آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکی سینیٹ کمیٹی میں ایران کے خلاف جنگ پر ہیگستھ سے سخت سوالات، ’یہ آپ کی ناکامی ہے‘

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے، جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ سماعت کے دوران جنگ مخالف مظاہرین نے کئی بار مداخلت کی، جبکہ اجلاس کے اختتام پر وزیرِ دفاع اور ایک سینیٹر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی منظوری

    فرانسیسی پارلیمان نے ایک قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس اقدام کے ساتھ فرانس سوشل میڈیا تک کم عمر افراد کی رسائی محدود کرنے والا یورپ کا پہلا ملک بن جائے گا۔

    اس قانون کے تحت فرانس میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر فرد کے لیے عمر کی تصدیق لازمی ہوگی۔ یہ اقدام بچوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات سے متعلق بڑھتے خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ اور یورپی یونین بھی اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ ان وعدوں میں شامل تھا جن کا اعلان انھوں نے اپنی صدارت کے آخری دور میں کیا تھا۔

    قانون دو مراحل میں نافذ ہوگا: ستمبر 2026 سے 15 سال سے کم عمر افراد نئے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے، جبکہ تمام نئے صارفین کے لیے عمر کی تصدیق لازمی ہوگی۔ جنوری 2027 سے یہ شرط تمام موجودہ اکاؤنٹس پر بھی لاگو ہو جائے گی، یعنی فرانس میں ہر صارف کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی عمر 15 سال یا اس سے زیادہ ہے۔

    قانون کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو فرانسیسی پرائیویسی ریگولیٹر کی منظور شدہ عمر کی تصدیقی ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہوگی۔

    خدشات اور تنقید

    قانون پر بعض حلقوں کی جانب سے تحفظات بھی ظاہر کیے گئے ہیں، جن میں صارفین کی رازداری، عمر کی تصدیق کے نظام کی مؤثریت، کم عمر افراد کی جانب سے ممکنہ طور پر پابندی کو بائی پاس کرنے کے امکانات اور قانون کے جلد نفاذ جیسے مسائل شامل ہیں۔

    فرانس کی ڈیجیٹل وزیر این لی ہیناف کا کہنا ہے کہ قانون کے تیز رفتار نفاذ کی وجہ یہ ہے کہ عمر کی تصدیق کے لیے ضروری ٹیکنالوجی پہلے سے موجود ہے۔

    آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک

    فرانس اس نوعیت کی پابندی متعارف کرانے والا آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک ہے۔ تاہم آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر عائد پابندی کے باوجود بہت سے کم عمر صارفین اب بھی سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس کا ماڈل اس لحاظ سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے کیونکہ یہاں عمر کی تصدیق صرف کم عمر افراد نہیں بلکہ تمام صارفین کے لیے لازمی ہوگی، البتہ اس سے رازداری کے حوالے سے نئے خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

    بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی پابندیاں نوجوانوں کو کم ضابطہ شدہ آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف دھکیل سکتی ہیں، جبکہ خبروں اور سیاسی سرگرمیوں میں ان کی شرکت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

  2. ایرانی فوج کی کویت میں امریکی اڈوں پر حملے کی تصدیق

    ایران کے مختلف علاقوں پر امریکہ کی جانب سے مسلسل گیارہویں رات کیے گئے حملوں کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ایرانی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کویت کے بعض مقامات پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    تہران کے وقت کے مطابق بدھ کی صبح جاری کیے گئے بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ ’آپریشن لائٹننگ کے 21ویں مرحلے میں چند گھنٹے قبل مجرم امریکی فوج کے زیرِ استعمال مغربی کویت میں واقع دوحہ گیریژن کے گولہ بارود کے ذخیرے اور زمینی افواج کے کمانڈ سینٹر سے متعلق لاجسٹک تنصیبات کو بڑی تعداد میں تباہ کن ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔‘

  3. امریکہ کے ایران پر مسلسل 11ویں روز حملے، ٹرمپ کی زیرِ زمین جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    امریکہ نے منگل کی شب ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی حملے کیے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کو اپنی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ دارالحکومت تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ تبریز، چاہ بہار، کنارک اور بوشہر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بوشہر ایران کے واحد جوہری بجلی گھر کا مقام ہے۔

