کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شہر کی صورتحال
طالبان کا افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے اورکابل آمد کے بعد شہر کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
طالبان کا افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے اورکابل آمد کے بعد شہر کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
یونان کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی تازہ لہر کے خدشات کی وجہ سے ترکی کے ساتھ سرحد پر چالیس کلومیٹر کی باڑ لگا کر ایک نیا ریگولیٹری نظام نصب کیا گیا ہے۔
یونانی وزیر برائے شہری تحفظ میچالیس کریسوکوئیڈس نے یورس کے علاقے کے دورے کے دوران کہا کہ ان کا ملک افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ممکنہ اثرات کا انتظار نہیں کر سکتا۔
یونان 2015 میں پناہ گزینوں کے بحران میں سب سے آگے تھا۔ اس وقت ایک ملین سے زائد لوگ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور غربت سے بچنے کے لیے یونان کے راستے ترکی میں داخل ہوئے اور وہاں سے یورپی یونین کے دیگر ممالک میں چلے گئے۔
ان میں سے بہت سے لوگ یونان سے چلے گئے لیکن ان میں سے تقریباً 60 ہزار لوگ ملک میں ہی رہے۔
یونانی عہدیدار کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب ترکی نے یورپی ممالک سے افغان مہاجرین کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے یونانی وزیر اعظم کریاکوس مٹسوٹاکیس کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ افغانستان سے تارکین وطن میں تیزی سے اضافہ ’ہر ایک کے لیے ایک سنگین چیلنج‘ ہو سکتا ہے۔
اردوغان نے کہا کہ اگر افغانستان اور ایران میں ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر پر قابو پانا ناممکن ہو گا۔
طالبان کے افغانستان پر تیزی سے قبضے کے بعد بہت سے لوگ کسی بھی ممکنہ طریقے سے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یونان نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے کسی بھی افغان شہری کو ملک بدر کر سکتا ہے۔
ایک سینئر طالبان عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ملا عبدالغنی برادر طالبان رہنماؤں اور دیگر سیاست دانوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے تاکہ ایک جامع حکومت تشکیل دی جا سکے۔
ملا عبدالغنی برادر امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں اور ان کے پاس طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج کا عہدہ بھی ہے۔ آج صبح ہی وہ قندھار سے کابل پہنچے ہیں۔
برادر طالبان کی افواج کے کابل میں داخل ہونے کے تین دن بعد گذشتہ منگل کو قندھار پہنچے تھے۔
ملا عبدالغنی برادر طالبان کے چار بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انھیں 2010 میں پاکستانی حکومت نے گرفتار کیا تھا اور تقریباً تین سال بعد رہا کیا گیا تاکہ امن عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
طالبان کے پیروکار ملا برادر کو گروپ کے مفکرین میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی مدرسوں میں مذہب کی تعلیم حاصل کی اور ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔
طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔
افغانستان سے افغان اور دیگر شہریوں کو نکالنے کے لیے امریکی پروازیں سات گھنٹے کے وقفے کے بعد آج دوبارہ شروع ہوئیں۔
قطر میں کوئی امریکی اڈہ موجود نہیں تھا تاکہ دوسرے لوگوں کو ٹھہرایا جا سکے اور واشنگٹن ایسے ممالک کی تلاش میں تھا جہاں افغانستان سے لائے جانے والے لوگوں کو رکھا جا سکے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکی فوج نے کابل ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل کا استعمال کیا جہاں امریکیوں کے ایک گروپ کو کابل سے نکالنے سے پہلے رکھا گیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں آنے والی حکومت سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرے گا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے تحریکِ طالبان پاکستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان اس سے پہلے بھی افغان حکومت پر واضح کر چکا ہے اور آنے والی حکومت کو بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان کسی بھی کالعدم تنظیم کی حمایت نہ پہلے کرتا تھا اور نہ اب کرے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹی ٹی پی کی طرف سے افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا معاملہ آنے والی حکومت کے ساتھ بھی اٹھاتا رہے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ٹی ٹی پی کو کوئی جگہ فراہم نہ کی جائے۔
زاہد حفیظ چوہدری کو آسٹریلیا میں پاکستان کا ہائی کمشنر نامزد کیا گیا ہے، ان کی جگہ عاصم افتخار احمد کو دفترے خارجہ کا نیا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔
طالبان کے ایک عہدیدار نے سنیچر کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ طالبان اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے اور وہ طالبان اراکین کی جانب سے کی جانے والی انتقامی کارروائیوں اور مظالم کی رپورٹس کی تحقیقات کریں گے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار نے مزید کہا کہ طالبان نے آئندہ چند ہفتوں کے اندر افغانستان پر حکمرانی کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
