امریکہ کے جنوبی ایران پر تازہ حملے: بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے، سینٹکام
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ لگا دی گئی ہے جبکہ امریکی افواج نے ایران پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول وصول کرنے کی مخالفت کرتے ہیں: بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ وہ آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول وصول کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔
اس سے قبل، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کریں گے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام کھیپوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے ترجمان نے کہا: ’ہم اس پوسٹ سے آگاہ ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’ٹول کے بارے میں ہماری پوزیشن ہمیشہ واضح رہی ہے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن بین الاقوامی نیویگیشن کے لیے استعمال ہونے والے آبنائے سے گزرنے کے لیے ٹول وصول کرنے کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ صرف آبنائے سے گزرنے کے لیے لازمی ٹول عائد کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔‘
ایران کے سپریم لیڈر کہاں ہیں؟, غنچے حبیبیزاد، بی بی سی فارسی
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مارچ کے آغاز میں اپنے والد کی جگہ یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کسی تصدیق شدہ ویڈیو یا تصویر میں نظر نہیں آئے۔
اطلاعات کے مطابق وہ 28 فروری کو تہران میں ہونے والے اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد علی خامنہ ای مارے گئے تھے۔ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے پہلے روز ایران پر کیا تھا۔ تاہم، ایران کی وزارتِ صحت نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ ان کی چوٹیں شدید تھیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کہا کہ وہ ’90 فیصد ختم ہو چکے ہیں‘۔
اب تک، 8 مارچ کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب کئی تحریری پیغامات سامنے آ چکے ہیں۔ دو روز پہلے جاری ہونے والے تازہ ترین پیغام میں انھوں نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ حالیہ دنوں میں ایرانی حکام نے بھی اسی طرح کے بیانات دیے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای جولائی کے آغاز میں اپنے والد کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک ہفتے کی تقریبات کے دوران عوام کے سامنے نہیں آئے، حالانکہ ان کے بھائی ان تقریبات میں شریک ہوئے تھے۔
ان کی موجودہ جگہ کے بارے میں سوال اب بھی برقرار ہے۔
تاہم، مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے سے پہلے اور بعد میں اسرائیل یہ کہہ چکا ہے کہ وہ انھیں نشانہ بنائے گا، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ کب، یا آیا کبھی، عوام کے سامنے نظر آئیں گے یا نہیں۔
ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کے بعد ٹرمپ نے امریکی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی
اگر آپ ابھی بی بی سی اردو لے لائیو پیج پر آیے ہیں تو آپ کے لیے اہم خبروں کا خلاصہ:
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر نئی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ’ایران کے جہازوں یا ان کے صارفین‘ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے یا وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے امریکہ خطے میں ’حفاظت اور سکیورٹی‘ فراہم کرنے کے تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے بھیجے جانے والے تمام مال بردار سامان پر 20 فیصد فیس عائد کرے گا۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ٹرمپ نے اس اہم بحری گزرگاہ پر ناکہ بندی نافذ کی ہو۔ اپریل میں لگائی گئی ناکہ بندی تین ماہ تک جاری رہی تھی، جس دوران امریکی فوج نے کم از کم نو جہازوں پر فائرنگ کی تھی۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ان جہازوں نے ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کیا تھا۔
ٹرمپ کا یہ اعلان امریکہ اور ایران کے درمیان رات بھر جاری رہنے والے نئے حملوں کے بعد سامنے آیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے جواب میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک آبدوز اور جہازوں کی مرمت کی تنصیب بھی شامل تھی۔
نئی ناکہ بندی کے جواب میں ایرانی رکنِ پارلیمان ابراہیم رضائی نے کہا ’آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے ہمیں غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت نہیں!‘
اس تازہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ آج دو جہاز مشرق کی جانب خلیجِ عمان کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیے، جبکہ دو دیگر جہازوں نے آبنائے سے نکلنے کی سمت بڑھنے کے بعد اپنی پوزیشن کی معلومات نشر کرنا بند کر دیں۔
ایف بی ائی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہX
ایف بی ائی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ شراکت داری نہایت اہم ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس ملاقات میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور سائبر تحقیقات کے شعبوں میں، ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر، وسائل اور خصوصی تربیت کی فراہمی سے متعلق اہم گفتگو ہوئی۔ ہماری شراکت داری نہایت اہم ہے اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی۔‘
آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے ہمیں غیر ملکیوں کی ضرورت نہیں: ابراہیم رضائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف نئی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان اور رکنِ پارلیمنٹ ابراہیم رضائی کا بیان سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہا ہے، ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے ہمیں غیر ملکیوں کی ضرورت نہیں!‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
امریکہ نے ایران میں آبدوز اور بحری جہازوں کے مرمتی مرکز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی
،تصویر کا ذریعہCentcom / X
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے گذشتہ رات ایران میں ایک آبدوز اور بحری جہازوں کی مرمت کے منصب کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹکام کے مطابق جنوبی ایران میں واقع بندر عباس نیول بیس کی بندرگاہ پر متعدد یک طرفہ حملہ آور ڈرونز استعمال کیے گئے۔ امریکی فوج نے اس کارروائی کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا: ’گزشتہ رات کے حملوں نے تجارتی جہاز رانی پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔‘
امریکہ اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا: ’آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کی موجودگی یا عدم موجودگی میں بھی کھلی رہے گی۔‘
’ہم ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ بحال کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے، تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’آج کے بعد امریکہ کو ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ کے نام سے جانا جائے گا۔‘
تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایک ’انتہائی غیر مستحکم حصے میں سلامتی اور تحفظ‘ فراہم کرنے کے تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کو تمام کارگو پر ’20 فیصد‘ ادائیگی کی جائے گی۔
’اس عمل اور اس کے نظام کی تشکیل فوری طور پر شروع کی جائے گی۔‘
آبنائے ہرمز میں ’امریکی مداخلت‘ نے عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو خطرات سے دوچار کر دیا: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے ذریعے جاری ایک اور بیان میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کر کے ’عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘
پاسداران انقلاب نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ: ’ہم امریکہ کو اس کی نئی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں مزید ذلت اور مایوسی سے دوچار کریں گے۔‘
آج صبح امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد تجارتی سرگرمیوں کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم وہ اب بھی اس سطح سے نمایاں طور پر کم ہیں جو تنازع کے عروج کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔
امریکہ کو آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کی اجازت نہیں دیں گے: ایرانی فوج
،تصویر کا ذریعہTasnim
ایران کے عسکری ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے ایک بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ تہران آبی گزرگاہ کے انتظامی امور میں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کچھ دیر پہلے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ’کنٹرول سنبھال رہا ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی ’بار بار کی مہم جوئیوں‘ نے ’خطے کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا: ’ہم امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی نہ اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی دیں گے۔‘
ایرانی فوج کے مطابق اس کی مسلح افواج امریکی ’غاصب فوج‘ کی جانب سے پیدا کی جانے والی کسی بھی کشیدگی یا خلل سے نمٹ رہی ہیں۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون ایران کی خودمختاری کے خلاف ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔
اس میں مزید کہا گیا ہے: ’اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو جنگ کے شعلے خطے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔‘
صنعا ایئرپورٹ پر حملہ: ایرانی حمایت یافتہ حوثی اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے, سیبسٹین اُشر، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے صنعا ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن بظاہر یہ کئی برسوں سے نسبتاً کمزور سے پڑ جانے والے تنازع میں سب سے بڑی کشیدگی معلوم ہوتی ہے، جو بین الاقوامی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جاری ہے۔
دونوں فریقوں کو خطے کی حریف طاقتوں کی حمایت حاصل ہے، یمنی حکومت کو سعودی عرب کی جبکہ حوثیوں کو ایران کی۔
یہی وجہ ہے کہ حوثیوں نے فوری طور پر سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
حوثی تحریک کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا ’ردعمل دیا جائے گا اور اور سزا دی جائے گی۔‘
اس بیان نے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تنازع دوبارہ بھڑکنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
یمن کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کے پاس متعدد چھوٹی کشتیوں کے پہنچنے کی اطلاعات نے بھی تشویش پیدا کر دی ہے کہ ممکنہ طور پر حوثی ایک بار پھر بحری جہاز رانی کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں شروع کر سکتے ہیں۔
ایران نے معاہدہ ’توڑا‘، آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں: امریکی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ’ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو چلائے گا‘ اور دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ان کے پاس اب کچھ نہیں بچا۔‘
انھوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے رات بھر ایران میں فوجی اہداف پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ نے گزشتہ رات ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم نے انھیں قابو کر لیا ہے۔ وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ان کا زیادہ تر سامان ختم ہو چکا ہے۔ ان کا فضائی دفاعی نظام بھی ختم ہو چکا ہے۔‘
اس سے قبل پیر کے روز برطانیہ میں ایرانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک عارضی محفوظ بحری راہداری قائم کی ہے جو ’تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں سے پاک‘ ہے۔ تاہم سفارت خانے کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث یہ آبی گزرگاہ ’انتہائی خطرناک علاقے‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
مبینہ رن وے حملے کے باوجود ایرانی طیارہ یمن پہنچ گیا: حوثیوں کا دعویٰ
یمن کی فوج کی جانب سے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کو ایرانی طیارے کی لینڈنگ روکنے کے لیے نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد تازہ صورتحال سامنے آئی ہے۔
حوثی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی طیارہ صنعا ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نواز حوثی گروپ یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض ہے، جبکہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت ملک کے جنوبی شہر عدن میں قائم ہے۔
برطانوی حکومت کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت، ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو کالعدم قرار دینے جا رہی ہے۔ یہ اقدام غیر ملکی ریاستوں کی حمایت یافتہ سرگرمیوں کے خلاف ہنگامی قانون سازی کے تحت کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ’اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ‘ اور روس کی ’جی آر یو والنٹیئر کور‘ کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
اگر رواں ہفتے کے آخر میں پارلیمنٹ نے اس اقدام کی منظوری دے دی تو ان گروہوں کی جانب سے تخریب کاری، بشمول آتش زنی، میں ملوث افراد کو عمر قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’ہم برطانیہ کو کبھی بھی ایسے ممالک کے لیے آزاد ماحول فراہم نہیں کریں گے جو ہماری سڑکوں پر خوف، تقسیم اور تشدد پھیلانا چاہتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود
برطانوی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام سے حکومت کی غیر ملکی طاقتوں سے منسلک ریاستی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ پولیس کو ان تینوں گروہوں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے ’زیادہ اختیارات‘ حاصل ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان تنظیموں کی حمایت یا معاونت کرنے سے متعلق نئے جرائم کے تحت ملوث افراد کو 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔‘
حکومت کا کہنا ہے کہ ’اب ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا آسان ہوگا جو ان گروہوں کے ساتھ کام کرتے پائے جائیں گے اور انھیں زیادہ طویل عرصے کے لیے جیل بھیجا جا سکے گا۔‘
برطانوی حکومت نے مزید کہا کہ ’وہ ایران کے خلاف پہلے ہی ’سخت اقدامات‘ کر چکی ہے، جن میں پاسدارانِ انقلاب پر مکمل پابندیاں عائد کرنا اور ایران سے منسلک 550 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں شامل ہیں۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ ’ان تینوں تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افراد کو ’تلاش کر کے جیل بھیجا جائے گا‘ اور انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے ’ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔‘
برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ ’برطانیہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے، ملک کے اندر اور بیرونِ ملک، تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
صنعا ایئرپورٹ پر بمباری: حوثیوں کا سعودی عرب پر الزام، یمنی حکومت کا حملے کے ذریعے ایرانی جہاز کو روکنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAl-Masirah
حوثی تحریک ’انصار اللہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو سعودی عرب کے متعدد فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔
بی بی سی عربی کے مطابق حوثیوں کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا کہ ’سعودی فضائی حملوں میں صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا،‘ جسے انھوں نے ’ناجائز اور کھلی جارحیت‘ قرار دیا۔
یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا ’کشیدگی میں کمی کے مرحلے کے خاتمے‘ کے مترادف ہے۔ انھوں نے سعودی عرب کو ’جارحیت کے نتائج‘ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔‘
حوثیوں کے زیرِِ انتظام سیٹلائٹ چینل المسیرہ نے بھی رپورٹ کیا کہ صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی فضائی حملے کیے گئے، تاہم اس نے حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ ٹرانسپورٹ نے سعودی عرب پر متعدد فضائی حملوں کے ذریعے صنعا ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’خطرناک کشیدگی‘ اور یمن کے محاصرے کے تسلسل کا قرار دیا۔
بحرین کی فوج کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بحرین کی فوج نے ایک بار پھر ایران پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
بحرین کی فوج کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے آج صبح ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں کو فضا ہی میں ناکام بنا دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج مکمل تیاری اور ہائی الرٹ پر ہیں۔
یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان رات بھر جاری رہنے والی جوابی حملوں کی تازہ لہر کے بعد سامنے آیا، جس کے دوران بحرین بھی حملوں کی زد میں آیا تھا۔
ایران نے تاحال بحرین کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔
مُلک کے مختلف علاقوں میں تازہ حملے، متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات: ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تازہ حملے کیے گئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صوبہ اصفہان کے سکیورٹی امور کے نائب گورنر نے بتایا کہ شہر نائین میں ایک فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ادھر جنوب مغربی ایران کے شہر آبادان میں بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔ صوبہ خوزستان کے نائب گورنر کے مطابق اس واقعے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم امریکہ نے ان اطلاعات کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ شب کیے گئے حملوں میں ایران کی درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے 51 افراد ہلاک، 10 لاکھ سے زائد متاثر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں ہونے والی موسلا دھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 51 افراد ہلاک جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
شدید بارشوں کے نتیجے میں دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع کوکس بازار ہے، جہاں اب تک 28 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے اسی ضلع میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ایک سکول کے کئی طلبہ اور ایک استاد بھی ہلاک ہوئے تھے۔
کوکس بازار وہ جگہ ہے کہ جہاں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش ایک نشیبی ملک ہے جہاں بے شمار دریا موجود ہیں اور ہر سال مون سون کے موسم میں شدید بارشیں اور سیلاب معمول کا حصہ ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کی شدت اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شدید بارشوں کا سلسلہ ایک ہفتے سے زائد وقت سے جاری ہے۔ بارشوں میں اضافے کے بعد حکام نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر وارننگ جاری کی، حساس علاقوں سے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور طلبہ کے امتحانات بھی ملتوی کر دیے۔
حکام کے مطابق ہزاروں افراد اس وقت سرکاری پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، جبکہ اتوار تک بارشوں سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی بنگلہ کے مطابق ڈھاکہ میں متعدد سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں پانی گھٹنوں تک پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ اینڈ وارننگ سینٹر کے عہدیدار سردار اُدے رائے ہان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں صورتحال جلد بہتر ہونے کا امکان ہے، تاہم مون سون کے باعث شمال مشرقی اور شمالی علاقوں میں مزید سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران نے صدر ٹرمپ کے جوہری معاہدے کے دعوے کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی
ادارے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے
مذاکرات کے دوران ایران امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر راضی ہو گیا ہے۔‘
’انھوں
نے کل ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا، جو ہمارے لیے ایک بہترین معاہدہ ہے۔ نہ جوہری پروگرام،
نہ یہ، نہ وہ، کچھ بھی نہیں۔ انھوں نے ہر چیز سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔‘
تاہم پیر کے روز ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے
ٹرمپ کے ان بیانات کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دے دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا
ہے کہ سنیچر کے روز عمان میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آبنائے ہرمز
کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات چیت نہیں ہوئی۔
تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں
ثالث اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی ایران کے مبینہ حملوں کی مذمت، جہاز رانی کی فوری بحالی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز، بحرین، عمان اور اردن میں بحری جہازوں پر ایران کے مبینہ ’حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔
تینوں ممالک، جنھیں اجتماعی طور پر ای تھری کہا جاتا ہے، نے گزشتہ رات جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں جو رات بھر کے حملوں سے قبل جاری کیا گیا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی ’فوری اور مکمل‘ بحالی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس میں پاسدارانِ انقلاب کی متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ہم نے خطے کے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ کریں گے: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ایران نے خطے کے کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایران کی دفاعی کارروائیاں صرف اُن امریکی اڈوں، تنصیبات اور ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں جنھیں امریکہ ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ ایران نے بارہا خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی سرزمین، تنصیبات اور فضائی حدود ایران کے خلاف منصوبہ بندی، تیاری یا کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘
اب سے چند گھنٹے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے خلیج فارس کے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے خلاف کسی ’فوجی جارحیت‘ میں تعاون کیا تو وہ ایرانی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف بن سکتے ہیں۔