کیا کچھ خواتین کو وہ رنگ بھی نظر آتے ہیں جو دیگر لوگ نہیں دیکھ سکتے؟

انسانی آنکھ کا قریبی منظر جس پر چمکدار، کثیر رنگی نقش و نگار اوورلے کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRoberto Machado Noa via Getty Images

    • مصنف, ڈیزی سٹیفنز
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

فائن آرٹ کی استاد کونچیٹا اینٹیکو کا کہنا ہے کہ جب اُنھیں یہ احساس ہوا کہ اُن کے طلبہ وہ رنگ نہیں دیکھ سکتے جو وہ خود دیکھتی سکتی ہیں، تو وہ چونکے بنا نہ رہ سکیں۔

اینٹیکو کہتی ہیں کہ وہ روزمرہ کی چیزوں میں ’بے شمار رنگ‘ دیکھتی ہیں، جیسے کہ سائے میں، جہاں زیادہ تر لوگ صرف ایک ہی رنگ دیکھنے کی بات کرتے ہیں۔

وہ سمجھتی تھیں کہ ہر کوئی دنیا کو اسی طرح دیکھتا ہے جیسے وہ دیکھتی ہیں، لیکن بعد میں اپنے طلبہ سے بات کر کے ان پر واضح ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’میں نے بعد میں کسی سے پوچھا: آپ نے کبھی کچھ کہا کیوں نہیں؟ اس نے جواب دیا، آپ استاد ہیں۔ ہم نے بس یہ سمجھا کہ آپ کوئی فنکارانہ کام کر رہی ہیں۔‘

بعد میں اینٹیکو کو جینیاتی جائزے کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان میں ٹیٹراکرو میسی یعنی رنگ دیکھنے کی ایک بہتر صلاحیت کی حیاتیاتی استعداد موجود ہے، جو ممکنہ طور پر کسی فرد کو ایسے رنگ دیکھنے کی اجازت دے سکتی ہے جو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔

ایک اضافی قسم کا خلیہ

زیادہ تر لوگوں کی آنکھوں میں مخصوص خلیوں کی تین اقسام ہوتی ہیں جنھیں کونز کہا جاتا ہے۔

اس کی ہر قسم روشنی کی مختلف لہروں سے متحرک ہوتی ہے، جو تقریباً سرخ، سبز اور نیلے رنگ سے مطابقت رکھتی ہیں۔

اس کے بعد یہ خلیے اپنے سگنل دماغ کو بھیجتے ہیں اور ہم جو مخصوص رنگ دیکھتے ہیں وہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ دماغ کو مختلف کونز سے ملنے والے سگنلز کا مجموعہ کیا ہے۔

راڈ اور کون کی شکل کے خلیوں کی ایک قطار کی تصویر، جس میں اندرونی ساختوں کو مختلف رنگوں میں نمایاں کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہROGER HARRIS/SCIENCE PHOTO LIBRARY via Getty Images

،تصویر کا کیپشنراڈ اور کون کی شکل کے خلیوں کی ایک قطار کی تصویر، جس میں اندرونی ساختوں کو مختلف رنگوں میں نمایاں کیا گیا ہے

لیکن بعض لوگوں میں کون خلیے کی چوتھی قسم بھی موجود ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اُن کے دماغ کو زیادہ اور زیادہ متنوع معلومات موصول ہو سکتی ہیں، جس سے مرئی روشنی کے پورے سپیکٹرم میں رنگوں کی حساسیت بڑھ سکتی ہے۔

دو جینیاتی اقسام

سرخ اور سبز رنگ کے لیے حساس کونز خلیوں کی جینیاتی ہدایات رکھنے والے جینز ایکس کروموسوم پر موجود ہوتے ہیں۔

ٹیٹراکرومیٹک ہونے کے لیے کسی شخص میں ان میں سے کسی ایک جین کی دو مختلف اقسام کا موجود ہونا اور اُن کا فعال ہونا ضروری ہے۔

چونکہ خواتین کے پاس دو ایکس کروموسوم ہوتے ہیں جبکہ مردوں کے پاس عموماً ایک ہی ہوتا ہے، اس لیے عموماً صرف خواتین ہی ٹیٹراکرومیٹک ہو سکتی ہیں جبکہ مردوں میں یہی جینیاتی قسم عموماً رنگوں کی بصارت سے متعلق کسی کمی کا باعث بنتی ہے۔

چوتھی قسم کے کون خلیے کا موجود ہونا ریٹینل ٹیٹراکرو میسی کہلاتا ہے اور جینیاتی جائزہ ایسے افراد کی شناخت کر سکتا ہے، جن میں چار اقسام کے کون خلیے بنانے والے جینیاتی تغیرات موجود ہوں۔

برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی کے ٹیٹراکرومیسی منصوبے کے مطابق تقریباً 12 فیصد خواتین میں یہ جینیاتی صلاحیت موجود ہونے کا خیال ہے، تاہم تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف آبادیوں میں یہ شرح مختلف بھی ہو سکتی ہے۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہNEMES LASZLO/SCIENCE PHOTO LIBRARY via Getty Images

