آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔
لائیو کوریج
’خواتین کو کرکٹ کی اجازت نہ ملی تو افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں گے‘, کرکٹ آسٹریلیا کا بیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ افغانستان کے ساتھ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں گے۔
حال ہی میں طالبان کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ انھیں لگتا ہے خواتین کے لیے کرکٹ کھیلنا ’ضروری نہیں‘ اور یہ اسلام کے خلاف ہوگا اگر کسی حالت میں ان کا چہرہ اور جسم ڈھکا ہوا نہ ہو۔
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’عالمی سطح پر خواتین کی کرکٹ کی گروتھ کرکٹ آسٹریلیا کے لیے بہت اہم ہے۔ ہمارا ویژن ہے کہ یہ کھیل سب کے لیے ہونا چاہیے اور ہم اس کھیل کو خواتین کے لیے برابری کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔‘
’اگر افغانستان میں خواتین کی کرکٹ کو حمایت نہ ملنے کی حالیہ اطلاعات صحیح ثابت ہوتی ہیں تو کرکٹ آسٹریلیا کے پاس اس کے سوا کوئی متبادل نہیں ہوگا کہ وہ افغانستان کی میزبانی اس ٹیسٹ میچ کے لیے نہیں کریں گے جو ہوبارٹ میں کھیلا جانا ہے۔‘
شیڈول کے مطابق آسٹریلیا نے افغانستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ نومبر 27 کو کھیلنا تھا۔
امریکہ نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا پیغام نہیں دیا: وائٹ ہاؤس

،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے ایسا کوئی پیغام نہیں دیا کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک عبوری کابینہ ہے۔ اس انتظامیہ میں کوئی بھی نہیں، نہ صدر اور نہ ہی ان کی قومی سلامتی کی ٹیم میں کوئی شخص یہ تجویز دے گا کہ طالبان عالمی برداری میں قابل احترام و قدر رکن ہیں۔
’انھیں یہ اعزاز نہیں ملا اور ہم نے کبھی اس کا جائزہ نہیں لیا۔‘
’افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے استحکام کی امید ہے‘, سعودی عرب کے وزیر خارجہ کا بیان

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے استحکام لایا جاسکے گا اور پُرتشدد واقعات کے ساتھ انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق انھوں نے یہ بیان افغانستان کے بحران پر ایک اجلاس میں جاری کیا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے سعودی عرب کی جانب سے افغانستان کے مستقبل کے لیے ’افغانوں کی مرضی‘ کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا فیصلہ بیرونی مداخلت سے نہیں ہوگا۔
ریاض کو امید ہے کہ افغان عبوری حکومت ’سلامتی و استحکام کے لیے صحیح راستہ ہے۔ اس سے پُرتشدد واقعات اور انتہا پسندی کو رد کیا جاسکے گا۔‘
سعودی وزیر خارجہ کے مطابق سعودی عرب اپنی حمایت جاری رکھے گا تاکہ موجودہ چیلنجز سے افغانستان کو نکالا جاسکے۔
افغانستان کی نئی طالبان حکومت کی جانب سے ملک میں مظاہروں پر پابندی، پیشگی اجازت لازمی قرار

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کی جانب ملک میں ہونے والے مظاہروں کو بد نیتی پر مبنی اور سکیورٹی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کئی دنوں سے متعدد افراد بدنیتی پر مبنی جماعتوں کے اکسانے اور مالی اعانت کے ساتھ دارالحکومت کابل اور کچھ ریاستوں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں کی آڑ میں سیکورٹی کی خلاف ورزی، شہریوں کو نقصان پہنچانے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
طالبان حکومت کی وزرات دخلہ کے بیان میں یہ اعلان نے کیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کے مظاہرے کرنے کی کوشش نہ کریں۔
بیان میںمزید کہا گیا ہے کہ’مظاہروں کو قانونی ہونا چاہیے ، کیونکہ یہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ وزارت انصاف سے اجازت لی جائے اور پھر مظاہروں کو محفوظ بنانے کے لیے سکیورٹی سروسز کو اس سے آگاہ کیا جائے۔‘
اس حوالے سے دی گئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو مظاہروں کے مقصد ، نعرے اور بینر جو ان میں استعمال کیے جائیں گے ، ان کے مقام اور ان کے آغاز اور اختتام کے وقت سے کم از کم 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ
بیان میں تنبیہ کی گئی مذکورہ قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد مظاہرے کیے جا سکتے ہیں اور شہریوں میں انتشار پھیلانے اور نقصان سے گریز کیا جائے۔
بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’ممکن ہے کہ کچھ جماعتیں مظاہرین کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں تاکہ بدنیتی پر مبنی سیاسی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔‘
بیان میں خبوردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی بدامنی کی صورت میں ذمہ داری شرپسندوں کی ہوگی اور ان کے ساتھ سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ ’امارت اسلامیہ شہریوں کے تمام جائز حقوق اور مطالبات کو پورا کرنے کا عہد کرتی ہے ، اور اسے (حکومت کو) موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ وہ ملک میں سکیورٹی قائم کر سکے، اس کے بعد دیگر مسائل اور چیلنجز سے نمٹا جائے گا۔ ‘
نئی طالبان کابینہ 11 ستمبر کو حلف اٹھائے گی
افغانستان میں طالبان نے اعلان کیا ہے کہ نئی کابینہ 11 ستمبر کو اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھائے گی۔
واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے گذشتہ روز اپنی کابینہ کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ حتمی کابینہ نہیں ہے۔
دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے اس کابینہ کو غیر جامع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں خواتین کی نمائندگی نہیں ہے۔
گیارہ ستمبر کو امریکہ پر حملوں کے 20 سال مکمل ہو جائیں گے جن کے ردِ عمل میں امریکہ نے ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ شروع کرتے ہوئے پہلے افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کر دیا تھا۔
افغانستان پر امریکی حملے کے بعد دسمبر سنہ 2001 میں طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ملّا عمر کے بیٹے ملّا محمد یعقوب کی تصویر جاری
افغان طالبان نے اپنے ٹوئٹر پیج پر ملّا محمد عمر کے بیٹے ملّا محمد یعقوب کی تصویر جاری کی ہے۔
اُنھیں طالبان کی نئی کابینہ میں وزیرِ دفاع کا عہدہ دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ملّا عمر طالبان تحریک کے بانی تھے اور قندھار کے ایک مدرسے میں استاد تھے جہاں سے طالبان تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ وہ سنہ 2013 میں وفات پا گئے تھے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد
حکومت پاکستان نے افغانستان کے عوام کے لیے خوراک اور ادویات پر مشتمل انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق تین سی ون تھرٹی طیارے افغانستان بھیجے جا رہے ہیں۔
فضا کے ذریعے پہلی فوری امداد کے بعد مزید رسد زمینی راستوں سے فراہم کی جائے گی۔
بان کے مطابق حکومت پاکستان افغان بھائیوں کی مدد کے لیے اپنی پوری کوشش جاری رکھے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان عالمی برادری پر بھی زور دیتا ہے کہ وہ ممکنہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے افغانستان کے لوگوں کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورت حال پر پاکستان کی گہری نظر ہے: وزرات خارجہ
پاکستان کیوزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورت حال پر پاکستان کی گہری نظر ہے۔
وزرات خارجہ کہ ایک بیان کے مطابق پاکستان کابل میں عبوری سیاسی سیٹ اپ کے قیام کے بارے میں تازہ ترین اعلان سے آگاہ ہے، جو افغانستان کے لوگوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت کو پورا کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ نئی سیاسی تقسیم افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مربوط کوششوں کو یقینی بنائے گی اور ساتھ ہی افغان عوام کی انسانی اور ترقیاتی ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے کام کرے گی۔‘
وزرات خارجہ کے مطابق ’پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خودمختار اور خوشحال افغانستان کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔‘
میک اپ آرٹسٹ: ’ہر لمحے ایسا لگتا ہے طالبان مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے‘
وہ پاکستانی مدرسہ جس کے طلبہ طالبان کابینہ میں بھی شامل رہے
کابل چھوڑنے کا فیصلہ خانہ جنگی اور خونریزی سے بچنے کے لیے کیا: اشرف غنی کی قوم کو وضاحت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے معزول صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پندرہ اگست کو طالبان کے غیر متوقع طور پر کابل شہر میں داخل ہونے کے بعد اچانک شہر چھوڑ کر جانے پر افغان عوام کو وضاحت دینا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا وہ صدارتی محل کی سکیورٹی کی جانب سے مشورے کے بعد شہر کو 1990 کی خانہ جنگی جیسی صورتحال سے سے بچانے کے لیے وہاں سے چلے گئے تاکہ سڑکوں پر خوفناک لڑائی نہ چھڑ جائے۔
