القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا: بائیڈن کا ایک بار پھر اپنے فیصلے کا دفاع

    جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وزیراعظم جو بائیڈن نے ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کو نکالنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو بدھ کے روز دیے گئے انٹرویو میں جو بائیڈن نے ایک بار پھر افغان حکومت اور افواج کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے۔

    جب امریکی صدر سے کابل کے ہوائی اڈے پر پیر کے روز سامنے آنے والے مناظر کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ دفاعی انداز میں بولے ’یہ چار دن پہلے ہوا، پانچ دن پہلے!‘

    اس سوال کے جواب میں کہ انھوں نے ان مناظر کے بارے میں کیا سوچا؟ امریکی صدر نے کہا کہ ’میں نے سوچا تھا کہ ہمیں اس پر قابو پانا ہو گا۔ ہمیں مزید تیزی سے آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں اس طریقے سے آگے بڑھنا ہے کہ ہم اس ہوائی اڈے کو کنٹرول کر سکیں۔ اور ہم نے ایسا کیا۔‘

  2. طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی تصاویر

    طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان سے آج کے دن لی گئی کچھ تصاویر میں دیکھا جا سکستا ہے کہ کابل میں ایسے تمام اشتہارات جن میں خواتین ماڈل ہیں، کو رنگوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

    ہوائی اڈے پر کے باہر طالبان موجود ہیں جبکہ فوجی ان لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکابل ائیرپورٹ پر موجود امریکی فوجی
    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکابل میں فرانس کے سفارتخانے کے باہر موجود لوگ
    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنہیرات شہر میں طالبان کا جھنڈا لہرا رہا ہے
  3. نیٹو: افغان سکیورٹی فورسز کا اتنی جلدی ڈھیر ہو جانا ’المیہ‘ ہے

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ یہ ایک ’المیہ‘ ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اتنی جلدی ڈھیر ہو گئیں۔

    انھوں نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ واقعات سے کچھ سخت سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سٹولٹن برگ نے حالیہ بحران کا ذمہ دار فوجیوں کی بجائے افغان حکومت کی جانب سے قیادت اور لاجسٹک کی کمی کو ٹھہرایا۔

    انھوں نے کہا کہ نیٹو امریکہ پر حملے کے بعد افغانستان میں داخل ہوا اور ایک بار جب امریکہ نے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو یورپی اتحادیوں کے لیے یہ ایک عملی آپشن نہیں تھا۔

    انھوں نے کہا ’ہمارا منصوبہ کبھی بھی افغانستان میں ہمیشہ رہنے کا نہیں تھا۔‘

  4. ’کبھی کسی فوج کو 11 دن میں گرتے نہیں دیکھا‘

    امریکی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کے پاس اپنے ملک کا دفاع کرنے کی تربیت اور صلاحیت موجود تھی لیکن یہ ان کی ’مرضی اور قیادت پر منحصر تھا۔‘

    پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران جنرل مارک ملے نے یہ بھی کہا کہ ’ میں نے یا کسی اور نے بھی، اس سائز کی کسی فوج کو 11 دن میں گرتے نہیں دیکھا۔‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  5. ’کابل ائیرپورٹ پر صورتحال ابھی بھی خطرناک ہے‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل مارک ملے نے کابل ائیرپورٹ کی موجودہ صورتحال کو ’ابھی تک بہت خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

    افغانستان کی حالیہ صورتحال پر پینٹاگون کی بریفنگ میں امریکی فوج کے اعلی عہدیدار نے کہا کہ ابھی پوسٹ مارٹم کا وقت نہیں، ابھی وہاں فوجی خطرے میں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم امریکی فوج ہیں اور ہم ان تمام امریکی شہریوں کو نکالنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ امریکہ پہلے ہی اپنے تقریباً پانچ ہزار افراد کو وہاں سے نکال چکا ہے۔

  6. اشرف غنی: چپل اتار کر جوتے پہننے تک کا وقت نہیں ملا

    اشرف غنی

    ،تصویر کا ذریعہAshraf Ghani Facebook

    اشرف غنی نے کہا کہ اُنھیں صدارتی محل چھوڑتے وقت اپنا ذاتی سامان یہاں تک کہ اپنی چپل اتار کر جوتے پہننے کا وقت بھی نہیں ملا۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ محل چھوڑنے کے بعد طالبان صدارتی محل میں داخل ہو گئے تھے اور اُن کو ڈھونڈ رہے تھے۔

