وزیراعظم نتن یاہو کے استعفے تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہے گا: اسرائیلی مظاہرین

اس وقت کچھ مظاہرین اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو استعفیٰ نہیں دیتے وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. غزہ کی جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف اور جنگ بندی کا امکان کم کیوں ہے؟

  2. ’ہسپتال کے صحن میں بنائی گئی اجتماعی قبر میں 179 فلسطینیوں کو دفنا دیا گیا،‘ ڈائریکٹر الشفا ہسپتال

  3. غزہ اسرائیل جنگ: فلسطین کی حمایت کے لیے سوشل میڈیا پر تربوز کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟

  4. لبنان، اسرائیل سرحد پر کشیدگی: حزب اللہ، اسرائیل تصادم کی صورت میں کیا ہو گا؟

  5. حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے شہریوں کی رہائی کے عوض ’ڈیل‘ ہو سکتی ہے: اسرائیلی وزیراعظم

  6. حماس کو اپنے 50 ہزار ملازمین اور اپنے خرچ کے لیے فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟

  7. اسلامی تعاون تنظیم کے تاریخی اجلاس میں اسرائیل کیخلاف کسی عملی اقدام پر اتفاق کیوں نہیں ہو سکا؟

  8. ’اس تصویر میں زیادہ تر بچے اب زندہ نہیں ہیں‘: غزہ پر حملوں میں ایک ہی خاندان کے بہت سے لوگ کیوں مارے جا رہے ہیں؟

  9. جب اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے روسی لڑاکا طیارہ مگ-21 چرایا

  10. پیدائش کے فوراً بعد سمگل کیے جانے والے بچے نے 40 برس بعد اپنی ماں کو کیسے ڈھونڈ نکالا؟

  11. ’جب یروشلم کی مسجد الاقصیٰ کی حفاظت پگڑی والے ہندوستانی فوجی کر رہے تھے‘: اسرائیل میں مدفون پاکستانی اور انڈین فوجیوں کی داستان

  12. غزہ جنگ: اسرائیل اپنی زمینی کارروائی میں ’سرنگوں کی جنگ کی ماہر‘ حماس کے خلاف جنگی اہداف حاصل کرنے کے کتنا قریب ہے؟

  13. عام شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور یرغمالیوں کو رہا کیا جائے: پوپ فرانسس

  14. ’میں اسرائیلی انٹیلیجنس سے بات کر رہا ہوں، ہمیں بمباری کا حکم ہے‘: غزہ کے ڈاکٹر اور انٹیلیجنس اہلکار کے رابطوں کی کہانی

  15. ’ہر دس منٹ میں ایک بچہ ہلاک۔۔۔‘ اسرائیل غزہ جنگ اعداد و شمار کے حوالے سے کتنی ہولناک ہے؟

  16. وزیراعظم نتن یاہو کے استعفے تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہے گا: اسرائیلی مظاہرین, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    protest

    اس وقت کچھ مظاہرین اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو استعفیٰ نہیں دیتے وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

    یہ مظاہرین سات اکتوبر کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک جنگ جاری ہے اس وقت تک احتساب کی بات نہیں چھیڑا جائے گا۔

    Parliament

    اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر ان مظاہرین میں سے ایک موئز انون ہیں جنھوں نے حماس کے 7 اکتوبر والے حملے میں اپنے والدین کھو دیے ہیں۔

    ایک ماہ غم منانے کے بعد اب وہ اپنے حق کے لیے سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غم سے نڈھال ہیں مگر انھیں شدید غصہ بھی ہے۔

    Isareli parliament

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے میرے والدین کو دغا دیا ہے۔ حکومت نے 1400 لوگوں سے بے وفائی کی ہے اور اس نے یرغمال بنائے جانے والے 240 لوگوں سے بے وفائی کی ہے۔

    ان کی 76 برس کی ماں نتن یاہو کی سخت ناقدین میں سے تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہلاک کر دی گئیں جب وہ سات اکتوبر کو ایک اور مقام پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف احتجاج کے لیے جا رہی تھیں۔

    موہز کا کہنا ہے کہ ’اب میں اپنی ماں کی جگہ پر یہاں پرموجود ہوں اور میں بھی نتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘

    موہز سمیت پارلیمنٹ کے باہر سراپا احتجاج ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ نتن یاہو کے استعفے تک اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

  17. ہمارے یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی: اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’میں (جنگ بندی سے متعلق) مختلف اطراف سے پھیلائی جانے والی تمام افواہوں کو رد کر دینا چاہتا ہوں اور یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔‘

    اس سے پہلے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل کے ساتھ انسانی بنیادوں پر جنگ میں تین دن تک کے وقفے سے متعلق مذاکرات ہو رہے ہیں تا کہ حماس کی قید میں 12 یرغمالیوں کو رہا کروایا جا سکے۔ ان میں سے آدھے یرغمالی امریکی شہری ہیں۔

    ایک امریکی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر ساتھ ساتھ وہ وقفے کو یقینی بناتے ہیں تا کہ عام شہریوں کے لیے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

  18. غزہ میں کم از کم 130 سرنگیں تباہ کر دیں: اسرائیل کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں کم از کم 130 سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    فوج نے ٹیلیگرام پر مؤقف اختیار کیا کہ غزہ میں لڑنے والے اس کے انجنیئرز نے دشمن کے ہتھیار تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ شہر میں سرنگوں کا پتا چلا رہے ہیں اور انھیں اڑا رہے ہیں۔

    ایک اور پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے لکھا کہ اس کی فوج نے بیت حانون میں ایک سکول کے قریب ایک سرنگ کو تباہ کیا ہے۔

  19. یمن کے حوثی باغیوں نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا: امریکہ

    امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ایک امریکی ڈرون ایم کیو-9 ریپر ڈرون مار گرایا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کو امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ’حوثی باغیوں نے بغیر پائلٹ والے اس ڈرون کو یمن کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا ہے۔‘

    یہ حوثی باغی سنہ 2015 سے سعودی حکومت کی سربراہی میں فوجی اتحاد سے لڑ رہا ہے۔

  20. غزّہ: جنگ بندی کے عالمی مطالبے پر کون عملدرآمد کروائے گا؟