اپنے بیان میں اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ’کابل کو چھوڑنا میرے لیے زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا لیکن بندوقوں کو خاموش رکھنے اور کابل کے ساٹھ لاکھ شہریوں کو محفوظ رکھنے کا یہی واحد راستہ تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’میں نے اپنی زندگی کے 20 سال افغان لوگوں، جمہوریت اور ریاست کی بقا کے لیے کام کرنے کے لیے وقف کردیے۔ اپنے لوگوں اور اپنے نظریے کو چھوڑنے کا میرا ہرگز کبھی ارادہ نہیں تھا۔‘
سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ یہ وقت مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے چلے جانے کے واقعات کی تفصیلات بتائیں تاہم وہ وہ اس بارے میں مستقبل قریب میں تفصیلات فراہم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان پر افغان عوام کی ملکیت لاکھوں ڈالرساتھ لے جانے بے بنیاد الزامات کی وضاحت دینا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ الزامات مکمل طور پر اور قطعی غلط ہیں۔‘
ان کہنا تھا کہ کہ بدعنوانی ایک طاعون ہے جس نے ہمارے ملک کو دہائیوں سے سے جکڑ رکھا تھا اور بحیثیت صدر میری توجہ کا مرکز بد عنوانی کا خاتمہ تھا، مجھے یہ عفریت ورثے میں ملی جسے شکست دینا آسان نہیں تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرکاری آڈٹ کی پیشکش
اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کے اور ان کی اہلیہ کے اثاثے سے ظاہر کیے گئے تھے اور انھوں نے پیش کش کی کہ اقوام متحدہ یا کسی آزاد ادارے سے وہ اپنا سرکاری آڈٹ یا معاشی تحقیقات کروانے کو تیار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے قریبی اتحادی بھی اپنا معاشی آڈٹ کرانے کو تیار ہیں۔ انھوں نے دیگر سابق سینیئر حکام اور سیاسی شخصیات سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔
اپنے بیان میں اشرف غنی نے تمام افغانوں خصوصاً افغان فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی گذشتہ 40 سال کے دوران قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان قربانیوں کا یہ باب بھی اسی المیے پر ختم ہوا جو ان سے پہلے حکمرانوں نے دیکھا اور ان کے ملک کو استحکام نہ مل سکا۔
افغان طالبان کی نئی حکومت اور کابینہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
’ترکی طالبان حکومت تسلیم کرنے میں جلد بازی نہیں کرے گا‘
ترکی کے وزیرِ خارجہ میولوت چاواشولو نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کو طالبان حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور دنیا کو بھی اس حوالے سے جلدی نہیں ہونی چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے اور ترکی مختلف عوامل کی بنا پر یہ فیصلہ لے گا۔
ترک ٹی وی چینل این ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ترکی طالبان کے ساتھ بتدریج تعلقات بڑھائے گا۔
اُنھوں نے کہا: ’ہمیں اُمید ہے کہ افغانستان میں نوبت خانہ جنگی تک نہیں پہنچے گی۔ اس وقت وہاں معاشی بحران اور قحط کی سی صورتحال ہے اور ہم قطر اور امریکہ سے کابل ایئرپورٹ کے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔‘
میولوت چاواشولو نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کو تمام گروہوں کی نمائندہ حکومت ہونا چاہیے اور اگر اس میں صرف طالبان ہوئے تو پھر اُن کے مطابق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
’طالبان کے لیے خانہ جنگی سے بہتر یہ ہوگا کہ وہ تمام دھڑوں کی نمائندہ حکومت بنائیں کیونکہ اسے پوری دنیا قبول کرے گی۔ افغان خواتین کو بھی حکومت میں ذمہ داری دی جانی چاہیے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سراج الدین حقانی کی واحد تصویر جو پاکستانی گلوکارہ کے کیسٹ کور میں ’سمگل‘ کی گئی
کابل ڈائری: طالبان کے امیر آخر ہیں کہاں؟
طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے نئی کابینہ مسترد کر دی

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں طالبان مخالف قوتوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ منگل کو طالبان کی اعلان کردہ نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں۔
