آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔

لائیو کوریج

  1. کابل احتجاج میں فائرنگ: ’ہماری آواز تاریخ بدلے گی‘

    کابل میں منگل کے روز سینکڑوں لوگ سڑکوں پر خواتین کے حقوق اور طالبان کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے نکلے۔ مظاہرین پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ پاکستان طالبان کی حمایت کرتا ہے۔

    جائے وقوعہ کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان نے اس بڑے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے شدید فائرنگ کی۔ ویڈیو: سکندر کرمانی، ملک مدثر

  2. ’مبارک ہو، طالبان کی حکومت میں صرف مرد، ملا اور طالب شامل ہیں‘

  3. ایران کے سکیورٹی چیف کی جانب سے افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تشویش, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران میں اعلی سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ ایران میں طالبان کی جانب سے جامع حکومت کی تشکیل میں ناکامی اور بیرونی مداخلت تشویش کا باعث ہیں۔

    ایران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغان حکام کو امن اور استحکام کو ہر چیز سے بالا رکھنا چاہیے۔

    انھوں نے لکھا کہ افغان عوام کے دوستوں کے بنیادی تحفظات یہ ہیں کہ وہاں جامع حکومت کی ضرورت کو نظر انداز کیا تپا، بیرونی مداخلت اور بہت سے سماجی اور نسلی گروہوں کی جنب سے مذاکرات کے ذریعے مطالبات کو پورا کرنے کے بجائے ہتیھاروں کا استعمال کیا گیا۔

    ان کی جانب سے یہ بیان طالبان کی نئی عبوری حکومت کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

    شامخانی بظاہر طالبان کے پنجشیر میں قبضے پر بھی تنقید کرتے دکھائی دیے۔

    یاشد رہے کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ پنجشیر پر انھوں نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جب مزاحمتی فورسز جن کی قیادت احمد مسعود کر رہے ہیں نے طالبان کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی جانب سے طالبان کی مدد سے متعلق رپورٹس پر نظر رکھے ہوئے ہے تاہم طالبان نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے۔

  4. چین نئی افغان حکومت سے رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار

    چین نے کہا ہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت امن و امان اور جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے ایک ضروری قدم ہے اور وہ افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے وانگ وینبن نے یہ بات بیجنگ میں معمول کی پریس کانفرنس کے دوران پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

    ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا چین افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرے گا۔

    خیال رہے کہ نئی افغان حکومت میں ایسے افغان رہنما بھی شامل ہیں جو امریکہ کی دہشت گردوں سے متعلق فہرشت میں موجود ہیں۔

    چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان کی سالمیت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔

    جب طالبان نے اگست میں افغانستان پر قبضہ کیا تو اس نے کہا تھا کہ وہاں کھلی اور جامع حکومت کا قیام ہونا چاہیے۔

    وانگ وینبن نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان کے نئے حکام تمام نسلوں اور گروہوں کے لوگوں کی بات سنیں گے تاکہ اپنے لوگوں کی خواہشات اور بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورے اتر سکیں۔

  5. کابل میں احتجاج کے ساتھ ایک نئے دن کا آغاز

    درجنوں خواتین بدھ کابل کی گلیوں میں احتجاج کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    یہ احتجاج کابل میں گذشتہ شام طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے اعلان کے بعد کیا جا رہا ہے جس میں خواتین کو نمائیندگی نہیں دی گئی۔

    کُ خواتین نے اس حاملہ خاتون پولیس اہلکار کی تصویر اٹھا رکھی تھی جسے گذشتہ ہفتے صوبہ گور می ہلاک کیا گیا تھا۔

    اطلاعات ہیں کہ ہرات میں ہونے والے مظاہرے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ کابل میں ایتلا اطروز نامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے ان رپورٹرز کو گرفتار کیا گیا جو مظاہرے کی کوریج کر رہے تھے۔

    صحافی سید حسن نے ٹویٹ پر اپنی پوسٹ میں خواتین کے اس گروہ کی تصویر لی ہے جنھوں نے آج پھر کابل میں اپنے احتجاج کا آغاز کیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ کابل کی گلیوں میں شروع ہونے والے اس احتجاج میں خواتین نے جو پے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان میں سے ایک پر لکھا تھا میں پھر آزادی کے نغمے گاؤں گی ، بار بار۔

