آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟, ریئلٹی چیک

    امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی جانب سے اس نوعیت کے سوالات کا سامنا ہے کہ امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد سالانہ دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔

    سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’ہمیں سالانہ قریب چار ارب ڈالر کی طرف غور سے دیکھنا چاہیے جو ہم اسرائیل کو بطور فوجی امداد دیتے ہیں۔‘

    سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی امداد دی تھی۔ یہ امداد اوباما انتظامیہ کے اس طویل مدتی وعدے کی تکمیل کا حصہ ہے جو سنہ 2028 تک جاری رہے گی۔

    کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق اس امداد کا اکثریتی حصہ فوجی معاونت کے لیے ہے۔ اس سے اسرائیل کا دفاعی نظام مضبوط کیا گیا ہے۔ اس پیسے کی مدد سے اسرائیل اب دنیا کی جدید ترین فوجوں میں سے ایک ہے۔

    اسرائیل نے اس پیسے کے ذریعے ایف 35 طیارے خریدے اور سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو میزائل کا دفاع کرنے والے نظام کے لیے 50 کروڑ ڈالر دیے۔ اس میں اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کے لیے سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو داغے گئے راکٹ حملوں کو روکتا ہے۔

    سنہ 2011 سے امریکہ نے اسرائیل کو آئرن ڈوم کے لیے 1.6 ارب ڈالر جاری کیے ہیں۔

    دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے امریکہ سے سب سے زیادہ غیر ملکی امداد وصول کی ہے۔

    دریں اثنا صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کے لیے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد بحال کر دی ہے جس سے فلسطینی پناہ گزین کی مدد کی جاتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ امداد 2018 میں روک دی تھی۔

  2. اسرائیل نے غزہ کے ساتھ سرحدی راستے بند کردیے, جوابی حملوں کے بعد امدادی کارروائیاں متاثر

    اسرائیل نے غزہ کے ساتھ سرحد پر واقع معبر كرم ابو سالم اور معبر بيت حانون کراسنگ کو بند کر دیا ہے۔

    ان سرحدی راستوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے کھولا گیا تھا تاہم ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے جنوبی اسرائیل میں حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک امدادی کارروائیوں کی ایک تنظیم او سی ایچ اے کے ترجمان جینس لائیرک کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے رضاکاروں کا غزہ داخل ہونا ’انتہائی ضروری‘ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’آئندہ دنوں میں امدادی سامان کی غزہ رسائی کو برقرار رکھا جائے اور غزہ میں نقل و حرکت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔‘

  3. اسرائیل فلسطین تنازع: 'خان یونس کے قصائی' یحییٰ السنوار کے گھر پر حملہ

  4. اسرائیلی وزیر دفاع: غزہ میں ہزاروں مزید اہداف نشانے پر ہیں

    اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ریڈار پر غزہ میں ’ہزاروں مزید اہداف ایسے ہیں جنھیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔‘

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’آئی ڈی یف کا منصوبہ یہ ہے کہ حماس پر حملے جاری رکھے جائیں اور یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم مکمل طور پر اور طویل دورانیے کے لیے امن قائم نہ کردیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ڈی ایف نے سرحدوں پر تعیناتیاں کر دی ہیں اور وہ تیار ہیں۔ اور اسرائیلی کے شہریوں یا اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے غیر ملکی عناصر کو تباہ کر دیا جائے گا۔‘

  5. غزہ میں تعمیر نو کے لیے مصر 50 کروڑ ڈالر کی امداد دے گا

    غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے انفراسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کے بعد مصر کا کہنا ہے کہ وہ یہاں تعمیر نو کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی امداد دے گا۔

    مصر کے صدر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ تعمیر نو کے لیے کمپنیوں کو وہاں رسائی فراہم کریں گے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانویل میکخواں سے ملاقات کی ہے۔

  6. اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب دو مزید ہلاکتوں کی اطلاع

    اسرائیلی طبی عملے کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب دو غیر ملکی افراد راکٹ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

    میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ دونوں مرد، جو 30 سال سے زیادہ عمر کے ہیں، زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے۔ وہ دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے۔

    بئر السبع کے شہر میں ایک دوسرے حملہ میں سات افراد زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک فرد تشویشناک حالت میں ہے۔

  7. ’فلسطین کی آزادی‘ کا نعرہ لگانے پر برطانوی پولیس اہلکار زیرِ تفتیش

    لندن میں ایک پولیس اہلکار نے احتجاجی مظاہرے کے دوران ’فری پیلسٹائن (فلسطین کی آزادی)‘ کا نعرہ لگایا جس کے بعد ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

