زیارت میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر کوئٹہ میں دھرنا جاری: مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں اور حکومت انھیں تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں؟

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
بلوچستان کے ضلع زیارت میں گذشتہ ہفتے 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف کوئٹہ شہر میں نو جولائی سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
گذشتہ ہفتے زیارت میں مانگی ڈیم کی فیز تھری کنسٹرکشن سائٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں حکام کے بقول دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 21 کو اغوا کیا گیا۔
حکام نے بتایا تھا کہ اِن یرغمالی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران شدت پسندوں نے یرغمالیوں کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں زرغون غر کے علاقے میں پھینک دی تھیں۔
ان میں سے بعض پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ لواحقین کوئٹہ شہر میں مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔
شہر میں کوئلہ پھاٹک کے مقام پر آل پارٹیز کے زیر اہتمام دھرنا سات پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ دیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی وفد احتجاج میں حصہ لینے والی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ کم از کم تین ملاقاتیں کر چکا ہے، لیکن تاحال احتجاجی دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
آل پارٹیز کے رہنما عبدالرحیم زیارتوال کا کہنا ہے کہ ان کے چار بنیادی مطالبات قیام امن سے متعلق ہیں۔
’امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، دھرنے کے شرکا چاہتے ہیں کہ حکومت قیام امن کے لیے ان مطالبات کو تسلیم کرے۔‘
تاہم دوسری جانب محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دھرنے کے جائز مطالبات پر حکومت عملدرآمد کے لیے تیار ہے، لیکن بعض سیاسی جماعتیں ’بلاجواز مطالبات کا استعمال کر کے اپنی سیاست کر رہی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیارت پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے مطالبات
دھرنے میں شریک پارٹیوں کی جانب سے دھرنے کے خاتمے کے لیے چار بنیادی مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔
عبدالرحیم زیارتوال کہتے ہیں کہ صوبے میں امن و امان تباہ ہوچکا ہے اور کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے، جس کی وجہ سے لوگ دھرنے اور احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔
آل پارٹیز کے رہنما نصراللہ زیرے نے احتجاج میں شریک افراد کے مطالبات پیش کیے ہیں:
- زیارت واقعے کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ کے دو ججوں پر مشتمل ایک بااختیار عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، جس کے ٹرمز آف ریفرینس بالکل واضح ہوں۔ یہ کمیشن سانحہ زیارت کے تمام پہلوؤں کے بارے میں شفاف طریقے سے تحقیقات کرے اور کمیشن جس کو بھی ذمہ دار ٹھہرائے ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
- لیویز فورس بحال کی جائے کیونکہ ان کے بقول جب سے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا ہے اس وقت سے امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔
- کوئٹہ، ہرنائی، زیارت، دُکی، پشین، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ سمیت ان سے متصل دیگر علاقوں سے مسلح جتھوں کا مکمل صفایا کیا جائے۔
- ایف سی کو شہروں سے ہٹایا جائے اور اگر امن و امان کے قیام کے لیے ان کی ضرورت ہو تو ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے حکم کے تحت مقررہ مدت کے لیے کسی علاقے میں ان کی تعیناتی ہو۔

،تصویر کا ذریعہShams Zaman/Afzal Shehzad
نصر اللہ زیرے کا کہنا تھا کہ ’لاشوں پر سیاست کرنے کا ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں بلکہ ہم اپنے علاقوں اور لوگوں کے لیے امن چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم نے یہ مطالبات پیش کیے ہیں۔‘
