آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. اسرائیل فلسطین تنازع: عالمی برادری کی شہریوں کی جانیں بچانے کی اپیل

    اقوام متحدہ ، امریکہ اور برطانیہ سمیت بین الاقوامی برادری نے فلسطین اور اسرائیل تنازع میں پھنسے شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    غزہ میں ملبے کے نیچے سے بچوں کی نکالنے کی تصاویر کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں شہریوں کی محفوظ پناہ گاہ کے لیے بھاگتے ہوئے تصاویر پر عالمی برادری نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیل فلسطین تنازعے کی حالیہ لہر اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں جنگ بندی کے آثار بہت کم ہیں۔

    غزہ کے صحت حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اب تک جاری حملوں میں کم از کم 212 فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بھی دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ پر ان کے حملوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد عسکریت پسند ہیں اور ان حملوں میں بچوں کی ہلاکتیں غیر ارادی ہیں۔

    تاہم غزہ میں عکسریت پسند تنظیم حماس اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔

    پیر کی رات کو بھی اسرائیل کی لبنان کے قریب شمالی اور جنوبی سرحدوں پر سائرن کی آوازیں گونجتی رہیں اور وہاں راکٹ حملے جاری رہے۔

    جبکہ اسرائیلی رہنماؤں نے بھی حملے جاری رکھنے کے عزم کو دوبارہ دہرایا ہے۔

    دوسری جانب عالمی رہنماؤں کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی اور اس میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اس تنازعے میں معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عام شہریوں کے ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کریں لیکن انھوں نے حماس کی جانب سے شہری آبادی کو ڈھال بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

    امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں خصوصاً بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر ایک جموری ملک کی حیثیت سے اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

    اقوام متحدہ کی جانب سے بھی پہلے سے مخدوش حالات کا شکار غزہ میں شہری انفراسٹریکچر کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں 40 سکول اور چار ہسپتال ’مکمل طور پر یا جزوی طور‘ پر تباہ ہو چکے ہیں۔

    جبکہ صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہنگامی سروسز کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے بھی کہا ہے کہ ہسپتالوں ہر حملوں کو فوری بند کرنا چاہیے۔

  2. ’امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے‘: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان پیر کے روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے اور امریکی صدر نے اسرائیل اور فلسطین تنازع میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان پیر کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں امریکی صدر نے اسرائیل اور فلسطین تنازع میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاوس کے بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن کے جنگ بندی کے متعلق اظہار خیال پر اسرائیلی وزیر اعظم کے جواب کے متعلق کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔

    وائٹ ہاوس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی صدر نے ٹیلیفونک رابطے میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس تنازع کے حل کے لیے مصر اور دیگر فریقین کے ساتھ امریکی رابطے پر بات کی ہے۔‘

    دوسری جانب پیر کے روز اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملے جاری رہے جبکہ حماس کی جانب سے بھی جوابی کارروائی میں اسرائیلی شہروں کو راکٹوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    غزہ کے صحت حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اب تک جاری حملوں میں کم از کم 212 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بھی دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس تنازع میں معصوم شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کی جانب سے حماس کے حملوں کے جواب میں اسرائیل کے دفاع کے حق کی بھی بھرپور حمایت کی گئی۔‘

    وائٹ ہاؤس کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں حماس اور دیگر عکسریت پسند گروہوں کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘

  3. اسرائیل کا حماس کے فوجی اڈے پر بمباری کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شمال میں غزہ کی پٹی پر واقع حماس کے اندرونی سکیورٹی ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی ہے۔

    اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ یہ عمارت حماس کے ’مرکزی انفراسٹرکچر کا حصہ ہے جہاں تنظیم کی فوجی انٹیلیجنس کام کرتی ہے۔‘

    ان فضائی حملوں کے بعد اب تک وہاں ہلاکتوں یا زخمیوں کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

  4. امریکہ نے سلامتی کونسل کو ایک بار پھر اسرائیل فلسطین تنازع پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا

    مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے مطابق امریکہ نے ایک ہفتے میں تیسری مرتبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔

    چین، تیونس، اور ناروے کی جانب سے مشترکہ اعلامیے کی تحریر میں ’تشدد کے خاتمے اور عالمی قوانین کا احترام اور عام شہریوں اور بچوں کی حفاظت‘ کو یقینی بنانا شامل کیا گیا تھا۔

    اسے سلامتی کونسل کے 15 ممبران نے پیر کے روز منظور کرنا تھا لیکن ایک سفارتکار نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ نے کہا کہ ’وہ اس اعلامیے کی اس وقت حمایت نہیں کر سکتا۔‘

    سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کے روز آن لائن منعقد ہوا اور اس کا انعقاد جمعے کو ہونا تھا، تاہم امریکہ جو اسرائیل کے اتحادی ہے، اس نے یہ اجلاس ملتوی کروایا تھا۔

  5. ایدھی فاؤنڈیشن ’فلسطینیوں کی مدد کے لیے غزہ میں امدادی ٹیم بھیجے گی‘

    پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ ان کا فلاحی ادارہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی مدد کے لیے امدادی ٹیمیں بھیج رہا ہے۔

    انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے فلسطینی سفارتخانے سے بات کی ہے اور انھوں نے ہماری مدد کا خیر مقدم کیا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو منگل تک فلسطینی سفارتخانے سے ویزا جاری کر دیا جائے گا۔

    فیصل ایدھی کے مطابق کچھ امدادی ٹیمیں مصر میں قیام کریں گی جبکہ باقی غزہ میں داخل ہوں گی۔

    بعد ازاں فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود بھی مصر اور فلسطین دونوں کا ویزہ لیں گے جس کے بعد وہ پہلے مصر اور وہاں سے فلسطین روانہ ہوں گے۔ وہ اپنا کیمپ مصر میں لگائیں گے جہاں سے ضرورت کے مطابق طبی سامان خرید کر فلسطین روانہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ انڈیا میں کورونا کی صورتحال سنگین ہونے کے بعد فیصل ایدھی نے ایک خط میں وزیراعظم نریندر مودی کو سٹاف اور ایمبولینس بھیجنے کی پیشکش کی تھی تاہم انڈین حکومت نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

    فیصل ایدھی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک ہفتے کے اندر ان کے ویزے لگ جائیں گے جس کے بعد وہ اور ان کا بیٹا سعد ایدھی فلسطین روانہ ہوجائیں گے۔

  6. اسرائیل کب تک فائر بندی کی اپیلیں نظر انداز کر سکتا ہے؟, پال ایڈمز، بی بی سی سفارتی نامہ نگار، یروشلم

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ تمام اشارے اس بات کی جانب نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسرائیلی حملے کچھ عرصے تک ایسے ہی جاری رہیں گے۔

    حکام کے مطابق سلسلہ وار حملوں کا مقصد دستیاب وقت میں حماس کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔

    لیکن انھیں کتنا وقت دستیاب گیا ہے؟

    امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے گذشتہ رات ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’تشدد کا فوری خاتمہ ضروری ہے‘

    تاہم صدر جو بائیڈن نے اب تک وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کرتے دکھائی دیے ہیں اور کہتے رہے ہیں اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا پورا حق ہے۔

    اور امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسرائیل کو حملے بند کرنے کے حوالے سے بیان جاری کرنے روک دیا ہے۔

    نیتن یاہو یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے پاس اب بھی غزہ میں مزید کامیابی سمیٹنے کا وقت موجود ہے اگر اسرائیل اس دوران بہت زیادہ عام شہریوں کو ہلاک نہ کرے۔

    گذشتہ رات کو کیے جانے والے بھاری حملوں میں ایک عسکریت پسند تنظیم کے سینیئر کمانڈر کے علاوہ کسی کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ملیں۔

    تاہم اب تک 40 ہزار عام شہریوں کو اس تنازع کے باعث اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں اور اقوامِ متحدہ بگڑتی ہوئی صورتحال کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔

    وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

  7. فرانس اور مصر کا فوری طور پر سیز فائز قائم کرنے کا مطالبہ

    فرانس اور مصر نے مشترکہ طور پر غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایک باقاعدہ بیان کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اور ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی دونوں کو ’پُرتشدد واقعات میں اضافے اور شہری آبادی کے متاثرین کے حوالے سے تشویش ہے۔‘

    انھوں نے فوری طور پر سیز فائر کے لیے تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    مصری صدر سوڈان پر ایک اجلاس کے سلسلے میں پیرس میں موجود ہیں۔

  8. غزہ میں کل اموات 200 سے بڑھ گئیں, ہلاک ہونے والوں میں 59 بچے، 35 خواتین شامل

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 59 بچے اور 35 خواتین شامل ہیں جبکہ اب تک 1305 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں 130 مسلح جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔

    اسی دوران مسلح گروہوں کے راکٹ حملوں سے اسرائیل میں دو بچوں اور ایک فوجی اہلکار سمیت 10 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

  9. بائیڈن نے اسرائیل کو 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دی: امریکی اخبار

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو درست نشانے پر مار کرنے والے 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے ہیں۔

    اخبار کے مطابق کانگریس کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق پانچ مئی کو بتایا گیا تھا، اور یہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد کے آغاز کے عین ایک ہفتے پہلے کی بات ہے۔

    اخبار کے مطابق جو بائیڈن کے چند ساتھی ڈیموکریٹس اب اسلحے کی فروخت پر تنقید کر رہے ہیں۔

    کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی میں شامل ایک ڈیموکریٹ نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل پر فائر بندی کا دباؤ ڈالے بغیر ان سمارٹ بموں کی فروخت کی اجازت مزید تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

  10. اسلام آباد میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ

    آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے اسرائیل-فلسطین تنازع میں حالیہ کشیدگی کے دوران فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس میں نوجوانوں، خواتین اور صحافیوں سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

    ہماری ساتھی سارہ عتیق اس مظاہرے کی کوریج کے لیے پریس کلب میں موجود تھیں۔ مظاہرے میں شریک نوجوانوں نے بتایا کہ انھیں ’سوشل میڈیا کے ذریعے اس مسئلے کے حوالے سے خاص آگاہی ہوئی جس کی وجہ سے وہ یہاں موجود ہیں۔

    مظاہرین نے فلسطین کے جھنڈے اور اس کے حق میں نعرے بلند کیے جبکہ مقررین نے اسرائیل اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    مظاہرین نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف مذمتی بیانات جاری نہ کریں بلکہ فلسطینیوں کی جدوجہد میں ان کی مدد کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔

    شرکا نے اظہار یکجہتی کے لیے عربوں کا روایتی رومال کیفیہ پہن رکھا تھا جبکہ فلسطین کا قومی ترانہ بجانے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعا بھی کی گئی۔

    خیال رہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت 200 فلسطینی ہلاک اور 1200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ حماس کے جوابی راکٹ حملوں کے نتیجے میں 10 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

  11. اسرائیلی سفارتکار: ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے‘

    اسرائیلی سفارت کار مارک ریگیو نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے۔‘

    ریگیو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سینیئر مشیر ہیں اور برطانیہ میں اسرائیل کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے مسائل کا حل کیسے نکلے گا، اگر حماس اگلے ماہ اسرائیل پر راکٹ حملے کرتا ہے اور پھر ہمیں جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔‘

    ہمیں اس حوالے سے ایک حقیقی حل کی تلاش ہے، ہم اس تنازع سے نکل کر ایک عرصے تک امن کے خواہاں ہیں۔ اگر حماس کو فائر بندی کے ذریعے دوبارہ سے منظم ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم قبل از وقت فائر بندی کرتے ہیں تو اس سے حماس کو فتح حاصل ہو گی، اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر حماس اس تنازع سے مزید مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے برا ہے، یہ فلسطینیوں کے لیے بھی برا ہے، یہ امن کے لیے بھی برا ہے۔‘

