اقوامِ متحدہ کی شام کے لوگوں کی امداد کے لیے سیاست ایک طرف رکھنے کی اپیل

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفان ڈوجاریک نے کہا ہے کہ شام میں امداد پہنچانے کے لیے ’تمام سیاست کو ایک طرف رکھنے‘ کا وقت آ چکا ہے۔
سٹیفان ڈوجاریک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ’تمام فریقوں کے ساتھ مل کر‘ حکومت اور باغیوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے اور ’سیاسی الزام تراشی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ روز شام کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ حکومت نے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں امداد پہنچانے کی منظوری دے دی ہے۔
سٹیفان ڈوجاریک نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے امدادی کارکنان باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ’جتنی جلد ممکن ہو سکے‘ امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہا کہ اقوامِ متحدہ ’شام کے لوگوں کے ساتھ ہے چاہے وہ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہوں یا حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں۔‘
وائٹ ہیلمٹس امدادی تنظیم کی جانب سے تنقید کی گئی تھی کہ اقوامِ متحدہ نے باغیوں کے زیرِ قبضہ شمال مغربی شام کے علاقوں میں اس کی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔
سٹیفان ڈوجاریک نے ان کی اس تنقید کو تسلیم کیا اور کہا کہ ’اگر میں تباہی و بربادی کے درمیان کھڑا ہوں اور میرے لوگ متاثر ہوئے ہیں تو میں بھی ناخوش ہوں گا اور تنقید کروں گا کیونکہ امداد کبھی بھی جلد سے جلد نہیں پہنچتی۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ہم شام کے لوگوں کی مشکلات سے انتہائی درجے تک آگاہ ہیں اور کہا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران ’یکجہتی‘ کی ضرورت ہے۔‘

















