لائیو, فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا: وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی وزیر داخلہ سے گفتگو

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ قطر نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خطوط میں اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خلاصہ

  • انڈیا میں پولیس کریک ڈاؤن کے ایک دن بعد بھی کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے 12 افراد ہلاک، 18 زخمی
  • پاکستان اور ایران میں تجارت بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانی چاہیے: ایرانی وزیر داخلہ
  • نئے برطانوی وزیر اعظم سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی پر بات کی: ٹرمپ
  • امریکہ کا ایران پر مزید حملے کرنے کا دعویٰ، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکہ کے میزائل نظام اور متعدد ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اردن میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ کر دیا ہے
  • اس ماہ ایرانی حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے: پینٹاگون

لائیو کوریج

  1. ایرانی وزیرِ داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ

    عاصم منیر، ایرانی وزیرِ داخلہ

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دوطرفہ سکیورٹی، اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے سے متعلق معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے ادا کیے جانے والے مستقل اور اہم سفارتی کردار کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے اختتام پر علاقائی سکیورٹی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطوں اور باہمی تعاون کے موجودہ طریقۂ کار کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

  2. فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا: وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی وزیر داخلہ سے گفتگو

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

    وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو۔ ان کے بقول پاکستان ایک ’دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار‘ کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس ماہ کے آغاز میں تہران کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ایران کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس کے مطابق سکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان سفارتی کوششوں کو بھی سراہا جن کے نتیجے میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ طے پائی۔

  3. کویت نے ایران کی جانب سے ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بجلی گھر پر حملوں کی تصدیق کر دی

    کویت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز ایران کی جانب سے سمندری پانی کو پینے کے قابلِ بنانے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹ اور بجلی گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

    کویتی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ چار روز کے دوران اس نوعیت کا یہ ایران کا چوتھا حملہ بتایا جا رہا ہے۔

    کویت کی وزارتِ پانی و بجلی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ریاستِ کویت کے خلاف ایران کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں مسلسل چوتھے روز متعدد بجلی گھروں اور پانی کے (ڈی سیلینیشن) پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی اہم تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔‘

    چند گھنٹے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایک بار پھر کویت میں موجود امریکہ کے تین فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  4. بحرین اور اردن کا ایرانی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بحرین کی وزارتِ داخلہ نے خطرے کا سائرن بجاتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قریبی محفوظ مقام پر چلے جائیں۔

    اس انتباہ سے قبل بحرینی فوج نے کہا تھا کہ اس نے ایران کے حملوں کو فضا میں ہی روک لیا ہے۔

    اردن کی فوج نے بھی آج اعلان کیا کہ اس نے ایران کے تین میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا ہے۔

    اس سے قبل اردن کی فوج نے کہا تھا کہ ایران سے داغے گئے پانچ ڈرون بھی مار گرائے گئے ہیں۔

    اردنی فوج کے مطابق ان حملوں میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

    ایران کی مسلح افواج اس سے قبل بحرین اور اردن پر حملوں کی اطلاع دے چکی تھیں۔

    سپاہ پاسداران نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے علاقے رکبان میں اس کے حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکہ نے تاحال اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

    ادھر ایرانی فوج نے چند گھنٹے قبل بحرین میں شیخ عیسیٰ اڈے پر تعینات امریکی افواج کے مقام کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

  5. پزشکیان: مجتبیٰ خامنہ ای تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے، ’ایک اجلاس میں ڈھائی گھنٹے تک گفتگو ہوئی‘

    Tasnim News Agency

    ،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ’رابطے اور ان تک رسائی کی سطح‘ بڑھ گئی ہے۔

    ایران کے صدر نے مذاکرات کے بارے میں ’نامناسب اور غیر ماہرانہ‘ تبصروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نشریاتی ادارہ صرف مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات کا وہ حصہ نشر کرتا ہے جو ’مذاکرات نہ کرنے‘ سے متعلق ہوتا ہے، جبکہ اسلامی جمہوریہ کے رہنما ’نجی اجلاسوں میں جنگ کی صورتِ حال کے خاتمے اور امن کی ضرورت‘ پر زور دیتے ہیں، اور اسی لیے ’ہم نے مذاکرات کا آغاز کیا۔‘