    ایران، جو امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کر رہا ہے، نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے نطنز کے قریب واقع زیرِ زمین جوہری مرکز کو نشانہ بنایا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

    اپریل میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم گذشتہ ہفتے یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔

    سینٹکام نے کہا کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی رسد کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی فوج نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران نے گذشتہ تین ماہ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’بلاجواز حملوں نے سینکڑوں بے گناہ ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور آزادانہ بحری آمدورفت کو نقصان پہنچایا۔‘

    تاہم سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز اب بھی تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہے۔

    دوسری جانب کویت کی فوج نے بُدھ کی صبح کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ بحرین اور اردن نے بھی ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ٹرمپ کی نئی دھمکی

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کا اگلا ہدف ممکنہ طور پر ’پک ایکس ماؤنٹین‘ نامی زیرِ زمین جوہری کمپلیکس ہو سکتا ہے، جہاں ایران کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ ایک غیر اعلانیہ یورینیم افزودگی مرکز تعمیر کر رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت جلد اور پوری شدت کے ساتھ اس علاقے کو نشانہ بنائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ عام طور پر فوجی اہداف کا پہلے سے اعلان نہیں کرتے، لیکن اس معاملے میں ’وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے‘۔

    ایران کی جوابی دھمکی

    ایران کے خاتم الانبیاء فوجی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ ایسی کسی کارروائی کو ’خطے میں جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے‘ کے مترادف سمجھا جائے گا۔

    سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فوجی قیادت نے کہا کہ اس صورت میں امریکہ، اس کے اتحادیوں اور حامیوں کے تمام مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    حوثیوں کی دھمکی اور تیل کی ترسیل پر اثرات

    ٹرمپ نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکہ ان سے بھی نمٹے گا۔

    اس سے قبل حوثیوں کے ایک میڈیا کے عہدیدار نے اعلان کیا تھا کہ وہ باب المندب کی آبی گذرگاہ کو سعودی جہازوں کے لیے بند کر رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد بحیرہ احمر سعودی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم راستہ بن گیا ہے۔

    برطانوی ادارے وینگارڈ کے مطابق حوثیوں کے اعلان کے بعد سعودی بندرگاہ ینبع سے چین اور انڈیا کے لیے خام تیل لے جانے والے دو ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے واپس مڑنے کا فیصلہ کیا۔

    ماہرین کے مطابق حوثیوں کی دھمکیاں عالمی جہاز رانی کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی پہلے ہی عالمی ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سبب بن چکی ہے۔

  4. ایران بحران پر امریکہ اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کے بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، لیکن تہران بات چیت کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔ دوسری جانب، بڑھتے ہوئے تنازع نے دنیا کی دو اہم ترین توانائی گزرگاہوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

    مارکو روبیو نے یہ بیان جنوب مشرقی ایشیا کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں دیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل سعودی عرب کا خام تیل ایشیا لے جانے والے تین آئل ٹینکر بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر کے واپس لوٹ گئے۔ بظاہر یہ اقدام یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے جواب میں کیا گیا۔

  5. ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ کے 37.5 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون نے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لیے

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکہ اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو مئی میں دیے گئے گذشتہ تخمینے سے تقریباً آٹھ ارب ڈالر زیادہ ہے۔

    پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے، جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

    سماعت کے دوران جنگ مخالف مظاہرین نے کئی بار مداخلت کی، جبکہ اجلاس کے اختتام پر وزیرِ دفاع اور ایک سینیٹر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔

    ایران کے ساتھ گذشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد کیپیٹل ہِل میں یہ ہیگستھ کی پہلی پیشی تھی۔ اس دوران خطے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اپریل میں کانگریس سے آئندہ مالی سال کے لیے پینٹاگون کے لیے 1.5 کھرب ڈالر کے بجٹ کی درخواست کی تھی، جس سے جدید دور میں امریکی دفاعی اخراجات ریکارڈ سطح پر پہنچ جائیں گے۔

