آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔

لائیو کوریج

  1. طالبان کی نئی کابینہ: نہ کوئی خاتون وزیر، نہ اُمورِ خواتین کی وزارت

    طالبان نے نئی حکومت کا اعلان کر دیا ہے مگر اس میں اُمورِ خواتین کی وزارت ہی شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ میں بھی کسی خاتون وزیر کو شامل نہیں کیا گیا ہے تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ یہ کابینہ ابھی حتمی نہیں ہے۔

    جب نمائندہ بی بی سی سکندر کرمانی نے کسی خاتون کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے میڈیا سینٹر میں موجود طالبان رہنما احمداللہ واثق سے سوال کیا کہ اس سے کیا پیغام جاتا ہے، تو اُنھوں نے کہا کہ کابینہ کے ناموں کے اعلانات ابھی حتمی نہیں ہیں۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ افغانستان اب باقاعدہ طور پر ’امارتِ اسلامی افغانستان‘ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بریکنگ, ’وزارتوں کی تقسیم قومیت کی بنا پر نہیں ہوئی‘

    ہم نے کابینہ کی وزارتوں کی تقسیم قوم پرستی کی بنا پر نہیں کی بلکہ اُن کے کام کو دیکھتے ہوئے کی ہے۔

    دنیا کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، امریکہ کے ساتھ بھی جس نے ہمارے ساتھ جنگ کی۔

    ہم اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ امن کی فضا رکھنا چاہتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ بیرونی دنیا کے لوگوں کو یہاں کے نظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ’باہر کے لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں کہ افغانستان میں سسٹم کیسا ہوگا۔ کسی کو ہمارے ملک کے داخلی اُمور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

  3. ’پاکستانی حمایت کا الزام پروپیگنڈا ہے، رد کرتے ہیں‘

    افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے الزام اور طالبان کو مبینہ پاکستانی حمایت کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ یہ ایک پروپیگنڈا ہے اور وہ اسے رد کرتے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستان سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے، ہمیں کسی ملک سے کسی قسم کی امداد نہیں مل رہی۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس بات کو ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان ہماری مدد کر رہا ہے۔ ’ہم لوگوں نے 20 سال اس ملک کی آزادی کے لیے جنگ کی ہے۔‘

  4. ’پنجشیر میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ جنگ ہو رہی ہے مگر وہاں امن ہے‘

    ابھی بہت سی وزارتیں خالی ہیں، بہت سے سیکریٹریز رہتے ہیں، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور کوشش کریں گے کہ جلد از جلد انتظام کیا جا سکے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جو مظاہرے ہو رہے ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    پنجشیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پنجشیر میں جنگ ہو رہی ہے تاہم وہاں امن ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ پنجشیر کے رہنما ملک سے باہر جا چکے ہیں۔

  5. ’یہ کابینہ جز وقتی سیٹ اپ ہے، مکمل حکومت بعد میں بنائی جائے گی‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا یہ ایک جز وقتی ہے اور مزید منصوبہ بندی کر کے مکمل حکومت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

    طالبان کی نئی کابینہ کے سربراہ ملّا محمد حسن اخوند ہوں گے جن کے نائبین میں ملّا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی شامل ہوں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وقتی طور پر حکومتی معاملات چلانے کے لیے سیٹ اپ بنایا گیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ فی الوقت شوریٰ اس کے معاملات دیکھے گی اور پھر بعد میں دیکھا جائے گا کہ لوگوں کی اس حکومت میں شرکت و شمولیت کس انداز میں ہو گی۔

  6. مظاہرین کے پیچھے موجود لوگ ملک سے باہر ہیں: ذبیح اللہ مجاہد

    اب صحافیوں کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    مظاہروں میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کے واقعات بارے میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ابھی تک بحرانی حالات ہیں اور لوگ اس لیے احتیاط کریں۔

    اُنھوں نے کہا کہ ابھی جو مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں سے مظاہرین کا دل کرتا ہے وہاں سے شروع کرتے ہیں اور جہاں دل چاہتا ہے ختم کرتے ہیں۔

    طالبان ترجمان نے کہا کہ مظاہرین کے پیچھے موجود لوگ ملک سے باہر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ بحرانی کیفیت رہے۔

    ہمارے پاس ابھی تک نظام نہیں ہے اور قانون کی کوئی تعریف نہیں ہے اس لیے ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ مظاہرے کرنے سے گریز کریں۔

  7. نئی کابینہ میں کون کون شامل ہے؟

    طالبان نے مندرجہ ذیل وزارتوں کا اعلان کیا ہے:

