آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا: وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی وزیر داخلہ سے گفتگو

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ قطر نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خطوط میں اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خلاصہ

  • انڈیا میں پولیس کریک ڈاؤن کے ایک دن بعد بھی کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے 12 افراد ہلاک، 18 زخمی
  • پاکستان اور ایران میں تجارت بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانی چاہیے: ایرانی وزیر داخلہ
  • نئے برطانوی وزیر اعظم سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی پر بات کی: ٹرمپ
  • امریکہ کا ایران پر مزید حملے کرنے کا دعویٰ، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکہ کے میزائل نظام اور متعدد ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اردن میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ کر دیا ہے
  • اس ماہ ایرانی حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے: پینٹاگون

لائیو کوریج

  1. پاکستان اور ایران میں تجارت بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانی چاہیے: ایرانی وزیر داخلہ

    پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس وقت تقریباً تین ارب ڈالرز ہے، اسے بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانا چاہیے۔

    سکندر مومنی کا یہ بیان ایران کے خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا ہے۔

    ارنا کے مطابق پیر کے روز اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ معاہدوں، خصوصاً جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔

    ارنا کے مطابق سکندر مومنی نے کہا کہ تجارتی توسیع کے منصوبوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران پاکستان سرحد سے روزانہ کم از کم دو ہزار ٹرک یا کارگو کنٹینرز کی آمد و رفت ممکن بنائی جائے۔

    ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ سکندر مومنی کے وفد میں ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے متعدد اعلیٰ حکام کے علاوہ کسٹمز انتظامیہ اور وزارتِ خارجہ، پیٹرولیم، صنعت، کان کنی و تجارت، اقتصادی امور و خزانہ، زراعت، اور سڑکوں و شہری ترقی کی وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

  2. نئے برطانوی وزیر اعظم سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی پر بات کی: ٹرمپ

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی سمیت دیگر کئی موضوعات پر گفتگو کی۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم سے بات کے دوران بحیرۂ شمالی کا تیل، تجارت اور فوجی اتحاد بھی زیر بحث آئے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نئے برطانوی وزیر اعظم کے سامنے بڑا چیلنج ہے، لیکن وہ اس سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ’اور یقیناً امریکہ ان کی مدد کے لیے موجود ہو گا۔‘

    اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے اینڈی برنہم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  3. ایران کا عالمی برادری سے جوہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنانے کا مطالبہ

    ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پُر امن جوہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ یعنی عدم برداشت کی پالیسی اختیار کرے۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے مستقل مشن نے ایک بیان میں کہا کہ 19 جولائی 2026 کی صبح امریکہ نے ایک اور جارحانہ اقدام کرتے ہوئے کارون (دارخوین) جوہری پاور پلانٹ کے زیرِ تعمیر مقام پر متعدد میزائل داغے۔ بیان میں اس منصوبے کو ایران کی ’عزت اور سائنسی خود انحصاری کی علامت‘ قرار دیا گیا۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملوں کی اطلاع دی ہے، تاہم اس نے دارخوین کا نام نہیں لیا۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ دارخوین کے زیرِ تعمیر جوہری پلانٹ پر حملے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی آزادانہ تشخیص جاری نہیں کی گئی۔

  4. پاسداران انقلاب کا اردن میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاع کے نظاموں پر جاری میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران ایک امریکی ایف 15 طیارے کو اس کے ہینگر میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

    پاسداران انقلاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک میزائل دفاعی ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    گذشتہ چند روز کے دوران ایران متعدد مرتبہ اردن میں مختلف مقامات پر حملے کر چکا ہے۔

    چند گھنٹے قبل پینٹاگون نے تصدیق کی تھی کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران خطے میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے تقریباً 100 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    17 جولائی کو اردن پر ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

    ایران کے پاسدارن انقلاب نے بحرین میں امریکی کمپنی ایمازون کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بحرینی حکام نے تا حال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ بھی آزادانہ طور پر اس اطلاع کی تصدیق نہیں کر سکا۔