    اہلکار کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم ان کی کئی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تھیں۔

    لندن پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ مثبت طریقے سے تعاون کریں تاہم انھیں اس (مظاہرے) میں حصہ لینے یا سیاسی موقف اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔‘

    اس میں مزید کہا گیا کہ ’پیشہ ورانہ معیار کے ڈائریکٹوریٹ کو مطلع کیا جاچکا ہے اور ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا مزید کارروائی مناسب ہوگی۔‘

  8. بریکنگ, ’جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملے سے 10 زخمی‘

    میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے علاقے ایشکول میں ایک راکٹ حملے میں 10 افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔

    اخبار ہاریٹز کے مطابق غزہ میں فلسطینی جنگجوؤں نے اس علاقے پر 50 راکٹ داغے جن میں سے ایک نے گودام کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرا ایک رہائشی علاقے کے قریب جا گِرا۔

    اس سے قبل طبی عملے نے بتایا تھا کہ غزہ کے قریب معبر بيت حانون کراسنگ پر مارٹر شیل سے ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں نے اس وقت حملہ کیا جب امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کراسنگ کو کھولا گیا تھا۔

  9. بریکنگ, غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف فلسطینیوں اور اسرائیلی عربوں کی جانب سے مکمل ہڑتال

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل کئی دن سے فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فلسطین اتھارٹی اور اسرائیلی عرب رہنماؤں نے مقبوضہ غرب اردن اور اسرائیل کے عرب علاقوں میں مکمل ہڑتال کی کال دی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند رہیں۔

    ہڑتال کی کال دینے والے منتظمین میں سے ایک عصام بکر نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’ہم ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ساتھ کھڑے ہیں یہ کہنے کے لیے کہ اب غزہ میں جارحیت کو بند کیا جائے۔ اور ہم ساتھ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مسجد الاقصی پر حملے بند کیے جائیں اور آبادکاری اور قبضوں کو بند کیا جائے اور فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے۔‘

    غزہ میں لڑائی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب چند روز قبل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس پرتشدد تنازع کا آغاز ہوا۔

    مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے میں فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں اور خدشات حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

    اس کے بعد آٹھ مئی کو مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں 53 فلسطینی زخمی ہوئے تھے۔

    اسرائیلی پولیس کی جانب سے جارحیت کے بعد عسکریت پسند گروہ حماس نے غزہ سے اسرائیلی شہروں کی جانب راکٹ داغنے شروع کر دیے جس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کا آغاز ہو گیا۔

  10. اندرونی اختلافات کے باوجود یورپی یونین کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبہ کی توقع

    توقع ہے کہ یورپی یونین منگل کو ہونے والے ایک ایمرجنسی ورچوئل اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین میں جاری پرتشدد واقعات کو روکنے کا مطالبہ کرے گی۔

    ای یو کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے اس سے قبل شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔

    لیکن اس تنازع کے حوالے سے ای یو میں خود اختلافات ہیں اور کئی ممبر ممالک اسرائیلی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور اس پر کئی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ان اختلافات کی وجہ سے ای یو کا اس تنازع کو حل کرنے میں کردار کم ہوگا۔

    دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر مصر کے صدر اور اردن کے بادشاہ کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو کریں گے۔

    توقع ہے کہ ان مذاکرات میں اسرائیل اور فلسطین میں عسکریت پسندوں کے مابین جاری جھڑپوں کو ختم کیے جانے کے بارے میں بات چیت ہوگی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتنیاہو سے فون پر بات کی تھی اور انھوں نے جنگ بندی کے مطالبے کی تائید بھی کی تھی۔

    صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ اس حوالے سے مصر اور دیگر ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں۔

    تاہم دوسری جانب امریکہ نے ایک ہفتے کے دوران تیسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش کی گئی قرار داد کو ویٹو کر کے بلاک کر دیا۔

    اس کے علاوہ امریکی اخبار واشنٹگن پوسٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے 735 ملین ڈالر مالیت کے جدید اسلحے کی فروخت کی منظوری دی ہے اور امریکی کانگریس کو اس حوالے سے باضابطہ تصدیق پانچ مئی کو کی گئی تھی۔

  11. ’اسرائیلی حملوں میں شہری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے‘

    فلسطین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ شب ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں نے غزہ کی پٹی میں شہری عمارتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مغربی حصے میں واقعے علاقے میں اپنے حملوں سے سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور مختلف اضلاع میں بھی حملے کیے۔