    • مولوی محمد یعقوب: وزیر دفاع
    • سراج الدین حقانی: قائم مقام وزیر داخلہ
    • مولوی عبدالحاکم شریعہ: قائم مقام وزیرِ انصاف
    • خلیل الرحمان حقانی: وزیر برائے پناہ گزین افراد
    • ملّا عبدالغنی برادر اخوند ملّا محمد حسن اخوند کے نائب ہوں گے۔
  8. طالبان نے نئی کابینہ کے ناموں کا اعلان کر دیا

    طالبان

    کابل سے تازہ خبر یہ ہے کہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس شروع ہو چکی ہے۔

    اپنی پریس کانفرنس کی ابتدا میں اُنھوں نے کہا کہ دشمن جا چکا ہے، جنگ ختم ہو چکی ہے اور اسلامی امارت بنانے کے لیے میدان صاف ہو چکا ہے۔

    اس وقت وہ طالبان کابینہ میں مختلف عہدوں پر نامزد افراد کے ناموں کا اعلان کر رہے ہیں۔

    خود اُنھیں وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

  9. تین ہفتے گزرنے کے باوجود طالبان حکومت کیوں نہیں بنا سکے؟

  10. طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس جلد متوقع

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اب سے کچھ دیر میں پریس کانفرنس کرنے والے ہیں جس میں اہم اعلانات متوقع ہیں۔

    کابل میں ہمارے نمائندے ملک مدثر اس وقت میڈیا سینٹر میں موجود ہیں اور ہم اُن کے ذریعے آپ کو پریس کانفرنس کی تفصیلات سے آگاہ رکھیں گے۔

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہbbc

  11. طالبان کی کابل میں مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منگل کو کابل کے مختلف حصوں میں ہونے والے طالبان مخالف مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے ہوائی فائرنگ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق کابل میں تین مختلف جگہوں پر مظاہرے کیے گئے۔

    ان میں سے ایک مظاہرے میں سارہ فہیم نامی احتجاجی خاتون نے اے ایف پی سے کہا: ’افغان خواتین اپنے ملک کو آزاد دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ اپنے ملک کی تعمیرِ نو چاہتی ہیں۔‘

    یہ مظاہرہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر کیا گیا تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے لوگوں کے لیے نارمل زندگیاں چاہتے ہیں۔ آخر ہم کب تک اسی صورتحال میں رہیں گے؟‘

    کابل میں طالبان کے سکیورٹی انچارج جنرل مبین نے اے ایف پی کو بتایا کہ اُنھیں موقع پر موجود طالبان سپاہیوں نے بتایا تھا کہ ’خواتین یہاں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔‘

    جنرل مبین نے دعویٰ کیا کہ ’یہ مظاہرین یہاں صرف غیر ملکی انٹیلیجنس کی سازشوں کی بنیاد پر جمع ہوئے ہیں۔‘

    مظاہرے کی کوریج کرنے والے ایک افغان صحافی نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان نے اُن کا پریس کارڈ اور کیمرا ضبط کر لیا اور اُنھیں لات مار کر وہاں سے چلے جانے کو کہا۔

  12. افغانستان کے دیہات:طالبان کا قبضہ، کچھ لوگوں کے نزدیک لڑائی کا خاتمہ ہے

  13. کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تیاریاں، دارالحکومت کی دیواروں پر ’فن پاروں کی جگہ نعروں‘ نے لے لی

    tolonews

    ،تصویر کا ذریعہtolonews

    ماضی میں کابل کی دیواریں مختلف فن پاروں سے سجی ہوتی تھیں، لیکن ان دنوں ان دیواروں پر نئے نعرے دیکھے جا رہے ہیں۔

    کچھ جگہوں پر امارات اسلامی کا سفید و سیاہ پرچم اور کچھ پر طالبان رہنماؤں کے پیغامات لکھے گئے ہیں۔

    طلوع نیوز کے مطابق طالبان کلچرل کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کے اعلان کے لیے شہر کو نئے نعروں سے سجا رہے ہیں۔

    طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب سربراہ احمد اللہ واثق نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ’نئی حکومت کے اعلان کی تیاری کے لیے شہر میں کچھ نعرے اور پلے کارڈز لگائے جائیں گے۔‘

    نئی حکومت کا اعلان کب کیا جائے گا، یہ تو ابھی تک واضح نہیں مگر طالبان کے مطابق نئی حکومت کے اعلان کی تقریب میں غیر ملکی مہمانوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    واثق نے بتایا ’کچھ اہم ممالک کے نمائندے، عہدیدار اور سفارتکار بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔‘

    OmaidSharifi

    ،تصویر کا ذریعہ@OmaidSharifi

  14. امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر طالبان کے حوالے کرنے والے پائلٹ کا شاندار استقبال اور انعامات کی برسات