  5. ٹرمپ نے کینیڈا پر 50 فیصد محصولات عائد کر دیے، کینیڈین وزیر اعظم کا تجارتی مذاکرات میں ’شدت لانے‘ کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور شراب کے ساتھ ’غیر مساوی سلوک‘ کے جواب میں کیا گیا ہے۔

    ان نئی محصولات کا اطلاق شراب، ہاکی سٹکس اور سیمنٹ جیسی صنعتی مصنوعات سمیت مختلف اشیا پر ہو گا، تاہم توانائی، پوٹاش، اہم معدنیات اور مچھلی جیسی چند بڑی برآمدات اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

    کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک آئندہ ہفتوں میں امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ’مزید شدت‘ لانے کے لیے تیار ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ محصولات 30 روز بعد نافذ العمل ہوں گی۔ اس اقدام کو شمالی امریکہ کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں نمایاں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    امریکہ نے پہلے ہی کینیڈین سٹیل، ایلومینیم اور تانبے پر 15 سے 50 فیصد تک محصولات عائد کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈین لکڑی پر 35 فیصد اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والے غیر امریکی پرزوں پر 25 فیصد محصولات الگ سے نافذ ہیں۔

    جواباً کینیڈا نے امریکی سٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں کی بعض درآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کر رکھے ہیں۔

  6. پاسداران انقلاب کا بحرین میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاع کے نظاموں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین کے علاقوں المحرق اور الرفاع میں موجود امریکی ریڈار اور فضائی دفاع کے نظاموں پر حملے کیے ہیں۔

    پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران انھوں نے کویت میں کم از کم تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

  7. آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ، عملہ لائف بوٹس میں منتقل

    برطانیہ کے ادارے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک تیل بردار بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑ کر لائف بوٹس میں منتقل ہونا پڑا۔

    ادارے نے بحری جہاز یا اس کے مالک کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    اس سے چند گھنٹے قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ’خلاف ورزی کرنے والے‘ دو آئل ٹینکرز ’آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع ایک خطرناک راستے‘ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں ان دونوں تیل بردار بحری جہازوں میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور وہ رک گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں عملے کو علاقے سے نکالنے میں مصروف ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ برطانوی ادارے کی جانب سے جس آئل ٹینکر کا ذکر کیا گیا ہے، کیا وہ انھی دو ٹینکروں میں سے ایک ہے جن کا پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں حوالہ دیا۔

    پاسداران انقلاب کی جانب سے جنوب میں جس ’خطرناک راستے‘ کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ بحری راہداری ہے جسے عمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی معاہدے کے بعد غیر ملکی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے متعارف کرایا تھا۔

    تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کے شمال میں ایک متبادل راستہ تجویز کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاہدے کے تحت ابتدا میں جہازوں کی آمد و رفت ایرانی انتظامات کے مطابق ہونی چاہیے۔

    جنوبی راستے میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ہی امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں اور بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کی تھی۔

  8. ایران کے پاسداران انقلاب کا کویت میں متعدد ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب نے منگل کی صبح جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی فوج کے ریڈار نظاموں کے لیے ’تاریک رات‘ رقم کر دی ہے۔

    بی بی سی فارسی پر رپورٹ کیے گئے دعوے کے مطابق کویت کے احمد الجابر اڈے پر حملے میں وہ ریڈار اور دفاعی نظام تباہ کیے گئے ہیں جو حملے کی پیشگی اطلاع دینے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    سینٹکام اور کویتی حکام نے تا حال اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق اس ’ریڈار صفائی‘ کے بعد ایران کے مزید ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

  9. کویت میں امریکہ کے میزائل نظام کو نشانہ بنایا: ایران کا دعویٰ

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکہ کے ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (ایچ آئی ایم اے آر ایس) کو نشانہ بنایا۔

