مستونگ کے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ حملے میں ہلاک، کھڈ کوچہ میں کرفیو نافذ

سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ

،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین ہلاک جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ ریاست پر حملہ ہے۔ دہشت گردوں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچائیں گے۔ قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ جمعرات کو کوئٹہ سے مستونگ جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ’گھات لگا کر کیا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

اس قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی علاقائی ’ولایتِ پاکستان‘ شاخ نے قبول کی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی۔ امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔‘

مستونگ میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اس کی سب تحصیل کھڈ کوچہ میں گذشتہ شب کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے خلاف وکلا نے آج کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔

بلوچستان ہائیکورٹ کے بار ایسوسی ایشن کے صدر عطااللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بار کونسل، ہائیکورٹ بار اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلا تنظیموں کی جانب سے جمعے اور سنیچر کو بھی اس واقعے کے خلاف ہڑتال ہو گی اور وکلا عدالتوں میں بطور احتجاج پیش نہیں ہوں گے۔

کوئٹہ سے مستونگ جانے کا راستہ جہاں یہ حملہ ہوا (علامتی تصویر)
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ سے مستونگ جانے کا راستہ جہاں یہ حملہ ہوا (علامتی تصویر)

سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج پر حملہ کہاں ہوا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حکام کے مطابق سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کوئٹہ سے مستونگ کی جانب جا رہے تھے۔

کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ جب ان کی گاڑیاں ولی خان تھانے کی حدود میں ریلوے پھاٹک کے قریب پہنچیں تو وہاں موجود نامعلوم مسلح افراد نے ان پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

اہلکار نے بتایا کہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین محمد زمان زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہو گئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور انھوں نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیشن جج پر حملے کو ’ریاست پر حملہ‘ قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچائیں گے اور قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے اس حملے پر آئی جی پولیس اور کمشنر سے رپورٹ طلب کی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دہشتگرد عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ سخت کارروائی ہوگی۔‘

صوبائی وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ’امن و امان کو خراب کرنے والوں کے خلاف ریاست پوری قوت سے کارروائی کرہی ہے۔‘

مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جو شورش سے زیادہ متاثر ہیں (علامتی تصویر)
،تصویر کا کیپشنمستونگ کا شمار بلوچستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جو شورش سے زیادہ متاثر ہیں (علامتی تصویر)

مستونگ کی سب تحصیل کھڈ کوچہ میں کرفیو نافذ

مستونگ ضلع کوئٹہ سے بلوچستان کا ملحقہ ضلع ہے اور یہ کوئٹہ شہر سے اندازاً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جو شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔ بالخصوص ڈیڑھ دو سال سے مستونگ میں بدامنی کے متعدد سنگین واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

گذشتہ روز ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر انجیری کے مقام پر ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا تھا جبکہ اس کے بعد کانوائے میں جانے والی ایک بس پر فائرنگ سے کم از کم تین مسافر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل گذشتہ جمعرات کو کھڈ کوچہ کے علاقے گرو میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر ایک بڑا حملہ ہوا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی تھی جس کے باعث اس علاقے میں مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں عام شہریوں کے جانی نقصان کے علاوہ املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

ان واقعات کے باعث گذشتہ شب 9 بجے ضلع کی تحصیل کھڈ کوچہ میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا۔

بلوچستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری شورش میں بلوچستان کے کسی علاقے میں یہ پہلا کرفیو ہے۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کرفیو لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے نافذ کر دیا گیا ہے۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کھڈ کوچہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے وہ اپنے باغات میں تیار فروٹ کو مارکیٹ تک نہیں پہنچا سکتے جس کی وجہ سے ان کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

مستونگ کے جج عبدالحکیم کاکڑ کون تھے؟

عبدالحکیم کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ سیف اللہ سے تھا لیکن وہ طویل عرصے سے کوئٹہ میں رہائش پذیر تھے۔

انھوں نے لا کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی کیا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں وہ طلبہ سیاست سے بھی وابستہ رہے۔

1998میں ان کی تقرری جوڈیشل مجسٹریٹ کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ بعد میں انھیں سیشن جج کے عہدے پر ترقی ملی اور اندازاً ایک سال قبل ان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مستونگ کے عہدے پر تقرری ہوئی تھی۔

ماتحت عدالتوں میں ان کا شمار سینیئر اور تجربہ کار ججز میں ہوتا تھا۔

ان کے چھوٹے بھائی جمال عبدالناصر ایڈووکیٹ 2016 میں سول ہسپتال کوئٹہ میں وکلا پر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاکت ہوئے تھے۔

تصحیح: اس تحریر میں ابتدائی طور پر عبدالحکیم کاکڑ کا عہدہ ایڈیشنل سیشن جج لکھا گیا تھا جسے اب درست کر کے سیشن جج لکھا گیا ہے۔