کیا بڑے عہدے اور بہتر تنخواہ تک پہنچنے کا راز جلد ملازمت بدلنے میں ہے؟

،تصویر کا ذریعہBrittany Harris-Nelson
- مصنف, ایلس کنٹر
- عہدہ, بزنس رپورٹر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
برٹنی ہیریس نیلسن اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے سفر کو ایک اُچھلتے کودتے ’مینڈک‘ سے تشبیہ دیتی ہیں۔
32 سالہ ہیریس نیلسن کہتی ہیں کہ ’اگر میرا یہ سفر کسی ایک سمت میں آگے نہیں بڑھا، لیکن ہر قدم مجھے اُس مقام کے قریب تر لے گیا جہاں میں بالآخر پہنچنا چاہتی تھی۔‘
آج ہیریس نیلسن کیرولینا کے شہر ونسٹن میں واقع ’ویک فاریسٹ یونیورسٹی‘ میں ایک انتظامی عہدے پر کام کرتی ہیں اور یہ ایک ایسی ملازمت جس کو حاصل کرنے کی وہ طویل عرصے سے خواہشمند تھیں۔
ان کے مطابق اس مقام تک پہنچنے کے لیے انھوں نے تقریباً گذشتہ ایک دہائی کے دوران ایک کالج میں ملازمت سے دوسری ملازمت تک پیش قدمی کی اور ہر نئی جاب کو ایسی مخصوص مہارتیں حاصل کرنے کے موقع کے طور پر استعمال کیا جو اُن کے کیریئر میں آگے بڑھنے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔
مجموعی طور پر گذشتہ دس برسوں میں انھوں نے چھ مختلف یونیورسٹیوں میں 10 مختلف ملازمتیں کیں۔
ہیریس نیلسن آفس مینیجر، ایڈمیشنز کونسلر اور سٹوڈنٹ ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں اور اب وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرآف سٹوڈنٹ انگیجمنٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔
اگرچہ وہ اپنی موجودہ تنخواہ ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ملازمتیں تبدیل کرنے کے باوجود اُن کی آمدن میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوا، البتہ انھیں دیگر سہولیات، جیسا کہ تنخواہ میں کچھ حد تک اضافہ، چھٹیاں اور پنشن وغیرہ کے فوائد، ملتی گئیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہر نئی ذمہ داری نے مجھے ایسے سکلز (مہارتیں) فراہم کیے جو پہلے میرے پاس نہیں تھے اور ان تمام تجربات نے مل کر مجھے اس کام کے لیے تیار کیا جو میں آج انجام دے رہی ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور وہ ایسا کرنے والی واحد خاتون نہیں ہیں۔
جین زی میں ملازمتیں تبدیل کرنے کا رجحان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈسٹری ماہرین نے جنریشن زی (جین زی)، یعنی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد، میں ایک نئے پیشہ ورانہ رجحان کی نشاندہی کی ہے، جسے ’للی پیڈنگ‘ کہا جاتا ہے۔
اس اصطلاح سے مراد یہ ہے کہ نوجوان ایک ہی کمپنی میں طویل عرصے تک ایک ہی عہدے پر رہنے کے بجائے نوکری بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اپنی سکلز میں اضافہ کر سکیں، جلد ہی سینیئر عہدوں تک پہنچنے کے امکانات کو بہتر بنائیں اور زیادہ تنخواہ حاصل کر سکیں۔
اعداد و شمار اس رجحان کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔
ریکروٹمنٹ ایجنسی ’رینڈسٹیڈ‘ کی جانب سے سنہ 2024 میں 11,250 افراد پر مشتمل ایک عالمی سروے کے مطابق اپنے کیریئر کے ابتدائی پانچ برسوں میں جین زی ملازمین اوسطاً صرف 1.1 سال ایک ملازمت پر رہتے ہیں، جبکہ ملینیلز (سنہ 1981 سے سنہ 1996 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) میں یہ اوسط مدت 1.8 سال ہے اور اس سے بڑی عمر کی نسل میں یہ مدت تقریباً تین سال بنتی ہے۔