  6. عبوری کابینہ میں شامل گوانتنامو بے میں قید رہنے والے ’طالبان فائیو‘ کون ہیں؟

    اس کے علاوہ اس عبوری کابینہ میں ’طالبان فائیو‘ کے نام سے ایسے رہنما شامل ہیں جو بدنام زمانہ جیل گوانتانامو بے میں قید رہ چکے ہیں۔

    ان میں ملا محمد فاضل، خیراللہ خیر خواہ، ملا نور اللہ نوری، ملا عبدالحق واثق، اور محمد نبی عمری شامل ہیں۔ اگرچہ اس کابینہ کے علاوہ بھی ایسے طالبان رہنما موجود ہیں جو گوانتانامو یا افغانستان کی مختلف جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔

    ان میں ملا خیر اللہ خیر خواہ کو وزارت اطلاعات اور براڈکاسٹ، نوراللہ نوری کو سرحد اور قبائلی علاقہ جات، عبدالحق واثق انٹیلیجنس کے سربراہ، ملا محمد فاضل وزارت دفاع میں نائب وزیر ہوں گے۔

  7. طالبان عبوری حکومت کے کم سے کم 14 اراکین اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں

    گذشتہ روز طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا تھا اور کابینہ کے 27 عہدیداروں کی فہرست بھی جاری کی گئی تھی۔

    اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے دہشتگردوں کی ایک بلیک لسٹ موجود ہے جس میں ایسے افراد شامل ہیں جو عالمی طور پر مطلوب ہیں۔ اس فہرست میں ان ناموں کو ڈھونڈنے پر معلوم ہوا کہ 27 میں سے نئی افغان کابینہ کے کم سے کم 14 اراکین اقوامِ متحدہ کی دہشتگردوں کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ تاہم یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

    ذیل فہرست میں ان 14 افراد اور موجودہ عبوری حکومت میں ان کے عہدے درج ہیں:

    • ملا محمد حسن اخوند، وزیرِ اعظم
    • ملا عبدالغنی برادر، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی عبدالسلام حنفی، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی محمد یعقوب مجاہد، دفاع
    • ملّا سراج الدین حقانی، داخلہ
    • امیر خان متقی، خارجہ
    • ملّا عبداللطیف منصور، پانی و بجلی
    • نجیب اللہ حقانی، برقی مواصلات
    • خلیل الرحمان حقانی، پناہ گزین افراد
    • عبدالحق وثیق، انٹیلیجنس
    • قاری دین محمد حنیف، اقتصادیات
    • نوراللہ نوری، سرحد و قبائل
    • شیر محمد عباس ستانکزئی، نائب وزیرِ خارجہ اُمور
    • مولوی نور جلال، نائب وزیرِ خارجہ

    خیال رہے کہ دیگر 13 افراد میں سے اکثر مختلف عرفیت سے بھی جانے جاتے ہیں اور اس فہرست کے ذریعے ان ناموں کے حوالے سے تصدیق کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔

  8. دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طالبان کی عبوری کابینہ کے اراکین کون ہیں؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    افغانستان میں طالبان کی عبوری کابینہ میں ایسے اراکین شامل ہیں جو پاکستان کے دینی مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

    افغان طالبان ہوں یا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ان میں موجود بیشتر ایسے اراکین ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں اکوڑہ خٹک کے مقام پر قائم تاریخی مدرسے ’دارالعلوم حقانیہ‘ سے فارغ التحصیل ہیں۔

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کو عالمی سطح پر طالبان کی یورنیورسٹی یا ’یورنیورسٹی آف جہاد‘ کے نام بھی دیا گیا ہے۔ ان طالبان رہنماؤں میں ملا عبدالطیف منصور شامل ہیں جو زیادہ تر پاکستان میں مقیم رہے ہیں۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ ملا عبدالطیف منصور نے دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انھیں وزارتِ پانی و بجلی کا قلمدان دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالباقی بھی دارالعلوم حقاینہ میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہ وزیرِ تعلیم مقرر ہوئے ہیں جبکہ نجیب اللہ حقانی اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں اور انھیں مواصلات کا قلمدان دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم بھی دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین بھی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ محمد نعیم اور سہیل شاہین کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

