’ہاؤس آف سیکرٹس‘: پُرتعیش رہائش گاہ میں جرمنی کے جرنیلوں اور عہدیداروں کی جاسوسی کیسے کی جاتی تھی؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

شمالی لندن میں واقع ٹرینٹ پارک کی تاریخی عمارت میں دوسری عالمی جنگ کے دوران انجام دی جانے والی خفیہ انٹیلیجنس کارروائیوں کے لیے وقف ایک میوزیم کو عوام کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ اس میوزیم کا نام ’دی ٹرینٹ پارک ہاؤس آف سیکرٹس‘ رکھا گیا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی حکام نے گرفتار کیے گئے جرمن جرنیلوں اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کو شمالی لندن کے علاقے اینفیلڈ میں واقع پُرتعیش دیہی رہائش گاہ ٹرینٹ پارک میں رکھا تھا۔

اس عمارت میں ان کی خفیہ نگرانی کی جاتی تھی، جہاں انٹیلیجنس اہلکار ان کی تقریباً تمام گفتگو سنتے اور ریکارڈ کرتے تھے۔

ٹرینٹ پارک میں ہونے والی کارروائیوں نے جرمنی کے خلاف برطانیہ کی انٹیلیجنس کوششوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ عمارت کی بحالی کی ذمہ دار فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ ٹرینٹ پارک کی تاریخی اہمیت بلیچلی پارک کے برابر ہے، جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ کا مرکزی کوڈ توڑنے اور خفیہ پیغامات پڑھنے کا مرکز قائم تھا۔

1930 کی دہائی کے اواخر میں ’ہاؤس آف سیکرٹس‘ بننے سے پہلے ٹرینٹ پارک برطانوی سیاست دان فلپ ساسون کی ملکیت تھا، جو ممتاز یہودی ساسون خاندان اور روتھسچائلڈ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

1920 اور 1930 کی دہائیوں میں ساسون اس عالیشان رہائش گاہ میں شاندار سماجی تقریبات کا اہتمام کرتے تھے، جن میں معروف اداکار، ادیب، فنکار، سیاست دان اور شاہی خاندان کے افراد شرکت کرتے تھے۔

معلوم مہمانوں میں مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن، برطانوی رہنما ونسٹن چرچل اور والس سمپسن بھی شامل تھیں، جو 1937 میں برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم کی اہلیہ بنیں۔

بعد ازاں یہی عمارت دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی انٹیلیجنس کے ایک انتہائی خفیہ مرکز میں تبدیل ہو گئی، جہاں گرفتار جرمن جرنیلوں اور اعلیٰ فوجی افسران کی نگرانی اور ان کی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ کی جاتی تھی۔

ساسون نے اس عمارت کی تزئین و آرائش اور توسیع پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کیے، جس کے نتیجے میں یہ ایک دیہی محل کی شکل اختیار کر گئی، جو تقریبات اور سماجی محفلوں کے لیے مخصوص تھا۔

اس گھر میں مہمانوں کے آرام کے لیے کشادہ صوفے موجود تھے، کھڑکیوں پر پھولوں والے پردے آویزاں تھے، جبکہ دیواروں کو ہلکے اور نرم رنگوں سے سجایا گیا تھا۔ بعد میں یہی پُرتعیش رہائش گاہ دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی خفیہ اداروں کے ایک انتہائی اہم اور خفیہ مرکز میں تبدیل ہو گئی۔

فلپ ساسون 1939 میں وفات پا گئے تھے، جس کے بعد یہ عمارت سرکاری ملکیت بن گئی۔ برطانوی حکام نے اسے خفیہ انٹیلیجنس کارروائیوں کے ایک مرکز میں تبدیل کر دیا اور یہاں گرفتار جرمن جرنیلوں اور اعلیٰ فوجی افسران کو رکھا جانے لگا۔

سابق مالک کی جانب سے چھوڑے گئے پُرتعیش ماحول میں قیدی خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے اور بتدریج اپنی محتاط روش چھوڑ دیتے تھے۔ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کی تقریباً ہر گفتگو، حتیٰ کہ باغ میں گلاب کی جھاڑیوں کے قریب ہونے والی بات چیت بھی، خفیہ ایجنٹوں کی نگرانی میں تھی۔

اس طرح حاصل ہونے والی قیمتی معلومات کو بعد میں بلیچلی پارک منتقل کیا جاتا تھا، جہاں برطانیہ کے خفیہ پیغامات کے تجزیے اور کوڈ توڑنے کے کام میں انہیں استعمال کیا جاتا تھا۔

اس عمارت میں متعدد خفیہ راستے اور پوشیدہ کمرے موجود تھے۔ مثال کے طور پر لائبریری میں ایک عظیم الشان کتابوں کی الماری کے دونوں جانب جان سنگر سارجنٹ کی بنائی ہوئی فلپ ساسون اور ان کی بہن سائبل کی شاندار تصویریں آویزاں ہیں۔ تاہم جب اس کتابوں کی الماری کو سرکایا جاتا ہے تو اس کے پیچھے تہہ خانے کی طرف جانے والا ایک خفیہ دروازہ ظاہر ہو جاتا ہے۔

بحالی کے کام کرنے والوں نے 1930 کی دہائی میں فلپ ساسون کے زیرِ استعمال پُرتعیش اندرونی ماحول کو دوبارہ تخلیق کیا ہے۔ ساسون کی ملکیت رہنے والے فن پارے اور فرنیچر 1939 کے بعد پہلی مرتبہ ان کی اصل جگہوں پر واپس رکھے گئے ہیں۔

بحالی کے منصوبے کے تحت خفیہ ایجنٹوں کے کام کرنے کے ماحول، نگرانی کے مراکز اور انٹیلیجنس اہلکاروں کے دفاتر کو بھی دوبارہ تخلیق کیا گیا ہے۔

تہہ خانے کے ماحول کو انتہائی باریک بینی کے ساتھ اصل حالت کے مطابق بحال کیا گیا ہے: ایک مجسمہ نما شخصیت (مینیکن) ہیڈفون پہنے بیٹھی ہے، ہاتھ میں قلم تھامے جیسے نوٹس لینے کے لیے تیار ہو۔ فضا میں نمی کی بو محسوس ہوتی ہے، اونی کمبل کھردرے اور چبھنے والے ہیں، جبکہ چادریں سختی سے استری شدہ ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے صحافیوں نے میوزیم کی اس نمائش کو اسی انداز میں بیان کیا ہے۔

ٹرینٹ پارک ہاؤس آف سیکرٹس میوزیم کے ڈائریکٹر جوسیپے البانو نے کہا کہ زیادہ تر افراد بنیادی طور پر ’اس خفیہ انٹیلیجنس آپریشن کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، جو دوسری عالمی جنگ کے دوران یہاں انجام دیا گیا تھا۔‘

یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ٹرینٹ پارک میں کی جانے والی انٹیلیجنس سرگرمیوں کی بدولت برطانیہ کو نہایت اہم معلومات حاصل ہوئیں، جنہیں اس نے جنگ کے دوران دشمن کے خلاف استعمال کیا۔ تاہم ایک کامیاب خفیہ آپریشن کی یہ داستان ایک تلخ حقیقت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

ناقدین کے مطابق برطانیہ، نازی جرائم سے متعلق معلومات رکھنے کے باوجود، ان پر مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی خفیہ معلومات حاصل کرنے کے طریقوں کو بے نقاب ہونے سے بچانے کے لیے ان میں سے بعض معلومات کو 1950 کی دہائی میں ہونے والی نورمبرگ مقدمات کی کارروائی میں بھی پیش نہیں کیا۔