امریکہ کے جنوبی ایران پر تازہ حملے: بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے، سینٹکام

امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ لگا دی گئی ہے جبکہ امریکی افواج نے ایران پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 فیصد ٹول وصول کرنے کا اعلان, بی بی سی نیوز کی چیف انٹرنیشنل کارسپانڈنٹ لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر ٹرمپ نے ایک اور غیر متوقع اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز میں 20 فیصد ٹول فیس وصول کرے گا۔

    بین الاقوامی آبی نقل و حمل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس فیصلے سے پہلے ہی مہنگے سمندری راستے میں اخراجات دگنے ہو سکتے ہیں۔ یہ اعلان اس پالیسی کے بھی خلاف ہے جسے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بار بار امریکی مؤقف کے طور پر بیان کرتے رہے ہیں، یعنی یہ کہ بین الاقوامی پانیوں میں کوئی بھی ملک ٹول فیس نہیں لے سکتا۔‘

    یہ واضح نہیں کہ یہ اقدام قانونی، سیاسی یا عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔ ایران نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کے بیان کو اپنے اس مؤقف کے حق میں استعمال کیا ہے کہ انھیں اس اہم سمندری راستے پر کسی نہ کسی شکل میں فیس عائد کرنے کا حق حاصل ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’20 فیصد یقیناً بہت زیادہ ہے، ہم منصفانہ رویہ اختیار کریں گے۔‘ تہران کے لیے اس اہم آبنائے میں اپنی موجودگی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

    گزشتہ روز ایرانی پارلیمنٹ نے اس سمندری گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک ’سٹریٹجک ایکشن‘ نامی منصوبہ پیش کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے سخت گیر سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’ہم اپنی سرخ لکیروں کے دفاع کے لیے ثابت قدم ہیں۔‘

  2. ایران میں امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک، ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پیر اور منگل کی درمیابی شب ایران میں ہونے والے امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق یہ حملہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع صوبہ ہرمزگان میں کیا گیا۔

    سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’حملے میں ایک ماحولیاتی ماہر کے خاندان کے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

  3. ایران اور امریکہ میں بڑھتی کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت 85 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے اور منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 85 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

    منگل کو تیل کی قیمتیں تقریباً تین فیصد اضافے کے بعد چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    یہ اضافہ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گا۔

    اسی دوران آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے حملوں نے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔

    حالیہ مہینوں میں عالمی تھوک منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

    رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے فوراً بعد تہران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس سے عام طور پر دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل گزرتی ہے۔

  4. ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ گھنٹوں میں کیا ہوا؟

    • امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اپنے حملوں کی موجودہ لہر کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں، امریکی افواج نے بوشہر، چابہار، جسک، کونارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں فوجی اہداف پر حملہ کیا تاکہ ایران کی تجارتی جہازوں کی آمدورفت پر حملے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔
    • پاسداران انقلاب نے منگل کی صبح امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں الجفیر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی افواج کی رہائش گاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔
    • اردن کی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل مار گرائے ہیں۔
    • خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر ایران کے حملوں میں ایک انڈین شہری ہلاک، آٹھ زخمی ہو گئے۔ یو اے ای کے مطابق حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک رکن، جو انڈین شہری تھا، ہلاک ہو گیا جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ زخمی ہونے والے چھ افراد کا تعلق انڈیا اور دو کا یوکرین سے ہے۔
    • ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 84 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران (ٹول لینے میں) منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کریں گے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام کھیپوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
  5. امریکہ نے گذشتہ رات بوشہر اور چغادک میں دو مقامات پر تین مرتبہ حملہ کیا: گورنر

    ایران پر امریکی حملے

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    ایران میں بوشہر کے گورنر محمد مظفری کا کہنا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ رات بوشہر اور چغادک کے اضلاع میں دو مقامات کو تین بار نشانہ بنایا۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق ان حملوں میں کوئی بھی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ’بوشہر، چابہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا تاکہ ’تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔‘

  6. کوہاٹ: شدید بارش سے مکان منہدم، ملبے تلے دب کر 10 افراد ہلاک, عزیز اللہ، بی بی سی پشاور