دوسری جانب محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کہتے ہیں کہ مسلح جتھوں کے خلاف کارروائی حکومت کا بنیادی کام ہے، جو حکومت مطالبات کے بغیر بھی کر رہی ہے۔
’اس مقصد کے لیے آپریشن شعبان مختلف علاقوں میں جاری ہے، جس میں اب تک بڑی تعداد میں شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔‘
بابر یوسفزئی کے مطابق حکومت بااختیار عدالتی کمیشن بنانے کے لیے بھی تیار ہے، جس کی یقین دہانی آل پارٹیز کے مذاکراتی ٹیم کو کروائی گئی ہے، لیکن ان کے بقول ایف سی کو ہٹانے اور لیویز فورس کی بحالی کے مطالبے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے بلاجواز مطالبات کے ذریعے دھرنے کو یرغمال بنا لیا ہے اور وہ اس کے ذریعے اپنی سیاست کررہی ہیں۔
دھرنے میں شامل پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا کیا کہنا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
شمس الزمان کا جو صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں اپنے رشتہ دار پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ احتجاج میں شریک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آج زیارت کی ہر گلی، ہر کوچہ سوگوار ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ زیارت پولیس فورس میں شامل ’ہمارے بھائی اور رشتہ دار انتہائی بے بسی کی حالت میں موت کے منھ میں چلے گئے۔‘
شمس الزمان سمیت دھرنے کے شرکا کا موقف ہے کہ ’ایک، دو ٹینکیوں کی حفاظت کے لیے ہمارے پیاروں کی ایک بڑی تعداد کو مناسب انتظام اور تیاری کے بغیر ضلع کے مختلف علاقوں سے بھیج دیا گیا۔‘
جبکہ اپنے بھائی آصف خان کی لاش کے ہمراہ دھرنے میں شریک صابر خان کا دعویٰ ہے کہ ’ہمارے پیارے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ہمیں گولیاں پہنچا دو لیکن وہ نہیں پہنچائی جا سکیں جس کی وجہ سے وہ سب موت کی منھ چلے گئے۔‘
دھرنا کمیٹی کے رکن عبد الفیاض کا دعویٰ ہے کہ ’ہم اپنے پیاروں سے رابطے میں تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ اسلحہ اور گولیوں کی کمی کی وجہ سے ہم موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن ان کو مدد نہیں پہنچائی جا سکی۔‘
تاہم حکومت بلوچستان کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں کمک نہ ملنے کے تاثر کو مسترد کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حملہ آوروں نے وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ پولیس پوسٹ اپنا گولہ بارود زیادہ سے زیادہ استعمال کر لے اور شام تک پوسٹ کا بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا۔

’ہمارے پیارے بار بار اسلحے اور مدد کے لیے پکارتے رہے‘
جن 21 پولیس اہلکاروں کو اغوا کے بعد مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا، ان کی لاشوں کو زیارت لے جانے کی بجائے کوئٹہ لایا گیا۔
اس واقعے میں مارے جانے والے پولیس اہلکار آصف خان کا تعلق ضلع زیارت کے علاقے وام سے تھا۔
ان کے بھائی صابر خان ان کی لاش کے ہمراہ دھرنے میں موجود ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے بھائی نوجوان تھے اور وہ بنیادی طور پر لیویز فورس میں بھرتی ہوئے تھے لیکن رواں سال لیویز فورس کے انضمام کے بعد وہ پولیس فورس کا حصہ بن گئے تھے۔
اہل خانہ کے مطابق آصف خان کی شادی ایک، ڈیڑھ ماہ بعد طے تھی لیکن اس سانحے کی وجہ سے وہ یہ خوشی نہیں دیکھ سکے۔
اس سانحے میں جو دو ایس ایچ اوز زندگی کی بازی ہار گئے تھے ان میں کواس پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او صحبت خان بھی شامل تھے۔
دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ صحبت خان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جو اس واقعے کی وجہ سے والد کے سائے سے محروم ہوگئے ہیں۔ دھرنے میں شریک شمس زمان کے مطابق کہ ’صحبت خان کو ضلع زیارت کے ایس پی نے فون کر کہا تھا کہ وہ مانگی جا کر وہاں زیر تعمیر ٹینکیوں پر ڈیوٹی دیں۔‘