  7. بریکنگ, خون ریزی روکنے کے لیے ملک چھوڑا، اپنے ساتھ پیسے نہیں لے کر گیا: اشرف غنی

    اشرف غنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ملک اس لیے چھوڑا تاکہ کابل میں خون ریزی نہ ہو۔

    ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے صدارتی محل چھوڑتے ہوئے اپنے ساتھ کروڑوں ڈالر لے جانے کے الزام کی تردید بھی کی ہے۔

    فیس بک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اُنھوں نے کہا کہ ’اگر میں رکا رہتا تو کابل میں مزید خون ریزی ہوتی۔‘ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے حکومتی اہلکاروں کے مشورے پر افغانستان چھوڑا ہے۔

    واضح رہے کہ اشرف غنی کابل پر طالبان کے قبضے سے عین قبل ملک چھوڑ کر جانے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

    اُن کے قابلِ اعتماد ساتھی امراللہ صالح نے خود کو اُن کی جگہ پر نگران صدر قرار دے دیا ہے۔

  8. ایران اور چین کا افغانستان میں ’مشترکہ مفادات‘ کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے صدر شی جن پنگ اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں ممالک نے افغانستان میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ابراہیم رئیسی نے کہا کہ تہران افغانستان میں ’سیکیورٹی، استحکام اور امن کے لیے‘ بیجنگ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

    ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ’ملک سے غیر ملکیوں کے انخلا اور ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ تمام افغان شہری افغانستان کی ترقی اور سلامتی کے لیے تعاون کریں۔‘

    شی جن پنگ نے بھی افغانستان میں چین اور ایران کے ’مشترکہ مفادات‘ پر زور دیا اور کہا کہ وہ ’نئی صورتحال میں تعاون اور رابطہ کاری مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  9. طالبان کے پراسرار ترجمان نے آخر کار اپنا چہرا دکھا ہی دیا

  10. طالبان کو افغانستان کے مالی وسائل تک رسائی نہیں دیں گے: امریکہ

    ویسے تو طالبان کو افغانستان پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے تاہم ملک کے مالی وسائل تک اُنھیں رسائی نہیں حاصل ہوئی ہے۔

    بدھ کو مرکزی بینک کے سربراہ اجمل احمدی نے ٹوئٹر پر کہا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے پاس نو ارب ڈالر کا زرِمبادلہ ہے جس کا زیادہ تر حصہ بیرونِ ملک اکاؤنٹس میں ہے۔

    امریکی حکومت کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان مرکزی بینک کے جو بھی اثاثے امریکہ میں ہیں، وہ طالبان کو نہیں دیے جائیں گے۔

    اجمل احمدی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو میں افغانستان کے سات ارب ڈالر کیش جبکہ 1 اعشاریہ دو ارب ڈالر سونے کی صورت میں موجود ہیں، جبکہ باقی رقم بینک آف انٹرنیشل سیٹلمنٹس سمیت دیگر اکاؤنٹس میں موجود ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. حکومتی ناقدین کے پاس اپنا کوئی سنجیدہ منصوبہ نہیں، برطانوی وزیرِ خارجہ

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہUK Parliament

    برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب نے کہا ہے کہ لیبر پارٹی کے رہنما کیر سٹارمر نے اُن فیصلوں پر تنقید تو کی ہے جن کی اُنھوں (ڈومینیک راب) نے حمایت کی، تاہم کیر سٹارمر کے پاس ان کا ’کوئی سنجیدہ اور قابلِ بھروسہ متبادل‘ نہیں ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 646 افراد کو افغانستان سے نکالا گیا ہے جن میں برطانوی شہری، برطانیہ کے لیے کام کرنے والے افغان، اور برطانیہ کے اتحادی شامل ہیں۔

    ڈومینیک راب نے کہا کہ اُنھیں فخر ہے کہ حکومت مشکلات میں گھرے لوگوں کو محفوظ ٹھکانہ دے کر برطانوی لوگوں کی بڑے دل والی روایات کی پاسداری کر رہی ہے۔‘