  9. کابل میں مظاہرے انتظامیہ کی اجازت سے مشروط ہوں گے: سہیل شاہین

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ جو افراد کابل میں پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں اب اس کے لیے انھیں حکام سے باضابطہ اجازت لینی ہو گی اور یہ بتانا ہو گا کہ وہ کس مخصوص جگہ پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے یہ بات صحافیوں کے ساتھ واٹس ایپ پر قائم ایک گروپ میں کہی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایسے نہیں جیسے اس وقت ہو رہا ہے، امارت اسلامی افغانستان کے رہنماؤں کے لیے نازیبا زبان کا استعمال کیا جا رہا ہے اور آپس کی دشمنیوں کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسے لمحات کو فلم بند کر کے سوشل میڈیا پر شائع کیا جا رہا ہے۔‘

    بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پڑھی لکھی اور اختلاف کرنے والی شہری آبادی‘ طالبان کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

  10. افغانستان میں آئندہ کا لائحہ عمل: امریکی وزیرِ خارجہ جرمنی میں، 20 ممالک کے وزرا کے ساتھ آن لائن اجلاس متوقع

    افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد جب طالبان نے نئی حکومت کا اعلان کیا ہے تو دنیا بھر کے اکثر ممالک کی نظریں افغانستان میں آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینتھونی بلنکن بدھ کو جرمنی کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ قطر سے جرمنی پہنچ چکے ہیں۔ قطر افغانستان سے ایئرلفٹ کے دوران سب سے بڑی گزرگاہ ثابت ہوا تھا جبکہ جرمنی ان ہزاروں افغانوں کے لیے پناہ کی جگہ بن چکا ہے، جرمنی میں امریکہ کا ریمسٹین فوجی اڈہ اس کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    بلنکن اس فوجی اڈے میں جرمنی کے وزیرِ خارجہ ہیکو ماس سے ملاقات کریں گے اور 20 ممالک کے وزیروں سے آن لائن میٹنگ کریں گے جس میں افغانستان میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بات کی جائے گی۔

    امریکہ طالبان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گا تاکہ افغانوں کے ملک سے نکلنے کے وعدوں پر پورا اترنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    امریکہ کا کہنا تھا کہ انھیں موجودہ عبوری حکومت کے بارے میں خدشات ہیں لیکن وہ اس کے فیصلوں سے اسے پرکھیں گے۔ امریکی حکام نے زور دیا ہے کہ باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں ابھی بہت وقت ہے۔

  11. ’ہم دوسروں کو اپنی کابینہ کیوں نامزد کرنے دیں جب دوسرے ممالک یہ کام خود کرتے ہیں؟‘, لیز ڈوسیٹ، چیف بین الاقوامی نامہ نگار، بی بی سی نیوز

    ایک ایسی تحریک جو ایک عرصے تک غائب رہی اور اس کے عہدیداروں کے نام صرف دہشتگروں کی واچ لسٹ میں دیکھنے کو ملتے تھے اب ایسے عہدوں کا اعلان کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    اس وقت قائم مقام وزیرِ اعظم ملا حسن اخوند کی اپنی سربراہی میں کام کرنے والے اہم عسکری اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ دشمنیاں ہیں جو ان کے لیے آئندہ مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔

    اس عبوری حکومت کے ذریعے طالبان کو بندوقوں سے حکومت کرنے کی طرف بڑھنے کا موقع بھی ملے گا۔

    اس سے اس بات کے بارے میں بھی علم ہوتا ہے کہ طالبان کی جیت کا مطلب طالبان کی حکومت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسی حکومت کے قیام سے انکار کیا جس میں سب کی شمولیت ہو۔

    انھوں نے سابقہ سیاسی رہنماؤں اور حکام کو حکومت میں شامل کرنے سے انکار کیا خاص طور پر وہ جن پر اس سے قبل بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے تھے۔

