لوگوں کے انخلا کے معاملے پر طالبان سے بات چیت جاری ہے، میکخواں

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے معاملے پر طالبان سے بات چیت جاری ہے، تاہم یہ فرانس کی جانب سے طالبان کو ملک کا نیا حکمران تسلیم کرنے کا اشارہ نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ طالبان کو انسانی حقوق کی پاسداری کرنی ہو گی اور دہشتگردی کی مذمت کرنی ہو گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند روز میں فرانس سمیت کئی مغربی ممالک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ افغانستان سے غیر ملکیوں اور خطرے کے شکار افغانوں کو نکالنے کے معاملے پر گفتگو کر رہے ہیں۔
میکخواں نے عراق کے دورے پر ٹی ایف ون چینل سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں افغانستان سے انخلا کرنا ہے۔ کنٹرول طالبان کے پاس ہے۔ عملی نکتہ نظر سے ہمیں یہ بات چیت کرنی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُنھیں تسلیم کیا جائے گا۔‘
صدر میکخواں نے کہا کہ طالبان کو انسانی قانون کا احترام کرتے ہوئے پناہ کی شرائط پر پورے اترنے والے افراد کو جانے دینا ہو گا اور تمام دہشتگرد تحریکوں کے خلاف ’نہایت واضح مؤقف‘ اپنانا ہوگا۔
فرانس نے افغانستان سے تین ہزار لوگوں کو نکال کر اپنا انخلا کا مشن مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم صدر میکخواں کے مطابق اب بھی سینکڑوں یا ہزاروں لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جنھیں نکالا جانا ضروری ہے۔