    ایرانی فوج کے بیان میں میزائل لانچ کرنے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آپریشن ’صاعقہ‘ کے 18 ویں مرحلے میں بری فوج نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کویت کے عارف جان اڈے پر تعینات امریکہ کے ایچ آئی ایم اے آر ایس کو نشانہ بنایا۔

    ایچ آئی ایم اے آر ایس راکٹ داغنے والا ایک ایسا جدید نظام ہے جسے تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

  10. اس ماہ ایرانی حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے: پینٹاگون

    امریکی وزارتِ دفاع کے مرکز، پینٹاگون کے مطابق اس ماہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں پر ایران کے متعدد فضائی حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ بات پینٹاگون کے مرکزی ترجمان سین پارنیل نے بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتائی۔

    سین پارنیل کے مطابق سات جولائی 2026 کے بعد سے تقریباً 100 افراد کو کسی نہ کسی درجے کی چوٹ لگی ہے، جن میں سے 96 فیصد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

    پارنیل نے کہا: ’وہ دوبارہ محاذ پر واپس جانے کے لیے پُر عزم ہیں۔‘

    اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فوج ایک ہفتے سے زائد عرصے سے ایرانی اہداف پر رات کے وقت حملے کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو تجارتی جہازوں پر حملوں سے روکنا ہے، جبکہ ایران نے ردعمل میں اردن، کویت، بحرین اور امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ہفتے کے اختتام پر امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ اردن میں ایک فوجی اڈے پر دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے، جبکہ جس مقام سے تیسرا امریکی فوجی لا پتہ ہوا تھا، وہاں سے نامعلوم باقیات ملی ہیں۔ ایک اور امریکی فوجی عراق میں ایرانی خود کش ڈرون کے گرنے کے بعد اس میں موجود دھماکہ خیز مواد کو کنٹرولڈ طریقے سے تباہ کرنے کے دوران ہلاک ہو گیا۔

    پینٹاگون نے ایرانی حملوں کی تازہ لہر میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی درست تعداد یا نقصانات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی ہیں۔

    فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا ریکارڈ رکھنے والے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم (ڈی سی اے ایس) کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے آغاز سے اب تک 413 امریکی فوجی اہلکار کارروائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں، تاہم اس تعداد میں اس ماہ کے زخمی شامل نہیں ہیں۔

    ڈی سی اے ایس کی ویب سائٹ پر ایک اور جگہ زخمیوں کی تعداد 427 درج ہے۔ گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی ہلاکتوں کو شامل کیے بغیر 14 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  11. ایران اور اس کے حامی گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے شعبہ برائے قونصلر امور کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کے حامی گروہ بیرونِ ملک امریکی مفادات یا دنیا بھر میں امریکہ اور امریکی شہریوں سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی شعبۂ قونصلر امور نے کہا ہے کہ امریکہ کی سفارتی تنصیبات کو ماضی میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سکیورٹی کی صورتحال پیچیدہ ہے اور حالات کے اچانک مزید بگڑنے کا امکان موجود ہے۔

    شعبۂ قونصلر امور نے اپنے بیان میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پروازوں کے منسوخ ہونے، فضائی حدود کے وقتاً فوقتاً بند ہونے اور سفر میں ممکنہ رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ سے باہر موجود امریکی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر انھوں نے خطے کی طرف یا خطے کے راستے سفر کرنے کے منصوبے بنا رکھے ہیں تو ان پر نظر ثانی کریں۔

  12. امریکہ کا ایران پر مزید حملے کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے ایران پر مزید حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ ایران پر ’حملوں کے ایک اور مرحلے‘ میں ایرانی فوج کے کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاع کے نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

    سینٹکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے اور ’مئی کے آغاز سے اب تک سینٹکام فورسز نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں کو آبنائے عبور کرنے اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج تیار اور مستعد ہیں کہ اگر ایران آبنائے ہرمز عبور کرنے والے سویلین ملاحوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے تو اسے جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