    Social Media

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    آپ کو افغان پائلٹ، ادریس مہمند تو یاد ہوں گے جن کی تصویر چند دن قبل سوشل میڈیا پر وائرل تھیں؟

    اب طالبان سوشل میڈیا سے ایسی ویڈیوز شئیر کی جا رہی ہیں جن میں کئی طالبان اراکین ادریس کو ہار پہنا کر گلے لگا رہے ہیں۔

    ان اکاؤنٹس کے مطابق ’امارت اسلامی کے حکام نے بلیک ہاک طیارہ محفوظ مقام پر لے جانے کے بعد واپس لانے پر پائلٹ ادریس مہمند کا استقبال کیا اور ملکی املاک کی حفاظت پر ادریس مہمند کو انعامات سے نوازا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ’سلطنتوں کا قبرستان‘ بناتا ہے

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    19 ویں صدی میں برطانوی سلطنت، جو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی، اس نے اپنی پوری طاقت سے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سنہ 1919 میں برطانیہ کو بالآخر افغانستان چھوڑ کر جانا پڑا اور افغانوں کو آزادی دینی پڑی۔

    اس کے بعد سوویت یونین نے سنہ 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ سنہ 1978 میں بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی کمیونسٹ حکومت کو گرنے سے بچایا جائے۔ لیکن انھیں یہ سمجھنے میں دس سال لگے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت پائیں گے۔

    برطانوی سلطنت اور سوویت یونین کے درمیان ایک قدر مشترک ہے۔ جب دونوں سلطنتوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ اپنی طاقت کے عروج پر تھے۔ لیکن اس حملے کے ساتھ آہستہ آہستہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں۔

    سنہ 2001 میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ ہوا اور کئی سالوں تک جاری رہنے والی جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے 20 سال بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنی فوج کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ ایک متنازعہ فیصلہ تھا جس پر پوری دنیا میں شدید تنقید کی گئی۔ اس ایک فیصلے کی وجہ سے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر انتہائی تیزی سے قبضہ کر لیا ہے۔

    بائیڈن نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہریوں کو 'ایسی جنگ میں نہیں مرنا چاہیے جسے افغان خود لڑنے کے لیے تیار نہ ہوں۔'

    بائیڈن نے افغانستان کی 'سلطنتوں کے قبرستان' کے طور شہرت کو یاد کرتے ہوئے کہا: ' چاہے کتنی ہی فوجی قوت کیوں نہ لگا لیں ایک مستحکم، متحد اور محفوظ افغانستان کا حصول ممکن نہیں ہے۔'

    افغانستان میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ اسے پوری دنیا 'سلطنتوں کے قبرستان' کے نام سے جانتی ہے؟ آخر امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اسے جیتنے کی کوشش میں کیوں ناکام ہوئیں؟

  16. جب ویڈیو گیم میں لڑائی کو افغانستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی قرار دیا گیا

  17. طالبان کے زیرِ کنٹرول ہرات میں زندگی اب کیسی ہے؟

    ہرات آبادی کے لحاظ سے افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ بی بی سی نے ہرات کے شہریوں سے پوچھا کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول اس شہر میں اب زندگی کیسی ہے؟

  18. کابل کی دیواروں پر مٹتی تصاویر اور نوجوانوں کے ’ٹوٹتے خواب‘

    bbc

    سنہ 1990 کی دہائی میں جب افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت بنی تھی تو فن کو ’تخریب کاری‘ قرار دیا گیا تھا، سوائے مذہبی نغموں کے، موسیقی پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کتابیں اور ثقافتی نوادرات، بامیان کے کھڑے بدھوں کی طرح، تباہ کردیے گئے تھے۔ اور ہر قسم کے فنکارانہ اظہار پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

    پچھلے مہینے طالبان کے اقتدار میں دوبارہ سے آنے کے بعد سے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی دکھائی دے رہی ہے۔

    براہ راست موسیقی کے پروگرام پیش کرنے کو ایک بار پھر غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے، اور انہی طالبان نے میورلز کے آرٹ کو جو کبھی کابل کی سڑکوں پر افغان زندگی کی بہترین عکاسی کرتے تھے، ان کے بارے حکم دیا ہے کہ اُنھیں وائٹ واش کر دیا جائے۔

    bbc
  19. کابل میں دولتِ اسلامیہ کے ’ہمدرد‘ سمجھے جانے والے مذہبی رہنما کے قتل کے محرکات کیا ہیں؟

  20. وہ افغان جو ملک چھوڑ نہ سکے طالبان کے سائے میں ان کی زندگی کیسی ہے؟