لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی
طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔
لائیو کوریج
کوئی اکیلا فریق افغانستان کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا: گلبدین حکمت یار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار
نے کہا کہ ملکی حالات اچھے نہیں ہیں لیکن اگر تمام فریق مل جل کر کام کریں تو ہم حالات
کو سنبھال سکتے ہیں اور کوئی ایک فریق اکیلے اس پورے مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہی کچھ ہمیں طالبان کی جاب سے بھی
سننے میں آ رہا ہے۔
تاہم انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے
کہ امریکہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت نہیں چاہتا اور شاید وہ اس وجہ سے یہاں
کی حکومت کو کچھ عرصے تک تسلیم بھی نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ چند ممالک نے مثبت اشارے
دیے ہیں اور دباؤ ڈالنے کے بجائے وقت دینے کا کہا ہے۔
’انڈیا کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ وہ یقین دلائیں کہ اب وہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے‘
،تصویر کا ذریعہSocial Media
گلبدین حکمت یار نے پریس
کانفرنس میں انڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اخلاقی اور سیاسی ذمے
داری یہ تھی کہ وہ دنیا کو اور افغانستان کو یقین دلائیں کہ وہ اب افغانستان کے
معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے لیکن بجائے ایسا کرنے کے، انھوں نے تو ایک جنگجو
گروپ کی حمایت کرنی شروع کر دی۔
افغان مجاہدین کے سابق
کمانڈر نے کہا کہ ماضی میں بھی جب سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی تو اس
وقت بھی انڈیا نے سویت یونین کا ساتھ دیا تھا اور ہم توقع کرتے ہیں کہ انڈیا بھی
پاکستانی وزیر اعظم کی طرح اس بات کی معافی مانگے جس میں عمران خان نے تسلیم کیا
کہ امریکہ کی جنگ میں حصہ بننا ایک غلطی تھی۔
گلبدین حکمت یار نے کہاں کہ
لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک سابق انڈین فوجی
افسر کھلے عام احمد مسعود کے جنگجو گروہ کو مسلح کرنے کی باتیں کر رہا ہے اور وہ ایسا
کرنے سے اجتناب برتیں۔
انھوں نے ناٹو افواج کی
مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بھی اتنی فوجی یہاں تھے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا اور
ہمارا مشورہ یہ ہے کہ جنگ اور اس قسم کی حمایت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
پنجشیر میں موجود افغان طالبان مخالف جنگجؤں کا حوالہ دیتے
ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہاں کہ چند امریکی قانون ساز اُن جنگجوؤں کی ابھی بھی
حمایت کر رہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید امریکہ ابھی بھی افغانستان سے
جانا نہیں چاہتا اور اس کی خواہش ہے کہ کسی طرح سے جنگ کو طوالت دے۔
’دنیا نے افغانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں لیکن انڈیا نے مجھے واپس بھیج دیا‘
افغان عوام چاہتی تھی کہ غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں اور ایسا ہو گیا: گلبدین حکمت یار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان کے
آنے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار کہتے ہیں کہ افغان
عوام ان تبدیلیوں سے خوش ہیں اور وہ اس کے خواہشمند تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ
غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں اور یہ ہو گیا۔
’اب شکر ہے
کہ ایسا ہو گیا ہے اور سوائے پنجشیر کے پورے ملک میں امن ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ افغانستان پر
