لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. سابق برطانوی کمانڈر: کابل ایئرپورٹ کو صرف دولتِ اسلامیہ سے ہی خطرہ نہیں

    Kemp

    افغانستان میں برطانوی افواج کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر دہشت گردی کا خطرہ اس وقت سے منڈلا رہا ہے جب سے انخلا کا عمل شروع ہوا۔

    کرنل رچرڈ کیمپ نے بی بی سی کو بتایا: یہ خطرہ کسی سے بھی ہو سکتا ہے، چاہے وہ طالبان، القائدہ یا دولت اسلامیہ کیوں نہ ہوں۔‘

    ’اگر لوگ صرف دولتِ اسلامیہ کے بات کر رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ خطرہ صرف ان کی جانب سے ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں یہ خطرہ اس وقت سے ہے جب سے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع ہوا اور مجھے شک ہے کہ ہماری افواج کواس خطرے کا پوری طرح علم نہیں تھا۔ اب کئی دنوں سے وہ ایسے اقدامات لے رہے ہیں جن سے ایسا کچھ ہونے سے روکا جا سکے۔‘

    ان کے مطابق یہ بات طے ہے کہ ’ایئرپورٹ کو کسی نہ کسی قسم کا خطرہ ضرور لاحق ہے، چاہے وہ ایئرپورٹ میں موجود افواج پر کسی قسم کا دہشت گرد حملہ ہو یا ایئرپورٹ کے باہر موجود اہلکاروں یا وہاں جمع ہونے والے لوگوں پر۔‘

  2. کابل کی صورتحال: دکانیں کھلی ہیں لیکن گاہک دور دور تک نہیں, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کابل

    KABUL CITY CENTER

    یہ ہے کابل سٹی سینٹر، افغانستان کے دارالحکومت کا سب سے بڑا شاپنگ مال۔

    آج مال اور اس میں واقع دکانیں تو کھلی ہیں اور دکاندار بھی بیٹھے ہیں لیکن گاہک دور دور تک نہیں نظر آ رہے۔

    ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ بینک بند ہیں، اس لیے ہمارا کاروبار بھی بالکل ٹھپ ہو چکا ہے۔

    KABUL CITY CENTER
    atm

    شہر کے بیشتر بینک بند ہیں اور صرف چیدہ چیدہ مقامات پر اے ٹی ایم کھلے ہیں جن کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

    اس مشین کے باہر کھڑے افراد نے بتایا کہ کھانے کی چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔ آٹے کی جو بوری پہلے 1600 کی تھی وہ اب دو ہزار کی ہوگئی ہے اور جو چیز دو ہزار کی تھی وہ اب 2700 میں مل رہی ہے۔ اسی طرح دیگر اجناس اور تیل کی قیمتیں بھی بہت بڑھ چکی ہیں۔

  3. طالبان، احمد مسعود کے مذاکرات: بات چیت سے مسئلہ حل کرنا طالبان کے حق میں بہتر ہو گا

    احمد مسعود

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وادی پنجشیر میں جنم لینے والی مزاحمت کے رہنما، احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اور طالبان رہنما امیر خان متقی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے۔

    مذاکرات کے بعد بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد مسعود کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ یہ بحران بات چیت کے ذریعے حل ہو سکے۔

    ’لیکن ہم نے اُنھیں یہ بھی صاف صاف بتا دیا ہے کہ ایسا کرنا طالبان کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اگر صرف ایک ہی فریق کی حکومت بنتی ہے تو، خدا نہ کرے، افغانستان تنہائی کا شکار ہوگا اور بین الاقوامی برادری کے لیے اور افغان عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، جس سے افغانستان کا نظام اور اقتصاد دونوں خراب ہوں گے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کیا وہ مزاحمت جاری رکھ پائیں گے، احمد مسعود نے کہا: ’اتنا کہہ سکتا ہوں کہ پنجشیر میں جنگجو اور تجربہ دونوں ہیں، ہم اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔‘’

