امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟, ریئلٹی چیک
امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی جانب سے اس نوعیت کے سوالات کا سامنا ہے کہ امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد سالانہ دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’ہمیں سالانہ قریب چار ارب ڈالر کی طرف غور سے دیکھنا چاہیے جو ہم اسرائیل کو بطور فوجی امداد دیتے ہیں۔‘
سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی امداد دی تھی۔ یہ امداد اوباما انتظامیہ کے اس طویل مدتی وعدے کی تکمیل کا حصہ ہے جو سنہ 2028 تک جاری رہے گی۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق اس امداد کا اکثریتی حصہ فوجی معاونت کے لیے ہے۔ اس سے اسرائیل کا دفاعی نظام مضبوط کیا گیا ہے۔ اس پیسے کی مدد سے اسرائیل اب دنیا کی جدید ترین فوجوں میں سے ایک ہے۔
اسرائیل نے اس پیسے کے ذریعے ایف 35 طیارے خریدے اور سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو میزائل کا دفاع کرنے والے نظام کے لیے 50 کروڑ ڈالر دیے۔ اس میں اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کے لیے سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو داغے گئے راکٹ حملوں کو روکتا ہے۔
سنہ 2011 سے امریکہ نے اسرائیل کو آئرن ڈوم کے لیے 1.6 ارب ڈالر جاری کیے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے امریکہ سے سب سے زیادہ غیر ملکی امداد وصول کی ہے۔
دریں اثنا صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کے لیے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد بحال کر دی ہے جس سے فلسطینی پناہ گزین کی مدد کی جاتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ امداد 2018 میں روک دی تھی۔