اسرائیلی وزیر
اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے نو روزہ حملوں نے ’حماس کی
صلاحیتوں کو کئی سالوں تک کمزور کر دیا ہے۔‘
اسرائیلی
وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف حملے اس وقت تک
جاری رہیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کو حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔
دریں اثنا ،
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں اور توپخانے
سے حملے جاری ہیں جبکہ حماس کی طرف سے بھی اسرائیل میں راکٹ اور مارٹر گولوں سے
جوابی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اطلاعات کے
مطابق منگل کی رات اسرائیلی شہر اشدود اور اسقلان پر راکٹ حملے کیے گئےہیں۔
اس سے قبل جنوبی
اسرائیل میں فلسطینی حملوں میں دو تھائی باشندے ہلاک جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی
پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چار فلسطینی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری طرف
تنازعے کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں ہیں۔
فرانس نے مصر
اور اردن کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کیا
ہے جس میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکہ نے
ابھی تک سلامتی کونسل کی قرارداد کے مشترکہ اعلامیہ کو روک رکھا ہے لیکن اس نے اور یوروپی یونین
نے خطے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل نے
منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں حماس اور اسلامی جہاد کے کم از کم 150
ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔
غزہ کی پٹی
کو کنٹرول کرنے والے حماس نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد کا اعلان نہیں
کیا ہے۔
غزہ کے صحت
کے حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 215 افراد ہلاک ہوئے ہیں ، جن میں
100 خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے راکٹ
حملوں میں دو بچوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ
کا کہنا ہے کہ غزہ میں 52،000 افراد بے گھر ہوگئے ہیں ، ان میں سے بیشتر سکولوں میں
رہائش رکھنے پر مجبور ہیں۔