    مسعود پزشکیان نے صنعتوں، کانوں اور اقتصادی اداروں کے مالکان کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’بعض غلط بیانات، جو مختلف پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہیں، کامیابیوں کو کم تر ظاہر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔‘

    گذشتہ دنوں ایران کے اندر امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور حالیہ مفاہمتی یادداشت کے خلاف وسیع پیمانے پر مخالفت سامنے آئی ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی کوئی آواز یا تصویر نشر کی گئی ہے، بلکہ ان کی جانب سے صرف تحریری پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔

    مسعود پزشکیان ان چند افراد میں شامل ہیں جنھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔

    انھوں نے وقت اور مقام کا ذکر کیے بغیر، کہا تھا کہ ایک ’اجلاس‘ میں انھوں نے اسلامی جمہوریہ کے رہنما کے ساتھ قریب ’ڈھائی گھنٹے‘ گفتگو کی تھی۔

  6. گذشتہ روز چھ آئل ٹینکر اور کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے: میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے چھ آئل ٹینکرز اور کارگو جہاز گزرے تھے۔

    ان میں سے دو جہاز ایسے ہیں جن پر پابندیاں عائد ہیں۔

    آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں ایک روز قبل کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی کیونکہ اتوار کو آٹھ جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے تھے۔

    دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق 20 جولائی کو عمان کے جزیرہ لیما کے شمال مشرقی علاقے میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

  7. مستونگ: کُنڈ عمرانی میں جھڑپوں کے بعد مسجد اور مدرسے کو نقصان، جمیعت علمائے اسلام (ف) کا تحقیقات کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کھڈکوچہ کے علاقے کُنڈ عمرانی میں گولہ باری سے ایک مسجد اور مدرسے کو نقصان پہنچا ہے۔

    اس واقعے کے خلاف نہ صرف احتجاج ہو رہا ہے بلکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) ضلع مستونگ نے اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    مسجد اور مدرسے کو شیلنگ سے نقصان پہنچنے کا واقعہ گذشتہ جمعرات کو سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کے بعد پیش آیا۔

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ جب عسکریت پسندوں کی ساتھ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوتی ہے تو اس وقت ہزاروں گولیاں اور گولے چلتے ہیں۔ ایسے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ مسجد اور مدرسے کو سکیورٹی فورسز کی کارروائی سے نقصان پہنچا۔

    bbc

    اس واقعے کے خلاف پیر کو ضلع مستونگ کے ہیڈکوارٹر مستونگ شہر میں شٹرڈاؤن ہڑٰتال رہی۔

    جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ حساس اداروں کے اہلکاروں نے مسجد کے تقدس کو پامال کیا۔

    جے یوآئی کے ضلعی امیر مولانا شبیر احمد نے مستونگ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کُنڈ عمرانی میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں میں سویلین ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سویلین افراد کو شہید قرار دے کر ان کو معاوضہ دیا جائے اور علاقے میں لوگوں کے باغات کو جو نقصان پہنچا پے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ۔

    تاحال سرکاری حکام کی جانب سے سویلین ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا تاہم ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جمعرات کو کُنڈ عمرانی میں ہونے والی جھڑپوں میں دو عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    bbc

    اس حوالے سے سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

    اس واقعے کے حوالے سے جب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مساجد اس روح ارضی پر سب سے مقدس مقامات ہیں اور ان کو نقصان پہنچانے کا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب سکیورٹی فورسز یا عوام پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں جھڑپوں کے دوران ہزاروں گولیاں اور گولے چلتے ہیں جس میں یہ تعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ مقدس مقامات کو کس کی گولی لگنے سے نقصان پہنچا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کسی مقدس مقام کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری ان شدت پسندوں پر عائد ہوتی ہے جن کی وجہ سے حالات خراب ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جب یہ شاہراہوں پر ناکہ بندی کے علاوہ آبادیوں کے قریب سے حملے کرتے ہیں اور اگر سکیورٹی فورسز اس کے خلاف جوابی کارروائی نہ کریں تو بھی انھی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انھوں نے کارروائی کیوں نہیں کی۔

    محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ مسجد اور مدرسے کو سکیورٹی فورسز کی کارروائی سے نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کی شرپسندوں کاروائی سے نقصان پہنچا ہے۔

  8. پاسدارانِ انقلاب کا اردن پر حملوں کے دوران متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن کے علاقے رکبان میں اس کے حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان نمبر 40 میں کہا کہ اس نے ’آپریشن نصر ٹو کی 24ویں لہر‘ کے دوران اردن کے علاقے رکبان میں امریکی فوج کے ’قیام گاہی کمپلیکس‘ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان میں سے ’متعدد‘ فوجی ہلاک ہوئے۔

    امریکہ نے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

    امریکی فوج کے اعلان کے مطابق، 17 جولائی کو ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں اردن میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

  9. قطر کا ایران پر حملوں کا الزام، نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کی حکومت نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خطوط میں اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے 7 جولائی کو آبنائے ہرمز کے قریب ایک قطری آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد 12 اور 17 جولائی کو اس ملک کے خلاف میزائل حملے کیے۔

    قطری حکام کے مطابق 12 جولائی کے حملے کے دوران میزائلوں کو روکنے کی کارروائی سے پیدا ہونے والے دھاتی ٹکڑوں کے رہائشی علاقوں میں گرنے کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔

    بیان میں ’قطر کی سرزمین پر ایرانی جارحیت‘ کو قطر کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

    قطر نے کہا ہے کہ وہ ’اپنی خودمختاری، سلامتی اور اپنے شہریوں کی جانوں کے دفاع کے لیے کسی بھی ضروری اور لازمی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔‘

    ایران کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک میں اس کے حملوں کا ہدف وہاں موجود امریکی اڈے اور امریکی افواج ہیں۔

  10. معاشی مشکلات کے باعث ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے پانچ افغان ہلاک, بی بی سی مانیٹرنگ

    SHAMSHAD TV

    ،تصویر کا ذریعہSHAMSHAD TV

    افغان میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ حال ہی میں سمگلنگ کے راستوں کے ذریعے ایران پہنچنے کی کوشش کرنے والے پانچ افغان جنوبی صوبے نیمروز کے ایک صحرائی علاقے میں مردہ پائے گئے، جبکہ 14 دیگر لاپتہ ہیں۔

    ٹو لو نیوز نے 19 جولائی کو اپنی آن لائن رپورٹ میں بتایا: ’سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس گروہ کا ارادہ ہلمند اور نیمروز کے صحراؤں کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جانے کا تھا۔ شدید گرمی اور پانی کی کمی کے باعث ان میں سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دیگر لاپتہ ہیں۔‘

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’یہ سانحہ خطرناک اور غیر قانونی سفری راستوں کی انسانی قیمت کی ایک دردناک یاد دہانی ہے، اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ لوگوں کو بہتر تحفظ اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہ ہوں۔‘

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں بعض لاشیں ریت پر پڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ بعض جزوی طور پر ریت میں دبی ہوئی ہیں۔

    برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل نے اس خبر کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’بیروزگاری، غربت، ایرانی ویزوں کے اجرا پر پابندیاں، اور ایران سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر بے دخلی‘ وہ عوامل ہیں جو نوجوانوں کو سمگلنگ کے راستے استعمال کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    نجی ادارے ہشتِ صبح کی ایک رپورٹ کے مطابق ’معاشی مشکلات، سیاسی چیلنجز، اور مواقع کی کمی‘ افغان شہریوں میں ہجرت کے اہم محرکات ہیں، جس کے باعث بعض لوگ نقل مکانی کے لیے غیر قانونی اور خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا کہ حالیہ برسوں میں غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کے دوران بہت سے افغان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پانی کی کمی، انتہائی درجہ حرارت، راستہ بھٹک جانا، اور سمگلروں کی جانب سے چھوڑ دیا جانا اہم خطرات میں شامل ہیں۔ غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران افغان ایرانی سرحدی محافظوں کے ہاتھوں بھی مارے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان نے بھی 10 جولائی کی مہلت ختم ہونے کے بعد دستاویزات کے بغیر ملک میں موجود افغان شہریوں کی بے دخلی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