    خبر کے مطابق شہریوں کے گھروں پر 50 سے زیادہ حملے کیے گئے تاہم حکام نے کہا کہ ان میں کسی کی موت نہیں ہوئی۔

    واضح رہے کہ پیر کو رات گئے اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ کرنے والی واحد لیب کو تباہ کر دیا گیا اور ہلال احمر کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

  12. اسرائیلی حملوں نے حماس کی سرنگیں تباہ کر دی ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی افواج نے مقامی میڈیا کو گذشتہ شب کیے جانے والے حملوں سے آگاہ کیا ہے جس میں ان کا دعوی تھا کہ حملوں کی مدد سے عسکریت پسند گروہ حماس کے ’میٹرو‘ نامی سرنگوں کے نیٹ ورک میں 10 سے 15 کلومیٹر کی سرنگوں کو تباہ کر دیا گیا۔

    فوجی ترجمان بریگیڈئیر ہدائی زلبرمین نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے 60 جنگی جہازوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔

    اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق انھوں نے کہا: ’ہمیں زیر زمین اس نیٹ ورک کے بارے میں علم ہے اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس میں داخلی راستے کہاں کہاں ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں کی مدد سے انھوں نے حماس کے جنگجوؤں کو مجبور کیا ہے کہ وہ زیر زمین سرنگوں کے بجائے اوپر آ کر جنگ کریں۔

    انھوں نے مزید دعوی کیا کہ آٹھ روز قبل شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک حماس کے 150 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 212 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جس میں سے 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔

    ایک اور اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ترجمان زلبرمین نے کہا کہ ان کی فوج حماس کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور جب اس آپریشن کا ماحول سازگار ہو جائے گا تو انھیں اپنی کامیابی کی امید ہے۔‘

  13. بریکنگ, روسی صدر پوتن کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ان بڑھتی ہوئی آوازوں میں اپنی آواز شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازع میں جاری کشیدگی اور پر تشدد واقعات کو فوراً روکا جائے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انھی واقعات کی وجہ سے ’ بڑی تعداد میں پر امن افراد کی جانیں گئی ہیں جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔‘

    ’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں فریقین کی جانب سے پرتشدد اقدامات کو بند ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل ڈھونڈنا چاہیے۔‘

  14. ’ان حملوں سے غزہ کی عمارتیں ایسے ہل گئیں جیسے کوئی زلزلہ آیا ہو‘

    بی بی سی کے غزہ میں نامہ نگار رشدی ابوالاعوف گذشتہ شب ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بارے میں سلسلہ وار ٹویٹس کر رہے تھے جس میں اسرائیل نے غزہ پر 60 سے زیادہ حملے کیے۔

    عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے اسرائیل ہر 90 راکٹس داغے گئے۔

  15. غزہ میں گذشتہ شب کیے گئے اسرائیلی حملوں میں ایک بھی موت نہیں ہوئی: محکمہ صحت

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ دس مئی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں گذشتہ شب پہلا موقع تھا جب کسی فلسطینی کی موت نہیں ہوئی۔

    غزہ کے رہائشیوں کے مطابق گذشتہ شب اسرائیل کی جانب سے 60 حملوں کیے گئے۔

    روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسی اثنا میں اسرائیل پر کیے گئے راکٹ حملوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی طاقتیں غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششیش کر رہی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مرکزی ترجمان بریگیڈئیر جنرل ہدائی زلبرمین نے کہا کہ ان کی فوج غزہ آپریشن کم از کم اگلے 24 گھنٹوں تک جاری رکھیں گی اور ان کے پاس مخصوص اہداف کی فہرست موجود ہے۔

    آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی فوج جنگ بندی کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہی اور ان کی تمام تر توجہ حملوں پر ہے۔‘

  16. بریکنگ, غزہ گوگل پر دھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟

  17. بریکنگ, اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں کووڈ 19 ٹیسٹنگ کرنے والی واحد لیب تباہ، ہلال احمر کا دفتر بھی متاثر

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حملوں کے نتیجے میں وہاں کووڈ کی ٹیسٹنگ کے لیے قائم کی گئی واحد لیبارٹری تباہ ہو گئی ہے۔

    غزہ کی پٹی میں دنیا بھر میں کووڈ کی مثبت شرع دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی شرح میں سے ہے اور اس وقت وہاں کیے گئے ٹیسٹس میں سے 28 فیصد مثبت آ رہے ہیں۔