  12. تاجکستان میں افغان سفارت خانے نے امراللہ صالح کو حقیقی حکمران تسلیم کر لیا, اشرف غنی پر 16 کروڑ ڈالر سے زائد رقم لے جانے کا الزام

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تاجکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ وہ امراللہ صالح کو افغانستان کا حکمران تسلیم کرتے ہیں۔

    افغانستان کے آئین کے مطابق نائب صدر اول کو صدر کی غیر موجودگی میں ریاست کا سربراہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے اویستا نے تاجکستان میں افغانستان کے سفیر محمد ظاہر اکبر کے حوالے سے بتایا کہ اُنھوں نے اشرف غنی کے افغانستان سے فرار ہونے کو دھوکہ قرار دیا۔

    اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ اشرف غنی اپنے ساتھ 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بھی لے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ 17 اگست کو افغانستان کے نائب صدر اول امر اللہ صالح نے خود کو ملک کا نیا نگران صدر قرار دیا تھا۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ امراللہ صالح اپنے آبائی صوبے پنجشیر میں ہی ہیں۔

  13. افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، 20 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے 20 ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے متعلق بات کی گئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دستخط کنندہ ممالک افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقِ تعلیم، روزگار اور آزادی نقل و حرکت کے متعلق تشویش کے شکار ہیں اور افغانستان میں اقتدار کے حامل افراد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

    اس اعلامیے پر البانیہ، ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چلی، کولمبیا، کوسٹاریکا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، ہونڈیوراس، گوئٹے مالا، جمہوریہ شمالی مقدونیہ، نیوزی لینڈ، ناروے، پیراگوئے، سینیگال، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین نے دستخط کیے ہیں۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مستقبل کی حکومت پر قریبی نظر رکھی جائے گی تاکہ گذشتہ 20 برس میں افغان خواتین اور لڑکیوں کو جو حقوق حاصل ہوئے ہیں، وہ اُنھیں حاصل رہیں۔

  14. طالبان کے جھنڈے کے خلاف مظاہرے کے دوران فائرنگ کے مناظر

  15. ’اشارے مل رہے ہیں کہ موجودہ طالبان 90 کی دہائی والے طالبان نہیں‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے کہا ہے کہ دنیا کو صبر کے ساتھ یہ دیکھنا ہوگا کہ طالبان کی حکومت میں افغانستان کا مستقبل کیسا ہوگا۔

    بی بی سی کے ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں بات کرتے ہویے اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں صابر رہنا پڑے گا۔ ہم نے طالبان سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں بہت کچھ سنا ہے۔

    یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موجودہ طالبان اُن طالبان سے مختلف ہوں جنھیں ہم سنہ 1990 کی دہائی سے جانتے ہیں۔‘ ’یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ طالبان زیادہ معقول اور کم رجعت پسند ہوں۔

    اور اگر آپ دیکھیں کہ وہ فی الوقت کابل کو کیسے چلا رہے ہیں، تو کچھ اشارے موجود ہیں کہ یہ زیادہ معقول ہیں۔‘

    دوسری جانب وزیرِ اعظم بورس جانسن کے دفتر نے کہا ہے کہ طالبان کو اُن کے الفاظ سے نہیں بلکہ اقدامات سے پرکھا جائے گا۔ ’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘

    سر نک کارٹر نے کہا کہ ’یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُنھوں نے گذشتہ 20 سالوں میں ویسے ہی سیکھا ہو جیسے کہ ہم نے گذشتہ 20 سالوں میں سیکھا ہے۔‘

  16. اشرف غنی متحدہ عرب امارات میں ہیں، سرکاری طور پر تصدیق

    اشرف غنی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس نے اشرف غنی کو ’انسانی بنیادوں پر‘ اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دی ہے۔

    بدھ کو اماراتی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ ایک مختصر بیان کے مطابق اشرف غنی کے ساتھ اُن کے اہلِ خانہ بھی موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد اشرف غنی اپنے قریبی رفقا سمیت افغانستان چھوڑ کر کسی اور ملک روانہ ہو گئے تھے۔