    اس بارے میں سوال کا ایک جواب یہ تھا کہ ’ہم دوسروں کو اپنی کابینہ کیوں نامزد کرنے دیں جب دوسرے ممالک یہ کام خود کرتے ہیں؟‘

    جہاں تک بات خواتین کی ہے تو اس بات کا کبھی بھی کوئی امکان نہیں تھا کہ انھیں کوئی وزارت دی جائے گی۔ خواتین کے معاملات کی وزارت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

  12. حامد کرزئی نے دہائیوں تک طالبان، امریکہ اور مجاہدین کے درمیان توازن کیسے رکھا

  13. چین طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کرے گا: بائیڈن

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو کہا کہ انھیں یقین ہے چین طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کی کوشش کرے گا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انھیں اس بات کی فکر ہے کہ چین طالبان کی مالی مدد کرے گا، بائیڈن نے کہا کہ ’چین کو طالبان سے بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ تو وہ طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کریں گے۔‘

    ’مجھے یقین ہے ایسا پاکستان، روس اور ایران بھی کریں گے۔ یہ سب سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب انھیں کیا کرنا ہے۔‘

    امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک ساتھ مل کر طالبان سے متعلق حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا ہے اور فی الحال ان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  14. امریکہ کو طالبان کی حکومت میں کچھ ناموں پر ’تشویش‘

    امریکہ نے کہا ہے کہ اسے طالبان کی عبوری حکومت میں شامل کیے گئے ناموں پر تشویش ہے مگر وہ انھیں اقدامات پر جانچیں گے جن میں افغانوں کی آزادی شامل ہے۔

    امریکہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن افغانستان پر بات چیت کے لیے قطر کے دورے پر ہیں۔

    امریکہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ اس فہرست میں ایسے نام شامل ہیں جو طالبان کے رکن ہیں یا ان کے قریبی ساتھی ہیں اور ان میں خواتین شامل نہیں۔ ہمیں کچھ لوگوں کے ماضی اور وابستگیوں پر تشویش ہے۔‘

    خیال رہے کہ نئی افغان حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند، جو کہ تحریک طالبان کے بانیوں میں سے ہیں، کا شمار اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہوتا ہے۔ جبکہ نئے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کے رہنما رہ چکے ہیں اور ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔

    تاہم امریکی دفتر خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں طالبان نے ایک عبوری کابینہ پیش کی ہے۔ لیکن ہم طالبان کو ان کے اقدامات پر جانچیں گے، نہ کہ ان کی باتوں پر۔۔۔ ہمیں امید ہے طالبان یہ یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔‘

    امریکہ نے ایک بار پھر طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افغانوں اور امریکی شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی اجازت دی جائے جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔

    اس سے قبل بلنکن نے قطر میں کہا کہ طالبان اس وقت تک تعاون کر رہے ہیں جب تک مسافروں کے پاس سفری دستاویزات ہیں۔ ریپبلکن جماعت کے پارلیمانی رہنماؤں اور کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ کابل میں کچھ چارٹر طیارے پھنسے ہوئے ہیں۔

  15. ہرات: مظاہرے پر ’طالبان کی فائرنگ سے‘ تین ہلاکتوں کی اطلاع, کابل میں پاکستان مخالف مظاہرہ

    افغان شہر ہرات میں میڈیکل ورکرز کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان نے تاحال اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری طرف کابل میں ایک پاکستان مخالف مظاہرہ دیکھا گیا جہاں طالبان کے مسلح جنگجوؤں نے ہوائی فائرنگ کے ذریعے سینکڑوں لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

    یہ مظاہرے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مزاحمت کے لیے بڑے اجتماع رہے ہیں۔

    کابل سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین اپنی حفاظت کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

    کئی مظاہرین نے براہ راست طالبان پر تنقید سے گریز کیا اور اپنے غم و غصے کا اظہار ہمسایہ ملک پاکستان کے حوالے سے کیا۔ وہ پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگا رہے تھے۔ پاکستانی حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

  16. طالبان کی عبوری کابینہ کا اعلان: پہلے پالیسی بیان میں کیا کہا گیا ہے؟

  17. قندوز سے کوئٹہ آنے والے افغان شہریوں کو واپس بھیج دیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں افغانستان کے علاقے قندوز سے پہنچنے والے اندازاً تین سو افغان شہریوں کو واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔

    یہ لوگ افغانستان سے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن آئے تھے، وہاں سے وہ دوروز قبل کوئٹہ آئے اور بلیلی کے علاقے میں پڑاﺅ ڈالا تھا۔

    یہ لوگ مجموعی طور پر 50 خاندانوں پر مشتمل تھے۔

    یہ لوگ کسپمرسی کی حالت میں تھے اور ان کے ساتھ جو بچے تھے ان میں سے بعض بیمار بھی تھے۔

    ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں تھیں۔

    ان لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان میں خراب صورتحال کی وجہ سے وہ پناہ کی تلاش میں یہاں پہنچے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اُنھیں یہاں پناہ لینے کی اجازت دی جائے اور مردوں کو محنت مزدوری کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کریں۔

    منگل کے روز جب میڈیا کے نمائندے اس علاقے میں گئے تو وہاں ان میں سے کوئی نہیں تھا۔

    جب ان کی عدم موجودگی کے بارے میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمان بلوچ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ غیر قانونی طور پر پاکستان آئے تھے اس لیے ان کو واپس افغانستان ڈی پورٹ کردیا گیا۔

    اُنھوں نے بتایا کہ جب تک حکومت کی جانب سے اجازت نہیں ہوگی اس وقت تک جو بھی افغان شہری غیر قانونی طور پر پاکستان آئیں گے ان کو واپس افغانستان بھیجا جائے گا۔

  18. بریکنگ, طالبان حکومت کا پہلا پالیسی بیان: ’ہم ملک کو جلد از جلد ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں‘

    افغانستان میں طالبان کی طرف سے اپنی حکومت کے اعلان کے بعد ’امارت اسلامیہ افغانستان‘ کے مشن کے بارے میں پہلے تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک کو جلد از جلد ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اور تمام عوام کے لیے چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

    افغانستان کی نئی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں ملک کے تمام کاروباری حضرات، سرمایہ کاروں اور ’سمجھ دار افغانوں‘ کی ضرورت ہے جو ملک کو غربت سے نکالنے، معیشت کو مضبوط کرنے، قومی دولت کو محفوظ کرنے اور سرکاری خزانے کو قومی مفاد میں استعمال کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ملک کا اہم حصہ ہے۔ ’ہم میڈیا کی آزادی، اس کے فنکشن اور اس کے معیار کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔‘

    ’ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہماری نشریات میں اسلامی اصولوں، قومی مفاد اور غیرجانبداری کا خیال رکھا جائے۔‘

    بیان میں افغانستان کے پڑوسیوں، خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے لیے پیغام میں کہا گیا کہ ’افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کی سکیورٹی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔‘ نئی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ افغانستان کی طرف سے کسی کو تشویش نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ دوسروں سے بھی ایسے رویے کی توقع کرتی ہے۔

  19. ملّا محمد حسن اخوند اور ملّا عبدالغنی برادر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    طالبان کی نئی کابینہ میں رئیس الوزرا یا وزیرِ اعظم کا عہدہ ملّا محمد حسن اخوند کو دیا گیا ہے جن کے نائبین میں ملّا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی شامل ہوں گے۔

    ملّا محمد حسن اخوند کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    • طالبان کی رہبری شوریٰ کے قائد ہیں
    • اطلاعات کے مطابق خود طالبان کے امیر ہبۃ اللہ اخوند زادہ نے ان کا انتخاب کیا
    • طالبان کے آخری دورِ حکومت میں گورنر اور وزیر رہے
    • طالبان کے بانی ملّا عمر کے قریبی مشیر رہے
    • اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں

    ملّا عبدالغنی برادر کون ہیں؟

    • امریکہ کے ساتھ فروری 2020 میں امن معاہدے پر طالبان کی جانب سے دستخط کیے
    • امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں
    • طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج بھی ہیں
    • ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں
    • فروری سنہ 2010 میں انھیں پاکستان کے شہر کراچی سے امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا
    • انھیں ستمبر 2013 میں پاکستانی حکومت نے رہا کر دیا تھا لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ پاکستان میں ہی رہے یا کہیں اور چلے گئے
    • ملا برادر طالبان رہنما ملا محمد عمر کے سب سے قابل اعتماد سپاہی اور نائب رہے
    • افغان انتظامیہ کے سینیئر عہدیداروں کو ہمیشہ ہی اس بات پر یقین تھا کہ برادر کے قد کا رہنما طالبان کو امن مذاکرات کے لیے آمادہ کر سکتا ہے

    سراج الدین حقانی کون ہیں؟

    طالبان نے سراج الدین حقانی کو بطور وزیرِ داخلہ نامزد کیا ہے

    • افغان طالبان کے تیسرے نائب امیر ہیں
    • ان کا تعلق ان کے والد جلال الدین حقانی کے حقانی نیٹ ورک سے ہے
    • حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے ہے
    • جلال الدین حقانی نے سنہ 1980 کی دہائی میں شمالی وزیرستان سے سابقہ سویت یونین کے افغانستان میں قبضے کے دوران منظم کارروائیاں کیں
    • جلال الدین حقانی کے بھائی خلیل حقانی کو وزیر برائے پناہ گزین افراد تعینات کیا گیا ہے
    • سراج الدین حقانی کے بھائی انس حقانی امریکہ سے مذاکرات کے دوران طالبان کی سیاسی ٹیم کا حصہ رہے
    • اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے سراج الدین حقانی کے طالبان میں اثر و رسوخ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے

    طالبان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ نگراں ہے اور ملکی معاملات کو فی الوقت چلانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ جلد ہی مکمل انتظام کا اعلان کیا جائے گا۔

    طالبان کے بارے میں مزید آپ ہمارے ان خصوصی فیچرز میں جان سکتے ہیں:

  20. طالبان کی نئی کابینہ میں کون کون شامل ہیں؟

    • ملا محمد حسن اخوند، وزیرِ اعظم
    • ملا عبدالغنی برادر، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی عبدالسلام حنفی، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی محمد یعقوب مجاہد، دفاع
    • ملّا سراج الدین حقانی، داخلہ
    • امیر خان متقی، خارجہ
    • ملّا ہدایت اللہ بدری، مالیات
    • ملّا خیراللہ خیر خواہ، اطلاعات و ثقافت
    • ملّا عبداللطیف منصور، پانی و بجلی
    • عبدالباقی حقانی، تعلیم
    • نجیب اللہ حقانی، برقی مواصلات
    • خلیل الرحمان حقانی، پناہ گزین افراد
    • عبدالحق وثیق، انٹیلیجنس
    • حاجی ادریس، سربراہ افغانستان بینک
    • قاری دین محمد حنیف، اقتصادیات
    • مولوی عبدالحاکم شریعہ، وزیرِ انصاف
    • نوراللہ نوری، سرحد و قبائل
    • یونس اخوندزادہ، دیہی ترقی
    • ملّا عبدالمنّان عمری، عوامی بہبود
    • ملّا محمد عیسیٰ اخوند، کان کنی
    • فصیح الدین، چیف آف سٹاف
    • شیر محمد عباس ستانکزئی، نائب وزیرِ خارجہ اُمور
    • مولوی نور جلال، نائب وزیرِ خارجہ
    • ذبیح اللہ مجاہد، نائب وزیرِ اطلاعات و ثقافت
    • ملّا تاج میر جواد، نائب سربراہ اوّل برائے انٹیلیجنس
    • ملّا رحمت اللہ نجیب، نائب سربراہ انٹیلیجنس
    • ملّا عبدالحق، نائب وزیرِ داخلہ برائے انسدادِ منشیات

    کایبنہ کی مکمل فہرست ساتھ منسلک تصاویر میں موجود ہے تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ یہ ایک عبوری سیٹ اپ ہے جسے فی الوقت ملکی معاملات چلانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

    کابل میں طالبان کی نئی کابینہ کے اعلان کے موقع پر ہمارے نمائندے سکندر کرمانی اور ملک مدثر میڈیا سینٹر میں موجود تھے جن کی بدولت تازہ ترین اطلاعات آپ تک پہنچ سکیں۔