کم از کم برطانیہ کی حد تک ملازمتوں میں اس بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کے نتیجے میں تنخواہوں میں اضافے کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے۔
سنہ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق مالیاتی کمپنی ’ویلتھفائی‘ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے گذشتہ دس برسوں کے دوران چار یا اس سے زیادہ مرتبہ ملازمت تبدیل کی، اُن کی اوسط سالانہ آمدنی 39,276 پاؤنڈ تھی، جبکہ دیگر افراد، جو ایسا نہیں کرتے، کی اوسط آمدنی 30,088 پاؤنڈ رہی۔
یعنی ملازمتیں بار بار تبدیل کرنے والوں کو اوسطاً 31 فیصد زیادہ آمدنی حاصل ہوئی۔
جو لوگ اپنی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کو ’لِلی پیڈنگ‘ قرار دیتے ہیں وہ ہمیشہ اگلے بہتر موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
ایسا ہی معاملہ 42 سالہ پبلک سپیکر اور مصنف ایڈم سمائلی پوزولسکی کا ہے۔ پوزولسکی کام کی جگہوں پر کلچر کو بہتر بنانے کے موضوع پر لکھتے اور گفتگو کرتے ہیں۔
سان فرانسسکو میں مقیم پوزولسکی کا کہنا ہے کہ ایک ہی کمپنی میں رہ کر بتدریج ترقی کرنے والے ’روایتی کیریئر‘ کا تصور اُن پر کبھی لاگو نہیں ہوا۔ اس کے بجائے وہ اپنے کام اور زندگی میں ’معنی اور مقصد‘ کی تلاش میں رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے سرکاری شعبے، غیر منافع بخش تنظیموں، تخلیقی شعبوں اور نجی کمپنیوں میں مختلف ملازمتیں اختیار کیں اور 15 برس کے دوران متعدد پیشہ ورانہ کردار نبھائے۔
ان کی ملازمتوں میں ’پیِس کور‘ کے لیے پراجیکٹ لیڈر کے طور پر کام کرنا بھی شامل ہے۔ پیس کور امریکی حکومت کا ایک ادارہ ہے اور نوجوان امریکیوں کو بیرونِ ملک رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔
پوزولسکی نے وارنر کے لیے نیویارک میں فلمی لوکیشن سکاؤٹ کے طور پر بھی کام کیا، وہ سنہ 2008 میں براک اوباما کی کامیاب صدارتی انتخابی مہم کا حصہ بھی رہے، اور ایک پالیسی تحقیقی ادارے (تھنک ٹینک) کے فیلو کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

،تصویر کا ذریعہAdam Smiley Poswolsky
وہ کہتے ہیں کہ اپنے پورے کیریئر کے دوران انھوں نے ہمیشہ ایسے کاموں کی تلاش کی جو ان کے لیے دلچسپ ہوں، اور ساتھ ہی ایسی مہارتیں حاصل کیں جنھوں نے انھیں موجودہ مقام تک پہنچنے میں مدد دی، یعنی کتابیں لکھنے اور ایک کامیاب اور معاوضہ لینے والے مقرر بننے تک۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہر بار جب میں نے نئی سمت اختیار کی تو مجھے واضح طور پر معلوم تھا کہ میں ایک نئے تجربے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی جانتا تھا کہ میں ایک ملازمت سے دوسری ملازمت تک کون سی مہارتیں اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔‘
پوزولسکی کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ انھیں روایتی کارپوریٹ کلچر میں صرف اوپر جانے کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ سفر کے ارتقا کے ذریعے اطمینان حاصل ہوا۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ بالآخر وہ دوبارہ اتنی ہی آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جتنی 28 سال کی عمر میں پیس کور میں ملازمت کے دوران کماتے تھے، یعنی تقریباً 70 ہزار ڈالر سالانہ۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سرکاری ملازمت میں جو مہارتیں میں نے سیکھیں، انھوں نے مجھے بطور مصنف ترقی حاصل کرنے میں مدد دی۔ اسی سے میں کتاب لکھنے تک پہنچا اور پھر اسی نے میری موجودہ پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد رکھی، جس میں میں ایک کی نوٹ سپیکر کے طور پر کام کرتا ہوں۔‘
