لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کی افغانستان کے معاملے پر گفتگو

      • مصنف, کیری ایلن
      • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔‘

    شی جن پنگ نے ’زور دیا کہ چین افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ ’چین افغانستان کے داخلی اُمور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔‘

    واضح رہے کہ افغانستان میں چین کا سفارت خانہ کھلا ہوا ہے مگر اس نے وہاں پل پل بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں موجود چینیوں سے اپنا اندراج کروانے کے لیے کہہ رکھا ہے۔

    آج چین کی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ’چین کی طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘

    حالیہ چند دن میں چینی میڈیا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ بس اپنی مرضی سے افغانستان سے نہیں نکل سکتا۔

    میڈیا اداروں نے وزارتِ خارجہ کے حکام کے تبصروں کو نمائندہ جگہ دی ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے ’جلد بازی‘ میں کیے گئے انخلا کے باعث ’افراتفری‘ پھیلی ہے۔

  2. ’جرمنی طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے‘

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ اُن کا ملک گذشتہ 20 سالوں میں افغانستان میں حاصل ہونے والے فوائد کے ’تحفظ‘ کی خاطر طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے تاہم طالبان کو کوئی غیر مشروط پیشکش نہیں کی جائے گی۔

    بدھ کو جرمن پارلیمان سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ جرمنی کے ساتھ کام کرنے والے فوجی اور امدادی اہلکاروں کا افغانستان سے انخلا تب تک جاری رہے گا جب تک کہ ضرورت ہوگی۔

    اُنھوں نے اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں امداد فراہم کرنے والے اداروں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔

    اینگلا مرکل نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بارے میں کہا کہ ’یہ نئی حقیقت تلخ حقیقت ہے مگر ہمیں اس سے نمٹنا ہوگا۔‘

    واضح رہے کہ فرانس پہلے ہی افغانستان سے انخلا کے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ امریکہ نے 31 اگست کو انخلا کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد اس میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  3. ’یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کو افغانستان سے نکلنا ہو اور ہم کوشش نہ کریں‘

    پینٹاگون

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پینٹاگون کی اسی پریس بریفنگ میں امریکی وزارتِ دفاع کے پریس سیکریٹری جان کربی سے پوچھا گیا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے منصوبے کا انجام کیا ہوگا۔

    اُنھوں نے کہا: ’ہم آخر تک عوام کو وہاں سے نکالتے رہیں اگر ہمیں کرنا پڑا اور ہمیں ضرورت پڑی۔‘

    ’مگر ہم نے گذشتہ چند دنوں میں فوجیوں اور فوجی صلاحیتوں کو افغانستان سے نکالنے کو ترجیح دینی شروع کی ہے۔‘

    ’مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر آپ کو افغانستان سے نکلنا ہے اور ہم اس کے لیے کوشش نہیں کریں گے۔‘

    امریکہ کے افغانستان سے انخلا کی تاخیر منگل 31 اگست تک ہے۔

  4. ’اب بھی 10 ہزار لوگ کابل ایئرپورٹ پر اپنے انخلا کے منتظر ہیں‘

    جنرل ٹیلر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی دفاعی اور فوجی حکام اب پینٹاگون میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

    امریکی فوج کے میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کے آپریشن کی توجہ اب بھی اس بات پر ہے کہ ’محفوظ اور مؤثر انداز میں جتنے زیادہ لوگوں کو نکالنا ممکن ہو، نکالا جائے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے 42 طیارے جن میں 37 سی 17 اور پانچ سی 130 شامل ہیں، نے گذشتہ روز افغانستان سے 11 ہزار 200 امریکیوں اور 48 اتحادی ممالک کے 7800 افغان اہلکاروں کو افغانستان سے نکالا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ سے ہر 39 منٹ میں ایک طیارہ ٹیک آف کر رہا ہے۔

    میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا کہ اب بھی کابل ایئرپورٹ پر 10 ہزار سے زیادہ افراد اپنے انخلاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے امکان ظاہر کیا کہ مزید لوگ بھی ایئرپورٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

