’بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں‘: انڈیا میں 10 سالہ بچے کے عضو تناسل کی سرجری کے بعد ڈاکٹرز کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

    • مصنف, سراج
    • عہدہ, بی بی سی تمل سروس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس خبر میں فراہم کردہ کچھ معلومات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے ضلع شیو گنگا کے قصبے کارائیکوڈی میں ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹروں پر غلط علاج کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایک 10 سالہ لڑکے کے والدین نے الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر کی غفلت کے باعث ان کے بیٹے کے عضوِ تناسل کا ایک حصہ ہٹانے کے لیے سرجری کرنا پڑی۔

والدین نے گذشتہ ماہ اس معاملے میں پولیس کے پاس شکایت درج کرائی تھی۔ لڑکے کے والدین، ٹریڈ یونینز اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے کارکنوں نے سات جولائی کو کارائیکوڈی میں احتجاج بھی کیا۔

ان کا الزام تھا کہ شکایت درج کروانے کے ایک ماہ بعد بھی متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پولیس نے بی بی سی تمل کو بتایا کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور محکمہ صحت کے جوائنٹ ڈائریکٹر ’طبی غفلت‘ کے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحقیقات کی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔

معاملہ کیا ہے؟

لڑکے کی والدہ نے کہا کہ ’ڈاکٹر کے غلط علاج کی وجہ سے میرے بیٹے کے عضوِ تناسل کا ایک بڑا حصہ کاٹنا پڑا۔ اس کے باعث اس کے مستقبل کے بارے میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔‘

بی بی سی تمل سے گفتگو کرتے ہوئے لڑکے کی والدہ نے کہا کہ ’ہمارا ایک ہی بیٹا ہے۔ اس کے عضوِ تناسل میں مسلسل خارش ہو رہی تھی۔ اسی لیے مئی میں ہم اسے علاج کے لیے کارائیکوڈی کے ایک نجی ہسپتال لے گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کی پیدائش بھی اسی ہسپتال میں ہوئی تھی۔ معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے سرجری کر کے اس کے عضوِ تناسل کی فورسکن (اوپری جلد) ہٹا دی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ڈاکٹروں نے ہمیں کہا کہ فکر نہ کریں، یہ ایک سادہ اور معمول کی سرجری ہے، لیکن اسے جلد کرنا ضروری ہے۔ ہم سرجری کے لیے تیار ہو گئے۔ میرے بیٹے کی سرجری 21 مئی کو ہوئی۔‘

’تاہم بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ جس ڈاکٹر نے سرجری کی تھی وہ کارائیکوڈی کے ہی ایک دوسرے نجی ہسپتال سے تھا۔‘

لڑکے کی والدہ نے کہا کہ ’اگلے دن ہمیں بچے کو گھر لے جانے کے لیے کہا گیا۔ ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک ہفتے میں مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن گھر آنے کے چند دن بعد ہی بچے کے عضوِ تناسل میں شدید درد شروع ہو گیا اور اسے پیشاب کرنے میں بھی بہت تکلیف ہونے لگی۔‘

’بچے کا عضوِ تناسل سیاہ پڑ گیا تھا۔ پیشاب کرتے وقت اسے ناقابلِ برداشت درد ہو رہا تھا اور وہ تکلیف سے تڑپ رہا تھا۔ جب ہم اسے ایک نجی ہسپتال لے گئے تو انھوں نے بتایا کہ عضوِ تناسل میں انفیکشن ہو گیا ہے۔‘

بچے کی والدہ نے الزام لگایا کہ ’ہمیں کہا گیا کہ بچے کو اسی ڈاکٹر کے نجی ہسپتال لے جائیں جس نے سرجری کی تھی۔ ہمیں مایوسی کے عالم میں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کے چکر لگوائے گئے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد 27 مئی کو کارائیکوڈی کے ایک اور نجی ہسپتال میں میرے بیٹے کی دوبارہ سرجری ہوئی۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ وہ دو دن میں ٹھیک ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔ لیکن 28 مئی کی صبح انھوں نے اچانک کہا کہ اپنے بیٹے کو فوراً مدورائی لے جائیں۔ انھوں نے بتایا کہ انفیکشن پھیل گیا ہے۔

’انھوں نے اصرار کیا کہ ہم بچے کو مدورائی کے ایک مخصوص ہسپتال لے جائیں۔ لیکن ہمارا ان پر اعتماد ختم ہو چکا تھا۔ اس لیے ہم بچے کو ایک دوسرے نجی ہسپتال لے گئے اور وہاں ایمرجنسی وارڈ میں داخل کروا کر علاج شروع کروایا۔‘

بچے کی والدہ نے بی بی سی تمل کو بتایا کہ ’میرے بیٹے کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے کہا کہ اس کے عضوِ تناسل کا کچھ حصہ سیاہ پڑ گیا ہے اور اس میں انفیکشن ہے۔ اس لیے اس کے عضوِ تناسل کا ایک بڑا حصہ ہٹانے کے لیے فوری سرجری کرنا پڑے گی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ ہم سرجری کے لیے تیار ہو گئے کیونکہ بچے کی جان بچانا ضروری تھا۔‘

اس کے بعد بچے کے والدین نے چھ جون کو کارائیکوڈی کے دو نجی ہسپتالوں کے دو ڈاکٹروں کے خلاف پولیس اور ضلع شیو گنگا کے مجسٹریٹ کے پاس شکایت درج کرائی۔