’لوگ متنوع اور تیز رفتار ترقی چاہتے ہیں‘
برطانیہ کی انشورنس کمپنی ’ہِسکاکس‘ کی چیف پیپل آفیسر نکولا گرانٹ کہتی ہیں کہ انھوں نے لوگوں کے اپنے کیریئر کے بارے میں سوچنے کے انداز میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔
ان کے مطابق خاص طور پر کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں لوگ اب ایک ہی راستے پر چلنے کے بجائے مختلف قسم کا تجربہ جلد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مختلف مہارتیں سیکھ کر اپنا تجربہ بڑھا رہے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ نوجوان ملازمین اگر محسوس کریں کہ اُن کی ترقی رک گئی ہے یا اُن کے پاس مواقع کم ہیں تو وہ نئی ملازمت تلاش کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں کی توقعات بدل گئی ہیں۔ وہ تنوع، تیز رفتار ترقی اور ایسی مہارتیں چاہتے ہیں جو مستقبل میں بھی کارآمد رہیں۔‘
ان کے مطابق ’یہ دراصل آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی خواہش ہے۔ آخرکار اس سے ملازم اور ادارہ، دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔‘
زیادہ سینیئر عہدوں اور بہتر تنخواہوں تک پہنچنے کی کوشش
لوسی کیمپ آئی ٹی کمپنی ’لا فوس‘ میں سٹریٹجک برانڈ اور کمیونیکیشنز کی سربراہ ہیں۔ وہ بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔
ان کے نزدیک بار بار مختلف مواقع کی طرف بڑھنا صرف ایک رجحان نہیں بلکہ کام کی دنیا کا مستقبل ہے، کیونکہ ایسا کرنے والے لوگ زیادہ سینیئر عہدوں اور بہتر تنخواہوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لوسی کیمپ کہتی ہیں کہ ’نوجوانوں نے دیکھا ہے کہ صرف وفاداری کا ہمیشہ فائدہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی پسند کی مہارتوں کی بنیاد پر اپنا کیریئر خود ترتیب دینا چاہتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’کامیابی کے بارے میں ان کا سوچنے کا انداز بڑی عمر کے لوگوں سے مختلف ہے اور کام کا ان کا تجربہ بھی بالکل الگ ہے۔‘
لوسی یہ بھی کہتی ہیں کہ کووڈ کی عالمی وبا کے بعد دفتر میں ساتھیوں سے سیکھنے کے مواقع کم ہو گئے ہیں کیونکہ زیادہ لوگ گھر سے کام کر رہے ہیں اور بنیادی نوعیت کے کام اب مصنوعی ذہانت انجام دے رہی ہے۔
ان کے مطابق لوگ اب ایسی مہارتوں پر توجہ دے رہے ہیں جو آئندہ پانچ برس میں بھی کارآمد رہیں۔ یہ مہارتیں حاصل کرنے کے لیے وہ کسی دوسری ٹیم کے منصوبے میں شامل ہوتے ہیں، کسی اور شعبے میں جاتے ہیں یا نئی کمپنی میں ملازمت اختیار کرتے ہیں۔
لوسی کیمپ کہتی ہیں کہ ’لوگ صرف کچھ نیا سیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے کام میں مقصد تلاش کرتے ہیں۔‘
ہیرس نیلسن بھی اسی سوچ کی حامی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے کیریئر کو کسی منزل کے بجائے ایک مسلسل سفر سمجھتی ہوں۔ میں ہمیشہ سیکھ رہی ہوں اور آگے بڑھ رہی ہوں۔‘



















