لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی
طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔
لائیو کوریج
ذبیع اللہ مجاہد: طالبان کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کل رات کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکوں میں طالبان کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا ہے۔
بی بی سی پشتو سروس سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’ہمارا (طالبان کا) کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یہ واقعہ اُس علاقے میں ہوا جو امریکی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے پہلے خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ دی تھی کہ ان دو بم دھماکوں میں کم از کم 28 طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔
بورس جانسن: برطانیہ بھی انخلا کا عمل جاری رکھے گا
،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے باوجود ملک سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری رہے گا۔
جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ’آخری وقت تک‘ لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کرتی رہے گی۔
تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس بہت کم وقت، شاید کچھ گھنٹے ہی بچے ہیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق دھماکوں میں کوئی بھی برطانوی اہلکار متاثر نہیں ہوا۔
البتہ طالبان کی جانب سے ایئرپورٹ کا راستہ بند کیے جانے کی وجہ سے لوگ اب وہاں پہنچنے سے قاصر ہیں۔
تاہم بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار ڈیمیئن گرامیٹیکاس کے مطابق جو لوگ ایئرپور کے احاطے اندر موجود تھے انھیں نکالنے کا عمل جاری رہے گا۔
کابل سے نکلنے والوں کے لیے ایک نئی زندگی کی امید
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنایس آئی وی ویزے پر امریکہ آنے والے عبدل امان صدیقی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتے ہوئے
اگرچہ انخلا کا عمل جاری ہے تاہم جمعرات کے حملوں کے بعد کابل سے نکلنے والے لوگ سوگوار ہیں۔
تاہم جو لوگ کابل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں وہ ایک نئی زندگی کی تلاش میں ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشناس سب میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جنوبی کوریا پہنچنے والے پناہ گزین بچوں کو ٹیڈی بیئر فراہم کیے گئے جن سے ان کے چہرے کِھل اٹھے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنالبانیہ کے شہر تیرانا کے ایئرپورٹ پر ایک افغان خاتون سکیورٹی چیک سے گزرتے ہوئے
طالبان کو ایئرپورٹ کے احاطے کی سکیورٹی سونپنے پر امریکہ پر تنقید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل ہوائے اڈے پر حملے کے بعد طالبان کو ایئرپورٹ کے احاطے کی سکیورٹی سونپنے پر امریکہ کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی صدر جو بایئڈن نے جمعرات کی شب رپورٹرز کے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ’یہ بھروسے کی بات نہیں ہے، یہ باہمی فائدے کا معاملہ ہے۔۔۔ تاہم اس بات کا ابھی تک کوئی ثبوت میرے سامنے نہیں رکھا گیا کہ طالبان اور دولت اسلامیہ خراسان کے درمیان کوئی گٹھ جوڑ ہے۔‘
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی بریفنگ میں وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ امریکہ طالبان کے مطالبات کو کیوں اہمیت دے رہی ہے، ُاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب کوئی عالمی حمایت یافتہ حکومت بھی نہیں بنی۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمیں یہ بات پسند آئے یا نہ آئے لیکن طالبان کنٹرول میں ہیں۔ زیادہ تر ملک اور کابل تو خاص طور پر ان کے قبضے میں ہے اور ملک چھوڑنے کے خواہشمند تمام لوگوں کو نکالنے کے لیے طالبان کے ساتھ کام کرنا بہت اہم ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ امریکہ انخلا کے بعد کے صورتحال پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
افغانستان کی صورتحال نے کیسے چین کے حوصلے بلند کیے اور دیگر ایشیائی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا
’غیر ملکی سفارت کار، شہریوں کو نکالنے کا کام 30 اگست تک ختم ہوگا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابل ایئرپورٹ سے عام شہریوں کے انخلا کے کام میں تیزی آ گئی ہے اور پروازیں باقاعدگی سے اڑ رہی ہیں۔
ادھر نیٹو کے مطابق افغانستان میں موجود بیشتر غیر ملکی سفارت کاروں اور دیگر عملے سمیت عیڑ ملکی شہریوں کو نکالنے کا کام 30 اگست تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
امریکہ نے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کابل سے نکالا ہے جو کہ تاریخ میں اپنی نویت کا سب ائیرلفٹ آپریشن ہے۔
جمعرات کو امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ گذشتہ 12 گھنٹوں میں سات ہزار افراد کو نکالا گیا لیکن یہ واضح نہیں ان میں سے کتنی پروازیں حملوں سے قبل نکلی تھیں۔
دوسری جانب برطانیہ کے مطابق وہ اب تک ک"ل 13 ہزار افراد کو کابل سے نکال چکا ہے۔
دنیا کے تقریباً 100 ممالک اس انخلا مشن میں حصہ لے رہے ہیں اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں تقریباً 1500 امریکہ شہری، 400 برطانوی اور 200 جرمن شہری جب بھی موجود ہیں۔
