بورس جانسن: طالبان کے ساتھ کام کرنا ضروری ہوا تو کریں گے

،تصویر کا ذریعہPA Media
وزیرِ اعظم برطانیہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو برطانیہ طالبان کے ساتھ مل کر بھی کام کرے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے اس موقع پر اپنے وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کا دفاع بھی کیا جو افغان صورتحال سے نمٹنے کے معاملے پر تنقید کی زد میں ہیں۔
بورس جانسن نے میڈیا کو بتایا: ’میں اپنے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان کا حل تلاش کرنے کے لیے ہماری سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رہیں گی، جس میں ضرورت پڑنے پر طالبان کے ساتھ کام کرنا بھی ہے۔‘
اس سے قبل بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ وہ طالبان کو اُن کے الفاظ نہیں بلکہ اقدامات سے پرکھیں گے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اُنھیں اب بھی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب پر اعتماد ہے تو اُنھوں نے کہا: بالکل
واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل سر نک کارٹر بھی طالبان کے لیے بظاہر نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔
بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ طالبان اب بدل گئے ہوں۔



