  5. ’وہ شہر جس سے مجھے محبت تھی اب وہاں کچھ محفوظ نہیں تھا‘

  6. طالبان کا پوست کی کاشتکاری پر ریکارڈ کیا ہے؟

  7. طالبان نے ڈالر اور نوادرات ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی لگا دی

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے کہا ہے کہ اُنھوں نے افغان شہریوں پر ڈالر اور مقامی نوادرات باہر منتقل کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

    افغان اسلامک پریس سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان ترجمان نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان پر عالمی سطح پر مالیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    افغانستان کے مرکزی بینک کے پاس کوئی نو ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ہیں جن کی اکثریت امریکہ میں ہے۔

    مگر امریکہ نے یہ اثاثے منجمد کر رکھے ہیں چنانچہ انھیں استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔

    اس کے علاوہ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی افغانستان کے لیے اپنے قرض اور اپنی امداد بھی معطل کر دی ہے۔

  8. تاجکستان کے صدر اور شاہ محمود قریشی کی ملاقات، افغانستان کے مسئلے پر بات چیت

      • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
    تاجکستان

    ،تصویر کا ذریعہPRESIDENT.TJ

    تاجکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تمام گروہوں کی نمائندہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

    تاجک صدر امام علی رحمان نے بدھ کو دوشنبے میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔

    شاہ محمود قریشی اس کے بعد ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کا دورہ بھی کریں گے۔

    تاجکستان کی صدارتی ویب سائٹ کے مطابق ملاقات میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے متوقع دورہ تاجکستان کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔

    دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور تعلقات سمیت علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل اُمور بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ افعانستان دوبارہ مسلط کی گئی خونی جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    صدارتی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ تاجکستان نے ہمیشہ پڑوسی ملک کے طور پر افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کی حمایت کی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں ریاستی ڈھانچے کا تعین ریفرینڈم کے ذریعے اور ملک کے تمام شہریوں کے مؤقف کے مطابق کرنا چاہیے۔

    اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ تاجکستان زبردستی کے ذریعے قائم کی گئی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا جس میں افغان لوگوں اور بالخصوص اقلیتوں کا خیال نہ رکھا گیا ہو۔

  9. دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کیا ہے اور یہ گروپ طالبان کے خلاف کیوں ہے؟

      • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
    دولت اسلامیہ

    گذشتہ رات امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی سپاہیوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے۔

    اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) سے امریکی فوجیوں کو لاحق ممکنہ خطرے سے خبردار کیا تھا۔

    خراسان ایک تاریخی خطے کا نام ہے جو موجودہ دور کے افغانستان اور پاکستان پر مشتمل تھا۔

    دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان میں پہلے افغانستان اور پاکستان دونوں شامل تھے تاہم سنہ مئی 2019 میں دولتِ اسلامیہ نے صوبہ پاکستان کے نام سے ایک نئی شاخ کا اعلان کیا تھا۔

    دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کا قیام جنوری 2015 میں عمل میں آیا تھا اور اس میں مبینہ طور پر پاکستانی اور افغان طالبان کے سابقہ ارکان شامل ہیں۔

    یہ افغان طالبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت گیر ہے اور دونوں گروہ ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔

    اس گروہ کے نزدیک طالبان ’مرتد‘ ہیں اور اس لیے دولتِ اسلامیہ کے مطابق ان کا قتل جائز ہے۔

    افغان طالبان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دولتِ اسلامیہ کی جانب سے امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری 2020 کو ہونے والے امن معاہدے کو بھی مسترد کیا گیا تھا اور انھوں نے لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

    اسی طرح اس گروپ نے طالبان کے افغانستان پر حالیہ قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے خفیہ معاہدے کے تحت افغانستان طالبان کے حوالے کر دیا۔

    سنہ 2019 کے اواخر میں عسکری جھڑپوں میں پہنچنے والے نقصانات اور اپریل 2020 میں سینیئر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سے دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کو کافی دھچکا پہنچا ہے۔

    تاہم اس تنظیم نے دوبارہ سر اٹھاتے ہوئے طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوران ہونے والے حملوں اور دھماکوں کی ذمہ دار قبول کی تھی۔