  11. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے الیکشن شیڈول میں تبدیلی: پولنگ تین مراحل میں ہو گی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن شیڈول میں تبدیلی کردی گئی ہے جس کے بعد اب کشمیر کے تین ڈویژن میں مختلف تاریخوں میں پولنگ ہو گی۔

    • میرپور ڈویژن میں پولنگ 27 جولائی کو ہو گی۔
    • مظفر آباد اور مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں پر پولنگ دو اگست کو ہو گی۔
    • پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہو گی۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر مصطفی مغل کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران سکیورٹی کے لیے پاکستانی فوج، رینجرز اور پیرا ملٹری فورسز تعینات ہوں گی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ کسی ناخوشگورا واقعے کی صورت میں ’کوئک ریسپانس فورس‘ بھی تعینات ہو گی۔

    نجی چینل جیو نیوز نے چیف الیکشن کمشنر مصطفی مغل کا ایک ویڈیو بیان نشر کیا جس میں انھیں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تمام مقامات پر پولنگ کا مواد پہنچا دیا گیا ہے اور انتخابات بروقت ہوں گے جن کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جس طرح انتخات مرحلہ اور ہو رہے ہیں اس طرح ان انتخابات کے نتائج بھی روایتی انداز کے بجائے مرحلہ وار ہی جاری کیے جائیں گے۔

    امن وامان کی صورت حال اور الیکشن کے دوران سکیورٹی فورسز کو بلانے سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں امن امان کی صورت حال مجموعی طور پر خراب ہے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس لیے مرحلہ وار انتخابات کروا رہا ہے تاکہ امن و امان بھی قائم رہے اور دوسرا یہ کہ ووٹرز کو شفاف ماحول مل سکے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عوام اور بلخصوص سیاسی حلقوں میں ان شکوک و شبہات کو تقویت مل رہی تھی کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر شاید انتخابات ملتوی کر دیے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام حالات کو دیکھتے ہوئے حتمی مشاورت کے بعد نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان کیا ہے۔

  12. انڈیا میں پولیس کریک ڈاؤن کے ایک دن بعد بھی کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری

    انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک روز قبل پولیس کی جانب سے انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے باوجود دار الحکومت دہلی میں ہزاروں افراد ایک بار پھر جمع ہو گئے ہیں۔

    نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی یہ تحریک تعلیمی اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    پیر کے روز ہزاروں نوجوان مظاہرے میں شریک ہوئے اور پابندی کے باوجود پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔

    مرکزی دہلی میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے کم از کم 60 مظاہرین زخمی ہوئے۔ پولیس نے مرکزی احتجاجی مقام پر قائم سٹیج اور عارضی خیمے بھی ہٹا دیے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے 118 اہلکار بھی زخمی ہوئے جبکہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ سیاسی تحریک ہے جس کی بنیاد انڈیا کے چیف جسٹس کے ایک بیان کے بعد پڑی۔ چیف جسٹس نے رواں سال بے روزگار نوجوانوں کے صحافت اور سماجی سرگرمیوں کی طرف آنے پر انھیں ’کاکروچ‘ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ صرف ان افراد کی طرف تھا جن کی ’تعلیمی اسناد جعلی اور غیر معتبر‘ ہیں۔

    پیر کے روز بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت سے یہ ظاہر ہوا کہ اگرچہ سی جے پی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں، لیکن یہ ایک ایسی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے جو ہزاروں افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے۔

    مظاہرین گذشتہ ایک ماہ سے دہلی کے معروف مقام ’جنتر منتر‘ پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ 28 جون کو سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے مطالبات کی حمایت میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جس کے بعد اس تحریک کو عالمی توجہ حاصل ہوئی۔