    منگل کو امریکہ نے مسلسل گیارہویں روز ایران پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اتحادی اہداف پر جوابی حملے کر رہا ہے۔

    ہیگستھ نے اپنی بات کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’ہم ایک خطرناک دنیا میں رہتے ہیں، اور اس صورتحال میں جرات مندانہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

    مظاہرین کی مداخلت کے بعد انھوں نے کہا کہ اضافی فنڈنگ کی درخواست ایک نازک وقت میں کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر یہ فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو ہمیں ایسے شدید مالی خسارے کا سامنا ہوگا جو فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی، آلات اور گولہ بارود کی فوری فراہمی، اور اہم فوجی کارروائیوں کے تسلسل کو خطرے میں ڈال دے گا۔‘

    ہیگستھ کے مطابق منظور ہونے والا ہر ڈالر امریکی فوج کی ’جنگی صلاحیت‘ بڑھانے اور ’طاقت کے ذریعے امن‘ کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوگا۔

    کمیٹی کی ریپبلکن چیئرپرسن سوسن کولنز نے سوال کیا کہ اگر مطلوبہ بجٹ فراہم نہ کیا گیا تو کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا کہ موجودہ اور مستقبل کی فوجی تربیت میں کٹوتی کرنا پڑے گی۔ انھوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں فوج کو مناسب فنڈنگ نہیں ملی۔

    کمیٹی میں سب سے سینیئر ڈیموکریٹ رکن پیٹی مرے نے فنڈنگ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ درخواست زیادہ منطقی دکھائی نہیں دیتی۔‘

    سینیٹر ڈک ڈربن کے سوال پر پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ اب تک ایران جنگ کی لاگت 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    تاہم دو ڈیموکریٹ ذرائع اور ایک دیگر باخبر ذریعے نے بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ اندازے میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی تعمیرِ نو جیسے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

    12 مئی کے بعد حکومت کی جانب سے جنگی اخراجات کا کوئی سرکاری تخمینہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اس وقت ایک سینیئر پینٹاگون اہلکار نے یہ لاگت 29 ارب ڈالر بتائی تھی۔

    پینٹاگون پہلے قانون سازوں کو بتا چکا ہے کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی امریکہ 11.3 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔

    پیٹ ہیگستھ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ اضافی رقم منظور ہو جاتی ہے تو یہ ایک ’نسل در نسل یا تاریخی سرمایہ کاری‘ ثابت ہوگی، جو امریکہ کو دیگر ممالک کی فوجوں کا پیچھا کرنے کی ضرورت سے بچائے گی۔

    اگرچہ ایران اور امریکہ نے اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور گزشتہ ہفتے دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔

    سماعت کے دوران نیویارک سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے ’بمباری کے لیے لامحدود رقم‘ مانگ رہی ہے، جبکہ امریکی عوام اپنے خاندانوں کے لیے خوراک تک خریدنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انھوں نے سوال کیا کہ جب صدر پہلے ہی جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کر چکے ہیں تو پھر مزید دسیوں ارب ڈالر کیوں درکار ہیں؟

    سماعت کا اختتام اس وقت شدید تنازع پر ہوا جب ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    پیٹرز نے ہیگستھ کو ’ناکام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک اور ’لامتناہی جنگ‘ شروع کر چکی ہے۔

    اس پر پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا ’آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘ اور مزید کہا کہ سینیٹر ’ٹرمپ سے غیر معمولی نفرت‘ کا شکار ہیں۔

    زیادہ تر ڈیموکریٹس اس اضافی بجٹ کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ مالیاتی قدامت پسند ریپبلکن چاہتے ہیں کہ اضافی دفاعی اخراجات کے بدلے دیگر شعبوں میں کٹوتی کی جائے۔

    دوسری جانب ایوانِ نمائندگان جمعرات کو تعطیلات پر جا رہا ہے اور کانگریس کے دونوں ایوان ستمبر تک ایک ساتھ اجلاس نہیں کریں گے۔ اس لیے حتیٰ کہ اگر ریپبلکنز مطلوبہ ووٹ حاصل بھی کر لیں تو پینٹاگون کو فنڈز ملنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    اسی دوران صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکہ کی ماضی کی طویل اور خونریز جنگوں کی ایک فہرست شیئر کی اور ان کی مدت اور ہلاکتوں کا موازنہ موجودہ ایران جنگ سے کیا۔

