لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. داعش خراسان کے سربراہ کی ہلاکت کی اطلاعات پر طالبان کی خاموشی کیوں؟

  2. ’جو کچھ بھی شریعت کے مطابق ہو گا اس کی اجازت ہو گی‘: ذبیح اللہ مجاہد

    ملک میں گلوکاروں اور فلمسازوں کا مستقبل کیا ہو گا کے سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شرعی قانون لے کر آئیں، اگر اسلامی شریعت میں رہتے ہوئے فلمیں یا ڈرامے بناتے ہیں اور گانے بناتے ہیں اس کی اجازت ہو گی۔

    مگر اگر وہ اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ہو گا تو وہ اپنے پروفیشن کو بدل لیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور اسلامی احکامات کا احترام کریں جس کے لیے ہم نے بہت قربانی دی ہے۔بہتر ہے کہ ہم شرعی زندگی گزاریں۔‘

  3. افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہمارے معاہدے کی نفی ہے: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہمارے معاہدے کے خلاف ہے۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کہ کیا طالبان انخلا کی تاریخ میں توسیع کے لیے تیار ہیں کا جواب دیتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقررہ تاریخ تک اپنا انخلا مکمل کر لے تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ہم اس پر بعد میں اپنا موقف دیں گے۔‘

  4. ’کابل ایئرپورٹ کی اندرونی سکیورٹی امریکہ کے پاس ہے‘: طالبان

    کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے حادثے کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہم نے کوئی فائرنگ نہیں کی۔ ہوائی اڈے کے اندر کی سکیورٹی امریکہ کے پاس ہے۔‘

    صحافیوں نے پریس کانفرنس کے دوران کابل ایئر پورٹ پر فلمنگ کی اجازت نہ دی جانے کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے محفوظ فاصلہ رکھ کر دور رہ کر کام کریں۔‘

    خواتین کے منسٹری کے دفاتر میں نہ جا سکنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’ان کی سکیورٹی کی خاطر ہم خواتین کو وہاں نہیں جانے دے رہے۔ وہاں ہمارے جنگجو موجود ہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہاں پر جو بیت المال کا سامان ہے وہ چوری نہ ہو اس لیے اس کو بند کیا ہوا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملک کے آئین کے حوالے سے ابھی دیکھ رہے ہیں۔

  5. ہم انسانی ہمدردی کے تحت امداد کا خیرمقدم کریں گے: طالبان

    طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت دی جانے والی امداد کا خیرمقدم کریں گے۔

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کہ افغانستان کو کتنی امداد کی ضرورت ہے کے جواب میں کہا ہے کہ ’ہمیں ممالک کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی ضرورت ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن ہم اس مدد کے حق میں نہیں ہیں جو ہماری آزادی یا شناخت کی قیمت پر ہو۔‘

  6. بریکنگ, ’ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے لیکن اس کی فوج ملک میں نہیں چاہتے:‘ طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ترکی سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے لیکن ہم اس کی فوج اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔‘

    کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہیے ہیں اور کسی بھی ملک کے متعلق منفی تاثر نہیں رکھتے ہیں۔‘

    سی آئی اے ڈائریکٹر کی عبدالغنی سے ملاقات کے سوال پر طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس ملاقات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تاہمذبیح اللہ کا کہنا تھا تمام سفارتخانوں سے ہمارے نمائندے بات کر رہے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ اس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔

    ایک خاتون صحافی جن کا تعلق بلخ سے تھا انھوں نے پوچھا کہ آپ بین الاقوامی صحافیوں کے تحفظ کی بات تو کر رہے ہیں لیکن مقامی صحافیوں کا کیا ہو گا جس صوبے سے میں آئی ہوں میں وہاں واپس نہیں جا سکتی۔

    اس کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ صحافی بالکل ہمارے نشانے پر نہیں ہیں انھوں نے کوئی جنگ نہیں کی وہ عام شہری ہیں۔

    ہم صرف ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف جنگ کی ہے۔ آپ بلخ جا کر کام کر سکتی ہیں شاید کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا ہو کوئی ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے لیکن میں پھر بھی اس کو دیکھوں۔