بریکنگ, کابل حملہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد 90 ہوگئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 90 ہو گئی ہے۔
افغان وزارت صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک 150 افراد کے حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
طالبان: ایئرپورٹ حملوں میں امریکی فوجیوں سے زیادہ نقصان اٹھایا
ایک طالبان رہنما نے دعوی کیا ہے کہ ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ان کے کم از کم 28 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
روئٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ہمیں امریکیوں سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔‘
جمعرات کو ہونے والے حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور یہ 2011 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لیے سب سے زیادہ خونریز دن ہے۔
طالبان رہنما کے مطابق اس حملے کے باوجود امریکہ کو اپنے انخلا کی تاریخ میں توسیع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
کابل: خوفناک حملے کے بعد پہلی صبح
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل میں صبح ہو چکی ہے اور کابل میں بیدار ہونے والے لوگوں ایک مختلف کیفیت میں ہیں۔
امریکہ کی انخلا کے اعلان کے بعد سے ہی شہر میں خوف اور خدشات تو تھے ہی۔ پھر جب طالبان نے دارالحکومت اور پورے ملک پر قبضہ کر لیا تو یہ خوف اور بڑھ گیا۔
گذشتہ ہفتے سے ہم نے ہزاروں افراد کو کابل ایئرپورٹ کی طرف آتے دیکھا۔ یہ سب 31 اگست سے پہلے پہلے ملک سے نکلنے کے لیے بیتاب تھے۔
لیکن جمعرات کو ہونے والے دھماکوں نے کئی خاندانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
سوشل میڈیا دلخراش تصاویر، دکھی پیغاموں اور جذباتی پوسٹس سے بھرا ہوا ہے۔
بریکنگ, امریکی کمانڈر مزید حملوں کے لیے تیار، بائیڈن کا دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف انتقامی کارروائی کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ افغانستان سے انخلا کا عمل جاری رہے گا تاہم کابل اور واشنگٹن میں امریکی حکام مزید حملوں کے خطرے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکنزی کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے راکٹ حملوں یا کار بم کے ذریعے مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم تیار رہنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘
جمعرات کو صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ حملوں کے باوجود انخلا کا عمل جاری رہے گا اور انھوں نے ایئرپورٹ حملے کا بدلہ لینے نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف کارروائی کے لیے پینٹاگون کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دولت اسلامیہ خراسان نے دعوی کیا تھا کہ اس کے ایک خودکش بمبار نے امریکے فوج کے مترجم اور حامیوں کو نشانہ بنایا تھا۔
’تین روز سے سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو گیا‘
بریکنگ, امریکہ کو نقصان پہنچانے والوں کو ہم معاف نہیں کریں گے: جو بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے دشمنوں کو معاف نہیں کریں گے۔
جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل کے لیے
ایک ’مشکل دن‘ قرار دیا۔
اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا یہ ’دہشت گرد‘ حملہ اسی قسم
کا تھا جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں اور جس کی ہمیں فکر تھی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’کابل میں بدلتی صورتحال
سے مجھے مسلسل باخبر رکھا جارہا ہے۔‘
انھوں نے ان فوجیوں کی تعریف کی جو ان کے بقول ’دوسروں
کی زندگیاں بچانے کے خطرناک مشن میں مصروف‘ تھے۔
جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی ’ان تمام افغان خاندانوں
کے لیے دکھی ہیں جنھوں نے اس ظالمانہ حملے میں بچوں سمیت اپنوں کو کھو دیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم غصہ ہونے کے ساتھ ساتھ دل شکستہ
بھی ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا ’ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ ہم یہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں صرف ثابت قدم رہنا ہے۔‘
’ہم اپنا مشن مکمل کریں گے اور فوجیوں کے انخلا کے بعد ہم ان ذرائع کی وضاحت کریں گے جن کے ذریعے ہم کسی بھی امریکی کو تلاش کر سکتے ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔‘
’ہم انہیں ڈھونڈیں گے اور ہم انہیں باہر نکالیں گے۔‘
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’یہ حملہ کرنے والے اور ان کے علاوہ جو کوئی بھی امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے وہ یہ جان لے: ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم نہیں بھولیں گے۔ ہم آپ کا شکار کریں گے اور آپ کو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
ان کے خیال میں یہ حملہ آور شاید ان جیلوں سے آئے ہوں گے جو طالبان نے افغانستان پر اپنی فتح کے دوران کھول دے تھیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا ’ہم دہشت گردوں سے گھبرائیں گے نہیں۔ ہم مشن کو نہیں روکیں گے۔ ہم انخلا جاری رکھیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔
اسلام آباد کے ہوٹلوں میں تین ہفتوں کے لیے نئی بکنگ بند
افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا اور ان کی پاکستان آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے تمام ہوٹلوں کو جمعے سے کم از کم تین ہفتے کے لیے نئی بکنگ نہ کرنے اور کمرے افغانستان سے آنے والے مسافروں کے لیے دستیاب رکھنے کے لیے کہا ہے
،تصویر کا ذریعہICT
کابل میں رات کو ہونے والے دھماکے امریکیوں نے کیے، عوام پریشان نہ ہوں: ذبیح اللہ مجاہد
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کابل کے عوام کو بتایا ہے کہ رات کو شہریوں نے جن دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں وہ امریکی فوج نے ایئرپورٹ کے اندر کیے تھے جن کا مقصد اپنا سازوسامان تباہ کرنا تھا۔
طالبان کے ترجمان نے کابل کے عوام سے کہا ہے کہ وہ فکرمند نہ ہوں
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ
پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
گروپ نے کہا کہ ایک خودکش حملہ آور نے جس کی تنظیم نے شناخت بھی ظاہر کی ہے، افغانوں اور
امریکی افواج کے درمیان دھماکہ خیز مواد سے بھرے جیکٹ سے دھماکہ کیا۔
امریکی محکمہ دفاع نے بھی کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ
ان حملوں کے پیچھے دولت اسلامیہ کے علاقائی شدت پسند تھے۔
انخلا کا عمل جاری رہے گا: پینٹاگون
امریکی سینٹرل کمانڈ
کے جنرل کینتھ میک کینزی کا کہنا ہے کہ ’ہم اس حملے کے باوجود انخلا کے مشن پر عملدرآمد جاری
رکھیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا
کہ تقریباً 1،000 ایک ہزار امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔
انھوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ اب حملے جاری رہیں
گے۔
جنرل میک کینزی کا کہنا ہے کہ امریکہ طالبان کے
ساتھ تعاون کر رہا ہے اور ان حملوں سے نمٹنے کے لیے ہم ممکن تیاررہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ گروپ
پر عائد کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ذمہ داروں کے پیچھے
جائے گا۔
’اس بچی نے میرے بازوؤں میں دم توڑ دیا‘
امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے ایک افغان مترجم نے کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس مترجم نے جسے سی بی ایس نیوز میں ’کارل‘ کے نام سے پکارا گیا بتایا کہ کس طرح اس نے ایک بچی کو سنبھالنے کی کوشش کی جو پھر اس کے ہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔
انھوں نے کہا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو زخمی ہوتے دیکھا اور بہت سے لوگ زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔
’ان میں میں نے ایک بچی بھی دیکھی جو زخمی تھی۔ میں اسے اٹھا کر ہسپتال کی طرف چل پڑا۔‘
’میں اسے ہسپتال لے کر پہنچا لیکن وہ میرے ہاتھوں میں مر گئی۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس کی عمر غالباً پانچ برس تھی۔
’یہ سب جو ہو رہا ہے دل توڑ دینے والا ہے۔ پورا ملک ٹوٹ رہا ہے۔‘
’میں نے کوشش کی۔ میں جو کر سکتا تھا میں نے کیا۔‘
بریکنگ, کابل دھماکوں میں 12 امریکی فوجیوں سمیت کم سے کم 60 ہلاک
کابل میں محکمہ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کابل ایئر پورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 60 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ خودکش حملے تھے جن میں مرنے والوں میں 11 امریکی میرینز اور امریکی بحریہ کے طبی عملے کا ایک رکن بھی شامل ہے جبکہ 15 فوجی ان دھماکوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ افغانستان میں ایک دن میں امریکی فوج کے بڑے جانی نقصانوں میں سے ایک ہے جبکہ فروری 2020 کے بعد افغانستان میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت کا پہلا واقعہ بھی ہے
کیا اب امریکہ افغانستان سے نکلنے میں جلدی کرے گا؟, جوناتھن بیل، بی بی سی نامہ نگار دفاعی امور
امریکہ کی توجہ اس وقت افغانستان میں موجود اہلکاروں کو نکالنے پر ہو گی۔ 31 اگست کی ڈیڈ لائن تو پہلے ہی موجود ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس حملے کے بعد وہاں سے فوجیوں کو نکالنے کا عمل تیز ہو جائے گا۔ انخلا میں ایک رسک بھی ہے کہ پھر وہاں زمین پر فوجیوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ ان کے لیے اس طرح کے ایک اور حملے کا امکان بھی فکر کی بات ہو گی۔
امریکی صدر کے پاس بہت سے راستے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس ڈرون، جیٹ اور بی 52 بمبار ہیں جن سے وہ ہوائی اڈے کی فضائی حدود کو محفوظ کر سکتے ہیں تاکہ وہاں موجود فوجیوں کو نکالا جا سکے۔
اب سوال یہ پیدا پوتا کہ انخلا کا عمل جو پہلے ہی تیزی سے مکمل کیا جا رہا تھا اس حملے کی وجہ سے مزید تیز ہو جائے گا۔
ناروے نے دھماکے کے بعد اپنے شہریوں کو کابل سے نکالنے کا عمل روک دیا
ناروے کے وزیر خارجہ کے مطابق ناروے اب اپنے باقی شہریوں کو کابل سے نکالنے کام عمل جاری نہیں رکھ سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور لوگوں کو وہاں لانا ممکن نہیں ہے۔
کابل میں دھماکے اسی روز ہوئے جب کئی ممالک نے سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے وہاں سے لوگوں کے انخلا کا عمل روک دیا تھا۔