    انھوں نے لکھا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    منگل کے روز پینٹاگون نے عراق میں 30 سالہ امریکی فوجی سارجنٹ مائیکل ایمانوئل سوِنٹن کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ 28 سالہ سارجنٹ اینجل ریمپرساد کو اردن میں لاپتا اور غالباً ہلاک قرار دیا گیا۔

    ایک روز قبل فوج نے اردن میں ہلاک ہونے والے دو دیگر اہلکاروں کی شناخت پرائیویٹ فرسٹ کلاس ازابیلا گونزالس (19 سال) اور فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر فیہان (25 سال) کے طور پر کی تھی۔

    صدر ٹرمپ بدھ کے روز امریکی ریاست ڈیلاویئر کے ایک فضائی اڈے کا دورہ کریں گے، جہاں ان فوجیوں کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت وطن واپس لائے جائیں گے۔

  6. ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے: امریکی فوج کا دعویٰ

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے گئے ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے فوجی آپریشنز کے مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرونز کی ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

    سینٹکام کے مطابق حملوں کا مقصد یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر بیان میں سینٹکام نے الزام لگایا کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران، ایران نے اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔

    سینٹکام کے مطابق ’یہ بلا جواز حملے سینکڑوں بے گناہ ملاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال چکے ہیں اور جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔‘

    امریکی فوج کی مرکزی کمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی جارحیت کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔

  7. تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کا طرزِ عمل ’ناقابلِ قبول‘ ہے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے پیرس سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی ضابطوں سے متصادم اقدامات کی روک تھام کی جائے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی نے منگل کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس موقع پر دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔

    عراقچی نے دونوں فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات تسلیم شدہ سفارتی معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سفارتی مشنز پر میزبان ملک کے قوانین اور ضوابط، نیز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔

    انھوں نے فرانسیسی حکومت پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

    ایران اور فرانس کے درمیان سفارتی کشیدگی فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ ایرانی سکیورٹی اداروں نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کو حراست میں لیا اور ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا۔

    بارو کا کہنا تھا کہ یہ دونوں سفارتکار ایرانی عوام اور تعلیمی حلقوں کے ساتھ ثقافتی روابط کے فروغ کے ذمہ دار تھے۔

    بعد ازاں فرانس کی وزارتِ خارجہ نے منگل کو پیرس میں ایران کے ناظم الامور کو طلب کیا اور اس واقعے پر احتجاج کیا۔

  8. پزشکیان: مجتبیٰ خامنہ ای تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے، ’ایک اجلاس میں ڈھائی گھنٹے تک گفتگو ہوئی‘

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ’رابطے اور ان تک رسائی کی سطح‘ بڑھ گئی ہے۔

    ایران کے صدر نے مذاکرات کے بارے میں ’نامناسب اور غیر ماہرانہ‘ تبصروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نشریاتی ادارہ صرف مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات کا وہ حصہ نشر کرتا ہے جو ’مذاکرات نہ کرنے‘ سے متعلق ہوتا ہے، جبکہ اسلامی جمہوریہ کے رہنما ’نجی اجلاسوں میں جنگ کی صورتِ حال کے خاتمے اور امن کی ضرورت‘ پر زور دیتے ہیں، اور اسی لیے ’ہم نے مذاکرات کا آغاز کیا۔‘

    مسعود پزشکیان نے صنعتوں، کانوں اور اقتصادی اداروں کے مالکان کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’بعض غلط بیانات، جو مختلف پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہیں، کامیابیوں کو کم تر ظاہر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔‘

    گذشتہ دنوں ایران کے اندر امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور حالیہ مفاہمتی یادداشت کے خلاف وسیع پیمانے پر مخالفت سامنے آئی ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی کوئی آواز یا تصویر نشر کی گئی ہے، بلکہ ان کی جانب سے صرف تحریری پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔

    مسعود پزشکیان ان چند افراد میں شامل ہیں جنھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔

    انھوں نے وقت اور مقام کا ذکر کیے بغیر، کہا تھا کہ ایک ’اجلاس‘ میں انھوں نے اسلامی جمہوریہ کے رہنما کے ساتھ قریب ’ڈھائی گھنٹے‘ گفتگو کی تھی۔

  9. کویت نے ایران کی جانب سے ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بجلی گھر پر حملوں کی تصدیق کر دی

    کویت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز ایران کی جانب سے سمندری پانی کو پینے کے قابلِ بنانے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹ اور بجلی گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

    کویتی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ چار روز کے دوران اس نوعیت کا یہ ایران کا چوتھا حملہ بتایا جا رہا ہے۔

    کویت کی وزارتِ پانی و بجلی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ریاستِ کویت کے خلاف ایران کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں مسلسل چوتھے روز متعدد بجلی گھروں اور پانی کے (ڈی سیلینیشن) پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی اہم تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔‘

    چند گھنٹے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایک بار پھر کویت میں موجود امریکہ کے تین فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  10. فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا: وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی وزیر داخلہ سے گفتگو

    اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

    وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو۔ ان کے بقول پاکستان ایک ’دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار‘ کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس ماہ کے آغاز میں تہران کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ایران کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس کے مطابق سکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان سفارتی کوششوں کو بھی سراہا جن کے نتیجے میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ طے پائی۔

  11. ایرانی وزیرِ داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ

    پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دوطرفہ سکیورٹی، اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے سے متعلق معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے ادا کیے جانے والے مستقل اور اہم سفارتی کردار کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے اختتام پر علاقائی سکیورٹی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطوں اور باہمی تعاون کے موجودہ طریقۂ کار کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

  12. جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے بے تاب ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک وہ بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔‘

    وہ اوول آفس میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

    ایران کے بارے میں اے بی سی نیوز کی نامہ نگار میری بروس کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آپ نہیں جانتیں کہ پسِ پردہ کیا بات چیت ہو رہی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کے لیے بے تاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران بامعنی انداز میں بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکہ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    امریکی صدر نے جوہری ہتھیاروں کو ایران کے ساتھ تنازع کی بنیادی وجہ قرار دے دیا۔

    ’یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ جوہری ہتھیار ہیں۔ اگر وہ کسی تنصیب کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اس تنصیب کو نشانہ بنائیں گے۔ ایسی کسی بھی جگہ کو، جہاں وہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں سوچ بھی رہے ہوں گے، ہم پوری طاقت کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔‘

    ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سچ تو یہ ہے کہ انھوں نے ابھی کچھ دیکھا ہی نہیں۔ ہم اب تک نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔‘

    جلد مزید ممالک بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ

    اردن کے صدر سے ملاقات کے بعد ابراہیمی معاہدوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ابراہیمی معاہدے ایک زبردست کامیابی رہے ہیں۔ ’میرا خیال میں آپ بہت جلد مزید کئی ممالک کو اس میں شامل ہوتے دیکھیں گے۔‘

    ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس کا ایک ابتدائی گروپ موجود ہے اور یہ ان کے لیے بہت کامیاب رہا ہے۔ میرے خیال میں لبنان کا بھی اس میں ایک بہت اہم مقام ہے۔‘

    بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی دھمکی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اب تک ایسا نہیں ہوا لیکن ممکن ہے کہ ہو بھی جائے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم معاملات سنبھال لیتے ہیں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہم اس سے نمٹ لیں گے۔‘

  13. اہم خبروں کا خلاصہ

    • امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے گئے ہیں۔
    • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے پیرس سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی ضابطوں سے متصادم اقدامات کی روک تھام کی جائے۔
    • ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کی شام ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔
    • ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بلغاریہ کو تہران کے خلاف امریکی خلاف کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ’غیر قانونی حملوں‘ میں تعاون جنگی جرائم میں معاونت کے مترادف ہو گا۔
    • آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک بھر میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے بے تاب ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک وہ بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔‘
    • پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
    • اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان، ایران، مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