    یاد رہے کہ احمد مسعود نے سابق نائب صدر امراللہ صالح کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور وادی پنجشیر سے ایک مزاحمتی فرنٹ شروع کیا ہے۔

    احمد مسعود کے مطابق ہزاروں لوگ ان کی مزاحمتی فوج میں شامل ہو رہے ہیں تاہم انھوں نے مغرب سے امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کی مدد کرنا ان ممالک کا ’اخلاقی فرض‘ ہے۔

    map

    دوسری جانب احمد شاہ مسعود کے بھائی نے کہا ہے کہ پچھلے 20 سالوں میں افغان لوگوں کے عقائد اور رویوں میں ایک تبدیلی آئی ہے اور طالبان اس بار اتنی آسانی سے اسے روند نہیں پائیں گے۔

    احمد ولی محسود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اب خواتین ہی مزاحمت کا مرکز ہیں کیونکہ ان کا طرزِ زندگی طالبان سے بہت مختلف ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی نوجوان نسل بھی اس نئی مزاحمت کا حصہ ہیں اور وہ ملک کی آبادی کا 70 فیصد ہیں۔

  4. معید یوسف: بین الاقوامی کمیونٹی کو طالبان سے رابطے رکھنے پڑیں گے

    Moeed Yusuf

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ ایک انسانی المیے اور پناہ گزین کے بحران سے بچنے کے لیے بین الاقوامی کمیونٹی کو طالبان سے بات چیت کرنی ہوگی۔

    بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کی ’سرحد پر کوئی افراتفری نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ ہزاروں افغان سپین بولدک کے راستے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔

    ’ابھی تک ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر کوئی تشدد یا خون ریزی نہیں ہوئی ہے اس لیے پناہ گزینوں کا ریلا۔۔۔ (پاکستان کی طرف) آیا ہی نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری ’ماضی کی غلطیوں سے سیکھے‘ تو افغانستان میں انسانی بحران ناگزیر نہیں ہے۔

    زمینی حقائق یہ ہیں کہ طالبان کنٹرول میں ہیں۔ ہمیں ان کو اپنے واعدے بھولنے نہیں دینا چاہیے لیکن عام افغان شہریوں کی خاطر ہمیں ان کے رابطے رکھنے چاہییں ورنہ ہم پھر اسی جگہ آ کھڑے ہوں گے اور پچھلی بار ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا۔‘

  5. عالمی ادارۂ خوراک پاکستان سے افغانستان کے لیے امدادی پروازیں چلانے کے لیے تیار

    عالمی ادارۂ خوراک کے سربراہ ڈیوڈ بیزلی نے بتایا ہے کہ ان کا ادارہ اب اسلام آباد سے کابل اور دیگر افغان شہروں کے لیے انسانی امداد کی غرض سے پروازیں چلانے کے لیے تیار ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے طیارے مرمت ہو چکے ہیں ان سے عالمی ادارۂ خوراک کو افغان عوام کی ضروریات پوری کرنے کے آپریشن کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. کابل ایئرپورٹ کو کس سے خطرہ ہے؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    IS-K

    کابل ایئرپورٹ کو درپیش دہشت گرد خطرے کے حوالے سے کوئی تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں تاہم یہ بات طے ہے کہ خطرہ اتنا سنگین ہے کہ اس کے پیش نظر مغربی ممالک کی جانب سے انخلا کا کام سست پڑ گیا ہے۔

    گذشتہ کچھ دنوں میں ایسی اطلاعات بار بار سامنے آ رہی ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ (یا داعش) خراسان کے جنگجو کابل پہنچ چکے ہیں۔

    تو یہ گروہ ہے کیا؟

    دولتِ اسلامیہ افغانستان اور پاکستان میں داعش خراسان کے نام سے سرگرم ہے۔ خراسان موجودہ پاکستان اور افغانستان کے کچھ حصوں کا تاریخی نام ہے۔

