے آثار نظر آئے ہیں۔

    اتوار کو جب طالبان جنگجو شہر میں داخل ہوئے تھے تو شہر سنسان ہو گیا تھا۔ سڑکیں خالی تھیں اور دکانیں اور بازار بند پڑے تھے۔

    لیکن منگل سے سڑکوں پر دوبارہ چہل پہل نظر آنے لگی ہے۔

    الجزیرہ کے ایک صحافی کے مطابق بدھ کو کچھ دکانیں اور ریستوران کھلے ہیں تاہم سڑکوں پر خواتین نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    کابل میتں مقیم ایک اور صحافی، بلال سروری کے مطابق کابل کی سڑکوں پر کچھ مانوس آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔

  12. امراللہ صالح، احمد مسعود کا مزاحمت کا اعلان: کیا افغانستان میں جنگ واقعی ختم ہو چکی؟

  13. تو یہ ہیں ذبیح اللہ مجاہد۔۔۔

    ذبیح اللہ مجاہد 15 برس سے زیادہ عرصے سے طالبان کی ترجمانی کر رہے ہیں، تاہم منگل سے پہلے انھیں کبھی میڈیا پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا جب وہ منظرعام پر آئے۔

    تو جب منگل کی صبح معلوم ہوا کہ وہ آج پریس کانفرنس کرنے والے ہیں تو تمام میڈیا کی توجہ اس پر مرکوز ہو گئی۔

    اس پریس کانفرنس میں سٹیج پر لگی کرسیوں کے پیچھے افغانستان نہیں بلکہ طالبان کا سفید جھنڈا لہرا رہا تھا۔

    لگ بھگ 25 کیمرے ذبیح اللہ کی آمد سے پہلے وہاں سٹیج کو فوکس کر کے سیٹ کر دیے گئے تھے لیکن ابھی انتطار باقی تھا۔

    ہمیں پتہ چلا کہ ذبیح اللہ مجاہد نماز ادا کرنے کے بعد آئیں گے۔ تب تک ہم سب ہر آنے والے طالب کو بغور دیکھتے رہے کیونکہ ہم ٹوئٹر پر ذبیح اللہ مجاہد کی تصویر دیکھ چکے تھے۔

    اس پریس کانفرنس کا آنکھوں دیکھا حال جانے بی بی سی کے ملک مدثر کی زبانی۔

  14. طالبان: عام شہری بحفاظت کابل ایئر پورٹ جا سکتے ہیں

    وائٹ ہاؤس کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ جانے والے عام شہریوں کو نہیں روکیں گے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 11 ہزار امریکی شہری افغانستان میں موجود ہیں جن میں سفارت کار، مختلف شعبوں میں کام کرنے والی ملازمین بھی شامل ہیں۔

    امریکی حکام نے بتایا کہ وہ کابل ایئر پورٹ سے امریکی شہریوں کے انخلا کو ممکن بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ نہ تو ایئر پورٹ جانے والوں کو روکا جائے اور نہ ہی وہاں سے اڑنے والی پروازوں پر کوئی حملہ کیا جائے۔

    واضح رہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ طالبان محافظ ہوائی اڈے کی طرف آنے والے افراد پر تشدد کر رہے ہیں۔

  15. ٹرمپ اور ان کے نائب صدر کی بائیڈن انتظامیہ پر تنقید

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب صدر مائیک پینس بھی امریکہ کے افغانستان سے انخلا پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔

    امریکی چینل فاکس نیوز کے شان ہینیٹی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ٹرمپ نے افغانستان میں افواج بھیجنے کے فیصلے کو ’ملک کی تاریخ کا سب سے برا فیصلہ‘ قرار دیا۔

    ’ہم نے مشرقِ وسطی کو تباہ کر دیا ہے۔۔۔ ہمارے اربوں ڈالر لگے ہیں اور کروڑوں جانیں لیکن پھر بھی حالات پہلے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔‘

    دوسری جانب امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں لکھے گئےایک مضمون میں مائیک پینس نے بائیڈن انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔

    اپنے مضمون میں انھوں نے افغانستان سے انخلا کو ایران یرغمالیوں کے بحران کے بعد سے اب ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے توہین آمیز قرار دیا۔ سابق امریکی نائب صدر مائک پینس نے دعویٰ کیا صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑ دیا ہے جو پہلی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا۔

    مائیک پینس کا کہنا تھا کہ معاہدہ کے مطابق جب تک کہ طالبان امریکی افواج پر حملے بند نہ کرتے، دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے پر انکار نہ کرتے اور افغان رہنماؤں سے نئی حکومت بنانے پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہ ہوتے تب تک امریکی افواج نے بتدریج افغانستان سے نکلنے تھا۔

    مائیک پینس نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ امریکی افواج ابھی چند مزید ماہ افغانستان میں رہیں گی سابقہ انتظانیہ کے معاہدے کو توڑا جس نے طالبان کو مزید جارحیت اور حملوں پر اکسایا۔

  16. طالبان کا کابل پر قبضہ: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری

    صبح بخیر اور بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    آج صبح کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ وہ ’نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک چھوڑے۔ عام معافی دے دی گئی ہے۔ کسی سے دشمنی مزید نہیں پالی جائے گی۔‘
    • سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان میں جانا ’ملک کی تاریخ کا سب سے برا فیصلہ‘ تھا۔
    • ٹرمپ کے نائب صدر مائیک پینس نے الزام لگایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ توڑا اور اسے افغانستان کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
    • کابل ہوائی اڈے سے ملک سے باہر جانے والی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے اور جرمنی نے 125 افراد کو نکال لیا ہے۔

    گذشتہ ایک ہفتے میں کیا کیا ہوا؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

  17. ’افغان سوچتے ہیں کہ پاکستان طالبان کو چابی دے کر چلا رہا ہے لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے‘