دھرنے میں جن پولیس اہلکاروں کی لاشوں کو رکھا گیا تھا، ان میں خیراللہ اور اظہار احمد کی لاشیں بھی شامل ہیں۔
ان دونوں کے دوست محمد افضل شہزاد ایک ایمبولینس میں پڑے ان کے تابوتوں کے قریب اداس کھڑے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ خیراللہ کی عمر 42 سال تھی اور ان کی ناگہانی موت نے خاندان کو ایک آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے دوسرے دوست 22 سالہ اظہار احمد کا تعلق ضلع میں احمدون کے علاقے سے تھا اور ان کی ملازمت کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ وہ بھی تین چار سال قبل لیویز میں سپاہی کے طور پر بھرتی ہوئے اور لیویز فورس کے انضمام کے بعد وہ پولیس کا حصہ بن گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAsif Khan Facebook
دھرنے میں شریک لواحقین اور دیگر شرکا نے اتنی بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کے مارے جانے کے واقعے کو زیارت کی حالیہ تاریخ کے بڑے سانحات سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے پورے ضلع کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔
لواحقین اور دھرنے کے شرکا کا دعویٰ ہے کہ مانگی ڈیم کی کچھ ٹینکیوں کی حفاظت کے لیے پولیس کی بڑی نفری کو مناسب اسلحہ اور تیاری کے بغیر بھیج دیا گیا تھا۔
صابر خان نے بتایا کہ ’ان لوگوں کی پاس شدت پسندی کے جدید طور طریقوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں تھی‘ اور ان کے پاس ’اسلحے کی کمی تھی لیکن اس کے باوجود ان پولیس والوں نے بھرپور مقابلہ کیا۔‘
ان کے بھائی کی لاش کے پوسٹ مارٹم کے دوران معلوم ہوا کہ ’آصف خان کو 12 گولیاں سامنے سے لگی تھیں۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ پولیس اہلکار ’چیخ چیخ کر پکارتے رہے کہ ان کے پاس راؤنڈز ختم ہو گئے ہیں اور انھیں راؤنڈز پہنچائے جائیں لیکن کوئی بھی نہیں گیا۔‘
احتجاجی دھرنے کے کمیٹی کے رکن عبدالفیاض نے بتایا کہ ’ہم اپنے پیاروں سے رابطے میں تھے اور اسلحے کی کمی وجہ سے وہ کہہ رہے تھے کہ وہ اپنی موت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ کہہ رہے تھے کہ ان کو اسلحہ بھیجا جائے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی قبائل کے لوگ آئے اور یہ کہا کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے جائیں گے لیکن ’نہ قبائل کے لوگوں کو جانے دیا گیا اور نہ وہ خود گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ زیارت ’پھول جیسا پُرامن علاقہ تھا لیکن اب یہ وحشیوں کے حوالے ہو گیا ہے۔‘
ان سمیت دھرنے کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ ’بااختیار لوگ آئیں اور ہمیں ہمارے مطالبات پر عملدرآمد کے حوالے سے یقین دہانی کرائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’زیارت کو شدت پسندوں سے پاک کر کے اسے اس کا امن لوٹا دیا جائے۔ ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہمارے لوگوں کو کس نے مارا اور وہ کیوں مارے گئے۔‘

حکومتی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
حکومت نے جہاں زیارت حملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے تو وہیں جمعہ کو ایک ابتدائی رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے۔
حکومتی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حملہ المناک سانحہ ہے لیکن ’بلوچستان پولیس نے غیر معمولی بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا۔‘
اس رپورٹ میں اِن دعوؤں کی تردید کی گئی کہ پولیس اہلکاروں کے پاس ہتھیاروں کی کمی تھی۔ ’امن دشمن عناصر اور مختلف ایجنڈا رکھنے والے حلقوں کی جانب سے گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق 6 جولائی کی صبح ایک ڈی ایس پی کی سربراہی میں بلوچستان پولیس کے تقریباً 35 اہلکار تعینات تھے اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ممکنہ خطرے کی پیشگی اطلاع ملنے پر حال ہی میں نفری میں اضافہ کیا گیا تھا۔