    اس تنظیم کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی اور اطلاعات کے مطابق اس میں پاکستانی اور افغان طالبان کے سابق اراکین شامل ہیں۔

    یہ گروہ افغان طالبان سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور خیال ہے کہ ان کی طالبان سے جانی دشمنی ہے کیونکہ یہ گروہ طالبان جنگجوؤں کو واجب القتل تصور کرتے ہیں۔

    دولت اسلامیہ نے فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے ہونے والے معاہدے پر بھی تنقید کرتے ہوئے لڑائی جاری رکطنے کا عزم کیا تھا۔

    حال ہی میں انھوں نے طالبان کے ملک پر قبضے کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ انھیں خفیہ معاہدے کے تحت ملک کی چابیاں پکڑا کر چلا گیا۔

    اس گروہ کو 2019 کے اوآخر میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اگلے سال کے اوال میں ہی اس کے سینیئر رہنماؤں کو گرفار کر لیا گیا تھا۔

    تاہم اس کے بعد سے اس گروہ کی صلاحیتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور اس نے امن مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    ابتدائی طور پر دولتِ اسلامیہ خراسان کا دائرہ کار افغانستان اور پاکستان دونوں تک تھا تاہم مئی 2019 میں پاکستان کو ایک علیحدہ صوبہ قرار دے دیا گیا۔

    دولتِ اسلامیہ خراسان نے ستمبر 2018 میں ایران میں ہنے والے ایک حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔

  7. افغان پناہ گزینوں کو یقین نہیں طالبان کی پالیسی کیا ہوگی, شمائلہ جعفری، بی بی سی، چمن

    chaman

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی افغانستان سے متصل سرحد چمن سے بڑی تعداد میں پناہ گزین پاکستان آ رہے ہیں۔

    چمن سرحد پر خواتین، بچوں اور مریضوں پر مشتمل پناہ گزین کے ٹولے جوق در جوق چمن کے راستے پاکستان آ رہے ہیں اور مختلف شہروں کی جانب سفر کر رہے ہیں کیونکہ سرحد پر ان کے لیے فی الحال کوئی کیمپ یا انتظامات نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو سرحدی علاقہ ہے اس کا طویل ترین حصہ بلوچستان میں ہے۔

    اس سرحد پر بلوچستان کے چھ اضلاع واقع ہیں، جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں تاہم یہاں سے پیدل اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ چمن ہے۔

    چمن سے متصل افغان علاقے سپین بولدک پر جولائی کے وسط میں طالبان کے قبضے کے بعد دو مرتبہ چمن سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوئی تھی لیکن 12 اگست کے بعد سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔

    کابل، قندھار اور غزنی سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ویسے تو ان کے علاقوں میں ابھی تک صورتحال پرامن ہے اور کوئی لڑائی نہیں ہو رہی لیکن لوگوں میں بہت زیادہ خوف ہے اور ابھی اس بارے میں یقین نہیں کہ طالبان کی پالیسی کیا ہو گی۔

    کچھ لوگ افغانستان کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے بھی پاکستان آ رہے ہیں کیونکہ ان کے علاوں میں کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔

  8. افغان صحافیوں پر تشدد کے واقعات، صحافی تنظیموں کا تشویش کا اظہار

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ہے جس پر بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ایک تازہ واقعے میں نجی افغان چینل طلوع نیوز کے دو صحافیوں کو اپنے کام کے دورانمارا پیٹا گیا اور ان کے کیمرے اور دیگر آلات توڑ دیے گئے۔

    طلوع کے رپورٹر زیار یاد نے کے مطابق طالبان نے انھیں اور ان کے کیمرہ مین کو کابل کے شهرنو علاقے میں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے موبائل فون اور کیمرے ضبط کر لیے گئے۔

    زیار یاد کا کہنا تھا انھوں نے طالبان کو اپنے پریس کارڈ بھی دکھائے لیکن انھوں نے پروا نہیں کی۔

    طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب احمداللہ واسق نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایک بیان میں کہا کہ اگست 17 اور 20 اگست کو طالبان نے دو صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے جبکہ گذشتہ 20 دنوں میں کم از کم چار دیگر صحافیوں کے گھروں کی تلاشی لی جا چکی ہے۔

  9. افغانستان پر طالبان کا کنٹرول، سعودی عرب اب تک خاموش کیوں ہے؟

  10. طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ

    کابل کے شمال میں, ہندو کش کی چوٹیوں سے گھری وادی پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ طالبان اور مزاحمتی فورس نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے درمیان لڑائی اور بات چیت دونوں جاری ہے۔ پنجشیر وادی میں صورتحال کیا ہے اور اس کو مزاحمت کا گڑھ کیوں کہا جاتا ہے؟

    جانیے ہمارے ساتھی خدائے نور ناصر سے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  11. افغانستان سے پیدل سرحد پار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ, یوگیتا لمائے، بی بی سی نیوز

    چمن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ملک سے نکلنے کے خواہش مند افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی سرحد پر موجود ہے۔ اب تک افغانستان کی جانب سے کسی بھی شخص کو سرحد پار کرنے سے روکے جانے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

    یہاں سامان کے نام پر محض چند بیگ تھامے لوگ اپنے پورے خاندانوں کے ساتھ سرحد پار کرنے آئے ہیں۔

    یہ سب طالبان سے بھاگ رہے ہیں اور سپین بولدک میں موجود لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے

    طالبان کی جانب سے رواں ہفتے کام کرنے والی خواتین کو گھر رہنے کے احکامات جاری ہونے کے بعد بی بی سی کی کئی ایسی خواتین سے بات ہوئی ہے جنھیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کام پر آنے سےمنع کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے کئی اب ملک چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں۔

  12. کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم: ’یہ لوگ ملک سے نکلنا چاہتے ہیں، چاہے ان کی جان ہی چلی جائے‘

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غیر ملکی شہریوں کو تو حملے کے خطرے کے حوالے سے انتباہ جاری ہوا ہے لیکن اس سے ہوائے اڈے کے باہر موجود ہجوم کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    ایک جانب کابل ایئرپورٹ میں تعینات مغربی فوجی وہاں جمع مجمعے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف طالبان جنگجو ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی کی نگرانی کر رہے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اب بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان شہریوں کو ایئرپورٹ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ایئرپورٹ پر کام کرنے والے ایک افغان سِول ایوی ایشن اہلکار کے مطابق ہدایات کے باوجود لوگ اب بھی ایئرپورٹ کی جانب آنے کو کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے روئٹرز کو بتایا: ’کسی بھی خودکش بمبار کے لیے لوگوں سے بھری راہداریوں پر حملہ کرنا بہت آسان ہے اور لوگوں کو بار بار خبردار کیا جا چکا ہے۔‘

    لیکن اہلکار کے مطابق لوگ وہاں سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ’وہ اس ملک سے نکلنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی راہ میں جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہر کوئی اپنی جان پر کھیل رہا ہے۔‘

    ایک نیٹو کے سفارتکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اگرچہ طالبان نے ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری لی ہے تاہم دولت اسلامیہ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ایک اور اہلکار نے بتایا کہ بدھ کو انخلا کی رفتار میں سستی آئی تاہم جمعرات کو اس میں اضافہ متوقع ہے۔

  13. ’ذبیح اللہ کا اجازت نامہ بھی شاید آپ کو طالب کے تھپڑ سے نہ بچا سکے‘

  14. تجزیہ: ایئرپورٹ پر خودکش حملے کا خطرہ, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز

    kabul airport

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانوی دفتر خارجہ نے پہلے ہی اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سفر کرنے سے منع کرتے ہویے کہا تھا کہ وہاں ’دہشت گرد حملوں کا خطرہ‘ ہے۔