  13. بندر عباس اور خلیج فارس کے ساحلی قصبے سرک میں دھماکوں کی آوازیں

    ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج فارس کے ساحل پر واقع قصبے سرک کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پیر کی شب ہونے والے دھماکوں کی صحیح جگہ کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے اور بعض مقامی رپورٹس میں سمندر میں آوازیں سنائی دینے کی اطلاع ملی ہے۔

    بندر عباس میں شہریوں نے بھی رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب دھماکے کی آواز سنی۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے مطابق گذشتہ رات کرمان کے علاقے ’رودبارِ جنوبی‘ کی فضاؤں میں امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے کروز میزائل کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

  14. خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران تیز بارش کے باعث مختلف حادثات میں 12 افراد ہلاک

    خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز بارش اور فلیش فلڈز سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے باعث 12 افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہو گئے ہیں۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چھ مرد، پانچ بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔

    تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 14 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 13 گھروں کو جزوی جبکہ ایک گھر مکمل منہدم ہوا۔

    یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع پشاور، لنڈی کوتل، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تور غر اور کرم میں پیش آئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب لنڈی کوتل میں ریسکیو 1122 نے پاک افغان شاہراہ پر پھنس جانے والی 100 سے زائد گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ سیلابی ریلے میں تین گاڑیاں بہہ گئیں جن میں سے چھ افراد کی لاشیں ریکور کی گئیں۔

  15. یوکرین کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر روسی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی

    یوکرین کے شہر اوڈیسا کے ساحل کے قریب ایک کارگو جہاز پر روسی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق مغربی افریقہ کے ملک گنی بساؤ کا پرچم بردار یہ جہاز اتوار کے روز روسی کروز میزائلوں کی زد میں آیا جس کے نتیجے میں اس میں آگ لگ گئی۔

    اس واقعے کے بعد ایک امدادی اور تلاش کا آپریشن شروع کیا گیا جو رات بھر جاری رہا۔ پیر کی صبح تک، یوکرین کی بندرگاہ اتھارٹی نے تصدیق کی کہ عملے کے نو ارکان اور جہاز کا ایک پائلٹ ہلاک ہو چکے ہیں۔ بعد ازاں انڈیا نے بتایا کہ اس حملے میں اس کے چار شہری بھی ہلاک ہوئے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران اوڈیسا کا خطہ مسلسل حملوں کی زد میں رہا ہے۔

    مقامی عہدے دار اولیہ کیپر نے پیر کو یوکرینی ٹی وی کو بتایا کہ صرف جولائی کے مہینے میں اس خطے پر ہونے والے روسی حملوں میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔

    بحیرہ اسود میں کارگو جہازوں پر روسی حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    اتوار کے روز گنی بساؤ کا پرچم بردار جہاز ’گولڈن لیو‘ (Golden Leo) جس حملے کا نشانہ بنا، وہ اس نوعیت کا سب سے مہلک حملہ تھا۔

  16. بندرِ عباس کے نقل و حمل کے راستوں پر امریکی حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    امریکی حملوں سے ہونے والی تباہی صرف ایران کے جنوبی ساحل پر موجود اہداف تک محدود نہیں تھی۔ گذشتہ ہفتے، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ جمعہ 17 جولائی کی صبح سویرے ہرمزگان کے شہر ’خمیر‘ میں چھ پلوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسی جمعہ کی رات، میڈیا نے ایک بار پھر رپورٹ کیا کہ ہرمزگان صوبے میں دو سرنگوں اور دو پلوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

    ایرانی میڈیا اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں جنوبی ایران میں پاور پلانٹس، پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس (ڈی سیلینیشن پلانٹس)، پلوں، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے سوال کے جواب میں ایران کے خلاف جاری حملوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تردید کی اور کہا کہ واشنگٹن کی کارروائیاں پاسدارانِ انقلاب کی عسکری اور لاجسٹک صلاحیتوں کو کمزور کرنے پر مرکوز ہیں۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بندر عباس-خمیر-لار روٹ پر واقع ’گریوہ‘ پل، لاتی دان (کلماتلی) گاؤں کے بعد والا پل، بندر عباس-خمیر-لار واپسی کا راستہ، کوہورستان-لار روٹ پر دو پل، بندر خمی-کیشار-بندر عباس محور پر ’نیمکار‘ گاؤں کا پل، اور خمیر کاؤنٹی میں ’مارو‘ گاؤں کا پل امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔

  17. امریکہ میں قیام کے دوران نیتن یاہو کو کسی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ میں قیام کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو کسی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف برسرِپیکار ہیں، اسی ایران نے حال ہی میں 52 ہزار بے گناہ مظاہرین کو ہلاک کیا ہے اور گذشتہ 47 برسوں سے امریکی فوجیوں اور دیگر افراد کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اگر گرفتاری ہونی چاہیے تو صرف ان لوگوں کی ہونی چاہیے جنھوں نے ایران کو موت اور تباہی کے اس بے مثال بھنور میں دھکیلا۔

    خیال رہے کہ نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی نے کہا تھا کہ اُن کا دفتر اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے لیے آمد پر نیتن یاہو کی گرفتاری پر قانونی مشاورت کر رہا ہے۔

    سنیچر کو 'دی نیو یارک ٹائمز' کے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ممدانی کا کہنا تھا کہ ستمبر میں نیویارک سٹی آمد کے موقع پر اُن کا دفتر 'جنگی مجرم' کی ممکنہ گرفتاری کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کر رہا ہے۔

    ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

    بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو اور اسرائیل کے بعض دیگر رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ ان پر سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

  18. ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کی صورت میں ایران کو کئی گنا زیادہ قیمت چکانا پڑے گی: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اگر ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا تو اسے اس کی گئی گنا زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔

    پیر کو ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے یہ ہدایات وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ، امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ڈین کین اور فوج کے ہر افسر تک پہنچا دی ہے۔

  19. امریکہ کا ناکہ بندی کے دوران سات تجارتی جہازوں کو واپس بھیجنے کا دعویٰ

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی بندرگاہوں میں جہازوں کی آمد و رفت روکنے کی کوشش میں سات تجارتی جہازوں کو اپنے راستے تبدیل کرنے پر مجبور کیا اور ایک جہاز کو ناکارہ بنا دیا، جس سے ایران کے خلاف اس کا بحری محاصرہ جاری ہے۔

    چند گھنٹے قبل برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے اطلاع دی تھی کہ آبنائے ہرمز میں ایک جہاز ’پروجیکٹائل‘ لگنے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

    یہ حملہ عمان کے علاقے کمزار سے 15 کلومیٹر شمال مغرب میں پیش آیا۔

    آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں خلل کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اسی دوران یمن کے حوثیوں کے فوجی ترجمان نے آج سعودی عرب کے خلاف بحری محاصرے کا اعلان کیا ہے۔

  20. یوکرین کی بندرگاہ پر تجارتی جہاز پر حملے میں چار انڈین شہری ہلاک ہو گئے ہیں: وزارتِ خارجہ

    انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا سے روانہ ہوتے وقت ’ایم وی گولڈن لیو‘ (MV Golden Leo) نامی تجارتی جہاز پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چار انڈین شہری ہلاک ہو گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ 19 جولائی کو یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا سے روانگی کے دوران جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں ایک اور انڈین شہری شدید زخمی بھی ہوا۔ انڈین حکومت نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    تاہم، بیان میں کہیں بھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ کس نے کیا۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، واقعے کے وقت جہاز پر عملے کے کل 17 ارکان موجود تھے جن میں پانچ انڈین شہری شامل تھے۔

    انڈیا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور عملے میں شامل بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ سمندری نقل و حمل اور تجارت کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں انڈین مشن صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    انڈیا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تجارتی جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرنے والے ایسے واقعات سے گریز کیا جانا چاہیے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