    اس تازہ ترین حملے کے نتیجے میں ہلال احمر کا دفتر بھی متاثر ہوا ہے۔

    غزہ کی پٹی میں موجود ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں اور اس علاقے میں گذشتہ 15 سالوں سے اسرائیلی پابندیاں عائد ہیں اور سہولیات کی شدید کمی ہے۔

    غزہ کی رہائشی روبا ابو ال عوف نے کہا کہ وہ ایک سخت رات کے لیے تیار ہیں۔

    ’ہمارے پاس اور کچھ کرنے کو ہے ہی نہیں بس گھر پر بیٹھنے کے علاوہ۔ موت کبھی بھی آ سکتی ہے۔ یہاں ہونے والے بمباری بہت زیادہ ہے اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس پر کی جا رہی ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی بمباری کے بعد اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 2500 کے اپنے مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔

    غزہ میں معیشت پر تحقیق والے ادارے پال تھنک سے منسلک عمر شعبان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’بدقسمتی سے گذشتہ نو دنوں سے ہر رات کو حالات میں خرابی بڑھ جاتی ہے۔ اتنے سارے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ صرف دو منٹ میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے۔ اتنی ساری عمارتیں تباہ ہو گئیں اور ہزاروں لوگوں کو اپنے مکانات سے دربدر ہونا پڑا ہے۔

    اب تک کم از کم 50 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور سرحد بند ہونے کے باعث یہاں پر بجلی بھی نہیں ہے۔‘

  18. اسرائیل اور فلسطین کی حالیہ کشیدگی کے دوران کون سا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے؟

    غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف بہت سے ممالک نے اپنی آواز بلند کی ہے اور فی الفور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ایسے بھی کئی ممالک ہیں جو اسرائیل فلسطین تنازع میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں اور وہ حماس کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو جائز قرار دیتی ہیں۔

  19. عاصمہ شیرازی کا کالم: فلسطین۔۔۔ اوہ، آئی سی!

  20. غزہ میں اموات کی تعداد میں اضافے کے باوجود اسرائیلی فوج کا اپنی حکمت عملی کا دفاع, پال ایڈمز، نامہ نگار برائی سفارتی امور، یروشلم

    بین الاقوامی سطح پر غزہ میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ اسرائیل بھی اپنے فیصلوں کی توجیہات پیش کر رہا ہے۔

    ڈھیروں بریفنگ میں سینئر فوجی اہلکار اپنے حملوں کے اہداف اور اُن کو حاصل کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن پیش کر رہے ہیں۔

    لیکن یہ آپریشن کب تک چکے گا؟ ایک فوجی افسر کے مطابق صورتحال کافی عرصے تک ایسی ہی رہ سکتی ہے۔

    اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو اسرائیل کے مطابق پہلے ہفتے میں اس کی فوج نے 820 مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہیں میں سے کچھ پر بار بار بمباری کی گئی۔

    اس کے برعکس گذشتہ ایک برس میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں 180 اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

    جواب میں حماس اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں نے اسرائیل کی جانب 3150 سے زیادہ راکٹ چلائے۔ اس کے برعکس 2019 میں غزہ سے اسرائیل کی جانب کُل 2045 داغے گئے تھے۔

    اسرائیل کا آپریشن گارڈیئن آف دی والز یعنی دیواروں کے محافظ حماس کی بنائی گئی سرنگوں سے شروع ہوا تھا، جو اسرائیلی سرحد کے قریب کھلتی ہیں۔

    سرنگوں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر اسرائیلیوں کے گھر ہیں اور ان آبادیوں کے دفاع کو جواز بناتے ہوئے یہ آپریشن شروع کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہون ےوالے قریباً دو سو فلسطینیوں میں سے 130 افراد عکسریت پسند تھے، اور یہ ان کے مطابق ایک بہت ’احتیاط سے دیا گیا اندازہ ہے۔‘

    یہ تعداد یقینی طور پر فلسطینی صحت حکام کی جانب سے دی گئی تعداد سے کہیں کم ہے جس کا کنٹرول غزہ میں حماس کے پاس ہے۔ ان کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں میں سے سو سے زیادہ بچے اور خواتین کی ہلاکت ہوئی ہے لیکن وہ کبھی بھی جنگجوؤں کے بارے میں نہیں بات کرتے۔

    اسرائیل یہ تسلیم کرتا ہے کہ غزہ کے شہری متاثر ضرور ہو رہے ہوں گے لیکن اس کا ذمہ دار وہ حماس کو ٹھیراتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ شہری علاقوں سے اپنے آپریشن کر رہے ہیں۔