    کوہاٹ، مکان گرنے سے 10 افراد ملبے تلے دب کر ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی تحصیل لاچی کے علاقے مالگین میں شدید بارش اور طوفان کے باعث ایک رہائشی مکان گر گیا، ریسکیو 1122 کے مطابق ملبے تلے دب کر 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مقامی لوگوں کی مدد سے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائی کی۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنھیں ابتدائی طبی امداد دے کر مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

  7. اردن کی فوج کا ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    اردن کی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل مار گرائے ہیں۔

    فوج نے کہا: ’ایران کی سر زمین سے داغے گئے چار میزائل اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد تباہ کر دیے گئے۔‘

    ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنے تازہ بیان میں اردن کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے اردن میں واقع ’ایک ایئر بیس پر امریکی تنصیبات‘ کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران نے امریکی حملوں کے ردِعمل میں امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

  8. پاسداران انقلاب کا بحرین میں امریکی اڈے پر جوابی کارروائی کا دعویٰ، شہری پرسکون رہیں، بحرین کی وزارت داخلہ کی اپیل

    پاسداران انقلاب کا بحرین میں موجود امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    منگل کی صبح پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں 24 گھنٹوں میں ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی اڈے الجفیر کے سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی افواج کی رہائش گاہ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یاد رہے اس سے قبل منگل کی صبح آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے ممکنہ طور پر پاسداران انقلاب کی اب تک کی اہم ترین کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ کم از کم آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے کویت پر حملوں اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھوئیں کے بادل دکھائی دینے کی بھی اطلاع دی ہے۔

    بحرین میں خطرے کے سائرن

    دوسری جانب بحرین میں ایرانی حملوں کے تناظر میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں اور رہائشیوں سے پرسکون رہنے اور قریبی محفوظ مقام پر جانے کی اپیل کی ہے۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان کہا کہ ’ہم شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرسکون رہیں، قریبی محفوظ مقام پر جائیں اور سرکاری چینلز کے ذریعے خبروں پر نظر رکھیں۔‘

  9. کئی ماہ کے وقفے کے بعد ایرانی پارلیمان کے اجلاس کا انعقاد

    ایرانی پارلیمان کے ’عوامی اجلاس‘ کا انعقاد

    ،تصویر کا ذریعہICANA

    ،تصویر کا کیپشناجلاس میں جو غیر معمولی بات تھی وہ ایران کے نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر کا آویزاں ہونا تھا

    ایرانی پارلیمان کی خبر رساں ایجنسی خانہ ملت کے مطابق کئی ماہ کے وقفے کے بعد نائب سپیکر حامد رضا حاجی بابائی کی صدارت میں ایرانی پارلیمان کے ’عوامی اجلاس‘ کا انعقاد کیا گیا۔

    بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق 250 سے زائد ارکان نے اجلاس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق رہبراعلیٰ علی خامنہ ای، جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجی کمانڈروں اور سیاسی شخصیات کے قاتلوں سے انتقام لینے کے حق میں نعرے لگائے۔

    پارلیمان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ہنگامی یا غیرمعمولی حالات میں پارلیمانی اجلاس بہارستان کے باہر بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔

    کئی ماہ کے وقفے کے بعد غیر معمولی وقت پر عوامی اجلاس کے انعقاد نے میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اجلاس میں جو غیر معمولی بات تھی وہ ایران کے نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر کی تنصیب اور سپیکر محمد باقر قالیباف کی ایوان میں عدم موجودگی تھی۔

    اجلاس سے قبل ارکان نے یادگار پر حاضری دے کر سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور جنگ میں ہلاک ہونے والی شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جہاں سیاسی اور عسکری شخصیات کی تصاویر کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے بعض بچوں کی تصاویر بھی آویزاں تھیں۔

  10. ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا: عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران (ٹول لینے میں) منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کریں گے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام کھیپوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔

    عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیان کے جواب میں ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’امریکی صدر بالکل درست کہتے ہیں۔ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ اور پُرامن گزرگاہ فراہم کرتا ہے اسے اس خدمت کا معاوضہ ملنا چاہیے۔‘

    ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم اس معاملے میں منصفانہ رویہ اختیار کریں گے کیونکہ 20 فیصد (فیس) بہت زیادہ ہے۔‘

  11. امریکی فوج نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کی تازہ لہر مکمل کر لی: سینٹکام

    امریکی جنگی جہاز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے 13 جولائی کو ایران کے خلاف حالیہ حملوں کی لہر مکمل کر لی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر موجود بیان میں سینٹکام نے دعویٰ کیا گیا کہ پانچ گھنٹے پر مشتمل اس مشن کے دوران، امریکی افواج نے کامیابی کے ساتھ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

    سینٹکام کے مطابق اس مشن کے دوران، امریکی افواج نے ایران میں فوجی اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا جن میں بوشہر، چابہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس شامل ہیں، تاکہ تجارتی جہازرانی پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور بنایا جا سکے۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات، اور بحری صلاحیتوں کے خلاف درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے۔

    سینٹکام کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ امریکی افواج چوکس، مہلک اور ہر وقت تیار ہیں۔

  12. خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر ایران کے حملوں میں ایک انڈین شہری ہلاک، آٹھ زخمی ہو گئے: متحدہ عرب امارات

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متحدہ عرب امارات نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ دو آئل ٹینکر، مومباسا اور باہیا، آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں ایران کے دو کروز میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک رکن، جو انڈین شہری تھا، ہلاک ہو گیا جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    زخمی ہونے والے چھ افراد کا تعلق انڈیا اور دو کا یوکرین سے ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اسے ’کھلا حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

    پاسداران انقلاب نے بعد میں ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دو ٹینکروں نے ایران کے خطرے سے متعلق انتباہات کو نظرانداز کیا اور اپنے نیویگیشن سسٹمز بند کر دیے اور بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔

    آئی آر جی سی نے کہا کہ اس نے خلاف ورزی کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنا کر انھیں ناکارہ بنا دیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دشمن کے ساتھ تعاون کا نتیجہ صرف پچھتاوا، نقصان اور آبنائے ہرمز کی بحالی میں تاخیر کی صورت میں نکلے گا، جبکہ اس سے دنیا میں توانائی کا بحران بھی پیدا ہوگا۔‘

  13. ابوظہبی میں امریکی سفارت خانے اور دبئی میں امریکی قونصل خانے نے خدمات عارضی طور پر معطل کر دیں

    ابوظہبی میں امریکی سفارت خانے اور دبئی میں قونصل خانے نے اعلان کیا ہے کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کے باعث 13 سے 15 جولائی (موجودہ ہفتے کے پیر، منگل اور بدھ) کے دوران تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ ان تاریخوں کے دوران جن شہریوں کو ملاقات کا وقت دیا گیا تھا، وہ نہ آئیں اور نئے وقت سے انھیں بعد میں آگاہ کر دیا جائے گا۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ چند دنوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں شدت آئی ہے۔

  14. امریکی فوج کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Central Command via Getty Images

    امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام نے ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ یہ حملے ’کمانڈر اِن چیف‘ (یعنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ) کی ہدایت پر کیے گئے۔

    سینٹکام کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے ایرانی افواج کو بھرپور طور پر کمزور کریں گے اور آبنائے ہرمز میں بے گناہ شہریوں اور تجارتی جہاز رانی پر حملہ کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کریں گے۔

  15. ٹرمپ جمعرات کو قوم سے خطاب کریں گے، موضوع کا اعلان نہیں کیا گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو ’قوم سے خطاب‘ کریں گے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ خطاب کس موضوع پر ہوگا۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ وہ رات 9 بجے مشرقی امریکی وقت (برطانوی وقت کے مطابق رات 2 بجے) خطاب کریں گے۔

    اس سے قبل انھوں نے اپریل میں جنگ کے حوالے سے قوم سے خطاب کیا تھا۔

  16. ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کا سعودی عرب کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ’سعودی جارحیت، جس نے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا‘ کے جواب میں کی گئی ہے۔

    دوسری جانب، یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثی باغیوں کی جانب سے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا۔