    سنیچر کے روز پولیس انھیں زبردستی احتجاجی مقام سے ہٹا کر ہسپتال لے گئی تھی، جہاں وہ تا حال بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    یہ تحریک حالیہ برسوں میں انڈین وزیرِ اعظم مودی کے خلاف عوامی اختلافِ رائے کے نمایاں اظہار میں سے ایک بن چکی ہے۔

    وانگچک اور سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو اپوزیشن جماعتوں، کسان رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور بالی وڈ شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔

    گذشتہ روز انڈیا کے وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں اور دار الحکومت میں ’معمول کے حالات‘ بحال کرنے میں مدد کریں۔ پولیس کی جانب سے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی گئی اور عارضی طور پر بنایا گیا سٹیج بھی خالی کروا لیا گیا۔

    تاہم تشدد کے واقعات اور تنظیم کی جانب سے احتجاج ختم نہ کرنے کے فیصلے نے اس تحریک کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

  13. خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے 12 افراد ہلاک، 18 زخمی

    ،ویڈیو کیپشنطوفانی بارش اور سیلاب، خیبرپختونخوا میں 12 ہلاکتیں

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 12 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے ہیں۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق اموات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث ہوئیں۔ ہلاک افراد میں پانچ مرد، پانچ بچے اور دو خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 10 مرد، چار خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور فلیش فلڈ سے مجموعی طور پر 18 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 15 گھر جزوی ماثر ہوئے جبکہ تین گھر مکمل طور پر گر گئے۔

    خیبر پختونخوا سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    خیبر پختونخوا سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر چترال، لوئر اور اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ ادارے نے عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کرنے اور سرکاری ہدایات و وارننگز پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

    خیبر پختونخوا سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  14. پاکستان اور ایران میں تجارت بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانی چاہیے: ایرانی وزیر داخلہ

    محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس وقت تقریباً تین ارب ڈالرز ہے، اسے بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانا چاہیے۔

    سکندر مومنی کا یہ بیان ایران کے خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا ہے۔

    ارنا کے مطابق پیر کے روز اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ معاہدوں، خصوصاً جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔

    ارنا کے مطابق سکندر مومنی نے کہا کہ تجارتی توسیع کے منصوبوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران پاکستان سرحد سے روزانہ کم از کم دو ہزار ٹرک یا کارگو کنٹینرز کی آمد و رفت ممکن بنائی جائے۔

    ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ سکندر مومنی کے وفد میں ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے متعدد اعلیٰ حکام کے علاوہ کسٹمز انتظامیہ اور وزارتِ خارجہ، پیٹرولیم، صنعت، کان کنی و تجارت، اقتصادی امور و خزانہ، زراعت، اور سڑکوں و شہری ترقی کی وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

  15. نئے برطانوی وزیر اعظم سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی پر بات کی: ٹرمپ

    امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAndrew Harnik/Getty Images

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی سمیت دیگر کئی موضوعات پر گفتگو کی۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم سے بات کے دوران بحیرۂ شمالی کا تیل، تجارت اور فوجی اتحاد بھی زیر بحث آئے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نئے برطانوی وزیر اعظم کے سامنے بڑا چیلنج ہے، لیکن وہ اس سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ’اور یقیناً امریکہ ان کی مدد کے لیے موجود ہو گا۔‘

    اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے اینڈی برنہم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  16. ایران کا عالمی برادری سے جوہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنانے کا مطالبہ

    ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پُر امن جوہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ یعنی عدم برداشت کی پالیسی اختیار کرے۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے مستقل مشن نے ایک بیان میں کہا کہ 19 جولائی 2026 کی صبح امریکہ نے ایک اور جارحانہ اقدام کرتے ہوئے کارون (دارخوین) جوہری پاور پلانٹ کے زیرِ تعمیر مقام پر متعدد میزائل داغے۔ بیان میں اس منصوبے کو ایران کی ’عزت اور سائنسی خود انحصاری کی علامت‘ قرار دیا گیا۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملوں کی اطلاع دی ہے، تاہم اس نے دارخوین کا نام نہیں لیا۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ دارخوین کے زیرِ تعمیر جوہری پلانٹ پر حملے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی آزادانہ تشخیص جاری نہیں کی گئی۔