طالبان عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ’طالبان کے قانونی، مذہبی اور خارجہ پالیسی کے ماہرین اگلے چند ہفتوں میں ایک نیا حکومتی فریم ورک پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
طالبان نے افغانستان پر قبضے کے بعد سے ایک اعتدال پسند تاثر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
تب سے کچھ افغانوں اور بین الاقوامی امدادی اور وکالت گروپوں کے مطابق احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی جا رہی ہے، اور ایسے لوگوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے جو حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں، طالبان پر تنقید کرتے تھے یا امریکیوں کے ساتھ کام کرتے تھے۔
طالبان عہدیدار نے کہا کہ ہم نے عام شہریوں کے خلاف مظالم اور جرائم کے کچھ واقعات کے متعلق سنا ہے ’اگر طالبان (ارکان) امن و امان کے لیے یہ مسائل پیدا کر رہے ہیں تو ان کی تحقیقات کی جائیں گی۔‘
انھوں نے مزید کہا ’ہم شہریوں میں گھبراہٹ، تناؤ اور اضطراب کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان جوابدہ نہیں ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔‘
طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کی ہے اور اس وقت انتہائی سخت گیر پالیسیوں پر عمل پیرا رہے تھے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد القاعدہ کو پناہ دینے پر طالبان کو 2001 میں امریکی قیادت والی افواج نے بے دخل کر دیا تھا۔
حکومت اور امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد نے طالبان کے مسلح بندوق برداروں کی جانب سے گھر گھر تلاشی کے دوران ان سے چھپنے کی خوفناک کہانیاں سنائیں ہیں۔
امریکی روزنامہ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کانگریس کے ارکان کے ایک گروپ کو بتایا کہ طالبان فورسز نے کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھاگنے کی کوشش کرنے والے امریکیوں کو مارا پیٹا ہے۔
پولیٹیکو کا کہنا ہے کہ لائیڈ آسٹن نے جمعہ کو ایوان نمائندگان کے متعدد ارکان کو دی گئی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی۔
دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ان کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی شہریوں کو ائیرپورٹ کے باہر طالبان کی چوکیوں کو گزرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
طالبان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
بائیڈن نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی شہریوں اور مقامی اتحادیوں کا کابل ایئرپورٹ سے انخلا اگست کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ انخلا کا آپریشن جاری رکھا جائے گا جب تک کہ ان سب کو نکال نہیں لیا جاتا۔
طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے چھٹے روز بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔۔۔ ویڈیو: فرقان الہی
تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اپنے رہنماؤں، افغان جہادیوں اور مجاہدین کو مبارکباد دی ہے۔
یہ بیان تحریک طالبان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود (ابو منصور عاصم) کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔
بیان کی ابتدا قرآن کی ایک آیت سے کی گئی ہے، قرآن کی ایک آیت کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد لکھا گیا ہے، ’یہ ایک حقیقت ہے کہ شریعت کے دائرے میں اسلامی حکمرانی کا نفاذ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ان چیلنجز میں کامیاب ہونا بھی اللہ کی رحمت سے ہے۔‘
اس کے بعد بیان میں طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ، سراج الدین حقانی، مولوی محمد یعقوب اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر کو مبارکباد دی گئی۔
تحریک طالبان پاکستان نے اس فتح کو ’پوری اسلامی امت کی فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل اس پر منحصر ہے۔
کابل میں طالبان کے ترجمان احمد اللہ وثیق نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر، گروپ کے نائب رہنما اور قطر میں گروپ کے سیاسی دفتر کے سربراہ، افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے ہیں۔
برادر ملا عبدالغنی طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے تین دن بعد گذشتہ منگل کو جنوبی قندھار پہنچے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق مسٹر بردار نے ایک فوجی طیارے میں دوحہ سے قندھار کے لیے اڑان بھری۔
اگرچہ افغانستان کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان قیادت میں سے کس کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ یہ بھی اعلان نہیں کیا گیا کہ طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کب کابل واپس آئیں گے۔
نیٹو کے وزرائے خارجہ نے افغانستان کی موجودہ مشکل صورتحال کے بارے میں ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی مستقبل کی حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے افغانستان کی تمام امداد معطل کی جا رہی ہے۔