    سعودی عرب نے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اس سے قبل اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ یمن کی فوج نے صنعا کے ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تھا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔

    حوثیوں نے ان حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا تھا۔

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، جبکہ حوثیوں کا ملک کے بعض حصوں، بشمول دارالحکومت صنعا پر کنٹرول ہے۔

  17. ٹرمپ نے کانگرس کو بھیجے خط میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے سے آگاہ کیا

    بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ طور پر کانگریس کو اطلاع دی ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

    10 جولائی کو امریکی صدر نے سینیٹر چک گراسلی کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے بتایا کہ فوجی سرگرمیاں 7 جولائی سے دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔

    خط میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد ’امریکی شہریوں اور امریکہ کے ملکی و غیرملکی مفادات کا تحفظ‘ کرنا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کارروائیاں ’محدود، متوازن اور پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہیں، اور انھیں اس انداز میں انجام دیا گیا ہے کہ شہری جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔‘

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’میں یہ رپورٹ کانگریس کو مکمل طور پر آگاہ رکھنے کی اپنی کوششوں کے تحت پیش کر رہا ہوں، جیسا کہ وار پاورز ریزولوشن کے مطابق ضروری ہے۔‘

    اس قرارداد کے تحت صدر پر لازم ہے کہ کسی فوجی حملے کے آغاز کے 48 گھنٹوں کے اندر قانون سازوں کو اس بارے میں آگاہ کریں۔

  18. ناکہ بندی کی بحالی سے قبل جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کی ہدایات

    جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (JMIC) نے منگل سے ایرانی بندرگاہوں پر شروع ہونے والی امریکی بحری ناکہ بندی سے قبل ایک مشاورتی نوٹ جاری کیا ہے۔

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اس نوٹس کو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں سمندری سلامتی کے خطرے کی سطح اب بھی شدید ہے۔

    نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں ’جان بوجھ کر کی جانے والی مزید دشمنانہ سرگرمیوں‘ کا امکان ہے۔

    بحری جہازوں کے عملے کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ’بحری افواج کی مسلسل موجودگی، راستوں پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے بڑھتے ہوئے رابطوں اور نگرانی‘ کی توقع رکھیں، اور یہ بھی امکان ہے کہ حفاظتی اقدامات سختی سے نافذ کیے جائیں گے۔

    انھیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ناکہ بندی نافذ کرنے والی فورسز کی ہدایات پر عمل کرنے پر غور کریں، اپنے سفر کے مقصد کو واضح طور پر ظاہر کریں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دیں۔

  19. امریکی ناکہ بندی منگل سے دوبارہ نافذ ہوگی، سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی 14 جولائی کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 4 بجے (برطانوی وقت رات 9 بجے) دوبارہ شروع کی جائے گی۔

    اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ناکہ بندی ’فوری طور پر‘ نافذ کی جائے گی۔

    امریکی فوج نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ’سینٹ کام کی فورسز ان تمام جہازوں کے خلاف ناکہ بندی نافذ کریں گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکی فوج ان تمام جہازوں کے لیے خطے کے سمندری راستوں میں آمد و رفت کی حمایت جاری رکھے گی جو ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہیں کر رہے۔‘

    امریکی فوج نے تمام بحری جہازوں کے عملے سے کہا ہے کہ وہ نشریاتی اعلانات پر نظر رکھیں اور خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب کام کرتے وقت امریکی بحری افواج سے رابطے میں رہیں۔

  20. ایران کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے ہوائی اڈے پر مبینہ حملے کی مذمت کر دی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے پر مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’ہوابازی کے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے آج پہلے ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔

    یمن کا دارالحکومت صنعا ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کے کنٹرول میں ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت، جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، جنوبی یمن کے شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے۔

    بعد میں حوثی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی طیارہ اس کے باوجود ہوائی اڈے پر اتر گیا تھا۔

    اس واقعے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن ابتدائی طور پر یہ کئی برسوں سے نسبتاً غیر فعال یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان تنازع میں ایک اہم اور سنگین کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسا کہ ہمارے نامہ نگار نے پہلے رپورٹ کیا تھا۔