  12. امریکہ کا اسرائیل سے غزہ میں الجلا ٹاور پر فضائی حملے کی ’وجوہات‘ بتانے کا مطالبہ

    امریکہ نے اسرائیل سے سنیچر کو غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت الجلا ٹاور پر فضائی حملے سے متعلق ’تفصیلات‘ اور اس حملے کی ’وجوہات‘ بتانے کا مطالبہ کیا ہے جس میں دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں سمیت اسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ کے دفاتر بھی تھے۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے کوپنہیگن میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ انھوں نے اب تک اسرائیلی حکام کی جابب سے اس حوالے سے شیئر کی جانے والی کوئی معلومات نہیں دیکھیں، تاہم انھوں اس حملے کی قانونی حیثیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  13. غزہ پر اسرائیلی بمباری ’انتہائی تباہ کن‘ ثابت ہوئی: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز

    ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے غزہ میں تعینات سربراہ ہیلن اوٹنز پیٹرسن نے کہا ہے کہ غزہ پر گذشتہ ایک ہفتے سے ہونے والی بھاری بمباری ایک ’سانحہ‘ بن چکی ہے۔

    ان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سڑکیں، پانی، اور بنیادی ضروریات سے منسلک دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس سے اس علاقے میں پہلے سے ہی کمزور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتالوں تک رسائی اب انتہائی مشکل ہو چکی ہے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے چاہنے والوں کو سٹریچرز پر اٹھا کر ہسپتالوں تک لا رہے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ غزہ کے پاور پلانٹ میں تیل کی جلد کمی ہونے والی ہے۔ اس کا صحت کے نظام پر بہت برا اثر پڑے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یہاں موجود عام شہریوں کی حفاظت کے لیے فکرمند ہیں اور ہمیں بڑھتی ہلاکتوں اور صحت کے نظام پر موجود دباؤ کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔‘

    اوٹینز پیٹرسن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اس وقت غزہ میں لوگ ذہنی طور پر شدید دباؤ میں ہیں۔ میری یہاں موجود سٹاف اور طبی عملے سے فون پر بات ہوئی ہے اور وہ اس وقت اس دباؤ کو سہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

  14. بریکنگ, امریکہ کو ’پرتشدد حملوں پر شدید تشویش ہے‘

    امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے ڈینمارک کے دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطینیوں سے عام شہریوں کو اس تنازع کے دوران نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو اس بڑھتی کشیدگی اور سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے علاوہ بچوں کو ملبے سے باہر نکالنے جیسی خبروں پر شدید تشویش ہے۔‘

    ’ہمیں اس حوالے سے بھی خدشہ ہے کہ کیسے صحافیوں اور طبی عملے کو اس دوران خطرات کا سامنا ہے۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو کسی بھی دوسرے ملک کی طرح حفاظت سے جینے کا حق ہے۔‘

    انھوں نے دونوں اطراف کو عام شہریوں، خاص کر بچوں کو محفوظ رکھنے کا کہا ہے اور انھوں نے زور دیا کہ ’اس کی اضافی ذمہ داری اسرائیل پر اس لیے ہے کیونکہ وہ ایک جمہوریت ہے۔‘

    انھوں نے کوپنہیگن میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ’ہم سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اس کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

    ’اگر دونوں اطراف سے فائر بندی کی خواہش کا اظہار ہو تو ہم مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

  15. اسرائیل فلسطین تنازع دوسرے ہفتے میں داخل

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر آج پھر بھاری بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت 200 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں اور 1200 سے زیادہ زخمی ہیں جبکہ حماس کے جوابی راکٹ حملوں کے نتیجے میں 10 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

    غزہ اور اسرائیل میں بنائی جانے والی کچھ تازہ ترین تصاویر یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

  16. بریکنگ, حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ فائر، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات

    جنوبی اسرائیل کے مختلف مقامات پر خطرے کے سائرن سنائی دیے گئے جب عکسریت پسند گروپ حماس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق راکٹوں کے حملوں سے کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں ج ب حماس کے راکٹ اشدود شہر میں جا گرے۔

    حماس کے مسلح ونگ نے کہا کہ اسرائیل پر راکٹ سے حملہ پیر کی صبح اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیرشیبا، اشدود اور اشکیلون میں سائرن کی آواز سنائی دی گئی ہے۔

  17. اسرائیل غزہ تنازع: حماس کے ہتھیاروں کی طاقت اور کمزوریاں کیا ہیں؟, جوناتھن مارکس، خارجہ امور تجزیہ کار

    اگرچہ اسرائیل اور غزہ پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں دونوں جانب تباہی اور ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر اس لڑائی میں دونوں فریق برابری کے نہیں ہیں۔

    اسرائیل کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ اس کے پاس فضائیہ ہے، مسلح ڈرون ہیں، انٹیلیجنس جمع کرنے کے نظام ہیں اور وہ جب چاہے غزہ پٹی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ صرف ان مقامات کو نشانہ بناتا ہے جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاہم فلسطینی علاقوں کی گنجان آبادی کی وجہ سے عام شہریوں کی اموات نہ ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

    حماس اور اسلامک جہاد اگرچہ اس تنازع میں کمزور فریق ہیں تاہم ان کے پاس اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ہتھیار ہیں۔

    حماس کے اسلحے اور اس کی قابلیت اور صلاحیت کے بارے میں جاننے کے لیے جوناتھن مارکس کا یہ مضمون پڑھیے۔

  18. بریکنگ, چھ سالہ فلسطینی بچی سوزی اشکنتانہ، جو اسرائیلی حملے میں زندہ بچ گئی

    اس فلسطینی خاندان کا گھر اتوار کی صبح اسرائیلی حملے میں تباہ ہو گیا۔ غزہ کے حکام کے کہنا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں 10 بچوں سمیت کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے۔

    ان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے اس مضمون پر کلک کریں۔

  19. آئرن ڈوم کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس نے 1500 راکٹ اسرائیل کی جانب داغے ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے فضا میں ہی تباہ کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے۔

    آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں۔

    اس نظام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  20. اسرائیل فلسطین تنازع: چین کی امریکہ پر تنقید

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کے روز کہا کہ انھیں بہت افسوس ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کو اس تشدد کے خلاف کھل کر بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

    وانگ یی نے اقوام متحدہ کے ورچوئل سیشن میں کہا ’یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ ایک ملک (امریکہ) کی وجہ سے سلامتی کونسل ایک آواز میں بولنے کے قابل نہیں ہے۔ ہم امریکہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔‘

    چین نے کہا کہ غزہ میں خونریزی روکنے کے لیے عالمی برادری کو مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

    امریکہ نے کیا کیا؟

    درحقیقت اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی ملک امریکہ نے گذشتہ ہفتے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے معاملے پر ہونے والی میٹنگ ملتوی کردی تھی اور اس بارے میں کوئی بیان دینے میں کوئی جوش و خروش ظاہر نہیں کیا تھا۔

    اسی دوران بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے ’پردے کے پیچھے‘ رہ کر کام کر رہی ہے اور اس مسئلے کا سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے بیان دینے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

    امریکی صدر بائیڈن نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ عکسریت پسند جماعت حماس حملوں کے جواب میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔

    دوسری طرف فلسطین کے حامی ممالک کا کہنا ہے کہ اپنے دفاع کا مطلب معصوم فلسطینی شہریوں پر حملہ نہیں ہے۔

    سلامتی کونسل نے کیا کہا؟

    دریں اثنا اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ تنازع بند نہ ہوا تو پورا خطہ ایک ’بے قابو بحران‘ میں الجھ جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اس اجلاس کے آغاز میں کہا ’غزہ میں تشدد بہت ہی خوفناک ہے اور یہ تنازع فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔‘