بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کھڈکوچہ کے علاقے کُنڈ عمرانی میں گولہ باری سے ایک مسجد اور مدرسے کو نقصان پہنچا ہے۔
اس واقعے کے خلاف نہ صرف احتجاج ہو رہا ہے بلکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) ضلع مستونگ نے اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مسجد اور مدرسے کو شیلنگ سے نقصان پہنچنے کا واقعہ گذشتہ جمعرات کو سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کے بعد پیش آیا۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ جب عسکریت پسندوں کی ساتھ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوتی ہے تو اس وقت ہزاروں گولیاں اور گولے چلتے ہیں۔ ایسے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ مسجد اور مدرسے کو سکیورٹی فورسز کی کارروائی سے نقصان پہنچا۔
اس واقعے کے خلاف پیر کو ضلع مستونگ کے ہیڈکوارٹر مستونگ شہر میں شٹرڈاؤن ہڑٰتال رہی۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ حساس اداروں کے اہلکاروں نے مسجد کے تقدس کو پامال کیا۔
جے یوآئی کے ضلعی امیر مولانا شبیر احمد نے مستونگ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ کُنڈ عمرانی میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں میں سویلین ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سویلین افراد کو شہید قرار دے کر ان کو معاوضہ دیا جائے اور علاقے میں لوگوں کے باغات کو جو نقصان پہنچا پے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ۔
تاحال سرکاری حکام کی جانب سے سویلین ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا تاہم ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جمعرات کو کُنڈ عمرانی میں ہونے والی جھڑپوں میں دو عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اس حوالے سے سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
اس واقعے کے حوالے سے جب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مساجد اس روح ارضی پر سب سے مقدس مقامات ہیں اور ان کو نقصان پہنچانے کا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سکیورٹی فورسز یا عوام پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں جھڑپوں کے دوران ہزاروں گولیاں اور گولے چلتے ہیں جس میں یہ تعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ مقدس مقامات کو کس کی گولی لگنے سے نقصان پہنچا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کسی مقدس مقام کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری ان شدت پسندوں پر عائد ہوتی ہے جن کی وجہ سے حالات خراب ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب یہ شاہراہوں پر ناکہ بندی کے علاوہ آبادیوں کے قریب سے حملے کرتے ہیں اور اگر سکیورٹی فورسز اس کے خلاف جوابی کارروائی نہ کریں تو بھی انھی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انھوں نے کارروائی کیوں نہیں کی۔
محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ مسجد اور مدرسے کو سکیورٹی فورسز کی کارروائی سے نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کی شرپسندوں کاروائی سے نقصان پہنچا ہے۔