  7. بریکنگ, پنجشیر کا مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’پنجشیر کا مسئلہ‘ ایک معمولی مسئلہ ہے اور اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔‘

  8. بریکنگ, افغان شہریوں کو اب کابل ایئرپورٹ جانے کی اجازت نہیں ہو گی، طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر افراتفری کی صورتحال کے باعث طالبان اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

    کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر موجود ہجوم کو واپس اپنے گھروں کو جانا چاہیے ان کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ لوگوں کو پروازوں پر آنے کی دعوت دیتا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے امریکیوں کو کہا ہے کہ افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ترغیب نہ دیں، ہمیں ان کے ہنر کی ضرورت ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ہسپتال، سکول، یونیورسٹیاں، میڈیا کے ادارے اور مقامی حکومتیں کام کر رہی ہیں۔

  9. ایک مترجم 'جہنم' میں اور دوسرا اس سے بہت دور جانے میں کامیاب

  10. ’ہم چاہتے ہیں حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہو:‘ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہو۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ اس وقت افغانستان میں امور مملکت اور ادارے احسن طور پر چل رہے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک و قوم کی خدمت کرنے والے ادارے مکمل طور پر بحال ہیں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں واضح طور پر بہتری آئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دس روز میں کسی ماں یا بہن نے اپنے بیٹے یا بھائی سے محروم نہیں ہوئی ہے۔‘

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق تمام ادارے بینک، ہسپتال، سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نشریات چل رہی ہیں۔

    ان کے مطابق تمام بینکوں نے آزادی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

  11. گذشتہ 24 گھنٹوں میں 20 ہزار سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالا گیا: امریکہ

    Afghanistan

    امریکی حکام کے مطابق پیر کی صبح سے افغانستان سے امریکی فوجی طیاروں کے ذریعے 12700 افراد کو ملک سے باہر لے جایا گیا ہے جبکہ اتحادی ممالک کی طرف سےچلائی جانے والی پروازوں سے اس دوران 8900 افراد کو بحفاظت ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق ابھی بھی کابل کے ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد بیرون ملک جانے کے منتظر ہیں تاکہ وہ امریکی افواج کے ملک سے 31 اگست تک مکمل انخلا سے پہلے باہر منتقل ہو سکیں۔

    خیال رہے کہ طالبان نے امریکہ کو طے شدہ وقت تک افواج کو نہ نکالنے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

  12. افغانستان میں ادویات کی قلت پیدا ہو رہی ہے: عالمی ادارہ صحت

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی ادارہ صحت کے ایک علاقائی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صرف ایک ہفتے کی ادویات کا ذخیرہ بچا ہے۔

    عہدیدار نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ پر پابندیوں کے باعث پانچ سو ٹن ادویات جن میں سرجیکل سامان اور شامل دیگر اہم ادویات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ادویات دبئی کے ایئرپورٹ پر موجود ہیں اور عالمی ادارہ صحت کا مطالبہ ہے کہ انخلا کے عمل میں شامل خالی پروازیں افغانستان آتے ہوئے ان ادویات کو وہاں سے لیتی آئیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی کہا ہےکہ افغانستان میں 95 فیصد صحت کی سہولیات فعال ہیں تاہم چند خواتین عملہ ابھی تک کام پر واپس نہیں آئی ہیں اور چند خواتین طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد سے گھروں سے نکلنے پر خوفزدہ ہیں۔

  13. برطانیہ نے 13 اگست سے ابتک تقریباً 8500 افراد کو افغانستان سے نکالا ہے

    برطانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق برطانیہ نے 13 اگست سے ابتک افغانستان سے تقریباً 8500 افراد کو نکالا ہے۔

    وزارت دفاع نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا انخلا برطانوی فوجی آپریشن کے تحت کیا گیا ہے۔

    برطانیہ کی جانب سے افغانستان سے نکالے جانے والے افراد میں پانچ ہزار سے زائد وہ شہری شامل ہیں جنھوں نے افغان ری لوکیشن اور امداد کی سکیم کے تحت برطانوی حکومت کو درخواست دی تھی۔