    تاہم ان کی تازہ ہدایات بہت مخصوص ہیں: کابل ایئرپورٹ کی طرف مت جائیں۔ اگر آپ علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام کی طرف جائیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔

    حکام نے تاحال اس خطرے کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں لیکن یہ الرٹ صدر بائیڈن کے خطاب کے 24 گھنٹوں بعد جاری ہوا ہے۔

    امریکی صدر نے اپنی حالیہ تقریر میں نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے خطرے کا ذکر کیا تھا۔

    ایئرپورٹ کے گرد جمع ہونے والے دیوہیکل مجمعے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنے والے کمانڈرز بھی حملے کے خطرے سے واقف ہیں۔

    تاہم ان ہدایات کا برطانوی انخلا آپریشن پر کیا اثر پڑے گا، یہ تاحال واضح نہیں ہے۔

  15. بریکنگ, ایئرپورٹ پر حملے کا خطرہ، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا اپنے شہریوں کے لیے انتباہ

    airport

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کئی مغربی حکومتوں نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کابل کے ہوائے اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہ وہاں جانے سے گریز کریں۔

    امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ سے چلے جائیں اور سکیورٹی خطرات کے باعث وہاں جانے سے گریز کریں۔

    تینوں ممالک کی جانب سے بدھ اور جمعرات کو جاری ہونے والے الرٹ میں کہا گیا ہے۔

    ہزاروں لوگ اب بھی ہوائی اڈے کے اندر اور باہر انتظار کر رہے ہیں۔

    کابل پر 10 روز قبل طالبان نے قبضہ حاصل کر لیا تھا جس کے بعد وہاں سے تقریباً 82 ہزار سے زائد افراد کو ہوائی اڈے کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔

    مغربی ممالک 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے مطابق طالبان نے ڈیڈ لائن میں توسیع کی مخالفت کی ہے لیکن غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کو 31 اگست کے بعد بھی ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    بدھ کے روز ایک انتباہ میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایبی گیٹ، ایسٹ گیٹ اور نارتھ گیٹ پر انتظار کرنے والوں سے کہا کہ وہ ’فوری طور پر نکل جائیں۔‘

    اس سے قبل برطانیہ نے اسی طرح کی ہدایات جاری کی تھیں اور لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ’محفوظ مقام پر چلے جائیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔‘

  16. طالبان 31 اگست کے بعد بھی لوگوں کو افغانستان سے جانے کی اجازت دیں: امریکہ

    امریکہ کا کہنا ہے کہ طلبان 31 اگست کے بعد بھی خطرے سے دوچار لوگوں کو ملک سے باہر جانے کی جانے کی اجازت دیں گے۔

    یہ بات امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے بریفنگ کے دوران بتائی۔

    بلنکن کا کہنا تھا کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ وہاں سے جانا چاہتے ہیں ان کی مدد کرنے کی امریکی کوششیں اس تاریخ کو ختم نہیں ہوں گی۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ہزار امریکی شہری یا شاید اس بھی زیادہ اب بھی افغانستان میں ہو سکتے ہیں اور انتظامیہ ان کا سراغ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

    ایک رپورٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ امریکہ کو وہ کرنا چاہیے جو طالبان چاہتے ہیں، بلنکن نے کہا کہ اس وقت ان کی توجہ امریکی شہریوں اور دوسروں کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’اس مقصد کے لیے ہمیں ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں کیونکہ زیادہ تر ملک ان کے کنٹرول میں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک عملی اقدام کے طور پر ، یہ ہمارے مفادات کے حق میں ہے۔‘

  17. ترکی نے افغانستان سے اپنی فوج نکالنا شروع کر دی

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے افغانستان سے اپنی فوج نکالنا شروع کر دی ہے۔