    اپنے قیام سے اب تک اس گروہ نے افغانستان بھر میں کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔

    یہ گروپ سب سے زیادہ فعال مشرقی صوبے ننگرہار اور اس کے دارالخلافہ کابل میں ہے، مگر اس نے کُنڑ، جوزجان، پکتیا، قندوز اور ہرات میں بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز، افغان سیاست دانوں اور وزارتوں، طالبان، مذہبی اقلیتوں بشمول شیعہ مسلمانوں اور سکھوں، امریکی اور نیٹو افواج اور بین الاقوامی اداروں بشمول امدادی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ستمبر 2018 میں اس نے ایران میں ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

  10. امریکہ نے مزید 19 ہزار افراد کو افغانستان سے نکال لیا

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ نے منگل کو مزید 19 ہزار لوگوں کو افغانستان سے نکالا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ایک ترجمان نے ٹویٹ میں آگاہ کیا کہ 14 اگست سے اب تک امریکہ نے امریکی فوجی اور اتحادی ممالک کی پروازوں کے ذریعے 82 ہزار 300 افراد کو وہاں سے نکالا ہے۔

    جولائی کے اواخر سے اب تک افغانستان سے نکال لیے گئے افراد کی کُل تعداد 87 ہزار 900 ہو چکی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. افغانستان سے نکل کر نئی منزل کی تلاش

    کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں سے اب تک ہزاروں افغان شہریوں کو نکالا جا چکا ہے لیکن اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کے منتظر ہیں۔ کابل سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے افراد کو دنیا کے مختلف ممالک میں لے جایا گیا ہے۔

    واشنگٹن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنواشنگٹن پہنچنے والا افغان خاندان
    کویت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکویت پہنچنے والے ان افغان بچوں میں امریکی خاتون فوجی پانی تقسیم کرتی دیکھی جا سکتی ہے
    افغان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسپین کے شہر میڈرڈ کے قریب واقع فوجی اڈے پر اترنے والی اس پرواز پر بچے بھی سوار تھے
    کابل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکابل کے ہوائی اڈے پر اب بھی ہزاروں افراد ملک چھوڑنے کے منتظر ہیں
  12. کابل میں عارضی بندش کے بعد بینک دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے

    15 اگست کو افغان دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے لگ بھگ دس روز بعد بینک دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اب بھی اپنی اکاؤنٹس تک رسائی اور رقم نکلوانے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    بینک آف کابل نے صارفین سے ڈیل کرنا شروع کر دیا ہے مگر صارفین کو زیادہ رقم نکلوانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    دیگر نجی بینک بھی کھلے ہیں مگر صارفین کو ان کے اکاؤنٹس سے یہ کہتے ہوئے ادائیگیاں نہیں کی جا رہی کہ مرکزی بینک سے کیش کی ترسیل کا نظام متاثر ہے۔

    حالیہ دنوں میں کابل میں بینکوں کی بندش کے باعث یہاں کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ویسٹرن یونین نے افغانستان بھر میں اپنے آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کی آمد کے خلاف مظاہرہ

    ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کی ملک میں ممکنہ آمد کے خلاف ہونے والی ایک مظاہرہ افراتفری کا شکار ہو گیا جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈھائی سو کے لگ بھگ مظاہرین اس آرمی کیمپ کے باہر جمع ہوئے جہاں افغانستان سے آنے والے تقریباً 800 پناہ گزینوں کو ٹھہرایا جائے گا۔

    مظاہرین ابتدا میں پرامن تھے مگر صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب پولیس نے انھیں منتشر ہونے کی وارننگ دی جسے مظاہرین نے ماننے سے انکار کر دیا۔

    مظاہرین نے قوم پرست گانے گائے، تشدد پر آمادہ کرنے والے بینرز لہرائے اور ٹائروں کو نذرِ آتش کیا۔

    اس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

    یاد رہے کہ ہالینڈ میں 800 پناہ گزینوں کو رکھنے کے انتظامات کیے ہیں اور پناہ گزینوں کی پہلی کھیپ منگل کی شام نیدرلینڈ پہنچ چکی ہے۔