    اطلاعات یہ تھیں کہ وہ اومان، تاجکستان یا ازبکستان چلے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اُن تین ممالک میں سے تھا جنھوں نے سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک افغانستان میں قائم رہنے والی طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ دو دیگر ممالک پاکستان اور سعودی عرب تھے۔

    امارات
  17. افغانستان کی بساط پر چین، ایران اور روس کہاں کھڑے ہیں؟

  18. افغانستان کے بحران کی وجہ امریکہ ہے: سابق برطانوی آرمی چیف

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہUK Parliament

    برطانوی فوج کے سابق سربراہ لارڈ رچرڈ ڈینیٹ نے امریکہ کے صدر جو بائیڈن پر افغانستان میں برسہا برس کے ’صبر آزما اور جانفشانی سے‘ کیے گئے کام کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    ریٹائرڈ جنرل رچرڈ ڈینیٹ 2006 سے 2009 تک برطانیہ کے چیف آف جنرل سٹاف رہے ہیں۔

    برطانوی دارالامرا میں خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’افغانستان میں بحران جس انداز میں اور جتنی جلدی ہوا، وہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے گیارہ ستمبر کے 20 سال مکمل ہونے پر افغانستان سے تمام امریکی افواج نکالنے کے فیصلے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘

    ’اُنھوں نے ایک ہی جھٹکے میں افغانستان میں نظام تیار کرنے، اُن کی معیشت کو ترقی دینے، اُن کی سول سوسائٹی کو نئے خطوط پر استوار کرنے اور اُن کی سکیورٹی فورسز کی صلاحیت میں اضافے کے گذشتہ پانچ، 10 اور 15 برس کے صبر آزما اور جانفشانی سے کیے گئے کام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اب صرف ایک اُمید باقی رہ گئی ہے کہ سنہ 2021 کے طالبان سنہ 2001 والے طالبان نہیں ہوں گے۔

    لارڈ ڈینیٹ نے افغانستان کی فوجی مہم پر عوامی انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس انکوائری میں ’سیاسی اور سینیئر فوجی سطح‘ پر ہونے والے سٹریٹجک فیصلوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

  19. جلال آباد: افغان قومی پرچم کے حامی تین مظاہرین طالبان کی فائرنگ سے ہلاک

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغانستان کے شہر جلال آباد سے خبر سامنے آئی ہے کہ افغانستان کا پرچم لگانے پر مصر مجمعے پر طالبان جنگجوؤں کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک جبکہ ایک درجن سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو عینی شاہدین اور ایک سابق پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقامی لوگ شہر کے ایک چوراہے پر قومی پرچم لگانا چاہ رہے تھے۔

    افغانستان میں موجودہ قومی پرچم کے حق میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں جن میں احتجاج کرنے والے افراد موجودہ پرچم کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  20. ’برطانوی فوجی سوچ رہے ہیں کہ ان سب قربانیوں سے کیا حاصل ہوا‘

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہUK Parliament

    لیبر رکنِ پارلیمان ڈین جاروِیس نے کہا ہے کہ ’بین الاقوامی سیاسی قیادت کی تباہ کن ناکامی اور طالبان کی بربریت‘ نے افغانوں سے ایک مختلف زندگی کی وہ امیدیں چھین لی ہیں جو ’ہم نے اُنھیں دینے کی کوشش کی تھی۔‘

    پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’بہادر‘ برطانوی مرد و خواتین فوجیوں نے ان 20 سالوں میں زبردست ہمت اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا ’مگر حالیہ پیش رفت سے اُنھیں دھچکا لگا ہے۔

    ’وہ سوچ رہے ہیں کہ کیا یہ سب کوششیں اور قربانیاں فائدہ مند تھیں بھی یا نہیں۔‘

    اُنھوں نے ہلمند میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان فوجیوں کے بارے میں کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ وہ لوگ کہاں ہوں گے، اور شاید اُن میں سے کئی ہلاک بھی ہو چکے ہوں۔ ’ہم اُن کی ضرورت کے وقت کہاں ہیں؟ ہم کہیں نہیں ہیں اور یہ شرمناک ہے، اور اس کا دنیا بھر میں برطانیہ کی ساکھ پر دیرپا اثر پڑے گا۔‘