جنگ باہر سے مسلط کی گئی تھی اور بیرونی قوتیں نہیں چاہتی تھیں کہ پر امن طریقے سے
اقتدار کی منتقلی نہ ہو اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ جنگ ختم ہو لیکن اب ان کا
ایجنڈا ناکام ہو گیا۔
گلدبین حکمت یار نے پریس
کانفرنس میں کہا کہ طالبان نے کابل شہر میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا لیکن
اشرف غنی کے چلے جانے کے بعد انھیں موقع ملا جس کے بعد وہ شہر میں داخل ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ طالبان
کو امریکیوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کسی قسم کا خون خرابہ نہیں
ہو گا اور انھوں نے بھی طالبان کو یہی مشورہ دیا تھا کہ کابل داخل ہونے میں مسلح
جنگجوؤں کو وہاں نہ بھیجا جائے، اہم حالات نے انھیں مجبور کیا اور وہ شہر میں داخل
ہوئے اور حالات کو قابل میں کیا۔
یقین ہے طالبان خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق دیں گے بلکہ ان کا تحفظ بھی کریں گے: گلبدین حکمت یار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلبدین حکمت یار نے افغانستان
سے باہر جانے والے شہریوں اور خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ
باہر جانا چاہتے ہیں تو وہ ان کی اپنی مرضی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب بھی وہ
غیر ملکیوں سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے خواتین کو کپڑوں کے علاوہ اور کیا دیا ہے تو
ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
گلبدین حکمت یار نے کہا کہ
انھیں اس بات کا یقین ہے کہ طالبان خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق دیں گے بلکہ ان کا
تحفظ بھی کریں گے اور انھوں نے بھی طالبان کو مشورہ دیا تھا کہ خواتین کو شریعت کی
رُو سے کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔
اسی حوالے سے مزید بات کرتے
ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم مغرب کے ’غیر اخلاقی تعلقات‘ کے خلاف ہیں اور اسلام نے
مرد اور عورت کے لیے لباس اور ان کے حقوق کا تعین کیا ہوا ہے اور انھیں وہ حقوق
پورے ملنے چاہیے۔
بریکنگ, افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو: گلبدین حکمت یار
،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں حزب اسلامی کے
رہنما اور ماضی میں روس کے خلاف جنگ لڑنے والے مجاہدین کی قیادت کرنے والے گلبدین
حکمت یار نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین
الاقوامی برادری کو منظور ہو۔
کابل میں ایک پریس کانفرنس
سے بات چیت کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ غیر ملکی لوگ افغانستان میں اپنی
مرضی کی حکومت لانا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ طالبان پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دے
رہے ہیں اور کہہ رہے کہ ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہ ایسا اس
لیے کر رہے ہیں کہ وہ ’اپنے لوگوں‘ کو حکومت میں لانا چاہتے ہیں لیکن ہماری خواہش
ہے کہ افغان عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرے اور اس بات کو مد نظر رکھے کہ ان کے
مذہبی اور قومی اقدار کیا ہیں۔
گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ان
کی جماعت طالبان کی حمایت کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ دیگر ممالک افغانستان پر
پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔
انھوں نے کابل ایئرپورٹ کے
حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری اس
کے پاس ہونی چاہیے جو افغانستان کے بارے میں بری نیت نہ رکھتا ہو تاکہ ہم