    یہ آرمی کیمپ ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم کی گئی چار پناہ گاہوں میں سے ایک ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. طالبان کے حوالے سے ایران کا رویہ نرم کیوں ہو رہا ہے؟

  15. گھر بار چھوڑنے والے افغانوں میں سے نصف سے زیادہ بچے ہیں: اقوامِ متحدہ

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس جن افغان شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے ان میں سے 60 فیصد کے قریب بچے ہیں۔

    یو این اوچا کے دفتر سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق مئی سے اب تک چار لاکھ سے زیادہ افغانوں کی بطور پناہ گزین رجسٹریشن کی گئی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں برس اپنا گھر بار چھوڑنے والے افغانوں کی کل تعداد ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

  16. فرانس کی جانب سے انخلا کا عمل جمعرات سے روکنے کا امکان

    فرانس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع سے انکار کے بعد وہ جمعرات سے افغانستان کے دارالحکومت کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل روک سکتا ہے۔

    یورپی امور کے فرانسیسی وزیر کلیمنٹ بیون نے بدھ کو خبردار کیا اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان کا ملک انخلا کی کارروائی جمعرات سے روک سکتا ہے۔

  17. کیا افغان باشندوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت ہے؟, یوگیتا لمائے

    افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے عمل میں شامل افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان کے اس اعلان کے بعد کہ اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی، کچھ افغان شہریوں کو بدھ کی صبح ہوائی اڈے کے راستے پر واقع شناختی چوکیوں پر روکا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں روکنے والے کون تھے۔

    بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ افغان شہری جن کی ملک سے روانگی بدھ کو طے تھی انھوں نے ملک سے باہر جانے کا ارادہ فی الحال ترک کر دیا ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستے پر ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    افغانستان سے انخلا کا عمل جاری ہے تاہم طالبان کے اعلان کے بعد یہ خدشات ہیں کہ کابل کے ہوائی اڈے سے اڑنے والی کئی پروازوں پر لوگ نہیں ہوں گے۔

  18. عالمی برادری طالبان کی حکومت پر کڑی نظر رکھے

    اقوامِ متحدہ کے لیے افغانستان کے سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کو کسی قسم کی رعایات دینے سے قبل ان کے طرزِ حکومت پر کڑی نظر رکھے۔

    غلام اسحاق زئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان پر اعتماد کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ ’اس سارے معاملے میں اصل بات حکومت کو تسلیم کرنے کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ’تشدد میں کمی یا القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے حوالے سے اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کیا اس لیے میرے خیال میں طالبان کو پہلے ہی ضرورت سے زیادہ رعایتیں دی جا چکی ہیں۔

    ’میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ ہم ذرا پیچھے ہوں اور کہیں کہ ہم اصل بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا طالبان نے حقیقت میں کام کیا ہے اور پھر ہم اس چیز کو قدم بہ قدم آگے بڑھائیں گے۔‘

  19. ملالہ یوسفزئی: طالبان کی ایک گولی کا زخم جو نو برس بعد بھی بھر نہیں سکا

  20. کابل ایئرپورٹ کی نئی سیٹلائٹ تصاویر

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہSATELLITE IMAGE ©2021 MAXAR TECHNOLOGIES

    کابل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہSATELLITE IMAGE ©2021 MAXAR TECHNOLOGIES

    ،تصویر کا کیپشنہوائی اڈے کا مشرقی حصہ
    کابل ایئرپورٹکابل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہSATELLITE IMAGE ©2021 MAXAR TECHNOLOGIES

    ،تصویر کا کیپشنلوگ حفاظتی چوکی کے سامنے قطار میں کھڑے ہیں
    کابل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہSATELLITE IMAGE ©2021 MAXAR TECHNOLOGIES

    ،تصویر کا کیپشنہوائی اڈے کے مرکزی دروازے کے قریب لوگوں کا ہجوم اور ٹریفک دیکھا جا سکتا ہے
    کابل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہSATELLITE IMAGE ©2021 MAXAR TECHNOLOGIES

    کابل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہSATELLITE IMAGE ©2021 MAXAR TECHNOLOGIES

    ،تصویر کا کیپشنہوائی اڈے کا شمالی راستہ