اُنھوں نے کہا کہ طالبان اور اُن کے ساتھیوں کی صرف مردوں پر مشتمل کابینہ ’غیر قانونی‘ ہے۔
قومی مزاحمتی محاذ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے نگراں کابینہ کے اعلان کو ’گروپ کی افغان عوام کے ساتھ دشمنی کی کھلی علامت‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے اپنی افواج پر حملوں سے منسلک افراد کی کابینہ میں شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ طالبان نے تمام دھڑوں کی نمائندہ حکومت بنانے کے وعدے کو توڑا ہے۔
بدھ کو کابل میں اور صوبہ بدخشاں میں درجنوں خواتین نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کی نمائندگی کے بغیر کوئی حکومت قبول نہیں کریں گی۔
طالبان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے مظاہروں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا ہے تاہم اُنھوں نے کہا کہ مظاہرین کو اجازت لینی ہوگی اور غلط زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔
قطر نے فوری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنقطر کی نائب وزیرِ خارجہ لولوۃ الخاطر کہتی ہیں کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام نے کرنا ہے، عالمی برادری نے نہیں قطر کا کہنا ہے کہ طالبان نے عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے اور انھیں افغانستان کے غیر متنازع حکمرانوں کے طور پر ان کے اقدامات سے جانچا جائے۔
قطر کی نائب وزیر خارجہ لولوۃ الخاطر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو میں بتایا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان نے کرنا ہے بین الاقوامی برادری نے نہیں۔
قطر کی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بات پر کوئی سوال نہیں کہ طالبان ڈی فیکٹو حکمران ہیں۔
ان کا یہ انٹرویو طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان سے پہلے دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بے گھر افراد کابل چھوڑنے میں کامیاب ہوئے، بشمول بہت سی طالبات۔ یہ اس (عملیت پسندی کا عکاس) ہے کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ہماری جانب سے کی جانے والی ثالثی پر سوال اٹھا رہے تھے مگر اب ہم اس کو اصل امتحان کے طور پر چھوڑ رہے ہیں اور اب پوری دنیا ہماری جانب دیکھ رہی ہے کہ ہم مدد کریں اور ثالثی کریں۔
لولوۃ الخاطر نے بتایا کہ اگر طالبان انسانی حقوق کی، عورتوں کے حقوق اور خاص طور پر عورتوں کی تعلیم کا احترام کریں گے تو اس کا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اس کے نتائج ہوں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ زمین پر لاجسٹکس میں مشکلات کے باوجود امید ہے کہ امداد کی کوششیں بحال ہوں گی۔ اس ضمن میں انھوں نے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے زیادہ سے زیادہ کردار کی اہمیت پر بھی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کو سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور امدادی اور ترقیاتی امور میں مدد فراہم کرنی چاہیے۔
شاہ محمود قریشی کی صدارت میں افغانستان کی صورتحال پر پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جاری
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کی دعوت پر افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس ابھی جاری ہے جس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
اجلاس میں چین، ایران،تاجکستان، ترکمانستان اورازبکستان کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔اجلاس میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے مشترکہ چیلنجوں کے حل اور خطے میں استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو پرامن اور مستحکم افغانستان کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کا ایک موقع فراہم کیا جائے گا جو مستحکم معاشی روابط کے لیے ناگزیر ہے۔
کابل میں طالبان کا خواتین مظاہرین پر تشدد
گذشتہ روز کی مانند ایک بار پھر کابل میں خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ کابل میں سکیورٹی پر موجود طالبان اہلکاروں نے اپنے ہاتھ میں موجود بیلٹس ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے خواتین کو ماریں۔ اس ویڈیو میں وہ منظر دیکھا جا سکتا ہے جسے صحافی ذکی دریابی نے ٹوئٹر پر اپ لوڈ کیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