دنیا کے لیے کھلے رہیں اور اس طرح ہماری نقل و حرکت بند نہیں ہو گی۔
’طالبان نے پنجشیر میں انٹرنیٹ، ٹیلی کام سہولیات منقطع کر دی ہیں‘
بی بی سی نیوز کی اینکر
یلدا حکیم نے مقامی ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹر پر خبر دی ہے کہ طالبان نے پنجشیر
صوبے میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سہولیات کو منقطع کر دیا ہے۔
خبروں کے مطابق کابل کے
شمال میں واقع پنجشیر ملک کا واحد صوبہ ہے جو اس وقت طالبان کے
قبضے میں نہیں ہے اور ملک میں موجود بیشتر طالبان مخالف رہنما اس وقت وہیں قیام
پذیر ہیں۔
طالبان کے پہلے دورِ حکومت
میں بھی پنجشیر طالبان مزاحمت کا مرکز تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’ہم مل جل کر مذاکرات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان رہنماؤں کا ایک گروپ
طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اگلے چند ہفتوں میں آپس میں ملاقات کرنے کی
تیاری کر رہا ہے تاکہ طالبان سے نئی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کر سکے۔
افغانستان کے شمالی صوبے بلخ
کے سابق گورنر عطا نور محمد کے بیٹے خالد نور نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات
کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گروپ میں ازبک عسکری رہنما عبدالرشید دوستم سمیت طالبان
مخالف رہنما شامل ہیں۔
’ہم لوگ مل جل کر مذاکرات
کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ افغانستان کے مسائل کوئی ایک شخص نہیں حل کر سکتا۔
اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کی پوری سیاسی کمیونٹی ساتھ بیٹھے ، بالخصوص
وہ روایتی رہنما، جنھیں عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔‘
عطا نور اور عبدالرشید
دوستم افغانستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے جاری لڑائیوں میں شامل رہے ہیں اور اگست
میں جب طالبان نے مزار شریف شہر پر قبضہ کر لیا تو دونوں رہنما لڑائی کیے بغیر ملک
چھوڑ کر بھاگ گئے۔
27 سالہ خالد نور نے کہا کہ
مذاکرات ناکام ہونے کا ’بڑا خدشہ‘ ہے اور ان کا گروہ طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت
کرنے کے لیے تیاری شروع کر چکا ہے۔ ’ہتھیار ڈالنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعطا نور (دائیں جانب) اور عبدالرشید دوستم (بائیں جانب) - فائل فوٹو
افغانستان سے ریسکیو مشن میں نکالے گئے دو کھلاڑی پیرالمپکس میں شرکت کرنے ٹوکیو پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان سے تعلق رکھنے
والے دو کھلاڑی جاپان میں معذور کھلاڑیوں کے لیے جاری پیرالمپکس میں شرکت کرنے ٹوکیو
پہنچ گئے ہیں۔
انٹرنیشنل پیرالمپکس کمیٹی
(آئی پی سی) کے عہدے دار نے جاپان کی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان
دونوں کھلاڑیوں کو افغانستان سے بچا کر نکالنا اور پھر ان کھیلوں میں شرکت کرنے
جاپان پہنچانا اور یہاں خوش آمدید کرنا ’بہت ہی جذباتی‘ لمحہ تھا۔
ان کھلاڑیوں میں ایک خاتون
ٹائی کوانڈو کھلاڑی ذکیہ خدادی اور دوسرے ٹریک اینڈ فیلڈ کھلاڑی حسین رسولی ہیں۔
ان دونوں کھلاڑیوں کو گذشتہ
ہفتے افغانستان سے نکالا گیا تھا اور وہ ہفتے کی شام ٹوکیو بذریعہ پیرس پہنچے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق یہ
دونوں کھلاڑی اب اولمپکس ولیج میں قیام پذیر ہیں اور اپنے کھیلوں کے لیے تیاری کر
رہے ہیں۔
آئی پی سی کے صدر اینڈریو
پارسنس نے ایک بیان میں کہا کہ ذکیہ اور حسین اپنے خواب کی تکمیل کرنے اب ٹوکیو
میں موجود ہیں اور دنیا بھر میں لوگوں کو امید کا پیغام دے رہے ہیں۔
آئی پی سی کے ترجمان کریگ
سپینس نے مزید بتایا: ’ان سے ملاقات بہت ہی جذباتی تھی۔ اس کمرے میں موجود ہر کسی
کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ بہت ہی زبردست میٹنگ تھی۔‘
واضح رہے کہ آئی پی سی نے
پہلے کہا تھا کہ وہ ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹوکیو تک نہیں پہنچا سکیں گے لیکن اس کے
بعد متعدد ممالک کی حکومتوں اور مختلف تنظیموں نے ایک ’مشترکہ عالمی آپریشن‘ کیا
تاکہ ان دونوں کی مدد کی جا سکے اور انھیں ٹوکیو تک پہنچایا جا سکے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
’طالبان کہتے ہیں نوکریوں پر جائیں لیکن جب لوگ کام پر جاتے ہیں تو اُنھیں واپس بھیج دیتے ہیں‘
انخلا کا امریکی آپریشن بھی تکمیل کے نزدیک، ’شہریوں کے انخلا کا عمل اتوار کو مکمل ہو جائے گا‘
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان سے شہریوں کے انخلا کے عمل کا سلسلہ اب اپنے
اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور امریکی افواج کی جانب سے کابل ایئرپورٹ میں
موجود ہزار سے سے زیادہ شہریوں کو لے جانے والی آخری پرواز اتوار کو روانہ ہو جائے
گی۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے نام نہ
ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آپریشن کے اختتام کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی
ہے تاہم امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔
سکیورٹی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ حکام کی پوری کوشش ہے
کہ ہر غیر ملکی شہری اور وہ جو خطرات کا شکار ہیں انھیں نکال لیا جائے اور اس کے
بعد فوجییوں کے انخلا کا عمل شروع ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو ہفتے
کو بتایا تھا کہ اب ایئرپورٹ پر چار ہزار سے کم فوجی رہ گئے ہیں۔
برطانوی فوجی، سفارتی عملہ انخلا کے آپریشن کے بعد وطن کے لیے روانہ
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں دو دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد
برطانوی فوجی دستے اور سفارتی عملہ ہفتے کی شب وطن کے لیے واپس روانہ ہو گیا ہے۔
شہریوں اور اتحادیوں کے انخلا کے لیے تقریباً دو ہفتے سے
جاری ’آپریشن پٹنگ‘ دوسری جنگِ عظیم کے بعد لوگوں کو متاثرہ علاقے سے نکالنے کے
لیے برطانیہ کا سب سے بڑا آپریشن تھا۔
آپریشن پٹنگ کی تکمیل کے لیے برطانیہ نے ہزار سے زیادہ فوجی
اور سفارتی عملہ افغانستان بھیجا تاکہ وہاں موجود برطانوی اور افغان شہری اور دیگر
اتحادی ممالک کے شہریوں کو نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کر لیا تھا
جس کے بعد شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔
اس آپریشن میں 15 ہزار سے زیادہ افراد کو بحفاظت نکالا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے رات گئے ٹوئٹر پر اپنے
پیغام میں کہا کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا مشن نہیں دیکھا اور میں اس میں مدد
کرنے والے تمام افراد کا مشکور ہوں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے افغانستان
میں فوجی موجودگی نے دو دہائیوں سے القاعدہ کو برطانیہ سے دور رکھا اور آج وہ اسی وجہ
سے محفوظ ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ آپریشن پٹنگ میں افغانستان سے نکالے
جانے والے افراد میں 2200 کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔
برطانیہ نے اس آپریشن میں پانچ ہزار برطانوی شہری اور ان کے
خاندان والوں کو نکالا جبکہ اس کے علاوہ برطانیہ کے لیے کام کرنے والے آٹھ ہزار سے
زیادہ افغان شہری اور ان کے خاندان والوں کو بھی برطانیہ لے جایا گیا جن کے بارے
میں خدشہ تھا کہ طالبان انھیں نشانہ بنائیں گے۔
آمنہ مفتی کا کالم: کابل، شہر افسوس!
غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار
،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان پر قبضہ حاصل کرنے والے طالبان کے ترجمان ذبیح
اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ وہ امریکیوں کے اشارے کے منتظر ہیں جس کے بعد وہ کابل کے
فضائی اڈے کا مکمل طور پر انتظام سنبھال لیں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان
کے پاس ٹیکنیکل ماہرین اور انجنئیرز کی ٹیم موجود ہے جو ایئرپورٹ کا نظام چلا سکتی
ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتے کو مزید بتایا کہ طالبان نے
افغانستان کے 34 میں سے 33 صوبوں کے گورنر اور پولیس سربراہان منتخب کر لیے ہیں اور بہت جلد
ملک کی معاشی حالات کو حل کرنے کے لیے کام شروع کر دیں گے۔
کابل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے کا خدشہ، امریکی شہریوں کو علاقہ چھوڑ دینے کی ہدایت
امریکہ نے سنیچر کو کابل ایئرپورٹ کے نزدیک ایک اور حملے کے ’مخصوص اور قابلِ اعتبار‘ خدشے کے تحت اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اُس علاقے سے دور ہو جائیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے ایک سیکیورٹی الرٹ میں شہریوں کو ایئرپورٹ سے دور ہو جانے کی ہدایت کی۔
اپنے سیکیورٹی الرٹ میں سفارت خانے نے ایئرپورٹ کے جنوبی (ایئرپورٹ سرکل) گیٹ، وزارتِ داخلہ گیٹ اور شمال مغربی جانب واقع پنجشیر پیٹرول سٹیشن گیٹ کے حوالے سے موجود خطرات کا ذکر کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے صدر جو بائیڈن کہہ چکے تھے کہ اُن کے ملٹری کمانڈرز نے اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں نئے حملے کے خدشے کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ صورتحال اب بھی ’نہایت خطرناک‘ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’والد کی ہلاکت سے بھی زیادہ صدمہ افغانستان چھوڑتے وقت ہوا‘
بریکنگ, اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ حملے جیسے ایک اور حملے کا امکان ہے، بائیڈن
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی ملٹری کمانڈرز کے مطابق اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکوں جیسی ایک اور ہلاکت خیز دہشتگردانہ کارروائی کا ’بلند امکان‘ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملنے والی بریفنگ کے بعد بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے دولتِ اسلامیہ خراسان کے خلاف ہونے والا ڈرون حملہ آخری نہیں تھا۔
’زمینی صورتحال اب بھی انتہائی خطرناک ہے اور ایئرپورٹ پر مزید حملوں کا خطرہ بلند ہے۔ ہمارے کمانڈرز نے بتایا ہے کہ اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں ایک اور حملے کا بلند امکان ہے۔‘
واضح رہے کہ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
سنیچر کو پینٹاگون نے کہا کہ مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک ڈرون حملے میں دو ’اہم‘ افراد ہلاک ہوئیے ہیں جو پینٹاگون کے مطابق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی رسد اور نقل و حمل کے ماہرین تھے۔
’کمرشل پروازوں کی بحالی کے بعد افغان شہری باعزت طریقے سے بیرون ملک جاسکیں گے‘, طالبان کے ترجمان کا ٹویٹ
دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ڈپٹی ڈائریکٹر عباس ستانکزئی کا پیغام ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے جس میں ایسے افغان شہریوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ’ایسے افغان شہری جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں وہ پاسپورٹ اور ویزے جیسے قانونی دستاویزات رکھ کر باعزت طریقے اور ذہنی سکون کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں جب ملک میں کمرشل پروازیں بحال ہوجائیں گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
طالبان کی افغان سرزمین پر امریکی ڈرون حملے کی مذمت
،تصویر کا ذریعہEPA
طالبان نے مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکہ نے اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ خراسان گروہ کے دو رکن ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ یہ افغان سرزمین پر حملہ ہے۔‘
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ خراسان گروہ کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آئندہ کچھ گھنٹوں میں طالبان کابل ایئرپورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ نئی حکومت کو چلانے کے لیے اہلکاروں کا انتخاب کر رہے ہیں اور جلد ایک مکمل کابینہ کا اعلان کیا جائے گا۔
’افغانستان سے 117,000 افراد کو امریکہ لایا گیا‘
،تصویر کا ذریعہEPA
پینٹاگون کی جانب سے پریس بریفننگ کے دوران میجر جنرل ولیم ٹیلر نے اس حوالے سے بھی بتایا کہ اب تک کابل ایئرپورٹ سے کتنے افراد کو امریکہ لایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی شہریوں اور مستحق افغانوں کو کابل سے نکالنے کے لیے ہمارا آپریشن جاری ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ قریب 1400 افراد کو آج سکریننگ کے بعد پروازوں کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔
’جیسا کہ میں نے کل کہا، ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ ہم آخر تک افغانستان سے فوجی طیاروں پر لوگوں کو لاسکتے ہیں۔‘
میجر جنرل ٹیلر کے مطابق امریکہ اب تک ایک لاکھ 17 ہزار لوگوں کو افغانستان سے لاچکا ہے جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