،تصویر کا کیپشنچوتھی قسم کے کون خلیے کا موجود ہونا ریٹینل ٹیٹراکرو میسی کہلاتا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لیکن اضافی کون خلیہ ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اس شخص کی رنگ دیکھنے کی صلاحیت بہتر بھی ہو۔

امریکہ میں یو سی اِروائن برونسن سینٹر فار ٹرانسلیشنل وژن ریسرچ کی ڈاکٹر کمبرلی اے جیمسن کے مطابق اسے فنکشنل ٹیٹراکرومیسی کہا جاتا ہے اور اسے ثابت کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

تاہم یہ ماننے کی وجوہات موجود ہیں کہ یہ جینیاتی صلاحیت رنگوں کی بہتر بصارت کا باعث بن سکتی ہے۔

جیمسن کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ چار اقسام کے کون خلیوں والی خواتین رنگوں کے ایک سپیکٹرم کو زیادہ الگ الگ رنگتوں میں تقسیم کرتی ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ ٹرائیکرومیٹس یعنی تین اقسام کے کون خلیوں والے افراد کے مقابلے میں زیادہ منفرد رنگی صورت محسوس کر سکتی ہیں۔

اس کی مثال حیوانات کی دنیا میں بھی ملتی ہے۔

نیو ورلڈ بندروں کی بعض اقسام میں نر ڈائیکرومیٹس ہوتے ہیں، جن میں کون خلیوں کی دو اقسام ہوتی ہیں، جبکہ مادہ تین اقسام والے ٹرائیکرومیٹس ہوتی ہیں۔

سائنس دانوں نے دیکھا ہے کہ ٹرائیکرومیٹس سرخ پھل ڈائیکرو میٹس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کھاتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس رنگ کو زیادہ نمایاں طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی کی بصری اعصابی سائنس دان ڈاکٹر جینی بوسٹن کے مطابق اگر یہی اصول ٹیٹراکرومیٹک انسانوں پر لاگو ہو تو اضافی کون خلیے والی خواتین رنگوں کو مختلف انداز سے دیکھ سکتی ہیں۔

لیکن یہ فرق کیسا دکھائی دے گا، اس پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

’ناقابلِ بیان رنگ‘

ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے فلسفی ڈاکٹر مائیکل نیوال، جنھوں نے ٹیٹراکرومیٹس کے دیکھے جانے والے رنگوں پر ایک مقالہ لکھا، کہتے ہیں: ’ایک رائے یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس رنگ محسوس کرنے والا ایک اضافی ریسیپٹر ہو تو ممکن ہے آپ ایسے رنگ دیکھیں جو ناقابلِ بیان ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے ہم سرخ اور سبز رنگ کا تجربہ کسی کلر بلائنڈ شخص تک منتقل نہیں کر سکتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ وہ صرف عام رنگوں کے درمیان بہت باریک فرق دیکھ سکتے ہوں۔‘

اس علامتی تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ روشنی کی ایک شعاع کسی شخص کی آنکھ میں داخل ہوتی ہے اور پھر ایک پرزم سے گزرتی ہے، جہاں وہ قوسِ قزح کے رنگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہOsakaWayne Studios via Getty Images

سائنسی طور پر یہ جاننا مشکل ہے کہ لوگ کون سے رنگ دیکھتے ہیں۔ بوسٹن کہتی ہیں ’یہاں تک کہ عام ٹرائیکرومیٹک شخص کے رنگ کے ذاتی تجربے کو بھی ناپنا ناممکن ہے۔‘

جیمسن کے مطابق معاملہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ غالباً ٹیٹراکرومیسی کی کئی مختلف اقسام موجود ہیں اور اضافی کون خلیے کی حساسیت کے مطابق کافی فرق ممکن ہے۔

تاہم بوسٹن کا کہنا ہے کہ لوگوں کی رنگوں میں فرق کرنے کی صلاحیت یا مختلف رنگتوں کے درمیان عدم مماثلت کی درجہ بندی جیسی چیزوں کا تجزیہ محققین کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ لوگ رنگوں کو کس طرح مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

ٹیٹراکرومیٹ کی شناخت کیسے کی جائے؟

انٹرنیٹ پر تلاش کرنے سے ٹیٹراکرومیسی کے متعدد آن لائن ٹیسٹ مل جاتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے ٹیٹراکرومیٹ فرد کی شناخت ناممکن ہے۔

زیادہ تر جدید سکرینوں میں صرف تین رنگ کے چینل ہوتے ہیں جو کہ سرخ، سبز اور نیلا ہیں۔ اس لیے اگر ٹیٹراکرومیٹس واقعی نئے رنگ دیکھ سکتے ہیں تو ممکن ہے وہ ان رنگوں کو سکرین پر اسی طرح نہ دیکھ سکیں۔

نیوال کے مطابق اگرچہ اس سے تجزیہ مشکل ہو جاتا ہے، لیکن حقیقی دنیا میں اور سکرین پر نظر آنے والے رنگوں کے درمیان مستقل فرق محسوس ہونا ٹیٹراکرومیسی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔

جیمسن کے مطابق ایک اور اشارہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو مستقل طور پر محسوس ہو کہ رنگوں کا اُس کا ادراک دوسرے لوگوں سے مختلف ہے۔

وہ کہتی ہیں ’انھیں اس بات کا گہرا شعور ہوتا ہے اور بچپن ہی سے اُن کا رنگوں کا ادراک دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیز اور زیادہ حساس ہوتا ہے۔‘

انسانی آنکھ کا قریبی منظر جسے کثیر رنگی روشنی روشن کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہA. Martin UW Photography via Getty Images

،تصویر کا کیپشنانسانی آنکھ کا قریبی منظر جسے کثیر رنگی روشنی روشن کر رہی ہے

ایک اور دلچسپ بات جو اس امکان کی طرف اشارہ کر سکتی ہے کہ کوئی شخص ٹیٹراکرومیٹ ہو، یہ ہے کہ اسے گرم روشنی کے مقابلے میں تیز ایل ای ڈی روشنی سے غیر معمولی حساسیت ہو۔

جیمسن کہتی ہیں ’ٹیٹراکرومیٹ خواتین ایسے بلب برداشت نہیں کر سکتیں جن میں طویل ویو لینتھ کا مضبوط جزو موجود نہ ہو۔‘

ان کے مطابق ’وہ اپنے گھر میں بحث کریں گی کہ میں یہ روشنی برداشت نہیں کر سکتی، میں یہ فلوروسینٹ ٹیوب برداشت نہیں کر سکتی، یہ مجھے تنگ کرتی ہیں، میں بیمار محسوس کرتی ہوں۔‘

ایسے لوگ جن کے والد کو رنگوں کی بصارت میں ہلکی نوعیت کی کمی کا سامنا ہو، ان کے ٹیٹراکرومیٹ ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم اگرچہ یہ چیزیں کچھ اشارے فراہم کر سکتی ہیں، لیکن جینیاتی جانچ اور تجربہ گاہ میں کی جانے والی تحقیق کہیں زیادہ قابلِ اعتماد ثبوت ہیں۔

ریٹینل سے فنکشنل تک

ایک خاتون پینٹنگ کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہConcetta Antico

،تصویر کا کیپشناینٹیکو کہتی ہیں کہ اُن کی بصارت نے اُن کی زندگی کو شاندار بنا دیا ہے

ٹیٹراکرومیسی کے بارے میں ایک اور سوال جس کا جواب محققین کے پاس نہیں، یہ ہے کہ آخر کون سی چیز ریٹینل ٹیٹراکرومیسی کو فنکشنل ٹیٹراکرومیسی میں تبدیل کرتی ہے، اگر واقعی ایسی کوئی چیز ہے۔

بوسٹن کہتی ہیں ’کیا اُن کے پاس کون خلیے کی کوئی بہت مخصوص قسم ہونا ضروری ہے؟ یا یہ اس بات سے متعلق ہے کہ انھوں نے ان سگنلز کو استعمال کرنا کیسے سیکھا؟‘

وہ یہ بھی تجویز کرتی ہیں کہ اس کا تعلق بصری نظام کے دوسرے حصوں کی لچک سے ہو سکتا ہے۔

’ایک اور امکان یہ ہے کہ اپنی زندگی میں ان رنگ والے سگنلز کو کسی اہم مقصد کے لیے استعمال کرنا ان میں ان رنگوں میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہو۔‘

کونچیٹا اینٹیکو کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ یہی ہوا۔ وہ کہتی ہیں ’میں نے اپنی رنگی بصارت کو ایک پٹھے کی طرح مضبوط کیا ہے۔‘

’میں بچپن سے مصوری کر رہی ہوں گویا میں نے ایک لاکھ گھنٹے رنگ ملانے میں صرف کیے ہیں۔ میں یہ کام ہر روز، ہر وقت کرتی ہوں۔‘

ایک خاتون مور کی تصویر بنا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہConcetta Antico

’ایک جرات مندانہ دعویٰ‘

اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا فنکشنل ٹیٹراکرومیسی واقعی موجود ہے یا نہیں۔

بوسٹن کا کہنا ہے کہ یہ خیال کہ بعض لوگوں کے پاس اضافی رنگی بصارت ہوتی ہے ’ایک جرات مندانہ دعویٰ‘ ہے۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ ’چونکہ کوئی کامل تجربہ موجود نہیں، اس لیے آپ مختلف ٹیسٹوں اور مختلف مطالعاتی مثالوں سے زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرتے ہیں، اور پھر جب سب کچھ جمع کر لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ شواہد بڑی حد تک اس کے حق میں ہیں۔‘

اینٹیکو دوسروں کے شکوک کو اپنی خوشی پر اثر انداز نہیں ہونے دیتیں اور کہتی ہیں کہ وہ خود کو اس جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے ’خوش قسمت‘ سمجھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہ حیرت انگیز بات ہے کہ میں ایسی چیزیں دیکھ سکتی ہوں جو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ اس نے میری زندگی کو شاندار بنا دیا ہے۔‘