گذشتہ ماہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی تمل ناڈو شاخ کے صدر ڈاکٹر سری دھر نے علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر اس شکایت پر وضاحت دی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’بچے کی سرجری ایک عام اور معمول کی سرجری تھی۔ لیکن جو مسئلہ پیش آیا ہے وہ دس لاکھ مریضوں میں سے کسی ایک کو ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک نایاب واقعہ ہے۔ یہ ایک طبی حادثہ ہے۔ متعلقہ ڈاکٹر اس بچے کے علاج کے لیے ہر ضروری مدد دینے کو تیار ہیں۔‘

ڈاکٹر سری دھر نے مزید کہا کہ ’لڑکے کی حالت جلد بہتر ہو جائے گی۔ میڈیکل ایسوسی ایشن کو لڑکے کے والدین کو پہنچنے والی ذہنی اذیت پر افسوس ہے۔ لڑکے کا پورا عضوِ تناسل نہیں ہٹایا گیا۔ صرف ایک حصہ ہٹایا گیا ہے اور پلاسٹک سرجری کے ذریعے مائیکرو سرجری بھی کی گئی ہے۔‘

اس معاملے پر معلومات کے لیے بی بی سی نے کارائیکوڈی کے نجی ہسپتال کی انتظامیہ سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن اس معاملے پر پہلے ہی وضاحت دے چکی ہے۔

’سرجری کے ذریعے عضوِ تناسل کا ایک بڑا حصہ ہٹا دیا گیا‘

لڑکے کی والدہ نے کہا کہ شکایت درج کروانے کے بعد بھی ہمیں نجی ہسپتال سے کوئی مدد نہیں ملی۔ میرے بیٹے کے عضوِ تناسل کا ایک بڑا حصہ ہٹا دیا گیا۔ اب صرف خصیے باقی ہیں۔

’میرا بیٹا اب بھی اس صدمے سے باہر نہیں آ سکا۔ وہ اب گھر سے باہر بھی نہیں نکلتا۔ اس کی شکایت ہے کہ جب وہ کھیلنے جاتا ہے تو اس کی عمر کے بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے چھیڑتے ہیں۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتا اور ہمیشہ ایک جگہ خاموش بیٹھا رہتا ہے۔‘

لڑکے کی والدہ نے پریشانی کے عالم میں کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اتنی کم عمر میں میرا بیٹا اس بڑے نقصان کا سامنا کیسے کرے گا۔‘

احتجاج

لڑکے کی والدہ نے کہا کہ ’پولیس کے پاس شکایت کرنے کے ایک ماہ بعد بھی متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اسی لیے سات جولائی کو ہم نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور ٹریڈ یونینوں کے ساتھ مل کر دھرنا دیا۔‘

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے شیواجی گاندھی نے کہا کہ ’اس بچے کا مستقبل خطرے میں ہے۔ اس کے باوجود ڈاکٹر کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ اسی لیے ہم نے احتجاج کیا۔ تاہم پولیس نے ہمیں حراست میں لے لیا اور شام تک روکے رکھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ان میں سے ایک ڈاکٹر پر پہلے بھی کچھ الزامات لگ چکے ہیں۔ اس لیے پولیس کو مزید وقت ضائع کیے بغیر اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سمیت مختلف تنظیموں کے احتجاج کے بعد 10 جولائی کو کارائیکوڈی کے تمام نجی ہسپتالوں نے بھی احتجاج کیا۔

انھوں نے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے لیے مناسب تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک طبی خدمات بند رکھ کر احتجاج کیا۔

پولیس کیا کہہ رہی ہے؟

اس معاملے پر بی بی سی تمل سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس انسپکٹر جنرل (جنوبی ڈویژن) وجیندر بدری نے کہا کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تاہم چونکہ یہ ایک طبی معاملہ ہے، اس لیے سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا ’علاج میں غفلت' ہوئی تھی یا نہیں۔‘

’یہ فیصلہ صرف پولیس تحقیقات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے محکمہ صحت کے جوائنٹ ڈائریکٹر اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اگر تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ڈاکٹر کی غلطی ثابت ہوئی تو یقیناً اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

گورنمنٹ سٹینلے میڈیکل کالج میں جنرل میڈیسن کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ایس چندرشیکھر نے کہا کہ ’پینیکٹومی عضوِ تناسل کو سرجری کے ذریعے ہٹانے کا عمل ہے۔ مریض کی حالت کے مطابق ڈاکٹر عضوِ تناسل کا کچھ حصہ یا پورا عضوِ تناسل ہٹا سکتے ہیں۔ یہ سرجری عضوِ تناسل کو متاثر کرنے والی بعض بیماریوں کے علاج کے لیے کی جاتی ہے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ سرجری خاص طور پر عضو تناسل کے کینسر کے علاج کے لیے کی جاتی ہے۔ کارائیکوڈی کے اس لڑکے کے معاملے میں ممکن ہے کہ عضوِ تناسل میں خون کی فراہمی رک جانے یا شدید بیکٹیریائی انفیکشن کے باعث وہاں کے خلیے متاثر ہو گئے ہوں۔

اُن کے بقول ایسی صورت میں انفیکشن کو جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے عضوِ تناسل کا کچھ حصہ ہٹانا پڑا ہو۔

تاہم ڈاکٹر چندرشیکھر نے کہا کہ اس معاملے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے محکمہ صحت کی رپورٹ ضروری ہے۔