  17. پاسداران انقلاب کا اردن میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایف 15

    ،تصویر کا ذریعہDan Kitwood/Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاع کے نظاموں پر جاری میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران ایک امریکی ایف 15 طیارے کو اس کے ہینگر میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

    پاسداران انقلاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک میزائل دفاعی ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    گذشتہ چند روز کے دوران ایران متعدد مرتبہ اردن میں مختلف مقامات پر حملے کر چکا ہے۔

    چند گھنٹے قبل پینٹاگون نے تصدیق کی تھی کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران خطے میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے تقریباً 100 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    17 جولائی کو اردن پر ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

    ایران کے پاسدارن انقلاب نے بحرین میں امریکی کمپنی ایمازون کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بحرینی حکام نے تا حال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ بھی آزادانہ طور پر اس اطلاع کی تصدیق نہیں کر سکا۔

  18. ٹرمپ نے کینیڈا پر 50 فیصد محصولات عائد کر دیے، کینیڈین وزیر اعظم کا تجارتی مذاکرات میں ’شدت لانے‘ کا اعلان

    امریکی صدر ٹرمپ اور کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور شراب کے ساتھ ’غیر مساوی سلوک‘ کے جواب میں کیا گیا ہے۔

    ان نئی محصولات کا اطلاق شراب، ہاکی سٹکس اور سیمنٹ جیسی صنعتی مصنوعات سمیت مختلف اشیا پر ہو گا، تاہم توانائی، پوٹاش، اہم معدنیات اور مچھلی جیسی چند بڑی برآمدات اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

    کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک آئندہ ہفتوں میں امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ’مزید شدت‘ لانے کے لیے تیار ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ محصولات 30 روز بعد نافذ العمل ہوں گی۔ اس اقدام کو شمالی امریکہ کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں نمایاں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    امریکہ نے پہلے ہی کینیڈین سٹیل، ایلومینیم اور تانبے پر 15 سے 50 فیصد تک محصولات عائد کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈین لکڑی پر 35 فیصد اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والے غیر امریکی پرزوں پر 25 فیصد محصولات الگ سے نافذ ہیں۔

    جواباً کینیڈا نے امریکی سٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں کی بعض درآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کر رکھے ہیں۔

  19. پاسداران انقلاب کا بحرین میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاع کے نظاموں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین کے علاقوں المحرق اور الرفاع میں موجود امریکی ریڈار اور فضائی دفاع کے نظاموں پر حملے کیے ہیں۔

    پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران انھوں نے کویت میں کم از کم تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

  20. آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ، عملہ لائف بوٹس میں منتقل

    آبنائے ہرمز، تیل بردار بحری جہاز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے ادارے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک تیل بردار بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑ کر لائف بوٹس میں منتقل ہونا پڑا۔

    ادارے نے بحری جہاز یا اس کے مالک کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    اس سے چند گھنٹے قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ’خلاف ورزی کرنے والے‘ دو آئل ٹینکرز ’آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع ایک خطرناک راستے‘ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں ان دونوں تیل بردار بحری جہازوں میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور وہ رک گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں عملے کو علاقے سے نکالنے میں مصروف ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ برطانوی ادارے کی جانب سے جس آئل ٹینکر کا ذکر کیا گیا ہے، کیا وہ انھی دو ٹینکروں میں سے ایک ہے جن کا پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں حوالہ دیا۔

    پاسداران انقلاب کی جانب سے جنوب میں جس ’خطرناک راستے‘ کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ بحری راہداری ہے جسے عمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی معاہدے کے بعد غیر ملکی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے متعارف کرایا تھا۔

    تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کے شمال میں ایک متبادل راستہ تجویز کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاہدے کے تحت ابتدا میں جہازوں کی آمد و رفت ایرانی انتظامات کے مطابق ہونی چاہیے۔

    جنوبی راستے میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ہی امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں اور بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کی تھی۔