    برطانوی وزارت داخلہ نے ٹویٹ میں مزید بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نو فوجی پروازیں کابل سے اڑان بھر چکی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. بریکنگ, سی آئی اے ڈائریکٹر نے طالبان رہنما عبدالغنی برادر سے ملاقات کی ہے: واشنگٹن پوسٹ

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق سوموار کو سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز نے کابل میں طالبان رہنما عبدالغنی برادر سے خفیہ ملاقات کی ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی حکام جو اس ملاقات کے متعلق جانتے ہیں کے مطابق اس ملاقات میں ممکنہ طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی 31 اگست کی تاریخ کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سی آئی اے نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

    یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جی سیون ممالک کا اجلاس ہو رہا جس میں انخلا کی تاریخ میں توسیع کے بارے میں اتحادیوں کو سنا جائے گا۔

    برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک نے امریکی صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ 31 اگست کے انخلا کی تاریِخ میں توسیع پر غور کریں۔

    امریکی اتحادیوں نے متنبہ کیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ تک طالبان سے دوڑ کر ملک چھوڑنے والے افغان باشندوں کا انخلا مکمل نہیں کر سکے گے جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ اگر 31 اگست تک انخلا میں توسیع کی گئی تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘

  15. طالبان کا غنی حکومت کے عہدیداروں کے لیے معافی کا اعلان, خلیل الرحمٰن حقانی کہتے ہیں افغان شہری واپس آ کر افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کریں

    haqqani

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان رہنما خلیل الرحمٰن حقانی نے افغان شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں اور جو پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں وہ واپس آ کر اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔

    پاکستان کے سرکاری چینلز پی ٹی وی، اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی اگلی حکومت تمام سیاسی جماعتوں اور قبائل گروہوں اور نسلوں کی نمائندگی کرے گی۔

    حقانی کے مطابق اسی سلسلے میں مختلف سیاسی اور قبائلی رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں جو کہ طالبان سے بیت کا اعلان کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق انھوں نے سابق صدر حامد کرزئی، چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، گل آغا شیرازی، مولانا شیر محمد اور عمر زخیلوال سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

    انھوں نے سابق صدر اشرف غنی، ان کے مشیروں اور فوجی سربراہان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب کو معاف کرتے ہیں اور اب سب کو اپنے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    حقانی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے افغان عوام پر جنگ مسلط کی تھی جس کا مقصد بھائی، بھائی میں فساد پیدا کرنا تھا۔

  16. افغانستان سے انخلا کا فیصلہ جس نے امریکہ اور برطانیہ کے ’خاص رشتے‘ کی قلعی کھول دی

  17. کابل ایئرپورٹ کے باہر انتظار کی گھڑیاں, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کابل

    abbey gate

    آج صبح جب ہم کابل ایئر پورٹ کے شمالی گیٹ کی جانب بڑھے، جس کی سکیورٹی افغان اہلکاروں کے ہاتھوں میں ہے، تو ہمیں گاڑیوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی۔

    جوں جوں ہم ایئر پورٹ کے قریب پہنچے، وہاں سے آنے والی فائرنگ کی آوازیں بلند ہوتی گئیں۔

    جب ہم نے وہاں موجود لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو افغان اہلکاروں نے ہمیں سختی سے کہا کہ ہم وہاں سے چلے جائیں۔ وہ کافی غصے میں تھے۔

    ان کے ہاتھ میں کوئی کوڑا نما چیز تھی۔ ہم بھی دو بار ان کے نشانے پر آئے لیکن ہمارے پریس کارڈ دیکھنے کے بعد انھوں نے ہمیں جانے دیا۔

    آج کابل سے چار پروازیں اڑیں لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ پاکستان کی قومی ایئرلائن کی پرواز کیوں منسوخ ہوئی۔

    ملک سے نکلنے کے خواہش مند افراد میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو غیر ملکی میڈیا اہلکاروں کے ساتھ یا مترجم کے طور پر کام کرتے تھے۔

