آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مستونگ کے ایڈیشنل سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ حملے میں ہلاک، کھڈ کوچہ میں کرفیو نافذ
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایڈیشنل سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین ہلاک جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ ریاست پر حملہ ہے۔ دہشت گردوں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچائیں گے۔ قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ جمعرات کو کوئٹہ سے مستونگ جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ’گھات لگا کر کیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
اگرچہ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی۔ امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔‘
مستونگ میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اس کی سب تحصیل کھڈ کوچہ میں گذشتہ شب کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے خلاف وکلا نے آج کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے بار ایسوسی ایشن کے صدر عطااللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بار کونسل، ہائیکورٹ بار اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلا تنظیموں کی جانب سے جمعے اور سنیچر کو بھی اس واقعے کے خلاف ہڑتال ہو گی اور وکلا عدالتوں میں بطور احتجاج پیش نہیں ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج پر حملہ کہاں ہوا؟
حکام کے مطابق سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کوئٹہ سے مستونگ کی جانب جا رہے تھے۔
کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ جب ان کی گاڑیاں ولی خان تھانے کی حدود میں ریلوے پھاٹک کے قریب پہنچیں تو وہاں موجود نامعلوم مسلح افراد نے ان پر گھات لگا کر حملہ کیا۔
اہلکار نے بتایا کہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین محمد زمان زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہو گئے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور انھوں نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیشن جج پر حملے کو ’ریاست پر حملہ‘ قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچائیں گے اور قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
مستونگ کی سب تحصیل کھڈ کوچہ میں کرفیو نافذ
مستونگ ضلع کوئٹہ سے بلوچستان کا ملحقہ ضلع ہے اور یہ کوئٹہ شہر سے اندازاً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جو شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔ بالخصوص ڈیڑھ دو سال سے مستونگ میں بدامنی کے متعدد سنگین واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
گذشتہ روز ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر انجیری کے مقام پر ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا تھا جبکہ اس کے بعد کانوائے میں جانے والی ایک بس پر فائرنگ سے کم از کم تین مسافر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے قبل گذشتہ جمعرات کو کھڈ کوچہ کے علاقے گرو میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر ایک بڑا حملہ ہوا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔
اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی تھی جس کے باعث اس علاقے میں مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں عام شہریوں کے جانی نقصان کے علاوہ املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
ان واقعات کے باعث گذشتہ شب 9 بجے ضلع کی تحصیل کھڈ کوچہ میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا۔
بلوچستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری شورش میں بلوچستان کے کسی علاقے میں یہ پہلا کرفیو ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کرفیو لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے نافذ کر دیا گیا ہے۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کھڈ کوچہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے وہ اپنے باغات میں تیار فروٹ کو مارکیٹ تک نہیں پہنچا سکتے جس کی وجہ سے ان کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