    نیٹو فورس کے ایک حصے کے طور پر 500 سے زائد فوجی ملک میں تعینات تھے۔

    اس سے قبل یہ قیاس کیا جا رہا تپا کہ 31 اگست کے بعد ترک فوجیوں کی موجودگی برقرار رہ سکتی ہے تاکہ کابل کے ہوائی اڈے کو چلانے میں مدد کی جا سکے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز ترک صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ افغانستان کے لیے استحکام ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ترکی اس مقصد کے حصول کے لیے افغانستان میں تمام فریقوں کے ساتھ قریبی بات چیت جاری رکھے گا۔

  18. بریکنگ, خواتین کی تعلیم جاری ہے، لوگ طالبان سے خوش ہیں: ملا عبدالسلام ضعیف

    ملا عبدالسلام ضعیف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا ہے کہ اُن کا اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں۔

    بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ ’اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں۔‘

    ملا عبدالسلام ضعیف 20 سال قبل افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں پاکستان کے لیے سفیر تھے۔

    پاکستان دنیا کے اُن تین ممالک میں شامل تھا جنھوں نے امارتِ اسلامی افغانستان کو باقاعدہ تسلیم کر رکھا تھا۔

    بعد میں امریکی حملے میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو ملا عبدالسلام ضعیف کو بھی امریکہ نے گرفتار کر لیا تھا مگر بعد میں وہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے میں بھی شامل رہے۔

    ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا: ’خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جا سکتی ہیں۔‘ اُنھوں نے کہا کہ کچھ افغان کابل ایئرپورٹ پر ہونے والی افراتفری کو بغیر دستاویزات ملک سے باہر جانے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے طالبان کے بارے میں کوریج کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

    ’یہ طالبان کے خلاف بڑی سازش ہے، یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں اور وہ عوام اور تعلیم کے خلاف ہیں۔‘

    ’جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ طالبان کسی سے کوئی بدلہ نہیں لے رہے، یہاں تک کہ کابل ایئرپورٹ جانے والوں کو بھی طالبان نہیں روک رہے، اگر وہ قانونی انداز میں جائیں۔‘

  19. ’ہم روزانہ کی بنیاد پر طالبان کمانڈروں سے بات کر رہے ہیں‘

    پریس سیکریٹری

    ،تصویر کا ذریعہPentagon

    پریس سیکریٹری جان کربی سے ان اطلاعات کے حوالے سے پوچھا گیا کہ طالبان لوگوں کو کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوج کے ساتھ 30 سے زیادہ قونصلر حکام تعینات ہیں جو اہل لوگوں کو پرواز تک پہنچنے میں مدد کر رہے ہیں۔

    جان کربی نے کہا: ’اس کے باہر طالبان نے ناکے لگا رکھے ہیں اور ہم روزانہ کی بنیاد پر طالبان کمانڈروں سے بات کر رہے ہیں کہ ہمیں کون لوگ اندر چاہییں، وہ کیسے لگتے ہیں اور اُن کے پاس کیا دستاویزات ہوں گی۔‘

    ’یہ بات چیت روزانہ ہوتی ہے۔ ہم طالبان سے کھلے طور پر بات کر رہے ہیں کہ ہمیں کون لوگ چاہییں۔‘

  20. شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کی افغانستان کے معاملے پر گفتگو

      • مصنف, کیری ایلن
      • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔‘

    شی جن پنگ نے ’زور دیا کہ چین افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ ’چین افغانستان کے داخلی اُمور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔‘

    واضح رہے کہ افغانستان میں چین کا سفارت خانہ کھلا ہوا ہے مگر اس نے وہاں پل پل بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں موجود چینیوں سے اپنا اندراج کروانے کے لیے کہہ رکھا ہے۔

    آج چین کی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ’چین کی طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘

    حالیہ چند دن میں چینی میڈیا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ بس اپنی مرضی سے افغانستان سے نہیں نکل سکتا۔

    میڈیا اداروں نے وزارتِ خارجہ کے حکام کے تبصروں کو نمائندہ جگہ دی ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے ’جلد بازی‘ میں کیے گئے انخلا کے باعث ’افراتفری‘ پھیلی ہے۔