    ان سب کے چہروں پر غم کے سائے تھے، جیسے کوئی انھیں اپنے گھر سے نکلنے پر مجبور کر رہا ہے اور یہاں ان کے لیے کچھ نہیں بچا۔

    جب ہم ہوٹل واپس پہنچے تو وہاں لوگوں کا ایک ہجوم خصوصی امیگریشن ویزوں کا انتظار کر رہا تھا اور ہوٹل کی سکیورٹی اب قطاری محافظوں کے ہاتھ میں تھی۔

  18. ایئر بی این بی کا 20 ہزار افغان پناہ گزینوں کو جگہ دینے کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کرائے پر گھر حاصل کرنے کے آن لائن پلیٹ فارم ایئر بی این بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے 20 ہزار افغآن پناہ گزینوں کو مفت رہنے کی جگہ فراہم کریں گے۔

    کمپنی کے سربراہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ اقدام ’دورِ حاظر کے سب سے ْرے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے‘ لیا گیا۔

    چیف ایگزیکیٹیو برائن چیسکی نے کہا کہ انھیں لگا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس بارے میں کچھ کیا جائے۔

    ’میں امید کرتا ہوں کہ یہ قمد ہمارے دیگر کاروباری رہنماوں کو متاثر کرے گا اور وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔‘

    طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد ہزاروں لوگ افغانستان سے نکلنے کے کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملک کے اندر 35 لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر ہوچکے ہیں۔

  19. طالبان نے کابل میں اہم مقامات کی سکیورٹی سنبھال لی, خدائے نور ناصر، بی بی سی

    طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کابل شہر میں سکیورٹی کا نظام پوری طرح سنبھال لیا ہے اور اُن کے جنگجو شہر کے اہم مقامات پر تعینات کر دئیے گئے ہیں۔

    طالبان کے ملٹی میڈیا کمیشن کے سربراہ احمداللہ متقی کی جانب سے ٹوئٹر پر شئیر کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کابل کی فتح کے بعد اسلامی امارت نے سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اہم مقامات پر خصوصی یونٹس تعینات کیے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    متقی کے مطابق یہ خصوصی یونسٹس ’کاروباری مرکز (سرائے شہزادہ) سمیت دیگر علاقوں میں امن و امان کے قیام کے علاوہ کلیئرنگ آپریشنز بھی کررہے ہیں۔‘

  20. افغانستان سے نکلنے والے برطانوی شہری کی کہانی: دفتر خارجہ نے مجھے کہا ’ٹکے رہو‘ لیکن میں نے ان کی نہیں مانی

    لائڈ کومر نے 35 برس برطانوی فوج میں نوکری کی اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد کابل میں نجی کمپنیوں کے ساتھ 2013 سے منسلک رہے ہیں۔

    جب انھیں معلوم ہوا کہ طالبان ان کے علاقے کی طرف آ رہے ہیں تو انھوں نے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا لیکن جواب میں انھیں „ٹکے رہنے‘ کا کہا گیا۔

    تاہم لائڈ نے ان کی تجویز پر توجہ نہ دی اور ایئرپورٹ کے لیے نکل کر اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔

    انھوں نے بکتر بند گاڑی میں سفر کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ انھوں معلو تھا کہ اس طرح وہ زیادہ بڑا ہدف بن جائیں گے۔

    بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مقامی افغان سٹائل کا لباس پہن کر ایک سفید ٹویوٹا کرولا گاڑی کے پیچھے سفر کیا۔

    وہ اسی حلیے میں طالبان کے قائم کیے گئے چیک پوسٹس سے بھی گزرے تھے لیکن انھیں کسی نے نہیں روکا۔

    ’میرے ساتھ کے لوگوں نے مجھے ہجوم میں سے نکال کر بیرن ہوٹل پہنچا دیا جو کہ ہمارے لیے محفوظ مقام تھا۔‘

    جب وہ نوٹنگ ہیم میں اپنے گھر واپس پہنچے تو انھیں دفترِ خارجہ کی جانب سے ایک اور فون آیا جس میں پوچھا گیا: ’کیا آپ ابھی تک کابل میں ہیں؟‘