قریب ترین ایف سی پوسٹ تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی جہاں تقریباً 20 اہلکار تعینات تھے۔
رپورٹ کے مطابق پیر کی صبح تقریباً 11 بجے پمپنگ سٹیشن پوسٹ سے کچھ فاصلے پر وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی۔ ’چونکہ پوسٹ کو حال ہی میں اضافی نفری اور بہتر اسلحہ فراہم کیا گیا تھا، اس لیے کمانڈنگ افسر کا مؤقف تھا کہ موجودہ نفری صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔ اہلکار اپنی پوزیشنوں پر ڈٹے رہے جبکہ پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایف سی ونگ مسلسل رابطے میں رہے۔‘
اس کے مطابق احتیاطی اقدام کے طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز نے تقریباً 35 اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی دستہ مزید کمک کے لیے روانہ کیا گیا۔ ’اسی دوران فرنٹیئر کور نے فضائی نگرانی اور معاونت کے لیے ایک مسلح ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں بھیجا، جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک فضائی نگرانی کرتا رہا۔‘
رپورٹ میں کہا گیا کہ شدت پسند ’وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے تاکہ پولیس پوسٹ اپنا گولہ بارود زیادہ سے زیادہ استعمال کر رہے تھے اور شام تک پوسٹ کا بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا۔‘

’پولیس اہلکاروں کے ایک گروہ کو یرغمال بنایا گیا‘
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب کمک پوسٹ کے قریب پہنچی تو ’شدت پسندوں نے اس پر بھی فائرنگ شروع کر دی، جس کے باعث کمک کو حملے کی زد میں موجود پوسٹ سے کچھ فاصلے پر رُکنا پڑا۔ اسی دوران ایف سی نے وی ٹی او ایل ڈرونز استعمال کیے اور مارٹر فائر کے ذریعے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا، جس کی آڑ میں کمک نے آگے بڑھنا شروع کیا۔‘
رپورٹ کے مطابق اس وقت تک سورج غروب ہو چکا تھا۔ ’شدت پسندوں نے پوسٹ پر براہِ راست حملہ کر دیا اور قریب پہنچ گئے۔ اس شدید جھڑپ کے دوران پوسٹ پر موجود بہادر پولیس اہلکاروں اور آگے بڑھتی ہوئی پولیس و ایف سی کی کمک نے بھرپور مزاحمت کی۔‘
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مقابلے میں ’15 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ نو پولیس اہلکار مارے گئے اور تین زخمی ہوئے، جنھیں ایف سی اور پولیس کی کمک کے پہنچنے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔‘
رپورٹ کے مطابق ’چونکہ پوسٹ کا گولہ بارود تقریباً ختم ہو چکا تھا، اس لیے باقی ماندہ اہلکار، جن میں ڈی ایس پی سمیت 28 پولیس اہلکار شامل تھے، اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گروپوں میں نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔‘
ان دونوں گروپوں میں سے ’ڈی ایس پی کی سربراہی والا گروپ باحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا۔ تاہم دوسرا گروپ رات کے اندھیرے میں شدت پسندوں سے جا ٹکرایا اور انھیں یرغمال بنا لیا گیا۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقے کا جغرافیہ ’انتہائی دشوار گزار ہے۔ بلند پہاڑ، گہری دراڑیں، پتھریلے راستے اور کھائیاں ہونے کے باعث لڑائی زیادہ تر قریب فاصلے پر ہوتی ہے جبکہ دور تک دیکھنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ انھی حالات کے باعث ایف سی اور پولیس کی پیش قدمی احتیاط کے ساتھ جاری رہی کیونکہ متعدد مقامات پر شدت پسندوں کے گھات لگائے جانے کا خدشہ موجود تھا۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مفاد پرست سیاسی عناصر مختلف اور گمراہ کن بیانیے پھیلا رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ’پولیس پوسٹ نے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ آخری دم تک مزاحمت کی، اور ایف سی و پولیس کی کمک نے تیزی اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔‘
