نیٹو کے وزرا نے افغانستان کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسی جامع حکومت کے لیے کام کریں جس میں خواتین اور اقلیتیں شامل ہوں اور یہ کہ افغانستان کو دوبارہ کبھی بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں اور افغان باشندوں کو کابل چھوڑنے کی اجازت دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے ’ہم افغانستان میں اقتدار میں رہنے والوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ملک سے نکلنے والے افراد کے محفوظ اور منظم انخلا کا احترام کریں اور انھیں سہولت فراہم کریں۔‘
نیٹو کا کہنا ہے کہ ’ہمارا فوری کام اپنے شہریوں اور ان لوگوں کو جو خطرے میں ہیں اور خاص طور پر ان لوگوں کو نکالنا ہے جنھوں نے ہماری مدد کی ہے۔‘
’یہ وہ وقت ہے جب ہزاروں لوگ کابل ائیرپورٹ پر جمع ہو چکے ہیں اور وہاں سے نکلنے کے منتظر ہیں۔‘
طالبان کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے جنگجو کابل ائیرپورٹ پر لوگوں کو ملک چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔
طالبان عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو روئٹرز کو بتایا ’ہم صرف ایسے لوگوں کو واپس بھیج رہے ہیں جن کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں اور وہ صرف کابل ائیرپورٹ کے گیٹ پر افراتفری پھیلا رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ کابل کے ہوائی اڈے کے اطراف میں ہتھیاروں سے لیس طالبان جنگجوؤں کے گشت کرنے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ علاقے میں گولیوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
صدر بائیڈن سے سوال پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کابل میں مزید فوجی بھیجے گا تاکہ ایئرپورٹ نہ پہنچ پانے والے امریکیوں کو وہاں سے نکالا جا سکے؟
اس پر صدر نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ’ہمارا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اب تک امریکی پاسپورٹ رکھنے والے ہر شخص کو ایئرپورٹ تک جانے دیا گیا ہے۔
بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نے طالبان کو بتا دیا ہے کہ اگر اُنھوں نے انخلا کے آپریشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو امریکہ کی جانب سے ’فوری اور بھرپور ردِعمل‘ آئے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صدر بائیڈن نے کہا: ’گذشتہ ہفتہ نہایت دل شکن رہا ہے۔‘
’ہم نے بدحواس لوگوں کو انتہائی بے تابی کے عالم میں دیکھا ہے۔ یہ سب قابلِ فہم ہے۔ وہ خوف زدہ ہیں، وہ اداس ہیں۔ وہ غیر یقینی کے شکار ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ پانچ ہزار امریکی سپاہی اب بھی کابل ایئرپورٹ پر ہیں اور آئندہ کچھ گھنٹوں میں مزید ایک ہزار سپاہیوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا افغانستان کے طالبان کے قبضے میں جانے سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
اس پر اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے امریکہ کے اتحادیوں کی جانب سے ’ہماری ساکھ پر کوئی سوال نہیں‘ دیکھا۔ ’میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ بلکہ میں یہ کہوں گا کہ معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔‘
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سات عالمی طاقتوں جی سیون کا اجلاس اگلے ہفتے ہوگا جس میں افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
صدر جو بائیڈن تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ اُنھوں نے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کا امکان انتہائی کم ہے،
تاہم طالبان نے امریکی افواج کے مکمل انخلا سے قبل ہی پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔
ایسی صورتحال میں مختلف مغربی ممالک بشمول امریکہ تیزی سے اپنے شہریوں اور اُن کے افغان ساتھیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکیوں اور افغانوں کو بڑے پیمانے پر افغانستان سے نکالا جا رہا ہے تاہم یہ ایک پرخطر آپریشن ہے اور وہ حتمی نتیجے کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتے۔
اُنھوں نے بتایا کہ 14 اگست سے لے کر اب تک 13 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کا طالبان سے قریبی رابطہ ہے تاکہ امریکہ سے منسلک افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے دیا جائے۔
افغانستان کی ایک علاقہ ایسا بھی ہے جو اب تک طالبان کی دسترس سے دور ہے۔
یہ وادی پنجشیر کا علاقہ ہے جو شمال مشرقی افغانستان میں واقع ہے۔ پنجشیر میں مزاحمت کی تاریخ طویل رہی ہے۔
اس کے مشہور ملٹری کمانڈر احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ کے دوران اور پھر طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا دفاع کیا یہاں تک کہ 2001 میں اُن کی ہلاکت نہیں ہو گئی۔
کم از کم دو سابق افغان عہدیداران بشمول احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود پنجشیر میں موجود ہیں۔ مگر تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ پنجشیر اب طالبان کے بھرپور حملے میں محفوظ نہیں رہ پائے گا۔
افغان اُمور کے ماہر سوربون یونیورسٹی پیرس کے جائلز ڈورونسورو نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس وقت مزاحمت صرف لفظی ہے کیونکہ طالبان نے پنجشیر میں داخل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘
سوئیڈن میں مقیم محقق عبدالسید نے اے ایف پی کو بتایا: ’طالبان نے پنجشیر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ مسعود کے بیٹے دو ماہ سے زیادہ عرصے تک مزاحمت کر سکیں گے۔ اس وقت اُن کے پاس کوئی مضبوط حمایت موجود نہیں ہے۔‘